گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن لاہور
گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن کا ماحول بڑا یبوست زدہ سا تھا۔ یاس نا اُمیدی، اکتاہٹ، مایوسی، حزن و ملال اور افسردگی اس کے درو دیوار سے ٹپک رہی تھی۔ یہاں کا ہر باسی زندگی سے مایوس اور اُکتایا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ یہ ماحول پیدا کرنے میں اس کالج کے اساتذہ کا بڑا کردار تھا۔ یوں لگتا تھا کہ اساتذہ کرام ہمہ وقت اپنی امنگوں، آرزوؤں اور خواہشوں کے لاشے اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ماتم کناں اور نوحہ فغاں ہیں۔
اُن کی ہر حرکت سے زندگی سے بے زاری اور اُکتاہٹ کا اظہار ہوتا تھا۔ ہر ایک نے اپنے پہلے تعارفی پیریڈ میں ہمیں یہ احساس دلانے کی کوشش کی کہ اس کالج میں داخلہ لینا ہماری زندگی کی سب سے بڑی غلطی ہے۔ ان کی اکثریت ادھیڑ عمری اور بڑھاپے کے دور سے گزر رہی تھی لیکن جو چند ایک جوان اساتذہ تھے وہ بھی اسی رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔
یہاں پر میں نے اختیاری مضامین فزکس اور ریاضی رکھے ہوئے تھے۔ ہمارے ریاضی کے ٹیچر علیم صاحب ایک جوان آدمی تھے۔ لیکن مایوسی اور نا امیدی پھیلانے میں ان کا کردار بوڑھوں سے بھی بڑھ کر تھا۔ اُن کے پاس اس سلسلے میں سب سے بڑی دلیل اُن کے ساتھ ہونے والا ایک حادثہ تھا۔ جس کو وہ ایک تواتر کے ساتھ بیان کیا کرتے تھے۔ واقعہ یہ تھا کہ جب وہ بی ایس سی میں داخل ہوئے تو اُن کے مستقبل کو روشن اور بہتر خیال کرتے ہوئے اُن کے ایک امیر رشتے دار نے اپنی بیٹی کی منگنی اُن کے ساتھ کردی۔ اس کے بعد انہوں نے بی ایس سی کی پھر ایم ایس سی کی تو حالات بالکل ٹھیک رہے لیکن جونہی انہوں نے بی ایڈ میں داخل لیا تو اُن کی منگیتر نے اُن کے ساتھ شادی کرنے سے انکار کر دیا اور ان لوگوں نے اپنی طرف سے ہی منگنی ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔
فزکس کا مضمون ہمیں دو لوگ پڑھایا کرتے تھے اور وہ دونوں ہی ایک دوسرے کی ضد تھے۔ میتھڈولوجی پروفیسر اجمل صاحب پڑھایا کرتے تھے۔ متناسب جسم کے ساتھ دراز قامت، مردانہ رنگت اور تیکھے نین نقش کے مالک تھے۔ سنہری فریم والی ایک نازک سی عینک ہر وقت ناک پر دھری رہتی۔ انگریزی وضع قطع کا لباس پہنے ہوئے وہ اس وقت تک خاصے معقول اور معتبر شخص نظر آتے تھے۔ جب تک وہ زبان نہیں کھولتے تھے جونہی اُن کی زبان حرکت میں آتی تو نخوت، خود پسندی، غرور اور تکبر جیسی علتیں اُن کو اپنے احاطے میں لے کر اُن کی اصلیت کا پول کھول دیتیں۔ اُن کی ایک ایک حرکت سے خود پسندی بلکہ خود پرستی کا اظہار ہوا کرتا تھا۔ کلاس میں اپنے طلباء کے ساتھ اُن کا رویہ انتہائی تضحیک آمیز ہوتا کیوں کہ یہاں پر طلباء کی اکثریت لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھتی تھی۔ اس لیے اُن کے لباس، عادات و اطوار، بول چال حتیٰ کہ شکل و صورت تک کا مذاق اُڑانا اُن کا عام وتیرہ تھا۔ اُن کے پیریڈ میں طلباء اُن سے کھنچے کھنچے پریشان حال سے رہتے کہ نامعلوم وہ کب کس کی کس بات پر بے عزتی کر دیں۔
