آئیے امن کا انتخاب کریں


پہلگام حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے جنوبی ایشیا میں جنگ کے خوف کو دوبارہ جنم دیا ہے۔ جیسے جیسے بیان بازی تیز ہوئی ہے، قومی جوش دونوں ممالک کو جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے۔ ہندوستان کی ہٹ دھرمی اور جنگی جنون پورے خطے کے لیے تباہی لا سکتا ہے۔ پاکستان میں تیس سے زائد شہادتوں کے باوجود پاکستان کا صبر اور حکمت عملی تدبر کا مظہر ہے۔ اسے کمزوری سمجھنا جہالت ہے۔ ڈرون حملوں اور ہندوستانی اشتعال انگیزی کے باوجود ایک سچ جاننے کی ضرورت ہے : جنگ تنازعات کو حل نہیں کرتی۔ یہ انسانی مصیبت کو بڑھاتی ہے، خاص طور پر غریبوں کے لیے۔ ژاں پال سارتر کے الفاظ سچ ہیں کہ ”جب امیر لڑتے ہیں، غریب مرتے ہیں۔“ بھارت کے لیے، جو 2030 تک 10 ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کا خواب دیکھتا ہے، اور پاکستان، جو اپنی نازک معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے، تنازعہ ایسی آسائش ہے جسے کوئی برداشت نہیں کر سکتا۔ جنگ کی قیمت۔ خالی پیٹ، تباہ شدہ روزگار، اور غربت میں جکڑی نسلوں میں ادا کرنی پڑتی ہے۔ یہ قیمت کسی عارضی فتح سے کہیں زیادہ ہے۔ ہمیں اس مشکل وقت میں، جب دل شاید ہندوستان کو سبق سکھانے کے لیے کہہ رہا ہو، لیکن انسانیت کا درس کہتا ہے کہ ہم امن کا مطالبہ کریں اور اس کے لیے کام کریں۔

جنگ غریبوں سے وسائل چھینتی ہے

بھارت اور پاکستان کو سخت سماجی، معاشی چیلنجز کا سامنا ہے، دنیا کے سب سے زیادہ غریب دونوں ممالک میں رہتے ہیں، ایسی حالت میں جنگ حالات کو مزید خراب کر دے گی۔ ہندوستان میں، غربت میں کمی کے باوجود، عالمی بینک کے مطابق اب بھی 3 کروڑ سے زائد لوگ 2.15 ڈالر سے کم پر گزارا کرتے ہیں۔ پاکستان کی صورتحال مزید سنگین ہے، جہاں 37 فیصد آبادی غربت میں ہے اور 1 کروڑ لوگ شدید بھوک کا شکار ہیں۔ یہ اعداد و شمار صرف نمبر نہیں۔ یہ جدوجہد کرنے والے خاندان، تعلیم سے محروم بچے، اور بہتری کی امید میں جینے والے لاکھوں خاندان ہیں۔

جنگ محدود وسائل کو فلاحی پروگراموں سے فوجی بجٹ کی طرف موڑ دیتی ہے، ان بحرانوں کو مزید گہرا کرتی ہے۔ بھارت کا 2024۔ 25 کے لیے دفاعی خرچ 6.21 لاکھ کروڑ بھارتی روپے ہے، جو پاکستان سے دس گنا زیادہ ہے۔ اس کا کچھ حصہ صحت، تعلیم، یا دیہی روزگار سکیموں کو بڑھانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ پاکستانی قوم ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہے، لیکن ہمیں دانشمندی سے فیصلے کرنے ہوں گے۔ پاکستان، جو آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ اور صرف 16 بلین ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر پر انحصار کر رہا ہے، طویل تنازعہ برداشت نہیں کر سکتا۔ موڈیز نے خبردار کیا ہے کہ جنگ پاکستان کے مالی استحکام کو پیچھے دھکیل دے گی، لاکھوں لوگوں کو غربت میں دھکیل دے گی۔ جیسا کہ ڈوائٹ ڈی آئزن ہاور نے کہا، ”ہر بندوق کا بننا، ہر جنگی جہاز کا لانچ ہونا، ہر راکٹ کا فائر ہونا، ان وسائل کی چوری ہے جو بھوکوں اور ننگوں کے لیے ہیں۔“ غریب، جو پہلے ہی سخت حالات میں جکڑے ہیں، اس چوری کی سب سے بڑی قیمت ادا کرتے ہیں۔

