ڈی آئی جی لاہور اور پندرہ ہیرے


پنجاب پولیس خاص طور پر لاہور پولیس میں حالیہ صورتحال ایسی ہے جیسے کوئی اسٹیج ڈرامہ بغیر اسکرپٹ کے لائیو چل رہا ہو کردار سب موجود ہیں، مگر ہدایت کار الگ الگ۔ سی سی ڈی کی بات نہیں کر رہا میں ان تھانوں کی بات کر رہا ہوں جو سی سی ڈی کے مکمل آپریشنل ہونے کے بعد محکمہ کے سوتیلے بیٹے ثابت ہونے والے ہیں، جی ہاں ایس ایچ اوز علاقہ تھانہ صوبہ پنجاب، اس تحریر میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کا نہیں بلکہ شہر لاہور کے کوتوالوں کے اول دستہ، ان 15 ہر دل عزیز سب انسپکٹرز شریف، کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں جن کو محترم سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ صاحب نے انٹیگریٹڈ پروفیشنل ڈویلپمنٹ کورس 2025 کے لئے نامزد کیا۔

، مذکورہ کورس محکمہ پولیس کی اصلاحات سنوارتے ہوئے لازم قرار دیا گیا تھا کہ سب انسپکٹر رینک کے آفیسرز کو محکمانہ ترقی کے لیے مذکورہ کورس لازم کرنا ہو گا۔ ان کورسز کا مقصد تھانیداروں کو جدید پولیسنگ اور پیشہ ورانہ مہارتوں کی تربیت دینا ہے، تاکہ وہ پولیسنگ اور تفتیش کے نئے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکیں۔ مگر ڈی آئی جی آپریشنز لاہور نے ان افسران کی روانگی برائے کورس پر اعتراض اٹھاتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ یہ افسران جن میں ایس ایچ او ہجر وال عظیم انور، ایس ایچ او غالب مارکیٹ حضر حیات، ایس ایچ او مصری شاہ حماہ حسین شاہ، ایس ایچ او رنگ محل حافظ طیب فاروق، ایس ایچ او شمالی چھاؤنی رومان اقبال، ایس ایچ او باغبانپورہ عمران خان نیازی، ایس ایچ او چوہنگ ذوالقرنین، ایس ایچ او سرور روڈ نعمان زاہد، انچارج چوکی جناح ہسپتال محمد سرور، انچارج چوکی ایل بلاک تھانہ نواب ٹاؤن نجف علی، چوکی انچارج پنجاب سوسائٹی تھانہ ستوکتلہ رضوان اصغر، چوکی جیا بگا انچارج اویس علی اور چوکی انچارج راجہ مارکیٹ سید امیشن علی شامل ہیں، یہ تمام حضرات اس وقت ”ایک خاص مشن“ پر تعینات ہیں، اس لیے ان کی تربیتی روانگی ممکن نہیں۔ اور ان کو یہ کورس آن لائن کروایا جائے، گویا چار سے چھے بجے تک عوامی مسائل کے ساتھ ساتھ ایس ایچ او کی ZOOM کلاس بھی ہوا کرے گی۔ مطلب ان سب انسپکٹرز نے ٹک ٹاک سے زوم پر آنا ہے۔

اب پنجاب کی دیگر اضلاع سے اعتراض کیا جا رہا ہے۔ بلکہ مذاق اڑایا جا رہا ہے، کہ لاہور پولیس کے پاس کیا یہ آخری 15 ہیرے بچے ہیں لاہور چلانے کے لیے، اور اگر یہ واقعی کوئی قومی سطح کا ”خفیہ مشن“ ہے تو پھر ان کا کورس لازم ”آن لائن“ کروایا جائے اور اگر یہی معیار ہے تو پھر لاہور سمیت دیگر اضلاع کے سب انسپکٹرز کو بھی ”خاص مشن“ پر رکھ کر گھر بیٹھے کورس مکمل کرنے کی اجازت دے دی جائے۔ کیونکہ فلائنگ سکواڈ پنجاب کانسٹیبلری، ٹیپو کمپنی، حیدر کمپنی قربان لائن اور پولیس لائن میں سٹینڈ ٹو پوزیشن میں کھڑے تھانیداروں سمیت مختلف دفاتر اور کھاتوں میں خوار ہونے والے وہ سب انسپکٹرز بھی کاندھے پر دو پھول سجائے پوری فورس کی طرح آپ کا ہر حکم مانتے ہیں اور یہ بھی آپ کی ٹک ٹاک فیملی کا حصہ ہیں۔ ان کو بھی موقع دیں یہ بھی لائق کمنٹ اور شیئر کرتے ہیں۔ یا ان پندرہ کے علاوہ باقی ماندہ فورس جبری ریٹائر کرنا مقصود ہے، اگر نہیں، تو ان افسران کو کورس سے روک کر صرف ”عہدہ سنبھالنے“ کی خاطر پولیس اصلاحات کو مذاق کیوں بنایا جا رہا ہے؟