فزکس کا دوسرا پیریڈ ہمیں ظفر الحق صاحب پڑھایا کرتے تھے۔ ظفر الحق صاحب درمیانے سے قد کاٹھ اور عام سی رنگت والے ایک عام سے شخص نظر آتے تھے لیکن عجزو انکسار اُن میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ جب لیکچر کا آغاز کرتے تو یوں معلوم ہوتا کہ جیسے پروفیسر صاحب تو اس معاملے میں بالکل ہی کورے ہیں۔ وہ ہر بات ہم لوگوں سے ہی پوچھتے اور اسی انداز میں لیکچر کو آگے بڑھاتے جاتے۔ جہاں کہیں ضرورت پڑتی وہ غیر محسوس طریقے سے بات کی وضاحت خود بھی کر دیا کرتے تھے۔ اجمل صاحب کے برعکس کھڑا ہو جا اوئے باندارا کی بجائے خالد صاحب کیا آپ اس معاملے میں اظہارِ خیال کرنا پسند فرمائیں گے جیسے طرز تکلم کو اپناتے اس پورے کالج میں وہ واحد استاد تھے جو اپنے طلباء کے نام کے ساتھ صاحب کا لاحقہ لگا کر اُن کی عزتِ نفس میں اضافہ کیا کرتے تھے۔ ورنہ یہاں نہ تو کسی کو اپنی عزت ِ نفس کا خیال تھا اور نہ دوسروں کا۔ جو ٹاپک وہ ایک بار پڑھا دیتے اُسے دوبارہ گھر پر پڑھنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ مجھے اُن کا یہ طرز تدریس اور طرز تکلم اس قدر پسند آیا کہ میں نے اپنی آئندہ زندگی میں ان دونوں محاسن کو بعینہ اسی انداز میں اپنانے کا فیصلہ کر لیا اور پھر اس فیصلے پر پوری دیانت داری کے ساتھ عمل پیرا ہونے کی کوشش بھی کرتا رہا۔
مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ظفر الحق صاحب کے درس و تدریس کے انداز نے میری آئندہ زندگی پر بہت گہرے اور انمٹ نقوش ثبت کیے۔ اس کے علاوہ ہمارے نفسیات کے اُستاد محمد مرزا صاحب بھی باقی اساتذہ سے مختلف شخصیت کے مالک تھے۔ آپ گندمی رنگت کے ساتھ درمیانی قامت کے دھان پان سے خوش اخلاق اور خوش لباس شخص تھے۔ نفسیات سے زندگی میں پہلی بار یہیں پر ہی تعارف ہوا لیکن وہ اس قدر خوبصورت اور دل چسپ انداز میں پڑھاتے کہ پڑھنے کا مزہ آ جاتا۔ اُن کی دی ہوئی اسائنمنٹس کو حل کرنے کے لیے لائبریری سے کتابیں کنسلٹ کی جاتیں۔ اُن کے ساتھ باقاعدہ بحث مباحثہ ہوتا۔ تب کہیں جا کر وہ تیار ہوتیں۔ اُن کی ہدایات کی روشنی میں میں نے اپنے ایک دوست محمد کلیم کا باقاعدہ نفسیاتی تجزیہ کیا۔ کلیم کو لوگوں کے ساتھ ملنے جلنے اور بات چیت کرنے میں بہت جھجک محسوس ہوتی تھی۔
