انڈس واٹر ٹریٹی: ایوبی آمریت، آبی غلامی، انڈیا اور بین الاقوامی قانون


 

23 اپریل 2025 کو پہلگام جموں و کشمیر میں ہونے والے حملے کے بعد بھارت نے پاکستان پر حملے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے شدید سیاسی ردعمل کے تحت انڈس واٹر ٹریٹی کو یک طرفہ طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا۔ انڈیا کی جانب سے انڈس واٹر ٹریٹی کی معطلی کا فیصلہ کسی قانونی جواز پر مبنی نہیں بلکہ مکمل طور پر ایک غیر ذمہ دارانہ سیاسی چال ہے جو شدید داخلی بحران، اپوزیشن کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور حکومت کی گرتی ہوئی ساکھ کو سہارا دینے کے لیے عجلت میں کھیلی گئی۔ داخلی سلامتی کی بگڑتی ہوئی صورتحال، عوامی بے چینی، قومی وقار کی پامالی اور خارجہ محاذ پر انڈین حکومت کی ناکامی نے انڈس واٹر ٹریٹی کو ایک سیاسی قربانی کا بکرا بنا دیا۔ کانگریس اور دیگر جماعتوں کی تنقید سے بوکھلا کر انڈین حکومت نے انڈس واٹر ٹریٹی کو نشانہ بنایا تاکہ اس موقع پر اپنی خامیوں کو چھپانے کے لیے نہ صرف ایک مصنوعی قومی بیانیہ تشکیل دیا جا سکے بلکہ اپنی ناکامیوں پر جارحانہ لفاظی اور جنگوازم کا پردہ ڈالا جا سکے۔ یہ اقدام نہ تو دونوں ملکوں کے عوام کے مفاد میں ہے نہ خطے کے امن کے لیے بلکہ صرف اور صرف ایک کمزور حکومت کی موقع پرستانہ سیاست کا عکس ہے۔ اپ اسے انڈین حکومت کی جانب سے ایک علامتی قدم بھی کہہ سکتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی رو سے یہ فیصلہ نہ صرف ناقابلِ جواز بلکہ ایک کھلی خلاف ورزی ہے۔ قانونی اعتبار سے یہ نہ صرف کمزور بلک ایک غیر سنجیدہ، اشتعال انگیز اور ناقابلِ قبول اقدام تصور کیا جائے گا۔

انڈس واٹر ٹریٹی ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جس میں فریقین کے درمیان تنازعات کے حل کے لیے واضح اور مرحلہ وار نظام موجود ہے۔ جس میں پہلا مرحلہ انڈس کمشنرز کے ذریعے بات چیت، دوسرا مرحلہ ثالثی عدالت (Arbitration Court) اور تیسرا مرحلہ ورلڈ بینک کی ثالثی پر مشتمل ہے۔ انڈس واٹر ٹریٹی میں یک طرفہ علیحدگی (Withdrawal) یا معطلی (Suspension) سے متعلق کوئی شق شامل نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معاہدہ کرنے والے فریقین یعنی پاکستان اور انڈیا میں سے کسی بھی فریق کو اس معاہدے سے یک طرفہ طور پر علیحدہ ہونے یا معاہدے کو معطل کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

اس فریم ورک کی موجودگی میں انڈیا کی جانب سے معاہدے کی یک طرفہ معطلی یا خلاف ورزی نہ صرف بین الاقوامی قانون بلکہ معاہدے کی بھی خلاف ورزی ہو گی۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشن گنگا ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کیس ( 2010 ) کی مثال بھی یہ ظاہر کرتی ہے کہ ثالثی عدالت نے کئی نکات پر پاکستان کے موقف کو تسلیم کیا جو انڈس واٹر ٹریٹی کی قانونی حیثیت کو تقویت دیتا ہے۔ اس کیس میں ثالثی عدالت نے انڈس واٹر ٹریٹی کی شقوں کی بنیاد پر فیصلہ دیا جس سے ثابت ہوا کہ یہ ایک مضبوط قابلِ نفاذ اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ معاہدہ ہے۔