بھوک جنگوں سے یا تو بڑھتی ہے یا جنم لیتی ہے

کسی دانشمند نے کہا، ”غربت تشدد کی بدترین شکل ہے۔“ جنگ، غذائی عدم تحفظ کے ذریعے غربت کو بڑھاتی ہے، سب سے کمزور اور پسماندہ طبقات کو اس خطرناک ہتھیار، بھوک کے حوالے کرتی ہے ؛ بھوک بدتر ہتھیار ہے، جو دانا کو دیوانہ کر دیتا ہے۔

جنگ سپلائی چین کو تباہ کرتی ہے، اخراجات بڑھاتی ہے، اور قلت پیدا کرتی ہے۔ اس سے مہنگائی بڑھتی ہے۔ پاکستان کی غذائی اجناس کی درآمدات، جو پہلے ہی دباؤ میں ہیں، تجارتی راستوں کی بندش کی وجہ سے 20۔ 30 فیصد بڑھ سکتی ہیں۔ ہندوستان بھی، تیل کی قیمتوں کے جھٹکوں اور روپے کی قدر میں کمی کا سامنا کرے گا، جو گندم اور ایندھن جیسی ضروری اشیا کی قیمتوں کو بڑھائے گا۔ غریب، جو اپنی آمدنی کا بڑا حصہ خوراک پر خرچ کرتے ہیں، سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ دونوں ممالک میں، بھوک کا خوف تنازعہ کے براہ راست نتائج کے طور پر سامنے آتا ہے۔

جنگ کے فوری نقصانات فوجی اور عام لوگ ہوتے ہیں، لیکن اس کے طویل مدتی شکار غریب ہیں۔ ہجرت خاندانوں کو ان کی سرزمین سے اکھاڑ پھینکتی ہے اور مقامی معیشت کو تباہ کرتی ہے۔ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب سرحدی دیہات پہلے ہی خالی ہو رہے ہیں، جنگ اور اس کے خوف نے سیاحت سے ہونے والے روزگار کو ختم کر دیا ہے۔ 1947 کی تقسیم نے لاکھوں لوگوں کو بے گھر کیا، جن کے زخم آج بھی موجود ہیں۔ نیا تنازعہ کیا ایسی حالت کو دوبارہ جنم دے گا؟ یہ سوچ کر ہی جسم کانپ جاتا ہے۔

روزگار بھی شدید متاثر ہو گا۔ ہندوستان کا غیر رسمی مزدور طبقہ، جو اس کی کل لیبر فورس کا 90 فیصد ہے، اور پاکستان کے زرعی مزدور خاص طور پر کمزور ہیں۔ 2020 کے کووڈ لاک ڈاؤن نے دکھایا کہ بحران غیر رسمی مزدوروں کو غربت میں کیسے دھکیلتا ہے۔ جنگ اسے تباہی کی سطح پر بڑھا دے گی۔ چھوٹے کسان، سڑکوں کے تاجر، اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے بے روزگاری کا سامنا کریں گے، بغیر کسی سماجی تحفظ کے جو ان کی اس اچانک بے روزگاری اور بڑھتی غربت کو روک سکے۔ جنگ کا انسانی نقصان میدان جنگ سے کہیں آگے پھیلتا ہے، غریبوں کو دائمی محرومی کے گڑھے میں پھنساتا ہے۔

معاشی تباہی

چھوٹی جنگ کے معاشی اخراجات حیران کن ہیں۔ 1999 کے کارگل تنازعہ میں بھارت نے روزانہ 15 کروڑ بھارتی روپے خرچ کیے، جبکہ پاکستان کی معیشت 1.2 بلین ڈالر کے اخراجات کے نیچے آ گئی۔ 2025 میں، چار ہفتوں کی جنگ بھارت کو روزانہ 17.8 بلین ڈالر کا نقصان پہنچا سکتی ہے۔ جو 2010 میں یونان کی معاشی تباہی کے برابر ہے۔ پاکستان کا روپیہ 285 روپے فی ڈالر تک گر سکتا ہے، اور بھارت کے مضبوط ذخائر تیزی سے ختم ہو جائیں گے۔ سرمایہ کاروں کا اعتماد، جو 2019 کے پلوامہ بحران کے دوران متزلزل ہوا جب بھارتی مارکیٹوں سے 3,000 کروڑ روپے نکلے، غائب ہو جائے گا، دونوں ممالک میں ترقی کو روک دے گا۔