میں نے اس کی اس عادت کو لے کر اس سے تفصیلی ملاقاتوں کے بعد اس کی بنیادی وجوہات تلاش کیں اور اس کا حل تجویز کیا اور اس سارے کیس کو ایک مقالے کی صورت میں تحریر کر کے مرزا صاحب کی ہدایات کے مطابق اُن کی خدمت میں پیش کر دیا۔ غرض کہ محض مرزا صاحب کے طرزِ تدریس اور جاذب شخصیت کی وجہ سے مجھے اس مضمون میں اس قدر دل چسپی پیدا ہو گئی تھی کہ میں نے نفسیات کے مضمون میں پورے کالج میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ ہمارے فلسفے کے استاد محمد بوٹا صاحب گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے تھے اور روزانہ کی بنیاد پر گوجرانوالہ سے بذریعہ ٹرین لاہور پہنچتے اپنا لیکچر دیتے اور اسی طرح واپس لوٹ جاتے۔ انہوں نے فلسفے کے علم کے سمندر کو اپنے پاس موجود ایک چھوٹی سی ڈائری کے کوزے میں بند کر رکھا تھا۔ اپنے پیریڈ میں اسی ڈائری سے ایک ورق ہمیں سنا کر گویا اپنے جملہ تدریسی فرائض سے عہدہ برا ہو جاتے۔
ایک دفعہ گوجرانوالہ سے لاہور آتے ہوئے اُن کے علم فلسفہ کا کوزہ یعنی کہ ڈائری کہیں راستے میں گم ہو گئی۔ دوسرے لفظوں میں اُن کی پروفیسری ہی گویا کہیں کھو چکی تھی۔ اس لیے ہمارے کورس کا بقیہ دورانیہ انہوں نے اس عظیم سانحے پر سوگ مناتے ہوئے ہی گزار کر اپنا گزارا کر لیا تھا۔ کالج میں پڑھنے کے ساتھ ساتھ میں اپنی ملازمت کو بھی جاری رکھے ہوئے تھا۔ دو بجے کالج سے فارغ ہونے کے بعد فیکٹری چلا جانا وہاں پر دوپہر کا کھانا کھا کر لمبی تان کر سو جانا اور رات دس بجے اپنی ڈیوٹی پر چلا جانا۔ صبح چھ بجے فارغ ہو کر نہا دھو کر ناشتہ کر کے کالج کی راہ لیتا۔
اس دوران مل کے حالات کافی خراب ہوچکے تھے۔ مزدور یونین اور مزدوروں کے حقوق کے نام پر ملوں میں کام چوری اور سینہ زوری کے جس رواج کو فروغ دیا گیا تھا وہ آہستہ آہستہ اپنا رنگ دکھا رہا تھا۔ یہاں بھی صورتِ حال خاصی دگرگوں تھی۔ قصہ مختصر یہ کہ 1977 ء میں بی۔ ایڈ کا پہلا سمیسٹر مکمل ہونے کے ساتھ ہی ہماری مل بھی بند ہو چکی تھی اور دوسرے سمیسٹر کے لیے میں نے کالج ہوسٹل میں داخلہ لے لیا اور اپنا بوریا بستر منڈھیالی پیپر مل سے اُٹھا کر ہوسٹل میں ڈیرہ جما لیا۔ کالج میں جہاں طلباء کو علم و ہنر اور فکر و فن سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ اسی طرح ہاسٹل بھی ایک ایسا ادارہ ہے جہاں پر طلباء رہن سہن، میل ملاپ، اُٹھنا بیٹھنا اور طرزِ معاشرت سیکھتے ہیں۔ یہاں پر مختلف طبقوں، برادریوں اور مزاجوں کے لوگ ایک ہی جگہ پر ایک ہی نظم کے تحت زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ یہاں کے مکین اپنے عادات و خصائل کو اس نظم کی منشا کے مطابق ڈھال کر زندگی بسر کرنے کا تجربہ حاصل کرتے ہیں اور اپنی ذاتی طبائع کے خلاف بہت سی باتوں کو برداشت کرتے ہیں۔ جس سے اُن میں صبر و تحمل جیسی مثبت اقدار کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔
