گریباں چاک کر ڈالو


 

رانا اور میں ایک دوسرے کو سکول کے زمانے سے جانتے ہیں۔ میں نے ایف سی کالج میں داخلہ لیا تو بطور کیجول سٹوڈنٹ وہ میری ہی کلاس میں آ گیا۔ آج کل کا تو پتہ نہیں، اس زمانے میں جس بچے کو میرٹ پر یا لیٹ ہونے کی وجہ سے داخلہ نہ ملتا تو وہ بطور کیجول سٹوڈنٹ کالج میں داخلہ لے لیتا اور اسے کسی بھی کلاس میں بیٹھنے کی اجازت ہوتی تھی۔

رانے میں حس مزاح قدرتی طور پر کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ حالات کچھ بھی ہوں وہ مزاح کا پہلو ڈھونڈ ہی لیتا ہے۔

سکول سے کالج تک اور بعد کی زندگی میں اکٹھے آوارہ گردی کی، فلمیں دیکھیں، گپیں لگائیں۔ قربت اتنی زیادہ کہ دونوں کے گھر دور دور ہونے کے باوجود روزانہ ملاقات کا کوئی نہ کوئی بہانہ نکال لیتے۔ کالج اور پھر کلاس بھی اس نے میری ہی وجہ سے جوائن کی تھی۔ اس زمانے میں اس کی رہائش مناواں کے پاس کھلی زمینوں میں ایک کنویں پر تھی جہاں اس کا بڑا بھائی کھیتی باڑی کرتا تھا۔ داروغہ والا سے آگے کھیت ہی کھیت ہوا کرتے تھے اور لاہور کو تازہ سبزیاں قریب سے ہی مل جاتی تھیں۔ اب وہاں کھیت رہے نہ کنویں رہے۔ جہاں کھیتوں میں ہریالی مستیاں کرتی اور فصلیں لہلہاتی تھیں وہاں گنجان بستیاں آباد ہو گئی ہیں۔ اب تو آلو اور ٹماٹر کے لئے بھی ’دشمن ملک‘ کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔ جب میں پہلی بار بغیر اطلاع رانے کو ملنے کھوہ (کنویں ) پر گیا تو اپنے ایک اور کلاس فیلو کو بھی ساتھ لے لیا۔ ہم نے دور سے دیکھا کہ رانا ہماری طرف ہی آ رہا تھا اور ہاتھ میں دو بینڈ کا ریڈیو پکڑے ہوئے تھا۔ اس نے خود اقرار کیا تھا کہ گھر میں ہو تو ریڈیو اس کے پاس ہی ہوتا ہے۔ ہمیں اپنی طرف آتا دیکھ کر وہ الٹے پاؤں گھوم گیا، کندھے اچکا لیے اور چال بدل کر ٹیڑھا میڑھا چلنا شروع ہو گیا۔ مگر ہم بھی کہاں چھوڑنے والے تھے۔ جا کر پکڑ لیا اور تھوڑا سا ’دھول دھپا‘ بھی کر دیا۔

رانے کے ساتھ گزشتہ 50 سال کی قربت میں ہماری زندگیوں میں بہت سے نشیب و فراز آئے۔ رانا آگے پڑھ تو نہیں سکا مگر مختلف ملکوں میں روزگار کے سلسلے میں آتا جاتا رہا۔ چالاک ہے۔ اس لیے وہ آسانی سے اٹالین، فرینچ، عربی اور انگریزی سیکھ گیا اور اچھے سے بول لیتا ہے۔ حس مزاح تو مجھ میں بھی تھی مگر جب کوئی شخص چھوٹی چھوٹی باتیں محسوس کرنے لگ جائے تو خوشیاں بھی منہ موڑنے لگتی ہیں۔ یہ دنیا ڈھیٹ اور سرکش لوگوں کے لئے جنت اور حساس لوگوں کے لئے عقوبت خانہ ہے۔ دکھ میرے اندر ہی اندر اس طرح سرایت کرتے رہے کہ فصل بہار میں بھی خزاں ہی محسوس ہوتی رہی۔

رانے کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ بے عزتی کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہے۔ یہی اس کا بڑا ظرف ہے کہ کوئی بات دل کو نہیں لگاتا۔ بڑی سے بڑی پریشانی آ جائے وہ ٹھوکر مار کر آگے بڑھ جاتا ہے۔ میرے سارے رشتے دار اور دوست رانے کو جانتے ہیں اور رانے کے سارے رشتے دار اور دوست مجھے جانتے ہیں۔ آخر پچاس سال کی رفاقت ہے۔

