جب میں مقبوضہ جموں کشمیر گیا
پہلگام کا دردناک واقعہ بھارتی سکیورٹی پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان چھوڑ گیا، بھارت کے بہت سے صحافی اور ریٹائرڈ ملٹری پرسنیلز جو بھارتی کشمیر میں موجود آرمی کی بڑی تعداد سے مکمل آگاہ ہیں، اس بارے میں آواز اٹھا رہے ہیں، لیکن کوئی انہیں سننے کو تیار نہیں کیونکہ کنٹرولڈ میڈیا کے ذریعے جنگی جنون بھارت میں خوفناک شکل اختیار کر چکا ہے، جس کی رو میں بہت سے انٹلیکچولز، بظاہر پڑھے لکھے سمجھدار لوگ بھی بہہ رہے ہیں، اب اسی واقعے کو بنیاد بنا کر بھارت نے پاکستان پر شرمناک حملہ بھی کر دیا، جس کا یقیناً اسے خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔
مقبوضہ جموں اینڈ کشمیر میں سکیورٹی اداروں کے کنٹرول کو لے کر کچھ تجربات سے میں بھی گزرا ہوں، جب 2005 کے آغاز میں مجھے مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے کا موقع ملا، اس دورے کے میرے مشاہدات بھی مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر رہے ہیں کہ پہلگام جیسے حساس علاقے میں اتنا بڑا سکیورٹی لیپ کیوں کر ممکن ہوا؟ سیاحوں کے بقول موقع پر تو درکنار وقوعے کے بعد بھی لمبے وقت کے لیے آس پاس کوئی سکیورٹی اہلکار موجود نہیں تھا۔
واہگہ بارڈر سے بذریعہ سپیشل بسز، بٹالہ اور گرداس پور سے ہوتے ہوئے دریائے راوی کے اس مقام پر کھانے کا اہتمام کیا گیا تھا (مادھو پور ہیڈ ورکس ) جہاں راوی کو روک کر نہریں نکالی گئی ہیں، ایک طرف صاف اور شفاف پانی سے بھرپور ایک بہت بڑا جھیل نما دریا، جس میں بے شمار مچھلیاں تیرتی نظر آ رہی تھیں، اس جھیل نما دریا کے پیچھے دور (جیسے خلاؤں میں ) بلند برف پوش پہاڑ بھی نظر آرہے تھے، بے شمار آبی پرندوں کے غول کے غول اڑ اڑ کر پانی پر بیٹھ رہے تھے، رنگ برنگی مرغابیاں ماحول کو مزید طلسماتی کر رہی تھیں۔
راوی کا یہ جوبن تو میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا، کیا یہ وہی راوی ہے جس کی لاش لاہور اور شاہدرہ کے درمیان پڑی ہے، جس کی بے حرمتی کرتے ہوئے لوگ اس پر کچرا، سیوریج اور فیکٹریوں کا کیمیکل ویسٹ ڈالتے ہیں، شاید اس نے یہاں پناہ لے رکھی ہے، ان خوبصورت برف پوش پہاڑوں کے چرنوں میں، جہاں سے یہ صحت مند پانی اور مٹی ہزاروں سالوں سے اپنے کندھوں پر سوار کر کے پنجاب کی دھرتی پر پھیلاتا رہا ہے تاکہ یہ سونا اگل سکے۔
جب کہ دوسری طرف پتھر، مٹی اور ریت، جو پاکستان کی سائیڈ بنتی تھی، نوالہ کیا خاک ہمارے حلق سے اترنا تھا؟
