ممکنہ پاک بھارت جنگ کا پس منظر
آج صبح آنکھ کھلی تو خبر دیکھی کہ انڈیا نے پاکستان کو چھ مقامات پر ہوائی حملوں کا نشانہ بنایا جن میں زیادہ تر مساجد تھیں۔ اس کے نتیجے میں معصوم شہری جاں بحق ہو گئے جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔ پلک جھپکتے ہی سوشل میڈیا پر حملوں کی دہشتناک ویڈیوز وائرل ہو گئیں جس سے عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ کلمۂ طیبہ کا ورد کرتے نظر آئے۔ پاک فوج کے ترجمان نے پریس کانفرنس میں جوابی کارروائی کرنے کا اعلان کیا۔ عالمی طاقتوں کے سربراہان، جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی شامل ہیں، نے دونوں ملکوں کو جنگ سے باز رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ ایک خبر یہ بھی دیکھی کہ انڈیا نے سرحد پر سفید جھنڈا لہرا دیا جسے پاکستانیوں نے اعتراف شکست قرار دیا۔ یہ بہت مضحکہ خیز صورتحال ہے۔ آئیے اس کا پس منظر دیکھتے ہیں۔
انڈیا اور پاکستان دونوں میں برسراقتدار جماعتیں عوامی حمایت سے محروم ہیں۔ نریندر مودی آخری الیکشن میں بمشکل کامیاب ہوئے اور انھیں اتحادیوں کی مدد سے حکومت قائم کرنا پڑی۔ ان کی مذہبی انتہا پسندی، بھارتی مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک اور ان کے خلاف امتیازی قوانین کے نفاذ، اور خراب معاشی کارکردگی نے عوام میں ان کی مقبولیت بے انتہا کم کر دی ہے۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ اگلا انتخاب کانگریس اور راہل گاندھی کی قیادت میں جمع ہونے والی اتحادی جماعتوں سے ہار جائیں گے۔ اس کے علاوہ صوبہ بہار میں رواں سال کے آخر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ہیں، اور وہاں بھی ان کی پوزیشن اچھی نہیں ہے۔ انڈیا میں اظہار رائے پر سنگین پابندیاں عائد ہیں اور سیاسی مخالفین کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے جس کا اظہار حال ہی میں حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی نے کیا ہے۔
پاکستان میں بھی اس وقت ایک غیر مقبول حکومت قائم ہے جو انتہائی مشکوک انتخابات کے نتیجے میں برسراقتدار آئی تھی۔ حزبِ اختلاف کے رہنما عمران خان کرپشن کے سنگین جرائم کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ ملک میں پیکا جیسا متنازعہ قانون نافذ ہے جس کی وجہ سے اظہار رائے پر مکمل پابندی ہے۔ بلوچستان میں مقبول عوامی رہنما ماہ رنگ بلوچ قید ہیں۔ سندھ میں پانی کے مسئلے پر حکومت کو شدید عوامی مزاحمت کا سامنا ہے۔ کے پی کے میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت مرکز سے شدید ناخوش ہے۔ کل ہی پنجاب پولیس کی جانب سے پی ٹی آئی کے قائدین پر بدترین جسمانی تشدد کیا گیا۔
دونوں ملکوں میں غیر مقبول حکومتوں کی مدد کے لیے ایک مسئلہ ہمیشہ سے موجود رہا ہے، اور وہ ہے مسئلہ کشمیر۔ اس مسئلے نے پچھلے پچھتر سالوں میں بہت سی کمزور حکومتوں کی ڈوبتی ناؤ پار لگائی ہے۔ اس بار بھی اسی مسئلے کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ مودی حکومت نے کشمیر میں پہلگام حملے کے پندرہ منٹ کے اندر ریاست پاکستان پر اس کا الزام تھوپ دیا۔ پاکستان نے اس الزام کو مسترد کیا اور وزیراعظم شہباز شریف نے اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی تجویز دی۔ لیکن مودی سرکار کی طرف سے انڈیا میں الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کی مدد سے جنگی جنون کو ابھارا گیا۔ یہ جنون اس قدر بڑھ گیا کہ انڈیا میں جاوید اختر جیسی ترقی پسند شخصیات بھی پاکستان سے جنگ کا مطالبہ کرنے لگیں۔
انڈیا میں ہندو انتہا پسند حکومت کا جنگی جنون قابل فہم ہے لیکن پاکستان کو اس صورتحال میں جذبات کو قابو میں رکھتے ہوئے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ عوام کی معاشی حالت دونوں ملکوں میں اتنی خراب ہے کہ وہ پہلے ہی غربت اور افلاس کے ساتھ حالت جنگ میں ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ جنگ سے دونوں ملکوں کی حکومتوں کو سیاسی فوائد حاصل ہوں لیکن عوام کی معاشی حالت مزید خراب ہو جائے گی۔ ان حالات میں ساحر لدھیانوی کی مشہور زمانہ نظم ”اے شریف انسانو!“ کا ایک ٹکڑا پیش کر کے اجازت چاہوں گا:
جنگ افلاس اور غلامی سے
امن بہتر نظام کی خاطر
جنگ بھٹکی ہوئی قیادت سے
امن بے بس عوام کی خاطر
جنگ سرمائے کے تسلط سے
امن جمہور کی خوشی کے لیے
جنگ جنگوں کے فلسفے کے خلاف
امن پر امن زندگی کے لیے


