ایک دوست کی یاد میں
قیصر خان سے پہلی ملاقات سول کلب کے دوستوں کے ساتھ ہوئی۔ تب وہ بلڈنگ کے محکمے میں افسر تھا اور سول کلب کی رونقیں متروک نہیں ہوئی تھیں۔ ایک مسکراہٹ تو اس کے چہرے پر گویا بائی ڈیفالٹ تھی۔ پہلی ملاقات میں ہی اس نے موقع کی مناسبت سے کوئی شعر پڑھا اور ہم فوراً بے تکلف ہو گئے۔ زیادہ ملاقاتیں کلب کے حوالے سے اور بعد میں مشترک دوستوں کے ہمراہ جاری رہیں۔ گرمیوں کے موسم میں چند بار رات گئے چہل قدمی کرتے ہوئے ہم ریلوے اسٹیشن تک چلتے رہتے، وہ سرائیکی اور اردو میں اپنی ناقابل اشاعت شاعری سناتا اور ہم فلک شگاف آواز میں قہقہے لگاتے۔ بر وقت اور بر محل شعر سنانے میں وہ اپنی مثال آپ تھا۔ اس کے گھر ویڈیو کیسٹس کی صورت میں فلموں کا اور کتابوں کا ایک بہت اچھا انتخاب موجود تھا۔ رحیم گل کی ”جنت کی تلاش“ ہم دونوں کی پسندیدہ کتاب تھی، ہم امتل کی باتیں کرتے اور پہاڑوں پر سیر کے پلان بناتے۔
پھر اس کا تبادلہ سوئی گیس کے محکمے میں ہو گیا اور وہ لاہور شفٹ ہو گیا۔ ایک دن اطلاع آئی کہ موصوف حج کے لئے جا رہے ہیں، میں نے فون کیا اور کہا کہ بھائی جان دوران حج دعائیں احتیاط سے مانگیے گا، وہاں دعاؤں کے قبول ہونے کا بہت اندیشہ ہوتا ہے، کہیں اپنے لئے ہدایت کی دعا نہ مانگ لیجیے گا۔ اس سے بات کرنا ہمیشہ ایک خوش کن تاثر چھوڑ جاتا تھا۔
اس کے لاہور منتقل ہو جانے کے بعد اس سے فون پر کبھی کبھار بات ہو جاتی۔ اب وہ اپنے محکمے میں ایک بڑے عہدے پر فائز تھا۔ ایک دفعہ باتوں باتوں میں اس نے بتایا کہ ایک مرتبہ اس کی ملاقات استاد حامد علی خان سے ہوئی جو اس کے کسی ذیلی دفتر میں اپنے کسی کام کے سلسلے میں آئے ہوئے تھے اور دفتری راہداریوں میں پریشان پھر رہے تھے، قیصر انہیں اپنے دفتر میں لے آیا، چائے پیش کی، ان کا کام وہیں بیٹھے ہوئے کروایا اور اپنا فون نمبر دے کر ان سے گزارش کی کہ اب آپ نے کسی بھی محکمانہ کام کے لئے دفتر نہیں آنا، آپ کا ایک فون کافی ہو گا۔
قیصر اپنے خیالات اپنے دوستوں سے بلا تکلف شیئر کرتا، ان کی صحت کے حوالے سے دریافت کرتا، اپنے تجزیوں میں شریک کرتا، ان سے سیونگ اور انویسٹمنٹ کی باتیں کرتا اور ان کی ہر خوشی اور غمی میں شرکت کرتا۔
پھر یوں ہوا کہ کچھ عرصے تک رابطہ معطل ہو گیا۔ ایک دن پتہ چلا کہ قیصر کو کینسر تشخیص ہوا تھا اور اب آپریشن کے بعد وہ کافی بہتر ہے۔ پھر ایک دن اس کا فون آیا کہ وہ ملتان آیا ہوا ہے، اس عرصے میں اس نے اپنا ایک گھر ملتان میں بھی تعمیر کروا لیا تھا۔ ہم ایک کیفے پر ملے، ایک اچھی کافی پی۔ وہ اپنے علاج اور اپنے بچوں کے بارے میں باتیں کرتا رہا جو اب یونیورسٹی میں پہنچ گئے تھے۔ پھر ایک دن وہ خبر آ گئی جس کا اندیشہ لگتا تھا کہ ٹل گیا ہے۔ کینسر کے دوسرے حملے سے وہ جانبر نہ ہو سکا۔ آپ کی مسکراہٹ ہمارے ذہنوں پر نقش رہے گی۔ ہمیشہ۔