اس سے بڑا المیہ کیا ہو گا کہ ایس ایچ او کا منصب، جو عوامی خدمت کا پہلا مورچہ سمجھا جاتا ہے، اب محض ایک ”انعامی نشست“ بن چکا ہے۔ جو ان افسران کو ہی ملے گی جو اعلیٰ افسران کے قریب ہوں۔

لاہور پولیس کے حالیہ حالات پر نظر ڈالیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ڈی آئی جی صاحب خود کو کسی تاریخی معرکے کا سپہ سالار سمجھ بیٹھے ہیں، اور ان کے 15 سب انسپکٹر وہ ”آخری مجاہد“ ہیں جو لاہور پولیس کے محاذ پر سینہ تان کر کھڑے ہیں۔ اگر ان مجاہدوں کو کورس پر بھیج دیا جائے تو شاید تھانے خالی ہو جائیں، پولیس آرڈر 2002 کا نظام منہ کے بل گر پڑے، اور پورا شہر جرائم کی آماجگاہ بن جائے۔ گویا لاہور پولیس کی پوری طاقت انہی پندرہ ”سپاہیوں“ میں سمٹ آئی ہے۔

یوں محسوس ہوتا ہے جیسے محکمہ پولیس میں نئی مہم کا آغاز ہو چکا ہے : ”ایس ایچ او بچاؤ، کورس مکاؤ“ ۔ یعنی ترقیاتی کورسز، پولیس ریفارمز، تربیتی پروگرامز سب بعد میں، پہلے ان صاحبان کی کرسی بچانی ہے۔ کیونکہ یہ ”اعتماد یافتہ“ ایس ایچ او اگر کورس پر چلے گئے تو اُن کی جگہ نئے افسر لانا گویا خطرہ مول لینا ہے۔ کورس تو بعد میں بھی ہو سکتا ہے، مگر کرسی اگر ایک بار گئی تو واپسی مشکل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کورس کے لیے منتخب ہونے کے باوجود یہ افسران کورس پر نہیں بھیجے جا رہے۔ بلکہ ڈی آئی جی صاحب نے تجویز دی ہے کہ ان کا کورس ”آن لائن“ کروا دیا جائے تاکہ ایس ایچ او کی سیٹ بھی قائم رہے، اور کاغذی ترقی آن لائن کر دی جائے۔

یہ صورت حال جہاں پولیس افسران کے درمیان ہم آہنگی کے فقدان کو ظاہر کرتی ہے، وہیں نچلے رینک کے افسران کے لیے بھی طنز کا باعث بن گئی ہے۔ تھانوں میں یہ جملے سننے کو مل رہے ہیں ؛ ”پوری گاڑی میں بس یہ ہی 15 لال ہیں، باقی ایم ایم عالم کی بھرتی ہے!“

یہ منظر کشی کسی وقت نسیم حجازی کے کسی ناول کا آخری باب بھی معلوم ہو رہا ہے ”ڈی آئی جی اور 15 عظیم سوار“ ایک ڈی آئی جی، جس کے پاس 15 ”عظیم سوار“ ہیں۔ وہی پرانے سب انسپکٹر، وہی مخصوص ایس ایچ او، جنہیں کہیں بھیجنا تو دور، کورس تک نہیں کرنے دینا۔ اگر یہ 15 کورس کے لیے چلے گئے تو گویا پولیس فورس کے گھوڑوں کی زین پر کوئی شاہسوار نا ملے گا۔ اصل پریشانی مجھے اس پندرہویں تھانیدار محمد بلال کی ہے، جو پولیس لائن قلعہ گوجر سنگھ کلوز ہونے کے باوجود ڈی آئی جی کے سپیشل مشن پر ہے۔

افسرو! کوئی حد ہوتی ہے نہ کوئی کارکردگی کی بنیاد ہے، نہ ہی میرٹ کا معیار۔ بس ایک شخصی فیصلہ ہے، اور وہ فیصلہ لاہور پولیس کی سالمیت سے زیادہ کچھ مخصوص چہیتوں کی موجودگی پر انحصار کرتا ہے۔ ایسے میں اصلاحات کی بات کرنا محض کتابی بات رہ جاتی ہے۔

لہٰذا اگر واقعی یہ افسران ناگزیر ہیں، تو کورس کسی اور کے لیے رکھیں۔ اور اگر پولیسنگ میں ترقی کے خواہاں ہیں، تو انہیں باعزت تربیت گاہ میں بھیجیں، نہ کہ طنز کا نشانہ بنائیں۔ فیصلہ کریں : یا یہ سب انسپکٹرز ایس ایچ او بنائیں، یا کورس کروائیں۔ دونوں کام بیک وقت نہ تو قانون اجازت دیتا ہے، نہ اصول، اور نہ ہی سسٹم، کیونکہ محکمہ پولیس میں اعمال نامہ نام کی بھی ایک برانچ ہوتی ہے

