جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہوتی امن ہی اصل راستہ ہے


Emmanuel Neno

 

دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جنگوں نے کبھی بھی کوئی سکون، خوشحالی یا انصاف نہیں دیا۔ جہاں بھی جنگ ہوئی۔ وہاں تباہی، دکھ، غربت، اور نفرت نے جنم لیا۔ روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی اور جنگ کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ اسی طرح اسرائیلؔ اور فلسطین تنازعہ بھی کئی عشروں سے جاری ہے۔ ان تمام برسوں میں ہونے والی جنگیں تباہی، انسانی جانوں کے زیاں اور بے شمار قربانیوں کے باوجود، ان تنازعات کا کوئی پائیدار حل سامنے نہیں آ سکا۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی جنگ ہوئی وہاں صرف تباہی، انسانی جانوں کا نقصان، غربت اور دکھ ہی دیکھنے کو ملا ہے۔ آج جب پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی ایک خطرناک موڑ پر ہے اور جنگی بیانات اورسرحدی جھڑپوں میں شدت آ رہی ہے تو یہ وقت کا تقاضا ہے کہ ماضی سے سبق سیکھیں اور مذاکرات کی راہ اپنائیں۔

جنگ کبھی بھی کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں رہی۔ اس کے بدلے میں جو قیمت چکائی جاتی ہے۔ وہ انسانی جانیں، بکھرے ہوئے خاندان، تباہ شدہ معیشتیں، اور نسل در نسل پروان چڑھتی ہوئی نفرت ہے۔ توپوں سے نکلا ہوا شور وقتی شور تو مچا سکتا ہے، مگر جو تبدیلی مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر الفاظ کے ذریعے آتی ہے وہ پائیدار ہوتی ہے۔

اس کی ایک روشن مثال لاطینی امریکہ کے دو ممالک ایکواڈور اور پیرو کی ہے۔ جنہوں نے دشمنی کی آگ کو دانشمندی، صبر اور مکالمے کے پانی سے بجھایا۔ یہ دونوں ممالک برسوں سے سرحدی تنازعے میں الجھے ہوئے تھے۔ 1995 میں جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے۔ فوجیں تعنیات تھیں، فضائی حملے جاری تھے لیکن عوام نے جنگ کی مخالفت کی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ 1998 برازیلیا امن معاہدے کے ذریعے دونوں ممالک نے صلح کرلی۔ اس تاریخی معاہدے کی یاد میں سرحدی شہر ہواکیاس میں یسوع مسیح کا ایک مجسمہ نصب کیا گیا ہے جس پر سفید کبوتر دونوں ممالک کے پرچم تھامے کھڑا ہے۔ اس پر لکھا ہے ”Nunca mas laguerra entre nosotros“ یعنی ”ہماری سرزمین پر کبھی دوبارہ جنگ نہیں ہو گی“ ۔ یہ صرف ایک یادگار نہیں، بلکہ ایک پیغام ہے کہ دشمنی کے بجائے دوستی کو اپنانا انسانیت کی بقا کی ضمانت ہے۔

اسی طرح کا اور ایک سبق ہمیں جنوبی امریکہ کے دو اور ممالک چلی اور ارجنٹائن کے درمیان بیگل چینل تنازعہ سے ملتا ہے۔ پکٹن، لینوکس اورنوئیوا کے جزیروں کی ملکیت پر اٹھنے والا تنازعہ دونوں ممالک کے درمیان شدید کشیدگی کا باعث بنا۔ 1977 میں بین الاقوامی عدالت نے ان جزیروں کو چلی کی ملکیت قرار دیا لیکن ارجنٹائن ؔ نے اس فیصلے کو ماننے سے انکار کر دیا۔ دسمبر 1978 میں صورت حال یہاں تک پہنچ گئی کہ دونوں ممالک کی افواج متحر ک ہو گئیں۔ صرف ایک چنگاری درکار تھی کہ تباہی شروع ہوجاتی مگر ان نازک لمحات میں دونوں اقوام نے ہوشمندی سے کام لیا۔ عوامی سطح پر جنگ کے خلاف آواز بلند ہوئی اور کیتھولک کلیسیا، خصوصاً پوپ جان پال دوم کی ثالثی کے نتیجے میں 1984 میں ایک امن معاہدہ ممکن ہوا۔ دونوں ممالک کی جانب سے جنگ میں استعمال ہونے والی توپوں کو ڈھال کر مشترکہ سرحد پر ایک یادگار مجسمہ نصب کیا گیا ہے جس پر لکھا ہے ”ہم نے جنگ کی راہ سے انکار کیا اورامن کا راستہ چنا“ ۔

یہ تاریخی واقعات صرف ماضی کی داستانیں نہیں، بلکہ آج کے لئے ایک زندہ پیغام ہے۔ اس عمل میں عوام کا کردار بھی انتہائی اہم رہا جنہوں نے امن کے حق میں آواز بلند کی، مظاہرے کیے، اپنی اپنی حکومتوں کو جنگ سے باز رہنے پر مجبور کیا۔

پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی قوتیں اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتیں کہ آج کی جنگ کل کی تباہی بن کر نسلوں کا پیچھا کرے گی۔ اس سے پہلے کہ حالات ہمارے ہاتھوں سے نکل جائیں۔ ہمیں ایک بار پھر پوپ جان پال دوم جیسے کسی عالمی رہنما کی ضرورت ہے جو فریقین کو میز پر بٹھا کر ثالثی کا کردار ادا کرے۔ ایک ایسی غیر جانبدار، معتبر اور امن دوست شخصیت، جو دونوں ممالک کے درمیان پل کا کام دے۔ نفرت کی خلیج کو کم کرے اور دونوں ممالک کے درمیان پائیدار امن کی راہ کو ہموار کرے۔

یاد رکھیں کہ خطے کے عوام کی اصل ضرورت جنگ نہیں بلکہ تعلیم، روزگار، صحت اور سکون ہے۔ قیادت کا فرض ہے کہ وہ اس جذباتی لہر میں بہنے کی بجائے فہم و فراست کا راستہ اپنائے۔ ہمیں چاہیے کہ دشمنی کے شعلے بھڑکانے کی بجائے بات چیت کا آغاز کریں۔ یہی وقت کا تقاضا ہے اورآنے والی نسلوں سے یہی ہمارا وعدہ ہونا چاہیے۔

Facebook Comments HS