اس کے شدید اثرات سب سے زیادہ غریبوں پر پڑیں گے۔ کرنسی کی گرتی قیمت کا بحران ضروری اشیا کی قیمتوں کو بڑھائے گا، جبکہ سرمایہ کے اخراج سے روزگار پیدا کرنے والی سرمایہ کاری رک جائے گی۔ پاکستان کی نازک معیشت، جو غیر ملکی امداد سے جڑی ہے، وجودی خطرات کا سامنا کرے گی۔ بھارت، اپنی معاشی طاقت کے باوجود، اپنے ترقیاتی اہداف بالکل حاصل نہ کرے گا اور یقیناً جنگی جنون کی وجہ سے نقصان اٹھائے گا۔ جنگ، اپنی فطرت میں، نیچے کی طرف گرنا ہے، جس کے پہلے شکار غریب ہوتے ہیں۔

امن کا راستہ: تباہی کے بجائے سفارت کاری

حل جنگ کے بڑھاوے میں نہیں بلکہ مذاکرات میں ہے۔ انڈس واٹر ٹریٹی کو بحال کرنا اور تجارتی راستوں کو دوبارہ کھولنا، جو ایک وقت میں 1.2 بلین ڈالر سالانہ تجارت کی سہولت دیتے تھے، بھوک کو کم کر سکتے ہیں اور معیشتوں کو مستحکم کر سکتے ہیں۔ مشترکہ وسائل۔ پانی، توانائی، اور تجارت پر تعاون دونوں ممالک کو مشترکہ تباہی سے کہیں زیادہ فائدہ دے گا۔

ترقی میں سرمایہ کاری اہم ہے، آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔ ہندوستان اپنے پڑوسی ممالک کو جنگی جنون دکھانے سے بہتر ہے کہ اپنے غریبوں کے لیے کچھ کرے ؛ ویسے بھی پاکستان اس سے کبھی ڈرا نہیں۔ پاکستان بھی اپنی توانائی کو تعلیم اور صحت پر مرکوز کر کے لاکھوں لوگوں کو غربت سے نکال سکتا ہے۔ امن ترقی کی ضمانت دیتا ہے ؛ جنگ تباہی اور زوال کا راستہ ہے۔

مغروریت کے بجائے انسانیت کا انتخاب

جنگ طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ ناکامی کا اعتراف ہے۔ عالمی بینک کی بھوک کے اعداد و شمار اور موڈیز کی معاشی پیش گوئیاں ایک خوفناک تصویر پیش کرتی ہیں۔ جنگ کی اصل قیمت تباہ شدہ زندگیوں اور ضائع شدہ مستقبل میں گنی جاتی ہے۔ بھارت اور پاکستان کے لیے، جو تاریخ اور جغرافیائی طور پر جڑے ہیں، تنازعہ ان کے لوگوں کی امیدوں کے ساتھ خیانت ہے۔ غریب، جنہیں کم سے کم فائدہ اور سب سے زیادہ نقصان ہوتا ہے، اس کی سب سے بڑی قیمت ادا کرتے ہیں۔

ہمیں چاہیے کہ عقل و فہم سے حقیقت کا سامنا کریں اور امن کا مطالبہ کریں۔ تباہی کی بجائے سفارت کاری کا انتخاب کر کے ہم ایسا مستقبل منتخب کرتے ہیں جہاں کوئی بچہ بھوکا نہ ہو، کوئی خاندان بے گھر نہ ہو، اور کوئی برادری پیچھے نہ رہے۔ آئیے سارتر اور آئزن ہاور کی حکمت پر توجہ دیں، جنگ کی جگہ امن کا انتخاب کریں۔ ہم ہندوستان سے نہیں ڈرتے نہ ہی پاکستان کمزور ہے۔ امن کا وقت اب ہے۔

Facebook Comments HS