انڈس واٹر ٹریٹی 1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ورلڈ بینک کی ثالثی میں طے پانے والا ایک ایسا معاہدہ تھا جسے اس وقت پاکستان میں ”کامیاب آبی سفارت کاری“ کے طور پر پیش کیا گیا مگر جب اس معاہدے کو فیلڈ مارشل ایوب خان کی فوجی آمریت، جمہوریت کی معطلی، قوم پرست مزاحمت اور صوبائی خودمختاری کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ ایک غیر متوازن، غیر جمہوری اور آبی وسائل کے حوالے سے خطرناک معاہدہ ثابت ہوا جس نے پاکستان کی وفاقی روح اور آبی خودمختاری کو شدید نقصان پہنچایا۔

فیلڈ مارشل ایوب خان نے جمہوری اداروں کو معطل کر کے ترقی کے نام پر ایک ایسا آمرانہ ریاستی ماڈل مسلط کیا تھا جس میں نہ عوامی مشاورت کی جگہ تھی نہ پارلیمانی بحث کی۔ انڈس واٹر ٹریٹی اسی ماڈل کا مظہر تھا جس میں پاکستان نے تین مشرقی دریا ستلج، بیاس اور راوی بغیر کسی قومی یا صوبائی اتفاقِ رائے کے بھارت کے حوالے کر دیے۔

اس ”ترقیاتی سودے“ میں سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا جیسے چھوٹے صوبے بالکل نظرانداز کیے گئے۔ خاص طور پر سندھ جو دریائے سندھ کا قدرتی وارث ہے اس معاہدے کے خلاف سخت مزاحم رہا۔ سندھی عوام نے اسے ”آبی سامراجیت“ اور ”وفاقی استحصال“ کا استعارہ قرار دیا۔

انڈس واٹر ٹریٹی کو طے کرتے وقت نہ صرف صوبوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا بلکہ بعد ازاں بھی آبی وسائل پر فیصلہ سازی میں صوبوں کو نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔ سندھ میں قوم پرست تحریکوں کی جانب سے بارہا واضح طور پر یہ کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ وفاق کی طرف سے آبی حقوق کی لوٹ مار ہے۔

اس معاہدے کو اگر پاکستان کی داخلی سیاسی صورتحال کے تناظر میں دیکھا جائے تو انڈس واٹر ٹریٹی کی نوعیت محض ایک آبی معاہدے کی نہیں بلکہ وفاق، پانی کی تقسیم آبی وسائل اور ماحولیاتی انصاف کے ایک بڑے بحران کی علامت بن چکی ہے۔ چھوٹے صوبوں خاص طور پر سندھ کے لوگ، دانشور اور سیاسی قیادت اسے نو آبادیاتی ذہنیت کا تسلسل سمجھتے ہیں۔ یعنی ایک ایسا معاہدہ جس میں مقامی باشندوں کے قدرتی وسائل کو ان سے چھین کر ریاستی مرکزیت اور بیرونی مفادات کے تابع کر دیا گیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ سندھی عوام اب ان معاہدات کے ازسرِنو جائزے اور آبی خودمختاری کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کے نزدیک انڈس واٹر ٹریٹی ایک ایسا ”قانونی جال“ ہے جس کے ذریعے ماحولیاتی اور علاقائی حقوق کو دبایا گیا ہے۔

انڈس واٹر ٹریٹی ایک ایسا معاہدہ ہے جو قانونی اور سفارتی پیچیدگیوں سے بھرپور ہے مگر اس کی روح میں ایک فوجی آمریت، وفاقی ناکامی، اور ماحولیاتی استحصال بھی چھپا ہوا ہے۔ یہ معاہدہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ جب ریاست اپنی وفاقی اکائیوں کو نظرانداز کر کے عالمی سودے بازی میں مصروف ہو جائے تو کیا وہ واقعی ایک قومی ریاست کہلانے کی حقدار رہتی ہے؟

آج وقت ہے کہ پاکستان ان معاہدوں پر ازسرِنو غور کرے ان میں جمہوری شراکت داری، ماحولیاتی انصاف، اور علاقائی خودمختاری کے اصولوں کو شامل کرے تاکہ مستقبل کے آبی بحران کو وفاقی ٹوٹ پھوٹ میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکے۔

Facebook Comments HS

One thought on “انڈس واٹر ٹریٹی: ایوبی آمریت، آبی غلامی، انڈیا اور بین الاقوامی قانون

  • 09/05/2025 at 3:43 شام
    Permalink

    متعدد غلط تصورات اور ادھوری معلومات سے مزین تحریر۔

Comments are closed.