ہوسٹل میں کلیم اور حاجی شبیر میرے گہرے دوست تھے۔ کلیم کا کمرہ تو میرے ساتھ ہی تھا جب کہ حاجی شبیر کا کمرہ دوسری منزل پر تھا۔ جس کی کھڑکی بازار میں کھلتی تھی۔ وہ اس کھڑکی میں کھڑے ہو کر اکثر سامنے کوارٹروں میں مقیم ایک بارہ من کی دھوبن کے ساتھ عشق کے داؤ پیچ لڑانے میں مصروف رہتا۔ گجرات کے قریبی قصبے کنجاہ کا باسی تھا۔ جو اپنے قصبے کی تعریف کچھ یوں کیا کرتا کہ مسواک پھلاہ دی تے رن کنجاہ دی۔ یہ پینتیس چالیس سال کا ادھیڑ عمر شخص گھاٹ گھاٹ کا پانی پی چکا تھا۔ جس میں ایک گھاٹ سعودی عرب بھی تھا۔ جہاں وہ اپنی زندگی کا ایک حصہ گزار آیا تھا۔ جب کہ کلیم بیس بائیس سال کا ایک معصوم سا نوجوان تھا۔ جس کا تعلق بہاولپور سے تھا۔ جو بی۔ ایس۔ سی کرنے کے بعد سیدھا اسی کالج میں چلا آیا تھا اور شاید ذہنی طور پر ابھی نابابغ ہی تھا۔ اسی کی ذات کو سٹڈی کیس بنا کر میں نے ایک مقالہ بھی قلم بند کیا تھا۔
ہوسٹل ملازمین میں مختار نام کا ایک ملازم میرے چھوٹے موٹے کام کر دیا کرتا تھا۔ ایک دن میں کالج سے ہوسٹل آیا تو مختار نے مجھے بتایا کہ آپ کے مہمان آئے تھے وہ کھانا کھا کر چلے گئے ہیں۔ میں بڑا حیران ہوا کہ یہ کون سا بے تکلف مہمان ہے کہ جس نے دس منٹ انتظار کرنا بھی گوارا نہیں کیا۔ تحقیق و جستجو اور پرکھ پڑچول سے پتہ چلا کہ وہ میرا بی۔ ایس۔ سی کا کلاس فیلو حسنین تھا جو اب پنجاب یونیورسٹی سے ایم۔ ایس۔ سی کر رہا تھا اور بقیہ عرصہ بھی وہ بڑی باقاعدگی کے ساتھ منگل اور ہفتے کے دن میری عدم موجودگی میں یہاں پر آ کر مرغ روسٹ اور مرغ پلاؤ اُڑاتا رہا۔ اس وقت مرغ سے مراد مرغ ہی ہوا کرتا تھا برائیلر نہیں۔ لاہور میں حسنین کے ساتھ رابطے کی بھی ایک داستان ہے۔
ایک دن میں منڈھیالی پیپر ملز میں اپنے کمرے میں بیٹھا ہوا تھا کہ حسنین وہاں پر آ دھمکا۔ بی۔ ایس۔ سی کے بعد ایک دوسرے کے ساتھ یہ ہمارا پہلا رابطہ تھا۔ آتے ہی فوراً بولا کہ تیار ہو جاؤ ہم نے ابھی لاہور جانا ہے اور وہاں تمہیں لڑکی والوں نے دیکھنا ہے۔ میرے استفسار پر اس نے تفصیل بتائی کہ یہ اُردو سپیکنگ فیملی ایک بیوہ اور اس کی دو نوجوان بیٹیوں پر مشتمل ہے۔ ان کی رہائش موہنی روڈ پر واقع ریلوے کوارٹرز کے ایک کوارٹر میں ہے۔ مجھے اس خاتون نے بیٹا بنایا ہوا ہے اور اس رشتے سے وہ دونوں لڑکیاں میری بہنیں ہیں۔ جب مجھے تمہارے متعلق پتہ چلا کہ تم یہاں ملازمت کرتے ہو تو میں سیدھا یہاں چلا آیا۔ یہ بڑا ثواب کا کام ہے۔ اگر تم یہاں پر شادی کر لو تو سیدھے جنت میں جاؤ گے۔
