یومِ فتح اور قومی عزم: 7 مئی 2025 اور سانحہ 9 مئی کے سبق
7 مئی 2025 کا سورج جب طلوع ہوا، پاکستان ایک نئے امتحان سے گزر رہا تھا۔ بھارت نے رات کے اندھیرے میں پاکستان کے مختلف علاقوں، خاص طور پر مدارس اور سول آبادی کو نشانہ بنایا۔ یہ حملہ نہ صرف پاکستان کی سرحدوں پر ایک جارحیت تھا بلکہ اس کی خودمختاری اور قومی عزت پر حملہ تھا۔ لیکن پاکستانی قوم، اس کی بہادر مسلح افواج، اور سیاسی قیادت نے اس چیلنج کا مقابلہ اس طرح کیا کہ دشمن کے عزائم خاک میں مل گئے۔ یومِ فضائیہ کی طرح، 7 مئی 2025 بھی پاکستان کی تاریخ میں ایک سنہری باب کے طور پر رقم ہوا، جب ہم نے سفارتی، سرحدی، اور دفاعی محاذ پر بھارت کو منہ توڑ جواب دیا۔ لیکن یہ فتح ہمیں ایک گہری خودنگری کی طرف بھی لے جاتی ہے۔ وہ کمزوریاں جو سانحہ 9 مئی 2023 جیسے واقعات کا سبب بنیں اور جنہوں نے دشمن کو ہم پر حملہ کرنے کی جرات دی۔
7 مئی 2025 : ایک تاریخی فتح
بھارت کا حملہ غیر علانیہ تھا، لیکن پاکستانی قوم کی تیاری اور ردعمل نے ثابت کیا کہ ہماری قوم ہر مشکل حالات میں متحد ہو سکتی ہے۔ پاک فضائیہ، بحریہ، اور بری فوج نے نہ صرف بھارتی جارحیت کا فوری جواب دیا بلکہ دشمن کے سات جنگی طیاروں کو مار گرا کر یہ پیغام دیا کہ پاکستان کی سرحدیں ناقابل تسخیر ہیں۔ سفارتی محاذ پر، پاکستان نے عالمی برادری کے سامنے بھارت کے اس ناپاک اقدام کو بے نقاب کیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری کی قیادت میں قومی اسمبلی کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا، جہاں سیاسی جماعتوں نے یک زبان ہو کر بھارت کی جارحیت کی مذمت کی۔ یہ دن ثابت کرتا ہے کہ جب قوم، فوج، اور قیادت ایک پیج پر ہوں، کوئی دشمن ہمارا بال بیکا نہیں کر سکتا۔
لیکن اس فتح کے جشن کے ساتھ ہمیں یہ سوال بھی پوچھنا ہو گا کہ دشمن کو یہ جرات کیسے ہوئی؟ کیا یہ ہمارے اندرونی خلا اور کمزوریوں کا نتیجہ نہیں تھا؟
سانحہ 9 مئی: ایک قومی زخم
9 مئی 2023 کا دن پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے، جب سیاسی طور پر بھڑکائے گئے شرپسندوں نے فوجی تنصیبات، جناح ہاؤس، اور دیگر قومی املاک پر حملے کیے۔ یہ محض ایک احتجاج نہیں تھا، بلکہ ایک منظم سازش تھی جس کا مقصد پاک فوج اور قومی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانا تھا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق، اس دن 39 فوجی تنصیبات پر حملے ہوئے، جن میں لاہور، راولپنڈی، میانوالی، اور مردان شامل تھے۔ اس سانحے نے نہ صرف قومی املاک کو نقصان پہنچایا بلکہ پاک فوج اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوشش کی۔
سانحہ 9 مئی کے ذمہ داروں کو اب تک جزوی طور پر سزا دی جا چکی ہے۔ فوجی عدالتوں نے 25 ملزمان کو 2 سے 10 سال تک قید کی سزائیں سنائیں، لیکن اصل منصوبہ سازوں اور ماسٹر مائنڈز کو ابھی تک مکمل طور پر قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا جا سکا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے درست کہا کہ اگر 9 مئی کے مجرموں کو بروقت سزا مل جاتی، تو شاید آج ہمیں اس طرح کے حالات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔
نظام کی کمزوریاں : ایک ایماندارانہ جائزہ
بھارت کی جرات اور سانحہ 9 مئی جیسے واقعات کی جڑیں ہمارے نظام کی کمزوریوں میں پیوست ہیں۔ ان میں سے چند اہم درج ذیل ہیں :
