پوپ لیو چہار دھم کی پہلی تقریر میں جھلکتے عزائم


 

شہرِ روم کی تاریخی چمنی سے 8 مئی کو سفید دھواں نکلتے ہی دنیا کو پیغام مل گیا کہ ہمیں ایک نیا پوپ مل گیا ہے اور وہ ہیں امریکی ریاست شکاگو کے کارڈینل رابرٹ فرانسس پریوسٹ جنہوں نے اپنے لئے پوپ لیو چہار دھم (چودھویں ) کا نام چُنا ہے۔ کارڈینلز پوپ منتخب ہوتے ہی اپنے پیدائشی نام کو الوداع کہہ کر نیا نام کیوں چنتے ہیں؟ اس پر جلد اظہاریہ پیش کیا جائے گا۔

پوپ فرانسس کی قابلِ رشک، فخریہ و قابلِ تقلید 12 سالہ پاپائیت کے بعد دنیا ایک نئے پوپ کی نہ صرف منتظر تھی بلکہ نئے پوپ سے انگنت توقعات بھی لگائے بیٹھی ہے۔ پوپ لیو کا دورِ قیادت کیسا ہو گا؟ وہ کیتھولک مسیحیوں کی قیادت کن بنیادوں پر کریں گے اور دنیا بھر کے لئے کیسی مثالیں چھوڑیں گے؟ یہ اور چند دیگر نکات جو اُن کی پیشِ نظر ہوں گے اُن کی پہلی تقریر سے واضح ہوتے ہیں۔

پوپ لیو چہار دہم نے پوپ منتخب ہونے کے بعد مختصر اظہارِ خیال کیا جس میں دنیا بھر کے لئے ایک جامع اور گہرا پیغام پنہاں ہے۔ اُن کی تقریر امن، اتحاد، امید اور فعال شمولیت کے اہم موضوعات نمایاں تھے۔ اپنی افتتاحی تقریر میں پوپ لیو نے نہ صرف اپنے پیشرو پوپ فرانسس کے ساتھ تسلسل کا اظہار کیا بلکہ اپنے دورِ قیادت کے لیے ایک واضح ویژن بھی پیش کیا۔

پوپ لیو اپنی تقریر کا آغاز مُردوں میں سے زندہ ہونے والے مسیح یسوع کے امن اور سلامتی کے پہلے سلام سے کرتے ہیں۔ ”آپ پر سلامتی ہو“ ۔ جس سے امن کی بنیاد اور اس کی روحانی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔ پوپ نے امن کو ”غیر مسلح اور مسحور کن، عاجز اور ثابت قدم“ قرار دے کر اس کی ایک ایسی نوعیت بیان کی ہے جو طاقت کے بجائے عاجزی اور استقامت سے حاصل ہوتی ہے۔ ان کا یہ پیغام کسی خاص گروہ تک محدود نہیں بلکہ بِلا کسی رنگ و نسل و مذہب تمام بنی نوع انسان کے لیے ہے، جو ان کے عالمگیر نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے۔

پوپ لیو چہار دہم نے اپنے پیشرو پوپ فرانسس کو واضح خراج تحسین پیش کیا اور ایسٹر پر روم اور دنیا کو ان کی برکت کا حوالہ دیا۔ ”اسی برکت کو آگے بڑھانے“ کی ان کی خواہش ان کی دانشمندانہ قیادت اور خدا کی محبت اور برائی پر فتح کے ان کے پیغام کو جاری رکھنے کے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔

تقریر کا ایک مرکزی نکتہ خدا کی بلا مشروط محبت اور تحفظ کا یقین دلانا ہے۔ ”ہم سب خدا کے ہاتھوں میں ہیں“ کا اعلان ایمانداروں کو ایک گہری روحانی تسلی فراہم کرتی ہے اور مومنین کو بغیر کسی خوف کے آگے بڑھنے کی ترغیب دیتی ہے۔ برائی پر حتمی فتح کا یقین ایک مضبوط امید کا پیغام ہے۔

پوپ نے ”خدا کے ساتھ اور آپس میں ہاتھ میں ہاتھ ملا کر“ مسیحیوں کے آپس میں اتحاد اور دیگر اقوام کے ساتھ باہمی ہم آہنگی پر زور اور ایک پُل کا کردار ادا کرنے کی دعوت دی ہے۔ یہ ایک فعال اور ذمہ دارانہ کردار ہے جو پوپ اپنے پیروکاروں سے توقع کرتے ہیں۔ پل بنانے اور مکالمے کی اہمیت پر زور ان کی قیادت کے ایک اہم پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔ بات چیت اور ملاقات کے ذریعے اتحاد پیدا کرنے کا ان کا ویژن ایک ایسے کلیسیا کی نشاندہی کرتا ہے جو دنیا کے ساتھ کھلے دل سے منسلک ہو۔

نو منتخب پوپ کی جانب سے امن، خیرات اور مصیبت زدہ انسانوں کے ذکر اور اُن کی فکر پوپ کی جانب سے متوقع عمل کی جانب اشارہ ہے۔ یقیناً یہ پوپ لیو چہار دہم کے دورِ قیادت کے لیے ایک اہم رہنما اصول ہو سکتا ہے کہ وہ پسماندہ، دھتکارے، مصیبت زدہ اور رد کیے ہووں کو گلے لگانا پسند کریں گے۔ یہ باہمی تعاون اور ہمدردانہ انداز کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

پوپ نے کارڈینلز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مقدس پطرس کے جانشین کے طور پر اپنی ذمہ داری کا اعتراف کیا اور انجیلِ مقدس کی تبلیغ اور مشنری بننے کے اپنے عزم اور جذبہ کا اعادہ کیا ہے یہ کلیسیا کے بنیادی مشن کو جاری رکھنے کے حوالے سے ان کی وابستگی کو ظاہر کرتا ہے۔

مقدس آگسٹین کا یہ حوالہ دینا کہ ”تمہارے ساتھ میں ایک مسیحی ہوں اور تمہارے لیے ایک بشپ،“ ان کی قیادت کے انداز میں عاجزی اور خدمت کے جذبے کو نمایاں کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا رہنما ہے جو اپنے آپ کو مومنین کے ساتھ جوڑتا ہے اور ان کی خدمت کے لیے وقف ہے۔

مجموعی طور پر پوپ لیو چہار دہم کی پہلی تقریر امن، اتحاد، امید اور فعال شمولیت کا ایک طاقتور پیغام ہے۔ انہوں نے پوپ فرانسس کی میراث کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا اور ایک ایسے کلیسیا کے لیے اپنا ویژن پیش کیا جو شراکتی، مشنری، پل بنانے والا اور خاص طور پر مصیبت زدہ لوگوں کی دیکھ بھال کرنے والا ہو۔ ان کی عاجزانہ زبان، روحانی گہرائی اور عالمگیر نقطہ نظر ان کے دورِ قیادت کے لیے ایک مثبت اور امید افزا آغاز ہے۔ انگنت نیک تمنائیں پوپ لیو کے نام۔

Facebook Comments HS