قصہ مختصر یہ کہ ہم لوگ تیار ہو کر لاہور آ گئے۔ یہاں سے ہم نے آموں کی ایک ٹوکری خریدی۔ گوشت، چاول اور انہیں پکانے کے باقی لوازمات خریدے اور موہنی روڈ پر واقع اس کوارٹر میں پہنچ گئے جہاں وہ خاندان رہائش پذیر تھا۔ وہاں پر حسنین نے میرا تعارف کچھ اس طرح کرایا کہ میں بورے والا کے ایک زمین دار گھرانے کا چشم و چراغ ہوں۔ بوریوالا کے گردونواح میں آم کے وسیع و عریض باغات ہماری ملکیت ہیں اور یہ آم بھی انہی باغات سے توڑ کر لائے گئے ہیں۔ مجھے اس تعارف پر سخت شرمندگی کا سامنا تھا لیکن میں نے اس کی تصحیح کرنا بھی مناسب نہ سمجھا اور خاموشی میں ہی عافیت جانی۔
ہم پانچ چھ گھنٹے یہاں موجود رہے۔ اسی دوران ہمارے ہی لائے گئے سامان سے کھانا تیار کیا گیا۔ خاتون ِ خانہ کھانا تیار کرتی رہی اور ہم لوگ بیٹھے گپیں ہانکتے رہے۔ دونوں لڑکیوں کی عمریں پندرہ، سولہ اور بیس بائیس سال کے لگ بھگ تھیں۔ بڑی لڑکی کا نام ببلی اور چھوٹی کا نام مینا تھا۔ ببلی دو بار بی۔ اے کے امتحان میں فیل ہو چکی تھی اور اب اس کا آخری چانس تھا۔ جس کو لے کر وہ بہت پریشان تھی۔ میں نے اُسے تسلی دی کہ تم فکر نہ کرو حوصلے اور تسلی کے ساتھ امتحان کی تیاری کرو میں اگلے ہفتے گھر جاؤں گا اور وہاں پر اپنے پیر صاحب سے تعویذ لاکر دوں گا۔ وہ بڑے کامل پیر ہیں آج تک جس کسی نے بھی اُن سے پاس ہونے کا تعویذ حاصل کیا ہے فیل نہیں ہوا۔ بس شرط یہ ہے کہ تم نے تیاری پوری محنت اور ایمانداری کے ساتھ کرنی ہے۔
یہ واردات میں شاید کرنل شفیق الرحمان کی کتاب حماقتیں یا مزید حماقتیں میں کہیں پڑھ چکا تھا۔ میں نے عین اسی کے مطابق ایک کاغذ پر فقرہ لکھا کہ محنت کرو اور پاس ہو جاؤ۔ پھر اس کاغذ کو ایک تعویذ لے کر اس میں ڈالا او ر تعویذ میں کالے رنگ کی ڈوری ڈال کر گلے میں پہننے کے لے تیار کر لیا۔ اگلے ہفتے جب ہم لوگ وہاں گئے تو ببلی کو بتایا کہ میں پچھلے ہفتے خصوصی طور پر صرف یہ تعویذ لانے کے لیے ہی بوریوالا گیا تھا۔ پیر صاحب نے بڑی محنت کے ساتھ اس تعویذ کو تیار کیا ہے اور تمہارے پاس ہونے کی گارنٹی بھی دے دی ہے۔ بس اس کو ہر وقت گلے میں ڈالے رکھنا ہے۔ تیاری کرتے وقت جس چیز کی سمجھ نہ آئے یا امتحان کے دوران کوئی سوال بھول جائے تو بسم اللہ پڑھ کر اس تعویذ کو چھو لینا ہے۔ اس نے میری ہدایات کے عین مطابق عمل کرتے ہوئے بی۔ اے کا امتحان بہت اچھے نمبروں میں پاس کر لیا لیکن مجھ میں اس قدر اخلاقی جرات نہ تھی کہ اُسے صحیح صورتِ حال سے آگاہ کر دیتا۔
اب ہم تقریباً ہر اتوار کو ہی یہاں آ جاتے اور کیوں کہ مبینہ طور پر ہم آموں کے وسیع و عریض باغات کے مالک تھے۔ اس لیے کھانا پکانے کے ساز و سامان کے ساتھ آموں کا ہونا لازمی بات تھی۔ اس لیے جب تک آم بازار میں دستیاب ہوتے وہ یہاں بھی لائے جاتے۔ بہرحال یہاں پر تین چار گھنٹے گزارنا ہمیں بہت اچھا لگتا۔ گپ شپ کے ساتھ ساتھ کیرم بھی چلتا رہتا۔ یہاں پر ببلی عموماً میری ساتھی ہوتی اور مینا حسنین کی۔