1۔ سیاسی عدم استحکام: سیاسی جماعتوں کے درمیان تقسیم اور عدم اعتماد نے قومی یکجہتی کو کمزور کیا۔ 9 مئی کے واقعات سیاسی پروپیگنڈے اور برین واشنگ کا نتیجہ تھے، جہاں ایک مخصوص نظریے کے تحت کارکنوں کو اداروں کے خلاف اکسایا گیا۔ سیاسی قیادت کو چاہیے کہ وہ نفرت اور تقسیم کے بیانیے کو ختم کرے اور قومی مفادات کو ترجیح دے۔
2۔ اندرونی سلامتی کے خلا: سانحہ 9 مئی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو منظم ہجوم کے خلاف تیاری کی ضرورت ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیجز سے ثابت ہوا کہ شرپسندوں نے اسپتالوں اور فوجی تنصیبات کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا، لیکن فوری ردعمل کی کمی نے نقصان کو بڑھایا۔
3۔ سفارتی کمزوریاں : بھارت کی جارحیت کا عالمی سطح پر موثر مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں اپنی سفارتی حکمت عملی کو مضبوط کرنا ہو گا۔ ماضی میں، او آئی سی جیسے پلیٹ فارمز پر بھارت کو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا، جو پاکستان کے موقف کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔
4۔ سماجی ہم آہنگی کی کمی: پاکستانی معاشرے میں نفرت، تعصب، اور فرقہ واریت کے بیج بوئے گئے ہیں، جو دشمن کے لیے ہمارے اندرونی اتحاد کو کمزور کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ نصابی کتابوں میں تاریخی نظرثانی اور تعصبات کو فروغ دینے والے بیانیوں نے نوجوان نسل کو تقسیم کیا ہے۔
آگے کا راستہ: اصلاحات اور ذمہ داری
ہماری قومی سلامتی کا تقاضا ہے کہ ہم ان کمزوریوں کو فوری طور پر دور کریں۔ چند تجاویز درج ذیل ہیں :
انصاف کی فراہمی: سانحہ 9 مئی کے ماسٹر مائنڈز کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ فوجی عدالتوں کے فیصلوں کو شفاف بنایا جائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو۔
سیاسی مکالمہ: تمام سیاسی جماعتوں کو ایک قومی ڈائیلاگ کا حصہ بنایا جائے، خاص طور پر وہ جو نظام سے نالاں ہیں۔
سفارتی حکمت عملی: عالمی سطح پر پاکستان کے موقف کو مضبوط کرنے کے لیے او آئی سی، اقوام متحدہ، اور دیگر پلیٹ فارمز پر موثر لابنگ کی جائے۔
سماجی اصلاحات: نصابی کتابوں سے تعصبات اور نفرت کو ختم کیا جائے۔ قومی یکجہتی کو فروغ دینے کے لیے میڈیا اور تعلیمی اداروں کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہو گا۔
اندرونی سلامتی: انٹیلی جنس نظام کو مضبوط کیا جائے تاکہ مستقبل میں 9 مئی جیسے واقعات سے بچا جا سکے۔
7 مئی 2025 ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان ایک عظیم قوم ہے، جو ہر مشکل حالات میں سر اٹھا کر مقابلہ کر سکتی ہے۔ لیکن یہ فتح تب ہی مستقل ہو گی جب ہم اپنی کمزوریوں کو دور کریں گے اور ایک متحد قوم کے طور پر آگے بڑھیں گے۔ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے وطن کی حفاظت کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ آخر میں، ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو ہر اندرونی اور بیرونی دشمن سے محفوظ رکھے۔ پاک فوج، جو ہماری سرحدوں کی نگہبان ہے، اسے ہمیشہ سرخرو رکھے۔ ہماری سیاسی قیادت کو ہمت اور حکمت عطا کرے کہ وہ قومی مفادات کو ذاتی مفادات پر ترجیح دیں۔ پاکستانی قوم کو اتحاد، ایمان، اور نظم کی دولت سے نوازے۔ اور ہماری حکومت کو وہ صلاحیت عطا کرے کہ وہ تمام مشکل حالات میں قوم کی رہنمائی کرے۔