اس کے بعد جیسے ہی ہم کشمیر میں داخل ہوئے تو یوں محسوس ہوا جیسے کسی قلعے میں داخل ہو رہے ہیں، جگہ جگہ پولیس اور فوج کی چوکیاں، سڑک کے دونوں اطراف جا بجا پہاڑوں پر فوج کے مورچے، جن میں سے لمبی لمبی مشین گنوں کی تھوتھنیاں جھانک رہی تھیں، جموں شہر کا عالم بھی کچھ ایسا ہی تھا، حالانکہ کشمیر کے دیگر شہروں کے مقابلے میں جموں قدرے پرامن شہر ہے، لیکن پھر بھی فوجی وردی کے رنگ شہر پر چھائے ہوئے تھے۔
ایک تو پاکستانی ڈیلیگیشن اور اوپر سے کشمیر، اس لیے بغیر سکیورٹی کے سیر و تفریح کے لیے شہر میں گھومنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا، اس لیے باہو فورٹ اور پرانے شہر میں گھومتے ہوئے بھارتی کمانڈوز کی ہم سے بھی زیادہ تعداد ہمارے ارد گرد موجود رہتی تھی، ملکہ پکھراج کا محلہ دیکھنے کی خواہش تھی، وہاں پہنچنے کے لیے سکیورٹی کو کافی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، جموں بلندی پر واقع ہے اس لیے مختلف مقامات سے رات کے وقت پاکستان کی طرف سیالکوٹ کے علاقے کی لائٹیں جا بجا نظر آتی ہیں۔
میرے ایک بزرگ انکل جو جموں و کشمیر کے پرنس آف ویلز کالج سے پڑھے تھے اور اس وقت کی کالج کرکٹ ٹیم کا حصہ بھی رہ چکے تھے، میرے جموں کے دورے کو لے کر مجھ سے بھی زیادہ ایکسائٹڈ تھے، میرے گھر آئے اور خاص طور پر تاکید کی کہ اگر ہو سکے تو پرنس آف ویلز کالج کا چکر ضرور لگانا، ہم نے ساری زندگی انہیں انتہائی مضبوط اعصاب کا مالک پایا، وہ بڑے عہدوں پر کام کر چکے تھے، اس دن میں نے پہلی مرتبہ ان کی آنکھوں میں نمی دیکھی۔
ایک شام وزیر اعلیٰ جموں کشمیر مفتی سعید (محبوبہ مفتی کے والد) نے اپنے گھر پرتکلف کھانے کا اہتمام کیا، وہ مختلف ٹولیوں میں بٹے ڈیلیگیشن کو وقتاً فوقتاً خود مل کر خوش آمدید کہہ رہے تھے، جب وہ ہمارے پاس آئے تو انہوں نے پوچھا کہ آپ لوگوں کی کسی بھی علاقے کو دیکھنے کی خواہش ہے تو ہمیں بتائیں، میں نے مناسب موقع جانتے ہوئے فوراً کہا کہ میرے انکل پرنس آف ویلز کالج کے پڑھے ہیں میں ان کی خواہش پر وہ کالج دیکھنا چاہتا ہوں، وہ بہت خوش ہوئے اور فوراً اپنے اسٹاف کو بلا کر میرے سامنے کر دیا، ہم نے اگلے ہی دن کا وقت طے کر لیا۔
ہم کسی اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرے ہوئے تھے، میں مقررہ وقت پر اپنے کیمرہ مین کے ہمراہ لابی میں پہنچ گیا، کچھ ہی دیر میں پینٹ کوٹ میں ملبوس ایک افسر لابی میں داخل ہوا، ملنے کے بعد اس نے اسپاٹ چہرے کے ساتھ سارا پلان بتایا، جیسے ہی ہم باہر نکلے تو ایک بلٹ پروف مرسیڈیز جسے دو بلیک کیٹ کمانڈوز کی گاڑیوں نے گھیر رکھا تھا ہمارا انتظار کر رہی تھی، میں نے افسر کی طرف دیکھا اور کہا، کیا ہم ایسے کالج جائیں گے؟ اس نے ہاں میں سر ہلایا، جب ہم گاڑی میں سوار ہوئے تو دونوں کمانڈوز کی گاڑیوں نے ہوٹر بجانے شروع کر دیے، ہوٹرز کی آواز اتنی زیادہ تھی کہ خوف آ رہا تھا، جب یہ قافلہ روانہ ہوا تو مجھے ہوٹرز کی آواز بھول گئی کیونکہ چھوٹتے ہی گاڑیوں کی رفتار ہوٹرز کی آواز سے بھی زیادہ تھی، خیر گاڑی بہت آرام دہ تھی اس لیے اتنی رفتار اندر بیٹھے محسوس نہیں ہو رہی تھی۔
ہمارے آگے چلنے والی کمانڈوز کی گاڑی کے اوپر چار پانچ کمانڈوز کے ساتھ ایک سول وردی میں ملبوس شخص ہاتھ میں ایک لمبا ڈنڈا لیے راستے میں حائل ہونے والی کسی بھی گاڑی کو بے دریغ پیٹتا جا رہا تھا، خیر ہم تقریباً آدھے گھنٹے کے سفر کے بعد پرنس آف ویلز (موجودہ گاندھی سائنس کالج) کے گیٹ پر پہنچے، ہمارے باہر نکلتے ہی دس پندرہ کمانڈوز نے ہمیں گھیر لیا، میں نے افسر سے ریکویسٹ کی کہ ایسے تو لوگ خوفزدہ ہو جائیں گے، لیکن اس نے میری اس درخواست پر زیادہ کان نہیں دھرا، جب میں نے وہاں موجود عام لوگوں کا مشاہدہ کیا تو مجھے یوں محسوس ہوا کہ یہ ان کے لیے معمول کی بات تھی، خیر افسر نے میری درخواست کا کچھ بھرم رکھا اور کمانڈوز کو چار چار کی ٹولیوں میں ہم سے کافی فاصلے پر رہ کر چلنے کو کہا، یہ میرا خیال ہے کیونکہ وہ کوئی بھی انسٹرکشن میرے سامنے نہیں دے رہا تھا لیکن کالج میں داخل ہوتے ہی ان کی فارمیشن کچھ ایسے ہی تھی۔
میں کچھ دیر تک کالج کے باغیچوں اور عمارت کے دالانوں میں گھومتا رہا، میرا کیمرہ مین تصویریں کھینچتا رہا، اسی دوران ایک ملازم بھاگتا ہوا آیا اور بتایا کہ پرنسپل صاحب آپ کا انتظار کر رہے ہیں، ہم پرنسپل آفس گئے جہاں پہلے سے ہی چائے کا اہتمام کیا گیا تھا، پرنسپل کے ہمراہ ان کے اسٹاف کے پروفیسرز حضرات بھی موجود تھے، میں نے انہیں اپنے انکل کا نام اور گریجویشن کا سال بتایا، خوش قسمتی سے انہی دنوں انہوں نے کالج کا 100 سالہ گزٹ نکالا تھا جس میں انکل کے دور کی تصاویر اور کرکٹ ٹیم کا گروپ فوٹو بھی موجود تھا، پرنسپل صاحب نے گزٹ کی ایک کاپی انکل کے لیے تحفے کے طور پر دی، اور ہم وہاں سے رخصت ہوئے۔
گیسٹ ہاؤس تک واپسی کا راستہ بھی کچھ ایسا ہی ہنگامہ خیز تھا، مجھ سے زیادہ میرا کیمرہ مین اس سے لطف اندوز ہو رہا تھا، پاکستان پہنچ کر میں نے انکل کو پرنسپل کی طرف سے سلام کے ساتھ ان کا تحفہ ان کے حوالے کیا، ان کی خوشی دیدنی تھی، ان کی آنکھوں میں نمی پہلے سے زیادہ تھی، مجھے پتہ چلا کہ وہ اکثر شام کو گزٹ کھولے تصویریں کھنگال رہے ہوتے ہیں، چند سالوں بعد وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔




