کیا جنگ مذاق ہے؟
کسی نے پوچھا جنگ سے کیا ملے گا؟ کون سا سکون ملے گا؟ کیا امن آئے گا؟ کیا ہم بہتر معیشت بن سکیں گے؟ ہمارے ہاتھ میں کیا آئے گا؟ ایک بوڑھی ماں جو ڈیوڑھی پر روز چادر پھیلائے جوان بچے کا انتظار کرتی ہے۔ وہ اس جنگ کے اثرات کو جانتی ہے۔ وہ بہن جس کے ہاتھوں میں مہندی لگی ہے اور جس کی آنکھوں میں دل سے قریب بھائی کی محبت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر جاگ رہا ہوں وہ جانتی ہے کہ جنگ کس عذاب کا نام ہے۔ جنگ تعمیر نہیں تخریب کا نام ہے۔ جنگیں تہذیب مٹا دیتی ہیں۔ جنگیں سارے آداب بھلا دیتی ہیں۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم لوگ جانتے بھی ہیں جنگ ہوتی کیا ہے؟ ہم وہ قوم ہیں جو کتنے سالوں سے جنگیں لڑ رہے ہیں۔ خواہ وہ پینسٹھ ہو، اکہتر ہو، کارگل جنگ ہو یا پھر ملکی لیول پر دہشت گردی۔ ہم نے ہمیشہ ہی جنگوں کا سامنا کیا ہے۔ ہم وہ قوم ہیں جنہوں نے اپنے سامنے خود کش حملہ ہوتے دیکھا ہے۔ ہم نے دہشت گردوں کو پھٹتے دیکھا ہے اور ان لمحوں میں جب کوئی گھر سے نکلتا تھا تو رات کو مائیں جائے نماز بچھا کر ہمارے لوٹ کے آنے کی دعائیں کیا کرتی تھیں۔ گھر کی دہلیز پر ہم امید چھوڑ کر جاتے تھے تب، جب آسمانِ حیات پر موت کے پرندے اڑتے تھے ہم نے ان حالات کا بھی سامنا کیا ہے پھر مسئلہ کہاں پیدا ہوا ہے؟
ہم اپنے داخلی مسائل سے نہیں نکل پائے۔ ہماری معیشت لنگڑا کر چل رہی ہے۔ ہم آئی ایم ایف کے چنگل سے نہیں نکل پائے بھلا ایسے حالات میں ہم جنگ کیوں چاہئیں گے۔ چھوٹی سے چھوٹی جنگ بھی اس ملک کو بیس سال پیچھے کی جانب دھکیل دیتی ہے تو کیا ہم جنگ کے آرزو مند ہیں۔ ہرگز نہیں۔ ہم کبھی جنگ نہیں چاہئیں گے اور سمجھتے تھے کہ انڈیا بھی ابھرتی ہوئی معیشت ہے اور وہ بھی کبھی جنگ نہیں چاہے گا مگر انڈیا نے ہمارا خیال حرف غلط کر دیا۔ انتہا پسندی نے انڈیا جیسے ابھرتے ہوئے جن کو نفرت اور انتقام کی بوتل میں قید کر دیا ہے۔ جنگیں ترقی نہیں لاتیں اور ماضی میں دھکیل دیتی ہیں۔ انڈیا یہ سوچے کہ وہ بیس سال پیچھے کہاں ہو گا اور ہم کہاں کھڑے ہوں گے۔ ہم شاید پھر بھی بیس سال پہلے قدرے خوشحال ہی نظر آئیں گے۔
ہمارے دوست سوشل میڈیا پر علاقے اور زمین بھی تقسیم کر بیٹھے ہیں۔ کسی نے تاج محل کو اپنا آسرا بنا لیا ہے۔ کوئی دہلی میں پٹھورے کھانا چاہتا ہے اور کسی منچلے کا دل احمد آباد کی گلیوں میں آ چکا ہے۔ زیادہ تر سیدھا بالی وڈ جانا چاہتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے وہاں اداکارائیں ان کے انتظار میں نگاہیں فرش پر بچھائے بیٹھی ہیں جونہی وہ آئیں گے وہ زمین سے اٹھیں گی ان کے ہاتھ تھام کر لکھنوی اندازمیں ”حضور تشریف لے آیئے، آپ کا ہی انتظار تھا“ بولتے ہوئے انہیں محبت کے بادلوں میں لے جائیں گی۔ ہم تو سوشل میڈیا پر یہی سوچے بیٹھے ہیں۔
مگر کیا جنگ مذاق ہے۔ بہت سی عالمی طاقتوں نے سوچا کہ چھوٹے بھائی کو بڑا بھائی بنا دیا جائے۔ اس کے لیے انہوں نے انڈیا کو منتخب کیا۔ اسے بڑے بھائی چائنہ کی شلوار پہنا دی مگر اب وہ فٹ نہیں آ رہی۔ چھوٹے بھائی پکا ذہن بنا بیٹھے ہیں۔ وہ کبھی اس درزی کے پاس دوڑتے ہیں اور کبھی اس درزی کے پاس مگر وہ سمجھ نہیں پا رہے کہ شلوار نہیں ان کے قد میں مسئلہ ہے۔ بڑے بھائی نے شلوار تو دے دی ہے مگر قد ان کا جوں کا توں ہے۔ کشمیر حملوں کے بعد انڈیا نے جس تیزی سے پاکستان پر حملہ کیا اتنی جلدی تو بیویاں بھی واپس گھر لوٹے شوہر کے کپڑوں پر لگے بال کو دیکھ کر حملہ آور نہیں ہوتیں۔ کوئی ثبوت نہیں، کوئی گواہ نہیں۔ بس حملہ کر دیا۔
انڈیا کو بڑے بھائیوں نے کہا جاؤ لڑو۔ انڈیا لڑ پڑا۔ لیکن وہ نہیں جانتا کہ بعض اوقات بڑے بھائی لڑائی کروا کر خود گھر میں کوئی اچھی سی فلم دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ الیکشن جیتنے کا ہنر مودی جی کو خوب آتا ہے۔ انہوں نے سوچا مسلم دشمنی سے کام نہیں چلا، پاکستان دشمنی جیسے ہتھیار کو چلا کر بہار کا الیکشن جیتا جا سکے۔ پہلے انہوں نے سندھ طاس معاہدہ ختم کیا جو کہ انتہائی غلط اقدام تھا۔ کچھ بھی ہو جائے پانی بند نہیں ہونا چاہیے۔ پھر انہوں نے بالی وڈ کو اگلے دس سال فلموں کا مواد فراہم کر دیا۔
جنگیں مذاق نہیں ہوتیں مگر دنیا کے اندر ایک اور نظریہ لاگو ہے۔ اس وقت دنیا کے اندر جو زبان، انداز، اور جس فکر کو سنا جا رہا ہے، سمجھا جا رہا ہے۔ اس کا نام طاقت ہے۔ اقوام متحدہ نامی ادارہ جہاں خاموشی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں اور کبھی کبھار کوئی ملک بھول کر ان خالی کرسیوں پر دستک دے دیتا ہے اور جواباً جاتے دروازہ بند کر کے جانا جیسی آواز سنتا ہے تو ممالک سوچتے ہیں اب وہ کہاں جائیں۔ ہمیشہ کی طرح ہر معاملے سے لاتعلق اقوام متحدہ جانے کس کونے میں پڑا ہے۔ عالمی امن، پرامن دنیا، ایسے الفاظ اب خیالی لگتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا جنگ مسئلے کا حل ہے۔ ہرگز نہیں۔ اس بات کی سمجھ یورپ اور باقی ممالک کو دو عالمی جنگیں لڑنے کے بعد آئی تھی۔ اب وہ نہیں لڑتے۔ امن سے رہتے ہیں۔ انہیں کوئی اکسائے بھی تب بھی وہ نہیں لڑتے وہ فلیش بیک میں دو عالمی جنگیں دیکھتے ہیں۔ اب وہ ترقی کی راہ پر چل رہے ہیں۔ کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ جنگ کے بعد خیریت پوچھنے کے لیے بوڑھی ماں رہ جاتی ہے جس کی شکن زدہ پیشانی پر کسی اپنے کے لوٹ آنے کی تحریر درج ہوتی ہے۔ جس کے جھریوں بھرے ہاتھوں میں دعاؤں کی پوٹلیاں ہوتی ہیں اور اشکبار آنکھوں میں روشن اور پرامن صبح کا انتظار ہوتا ہے۔ وہ جان چکے ہیں کہ آخری صورت امن کی ہے۔ ہم بھی دعا کرتے ہیں کہ امن قائم ہونے میں دیر نہ ہو۔ نفرتوں کی دیوار پر کبھی محبت کے حروف نہیں لکھے جاتے۔ جنگ کی زمیں پر کبھی محبت کے پھول نہیں اگتے۔ وہاں صرف آخر میں شکوے شکایتیں، دکھ، تکلیفیں اور کہانیاں رہ جاتی ہیں اور ایک بوڑھی نانی بچ جاتی ہے جس کی کہانیوں میں صرف امن کے قصے رہ جاتے ہیں۔


