استاد پردیسی
استاد پردیسی کا شمار اُن باورچیوں میں ہوتا ہے جنہیں اُس وقت ہی کسی تقریب میں کھانا پکوانے کے لئے بلایا جاتا ہے جب لاکھ کوشش کے باوجود کوئی اچھا کاریگر نہ ملے۔ وہ کون ہیں اور کیا کرتے ہیں ہمیں ان سب باتوں کا ہرگز علم نہیں تھا۔ ہمیں اُن کی ذات سے آگاہی اُس وقت ہوئی جب ہمارے ایک دوست نے اپنی بیٹی کے عقیقے کے لئے نہ چاہنے کے باوجود بھی اُنہیں بلا لیا کہ اتفاق سے اُس دن کوئی اچھا کک اڑوس پڑوس میں دستیاب نہیں تھا۔
استاد پردیسی دن دس بجے اپنے ”بچے جمورے“ کے ساتھ براجمان ہوئے اور سب کے ساتھ خندہ پیشانی سے ملنے کے بعد پہلا سوال یہ کیا ”باہر نکلنے کا بس ایک ہی دروازہ ہے یا دو دروازے ہیں؟“ ۔ میرے لئے یہ سوال عجیب تھا کہ موصوف دروازوں کی تعداد کے بارے میں کیوں پوچھ رہے ہیں مگر وہ وقت چونکہ یہ سوال پوچھنے کے لئے موزوں نہ تھا اس لئے خاموش ہی رہا۔ استاد پردیسی نے اُس کے بعد دو کپ چائے کے ساتھ ایک پاؤ کیک کھا کر بچے جمورے کو حکم دیا کہ گوشت کو دھونا شروع کردو جبکہ خود دیگر انتظامات میں مصروف ہو گئے۔
”باؤ جی! تم پانی لے آؤ گوشت میں ڈالنے کے لئے“ ، مجھ سے مخاطب ہو کر بولے، ”کتنا پانی لے آؤں؟“ ، میں نے وضاحت مانگی، ”چلو بھر کافی رہے گا“ ، اُن کا کرارا جواب سن کر میری رگ ظرافت بھی پھڑک اٹھی، ”اتنا زیادہ پانی کیا کرنا پردیسی استاد۔ ایک ہی تو بکرا ہے۔ چلو بھر پانی سے تو دس بکرے پک جاتے ہیں“ ۔ میرا یہ جواب اُنہیں غالباً پسند نہ آیا تو خود ہی اٹھ کر گئے اور ایک بالٹی پانی کی بھر کے لے آئے۔
” آپ کا بہت نام سنا ہے میں نے۔ لیکن آپ کے ہاتھ کا کھانا کبھی نہیں کھایا“ ، میں اُن کے پاس چلا گیا اور جب اُنہیں مکھن لگایا تو بہت خوش ہوئے۔ اس کے بعد اُن کے قصے کہانیوں کا ایک پینڈورا بکس کھل گیا جس میں ایسے عجیب و غریب واقعات تھے جن میں عقل والوں کے لئے واضح نشانیاں موجود تھیں۔ استاد پردیسی کے یہ واقعات سننے کے دوران میں یہی سوچتا رہا کہ اتنا ماہر کاریگر اور کہنہ مشق باورچی شہر کے اس معمولی علاقے میں کیوں خوار ہو رہا ہے کیونکہ اب تک جو قصے اُنہوں سنائے اس کے مطابق اُنہوں نے دو دو ہزار بندوں کا کھانا اکیلے پکایا ہے۔
اس کے علاوہ اُن کے بقول پاکستان کی تمام مسالہ بنانے والی کمپنیوں نے اُن کی ریسپیز چرا کر خود ڈھیروں منافع کما لیا مگر اُنہیں کچھ نہ دیا۔ میں نے باتوں باتوں میں اُن سے قورمے کی ترکیب پوچھی تو فرمانے لگے، ”ویسے تو کافی لوگ مجھ سے قورمے اور بریانی کی ترکیب پوچھتے ہیں مگر میں نہیں بتاتا ایسے ہی راز آؤٹ ہوجاتا ہے۔ لیکن تمہیں بتا دیتا ہوں جاؤ کیا یاد کرو گے“ ۔ میں نے جلدی سے موبائل جیب سے نکالا تاکہ ریکارڈ کر سکوں۔
”قورمے کے لئے دو کلو گاجر، ایک کلو شلغم اور ایک کلو سرسوں کا ساگ تیزاب والے پانی میں بھگو نا ہے“ ، مجھے یہیں سے کچھ کچھ اندازہ ہو گیا کہ جس قورمے کی ابتداء ایسی ہے اُس کی انتہا کیسی ہوگی لیکن میں نے پھر بھی دل پہ پتھر رکھ کر برداشت کر ہی لیا۔ ”مگر استاد پردیسی جی، تیزاب والے پانی سے ہی کیوں؟“ ۔ میرا سوال سن کر استاد پردیسی نے ماتھے سے پسینہ صاف کر کے اُسے ابلتی ہانڈی میں ڈال کر ہانڈی میں چمچے سے یوں مکس کیا کہ پسینہ اور شوربہ یک جان دو قالب ہو گئے۔
”باؤ دیکھو ویسے تو قورمہ بنانے کے ایک سو تین طریقے ہیں۔ مگر اصل طریقہ وہی ہے جو میں بتا رہا ہوں۔ سمجھے“ ۔ پردیسی استاد کی عقل پر شک تو مجھے پہلے ہی تھا مگر اب یہ شک یقین میں بدلنا شروع ہو گیا۔ اس دوران وہ بکرے کے گوشت کے ساتھ بھی بھرپور انداز میں ہاتھا پائی کر رہے تھے جو پانی میں گھٹنے گھٹنے ڈوبا ہوا تھا، کیونکہ جناب نے سات کلو گوشت کو گلانے کے لئے پانی کا یوں بے دریغ استعمال کیا تھا جیسے ثواب کا کام ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ آگ کے ساتھ بھی آنکھ مچولی جاری رکھے ہوئے تھے اور جس انداز سے وہ جلتی لکڑیوں کو آگے پیچھے کر کے آنچ کو مدھم تیز کر رہے تھے اُس سے اندازہ ہوتا تھا کہ گوشت نے نہیں بچنا ”اسے لاہور لے جاؤ“ ۔
” مگر استاد جی قورمے میں تو سنا ہے گوشت ڈالتے ہیں“ ، مجھ سے جب نہ رہا گیا تو پھٹ پڑا۔ ”ہاہاہاہاہا۔ ایک تو تم پڑھے لکھے لوگوں کا یہ بڑا مسئلہ ہے کہ تم بزرگو کو بے وقوف سمجھتے ہو۔ تم کیا جانو قورمہ کسے کہتے ہیں“ ۔ اس سے پہلے کہ وہ مجھے قورمے کی ایک سو تین ترکیبوں میں سے نایاب ترین ترکیب بتاتے، اُنہوں نے گوشت کو دم پہ رکھ کر نیچے سے آگ مدھم کی اور پھر یہ مرحلہ بخیر و عافیت مکمل ہونے کے بعد گھر والوں کو بلایا، ”دیکھو بھائی گوشت کو میں نے دم پہ رکھ دیا ہے۔
اب پندرہ منٹ تک یہ دم پر لگا رہے۔ آپ لوگ یہ باقی سامان لے جائیں۔ میں تب تک اس باؤ کو قورمے کی ترکیب لکھوا دوں“ ۔ میرا دوست تو سامان سمیٹنے میں مصروف ہو گیا جبکہ ہم دونوں تھوڑے فاصلے پر چھاؤں میں کھڑا ہو گئے۔ ”استاد جی پندرہ منٹ میں کیا یہ گوشت گل جائے گا۔ میرا تو خیال ہے یہ ٹائم کم ہے“ ، میرے اس مشورے نما نصیحت کو سن کر اُن کے اندر کا خون کھول اٹھا اور تڑپ کر بولے، ”تمہیں کیا پتہ باؤ۔ پندرہ منٹ میں تو بڈھے بیل کی ہڈیاں گل جاتی ہیں یہ تو پھر چھوٹا سا بکرا تھا۔ بلکہ بکرے کا بچہ۔ تم دیکھنا ایسا پکے گا کہ لوگ یاد کریں گے اور پوچھیں گے کہ کس نے پکایا ہے“ ۔
آخر پندرہ منٹ کے بعد جب گوشت کو چولھے سے اتارا گیا اور میرے دوست کے والد نے ایک چمچے کی مدد سے بوٹی نکال کر اُسے پلیٹ میں ڈال کر جب انگلی سے دبایا تو بوٹی پانچ فٹ اچھل کر دس فٹ دور سامنے کی دیوار پر جا کر لگی اور کچھ دیر زمین پہ تڑپنے کے بعد جان کی بازی ہار گئی۔ اس بوٹی کا یہ عبرت ناک انجام دیکھ کر گھر والوں کو یہ لالے پڑ گئے کہ یہ کچا گوشت اگر مہمانوں کو کھلا یا تو برادری میں کیا عزت رہ جائے گی۔ ”استاد جی گوشت بالکل نہیں گلا“ ۔
میں نے قدرے غصے سے کہا، ”تو میں کیا کروں۔ آپ لوگ گوشت ہی اتنا ناقص لے کر آئے اُس پر یہ ملاوٹ والا پانی۔ اور پھر یہ باؤ جی جس نے مجھے باتوں پہ لگائے رکھا۔ تو بھائی گوشت کہاں سے گلتا۔ اچھا مجھے اجازت دیں۔ اگر کچھ گوشت بچ جائے تو میرے گھر بھی بھجوا دینا۔ اللہ حافظ“ ۔ استاد پردیسی یہ کہہ کر بچے جمورے کے ہمراہ پیا گھر سدھار گئے اور پیچھے میرے دوست کا والد اپنی بے عزتی پر میرے دوست کی شان میں وہ قصیدہ گوئی فرما رہے تھے جسے سن کر مجھے تو دن میں تارے نظر آنا شروع ہو گئے۔