آپ ان سب انسپکٹرز کو پولیس سسٹم کے ”مستقبل“ کی علامت بنا رہے ہیں، جنہیں بغیر کسی تربیت یا اصلاحات کے مکمل آزادی حاصل ہے۔ ان کے بغیر، ڈی آئی جی صاحب کا خیال ہے کہ پورا پولیس سسٹم اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں رہ سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ان عظیم سواروں کے لیے کورس کے پروگرامز کو مؤخر کرنے کی درخواست کی گئی ہے، تاکہ یہ آرام سے ایس ایچ او کی سیٹ پر براجمان رہیں اور جیسے انھیں مستقبل میں کسی نئے چیلنج کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ صاحب بہادر کے اس 15 تھانیداروں کے بیانیے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ باقی تمام سب انسپکٹر گویا غیر اہم، نا اہل یا ناقابلِ اعتماد ہیں، اور یہ 15 ہی لاہور کی بقا کے لیے ناگزیر ہیں۔ اس سے زیادہ عجیب منطق شاید ہی کسی انتظامی یا انتقامی فیصلے کے پس پردہ ہو سکتی ہے۔

ایسا لگتا ہے جیسے یہ منظر کسی طنزیہ ڈاکومنٹری کا حصہ ہے۔ ایک ڈی آئی جی اور اُس کے 15 عظیم سوار، جو پولیس سروس کے ”آخری دستے“ ہیں۔ ان کے بغیر نہ تفتیش ہو سکتی ہے، نہ جرائم رک سکتے ہیں، نہ تھانے چل سکتے ہیں۔ یہ ایس ایچ او صاحبان جن پر بوجھل بریفنگ بھی اثر نہیں کرتی، جنہیں نہ بدلا جا سکتا ہے، نہ ہٹایا، اور نہ ہی باقاعدہ کورس کے لیے روانہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ دراصل اُس سوچ کی علامت ہیں جو اداروں کو شخصیات کا محتاج بنا دیتی ہے۔ یہاں اصلاحات نہیں، ”روایات“ اہم ہیں، کارکردگی نہیں، ”پسندیدگی“ معیار ہے ؛ اور میرٹ نہیں، ”مرضی“ قانون ہے۔

چند صاحب دانش کو یہاں اصل مسئلہ ذاتی پسند و ناپسند اور اختیارات کی کشمکش کا نظر آتا ہے۔ جب دو بڑے ہی آپس میں متفق نہ ہوں تو ایس ایچ اوز اور سب انسپکٹرز کے درمیان بھی بددلی اور بے یقینی کی فضا پیدا ہوتی ہے۔ اس سے پولیس فورس کا مورال متاثر ہوتا ہے، اور عوام میں ادارے کی ساکھ مزید خراب ہوتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو سوچنا چاہیے کہ ان کا مقابلہ اس وقت سہیل ظفر چٹھہ سے ہے۔ نا کہ ٹک ٹاک یا فیس بک سے۔ لاہور پولیس کی صورتحال پر نظر ڈالیں تو ایسا لگتا ہے کہ ڈی آئی جی صاحب نے پولیس کے ”آخری مجاہد“ کا کردار ادا کرنے کی قسم کھائی ہوئی ہے۔

اُن کے 15 سب انسپکٹر وہ ”خصوصی دستے“ ہیں جن کے بغیر لاہور کا امن برقرار نہیں رہ سکتا۔ یہ ”آخری مجاہد“ وہ ہیں جو نہ صرف خود کو بلاتفریق ترقی دینے کا حق رکھتے ہیں، بلکہ یہ اُن کے تحفظ کا ایک جواز بن چکا ہے۔ ”خاص مشن“ یہ سب انسپکٹرز اپنی کرسی پر جڑے رہنا چاہتے ہیں اور تربیت کے لیے کسی بھی قسم کی مزاحمت کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

یقین نہیں آتا کہ واقعی لاہور پولیس اتنی کمزور ہو چکی ہے کہ اگر 15 سب انسپکٹر کورس پر چلے جائیں تو پورا نظام بیٹھ جائے گا؟

یا پھر یہ نظام پہلے ہی کسی کرسی کے نیچے دب چکا ہے؟

اس صورتحال میں، پولیس کے لئے اصلاحات اور ترقی کے بارے میں سوالات اُٹھتے ہیں، کیونکہ جب اعلی افسران کی ترقی روک کر صرف کرسی بچائی جائے تو پورے سسٹم کی صلاحیت پر سوال اٹھنا لازمی ہے۔

Facebook Comments HS