حسنین نے مال روڈ پر واقع بینک آف انڈیا کی بلڈنگ کے پیچھے پرانی انارکلی میں بھی ایک فلیٹ اپنے قبضے میں رکھا ہوا تھا۔ یہ فلیٹ بھی ایک اُردو سپیکنگ فیملی کی ملکیت تھا۔ جن کی کوئی اولاد نہیں تھی اور بقول حسنین انہوں نے اُسے اپنا بیٹا بنایا ہوا تھا اور وہ یہاں سے کراچی منتقل ہوتے وقت اس فلیٹ کا قبضہ حسنین کے سپرد کر گئے تھے۔ اس کے علاوہ پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس کے 14 نمبر ہوسٹل کے ایک کمرے میں اس کی رہائش تھی۔ ہم ہفتے کی رات کبھی کبھار حسنین کے مقبوضہ فلیٹ میں بھی گزار لیا کرتے تھے اور ایسے موقع پر عموماً ببلی اور مینا اپنی والدہ کے ہمراہ ہمارے ساتھ ہی ہوا کرتی تھیں۔
اب سوچتا ہوں تو یہ بات واقعی بہت عجیب لگتی ہے کہ پوری پوری رات نوجوان لڑکیوں کے ساتھ گزارتے لیکن اخلاقی حدود کو کراس کرنے کا کبھی تصور تک بھی نہیں کیا تھا۔ اس کی ایک بڑی وجہ تو نسیم حجازی کے افسانوی ہیرو کی شخصیت کا عکس تھا۔ جو میرے ذہن میں پوری طرح نقش ہو چکا تھا اور میں اسی ہیرو کی زندگی کو اپنے لیے مشعلِ راہ بنا چکا تھا اور دوسری بات قرآن کی وہ آیات تھیں جن میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ ”نیک مردوں کے لیے نیک عورتیں اور برے مردوں کے لیے بری عورتیں ہیں“ اور منہ زور جوانی کے اس دور میں بھی میں نے اپنے لیے نیک عورت کا انتخاب کیا تھا اور اس کے حصول کے لیے کوئی واہیات یا الٹی سیدھی حرکت نہیں کرنا چاہتا تھا۔ لیکن میں نے تو حسنین کے کردار میں بھی اس سلسلے میں کسی قسم کا جھول کبھی محسوس نہیں کیا تھا اور نہ ہی اس بارے میں ہماری کبھی باہمی گفت و شنید ہی ہوئی تھی۔ بلکہ شاید جس بات کو اب ہم زیرِ بحث لا رہے ہیں اس وقت یہ بات ذہن کے کسی گوشے میں بھی نہیں تھی۔
شاید اس وقت یہ احساس ڈرٹی اولڈ مین کی اصطلاح کاہی ایک شاخسانہ ہے۔ میں اس وقت بھی کبھی کبھار ایک آدھ سگریٹ پی لیا کرتا تھا۔ حسنین نے ایک پائپ تمباکو کے پیکٹ سمیت خرید کر اسی فلیٹ میں رکھا ہوا تھا۔ ایک بار کئی ماہ تک یہاں جانا نہ ہوا تمباکو کا پیکٹ کھڑکی میں پڑا ہوا تھا اسی دوران شاید دو تین بار بارش بھی ہو گئی تھی اور وہ کھڑکی بھی کُھلی رہ گئی تھی۔ جب ہم یہاں پر دوبارہ اکٹھے ہوئے اور حسنین نے پائپ میں وہ تمباکو بھر کر اس کا پہلا کش لگایا تو اس کا تو شاید سر ہی گھوم گیا۔ بولا کہ مجھے تو چکر آرہے ہیں۔ لگتا تھا کہ پانی ہوا اور دھوپ نے اس تمباکو کے نشے کو دو آتشہ کر دیا تھا کیوں کہ ہم لوگ جب بھی پائپ کا کش لگاتے تو ہلکا سا سرور محسوس ہوتا جو پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔
ایک دن ہم دونوں پینٹوں، شرٹوں میں ملبوس بابو بنے مال روڈ پر گھوم رہے تھے۔ وہیں پر ایک جگہ کھڑے ہو کر پائپ سلگا کر اس کے کش لگاتے ہوئے حسنین کہنے لگا، خالد اگر اب ہمارے ابے آ کر ہمیں یہاں اس حالت میں دیکھ لیں تو جوتے مار مار کر ہمارا سر گنجا کر دیں۔ حسنین کھانے پینے کا بڑا شوقین تھا۔ مختار کی وساطت سے وہ ہمارے ہوسٹل میس کے مینیو سے پوری طرح آگاہ رہتا۔ مرغ روسٹ اور مرغ پلاؤ والے دن میرے ہوسٹل آنے سے پہلے ہی کھانا کھا کر رفو چکر ہو جاتا۔ غالباً ہماری چھٹی کے وقت اس کا پیریڈ شروع ہو جایا کرتا تھا۔ اس کا ڈیپارٹمنٹ پنجاب یونیورسٹی کے اولڈ کیمپس میں تھا۔ جو ہمارے کالج کے قریب ہی تھا۔ اس لیے اُسے آنے جانے میں کوئی خاص دقت نہ ہوتی۔ وہ اپنی مرنجاں مرنج طبیعت کی بدولت اپنے حلقوں میں بڑا ہردل عزیز تھا۔ اس لیے میری عدم موجودگی میں اس کے میس آنے جانے اور وہاں سے کھانے پینے پر کوئی پابندی نہیں لگائی جا سکتی تھی۔
ایک دن شام کو میرے پاس آیا اور بولا کہ میس بند کروا دو آج میں تمہیں اپنے پلے سے کھانا کھلاؤں گا۔ میں بکرے کے سری پائے، دل گردے کلیجی اور چانپیں لے کر فلیٹ میں رکھ آیا ہوں ہم رات فلیٹ میں گزاریں گے اور ساری رات کھانے پکاتے رہیں گے۔ فلیٹ کے کچن میں گیس لگی ہوئی تھی اس لیے کھانا پکانے کا کوئی مسئلہ نہیں تھا اور وہ ساری رات ہم نے کھانے پکانے میں گزار دی۔ سب سے پہلے سری پائے پکائے اور کھا لیے۔ نیچے آ کر مال روڈ پر تھوڑی دیر گھومے پھرے پائپ کے دو چار کش لگائے اور فلیٹ پر واپس آ گئے اور اب میٹھے کے لیے حلوہ تیار کیا گیا۔ وہ کھا کر دل گردے اور کلیجی پکنے کے لیے رکھ دیے۔ جب سالن تیار ہو گیا تو اس کے ساتھ سویٹ ڈش کے طور پر پہلے کا بچا ہوا حلوہ شامل کر لیا۔ کھانے کے بعد تھوڑا بھاری پن محسوس ہوا تو انار کلی میں گھومنے پھرنے لگے۔ ایک ایک میٹھا پان کھایا دو چار کش پائپ کے لگائے اور کھانا ہضم کر کے واپس فلیٹ پر آ کر چانپوں کا سالن بنانا شروع کر دیا۔
قصہ مختصر یہ کہ جب رات ختم ہو رہی تھی ہم تیسری بار کھانا کھا نے کے بعد سویٹ ڈش کھا رہے تھے۔ اب ہمارا کھانے کے لیے سٹور کیا ہوا سارا ساز و سامان ختم ہو چکا تھا۔ حلوہ کھانے کے بعد حسنین بولا کہ یار پورے جسم میں میٹھا ہی میٹھا دوڑ رہا ہے چلو کوئی نمکین چیز پکوڑے وغیرہ بناتے ہیں۔ میں نے کہا، کہ مجھے تو سخت نیند آ رہی ہے تم نے پکوڑے بنانے ہیں تو بنا لو میں تو سونے جا رہا ہوں اور میں بیڈ روم میں لمبی تان کر سو گیا لیکن حسنین پکوڑے کھانے کے بعد ہی سویا۔ ہم دونوں کے فائنل امتحان ساتھ ساتھ ہی ہوئے۔ وہ تو امتحان کے بعد یونیورسٹی سے فارغ ہو کر بوریوالا چلا آیا جب کہ مجھے تھیسس کے سلسلہ میں ابھی یہاں مزید ٹھہرنا تھا۔