ایگزارسسٹ فلم پہلی بار لاہور میں لگی۔ یہ کوئی 70 کی دہائی کے آخر کی بات ہو گی شاید۔ یہ ہارر مووی تھی اور ہمارا یہ فلم دیکھنے کا پروگرام بن گیا۔ ہم ٹکٹیں لے کر سینما ہال میں جا بیٹھے۔ پتہ نہیں کون لوگ ہیں جو ڈراؤنی فلموں کے مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ہم تو ابتدا سے ڈرے ہوئے بیٹھے تھے۔ فلم شروع ہوئی تو ایک سین میں ایک لڑکی اندھیری رات میں موم بتی جلا کر چلتی ہوئی جاتی ہے۔ لکڑی کے فرش پر چلتے ہوئے آہستہ آہستہ آگے بڑھتی ہے تو اتنا سسپینس پیدا ہوتا ہے کہ سینما ہال میں بیٹھے ہوئے سبھی لوگ سانسیں روک لیتے ہیں کہ پتہ نہیں کیا ہونے والا ہے۔ میرا دل بھی دھک دھک کر رہا تھا کہ اتنے میں اچانک موم بتی بجھ جاتی ہے اور پیچھے سپیکر سے موم بتی بجھنے کی آواز دھماکے کے ساتھ نکلتی ہوئی سنائی دیتی ہے۔ میں تو پہلے ہی ’سہما ہوا‘ بیٹھا تھا۔ میں ڈر کے مارے ایسا اچھلا کہ میری چیخ نکل گئی۔ اسی اثناء میں میری انگلی رانے کی آنکھ میں جا لگی اور اس کی درد سے چیخ نکل گئی۔ کہنے لگا ”او ظالما! مار دیتا ای“ ۔ میری ڈرے ڈرے بھی ہنسی نکل گئی۔

کئی بار میرا بھی ملک سے باہر جانے کا اتفاق ہوا۔ ایک بار تازہ تازہ بیرون ملک سے واپس آیا تو رانے کے ساتھ جہانگیر کے مقبرے میں جانے کا پروگرام بن گیا۔ وہاں مقبرے کے ساتھ چھوٹے چھوٹے کمرے بنے ہوئے ہیں۔ مجھے تجسس ہوا کہ دیکھوں اندر کیا ہے۔ رانے نے مجھے بار بار وارننگ دی کہ ان کمروں میں مت جھانکو کیونکہ یہاں بھڑوں نے چھتے لگائے ہوتے ہیں۔ ایک کمرے میں میں نے جھانکا ہی تھا کہ بھڑوں کے ایک چاق و چوبند دستے نے ہم دونوں پر حملہ کر دیا۔ ہم بچنے کے لئے مقبرے کے برآمدے میں ہی بھاگ کھڑے ہوئے۔ اور بھڑیں ہمارے پیچھے تھیں۔ کچھ دور جا کر کھڑے ہوئے تو دیکھا کہ ایک بھڑ رانے کی کنپٹی کے پاس بالوں میں الجھ گئی ہے۔ اس وقت میں موٹے سول والی پشاوری چپل پہنے ہوئے تھا بغیر سوچے سمجھے وہ میں نے اتار لی اور بھڑ کو مارنے کے لئے اس کی کنپٹی پر رسید کرنے ہی والا تھا کہ وہ ایک ہاتھ سے سر سے بھڑ اڑانے کی کوشش کرنے لگا اور گھبرا کے بار بار کہنے لگا او نا ماریں۔ بھڑ اُڑ گئی ہے۔ خوش قسمتی سے بھڑ واقعی اڑ گئی تھی ورنہ میں تو بھڑ کا لحاظ کرنے والا نہیں تھا اور اس کو مارنے کے لئے کنپٹی بڑی مناسب جگہ تھی۔ رانا ہنستے ہوئے کہنے لگا۔

کہ رُت مستی کی آئی ہے
گریباں چاک کر ڈالو

یہ میری نظم کی ایک لائن تھی جو میں نے سکول کے زمانے میں کہی تھی۔ اور رانا موقع بے موقع اسے دھراتا رہتا تھا۔

اللہ تعالیٰ رانا صاحب کو لمبی زندگی عطا فرمائے۔ اسی کو تو میں جانتا جس کو بالکل نہیں جانتا۔

Facebook Comments HS