میرے سوالوں کا سفر
آج ایک عرصے کے بعد قلم پکڑا ہے تو عجیب سی کیفیت کا شکار ہوں۔ ہمیشہ کچھ لکھنے کے بعد ابو کو دکھایا کرتی تھی۔ ان کی علمی نظر کے سامنے میری تحریریں گویا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہو گا مگر ابو نے ہمیشہ حوصلہ بڑھایا۔
پچھلے سال وجودیت پر کچھ لکھنے کی جرات کی تھی۔ مجھے لگتا تھا کہ اردو میں اس موضوع پر اتنا مواد نہیں۔ مگر بعد میں معلوم ہوا کہ متعدد گمنام جواہر ہیں جو عوام الناس سے دور ہیں۔ پیشہ ور لکھاریوں نے ان کی جگہ لے لی ہے اور وہی کالجوں یونیورسٹیوں کے طالب علموں کے مطلب کی شاعری اور اردو کا جنازہ نکالتی کمرشل تحریروں سے پاکستان کے کتب خانے پر ہیں۔
بچپن سے ہوش سنبھالا تو گھر میں کھلونوں سے پہلے کتابوں کو پایا۔ اور اس سے بھی بڑھ کر ایسے باپ کو، جس نے مجھے سوال کرنا سکھایا۔ بچپن سے ہر چیز پر سوال کیا۔ یہ ایسا کیوں ہے، یہ ویسا کیوں نہیں۔ نہ کبھی چپ کروایا گیا، نہ ہی سوال کو غلط کہا گیا۔ نہ کبھی کوئی نظریہ تھوپا گیا۔ صحیح غلط کی پہچان ضرور دی گئی۔ مگر اس میں انسان پسندیت کی تعلیم سب سے اوپر تھی۔
خدا کا تصور ہر ایک کے دماغ میں مختلف ہوتا ہے۔ یہ تصور بنانے میں سب سے بڑا کردار والدین اور سماج کا ہوتا ہے۔ اسی تصور کی دین ہے کہ کہیں یہ ایک ایدھی جیسا فرشتہ صفت انسان تشکیل دیتا ہے جو بلا امتیاز سماج کے پسے ہوئے طبقات کی خدمت میں زندگی گزار دیتا ہے تو کہیں ان انسانوں سے نفرت کرنے والا سماج جو ایسی خدمت پر فتوے لگاتا ہے۔ وہی خدا، جو رحمان و رحیم ہے، جو دراصل انسانیت کا درس دیتا ہے، اس کی غلط تفسیر سماج کو بہت نقصان پہنچا سکتی ہے۔
میرے ذہن میں خدا کا اولین تصور ایک دوست ایسا تھا، جو ہمیشہ انسان کے ساتھ ہے۔ خوشی غمی میں اس کے پاس جانا چاہیے۔ اسے اچھا لگتا ہے اگر میں اس کے بندوں کے ساتھ اچھی ہوں۔ اس مثبت تصور نے مجھ پر گہرا اثر ڈالا۔ بچپنے کے دنوں کی بات ہے کہ ہمسائے میں کسی نے مجھ سے پوچھا، کیا تم خدا سے ڈرتی ہو۔ پانچ سال کی اس بچی کو خدا اپنا بہترین دوست لگتا تھا۔ میں نے بے دھڑک کہا، نہیں بالکل نہیں۔ وہ تو میرا بیسٹ فرینڈ ہے۔ ان کو حیرانی ہوئی اور مجھے سختی سے سمجھایا گیا کہ اللہ سے ڈرنا چاہیے۔ ایک اور سوال نے جنم لیا۔ کیوں؟ جواب کے بجائے مجھے سمجھایا گیا کہ ایسے سوال نہیں کرتے۔ میں ڈر گئی۔
عرصے بعد ابو سے گفتگو میں یہی پوچھا۔ ابو نے مسکرا کر کہا کہ تمہیں سب سے اچھا کون لگتا ہے دنیا میں؟
میں نے جواب دیا، امی۔
کیا تمہیں اچھا لگے گا کہ امی کے ساتھ کچھ برا ہو۔ ان کی نافرمانی کرو۔ ان کا دل دکھے؟
ہرگز نہیں۔
خدا کے ساتھ بھی یہی حساب کتاب ہے۔ اللہ تو ہمیں ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے۔ دراصل ہمیں اللہ کی بات نہ ماننے سے ڈرنا چاہیے۔ اسے تکلیف پہنچانے سے ڈرنا چاہیے۔
اور اسے تکلیف کیسے پہنچے گی؟
جیسے ماں اپنے سارے بچوں سے برابر پیار کرتی ہے، خدا بھی اپنے سارے بندوں سے اس سے ستر گنا زیادہ پیار کرتا ہے۔ اس لیے اس کے کسی بھی بندہ کو ذرا سی بھی تکلیف پہنچانے سے پہلے ڈرنا چاہیے۔
اب بڑی ہو کر سوچتی ہوں کہ سماج میں سوالوں کو منع کرنے کے بجائے، ان کو ایسے سمجھانے والے انسان پسند لوگ اور بھی ہوں تو ہر انسان کسی کو تکلیف پہنچانے سے پہلے ڈرے۔ اگر خدا کا تصور ایک دوست اور انسانیت کا ایک آفاقی بھائی چارہ کا ہو تو دنیا کتنی خوبصورت ہو۔



کیا اچھا پیغام دیا ہے۔
موجودہ اسلام تو شروع ہی "پڑھ” سے ہوتا ہے۔ اور یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ کچھ پڑھیں اور سوال ذہن میں نہ کلبلائیں۔
مسلمانوں کا تو عقیدہ ہی یہی ہے کہ جب آدم کو بنایا گیا تو اسے علم دیا گیا اور اس کا پہلا امتحان ہی سوال اور جواب کا سلسلہ تھا۔
انسان اور دوسری مخلوقات میں سب سے بڑا اور اہم فرق ہی ۔ سوال کرنا اور جواب تک پہنچنا ہے۔
وگرنہ ہم میں اور بے جان پتھروں اور جانوروں میں کیا فرق ہے۔
ایسے راہ نما چاہے وہ استاد ہون مذہبی یا سیاسی راہ نما یا گھر کے بڑے بوڑھے اگر سوال پوچھنے پرپابندی لگائیں تو سمجھ لیں یہ کنویں کے مینڈک ہیں جو نہ علم رکھتے ہیں اور نہ اس کے بانٹنے پر یقین۔ محض محدود علم رکھنے والے کنویں کے مینڈک
خوش رہیں۔