میمز اور پاکستان بھارت کشیدگی


Writing and Outlining

 

پاکستانی قوم کا مزاح کسی بھی ملک میں مروج روایتی مزاح سے کہیں زیادہ گہرا معنی خیز اور کبھی کبھار تلخ حقیقتوں کا آئینہ ہوتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ اور سیاست میں جو پیچیدگیاں رکاوٹیں اور مسائل رہے ہیں ان سب کے بیچ میں پاکستانی عوام کی زندہ دلی واقعی کمال ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ جہاں پر مشکلات بڑھتی ہیں وہاں مزاح کا ایک نیا انداز بھی جنم لیتا ہے۔

آج کل جب پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاسی کشیدگی عروج پر ہے پاکستانی عوام نے اپنے مزاحیہ انداز کو مختلف میمز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے دنیا تک پہنچایا ہے۔ یہ میمز ایک طرف طنز کرتی ہیں تو دوسری طرف وہ ایک لطیف انداز میں دونوں ممالک کے لوگوں کو ایک دوسرے سے انسانیت کے حوالے سے جوڑنے کا کام بھی کرتی ہیں۔ جنگ کے ماحول اور خونریز ماضی کے باوجود پاکستانی عوام نے مزاح کو جواب کا ذریعہ بنایا ہے۔

یقیناً پاکستانیوں کا مزاح اور ان کی زندہ دلی ایک قوم کے طور پر ان کی سچی شناخت ہے۔ یہ مزاح محض ہنسی تک محدود نہیں بلکہ اس میں حکمت اور درد چھپے ہیں۔ پاکستانیوں نے کبھی بھی حالات کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے چاہے ان کا سامنا قدرتی آفات سے ہو سیاسی بحرانوں سے یا پھر جنگ سے۔ مزاح ان کے لیے ایک ذریعہ بن گیا ہے جو انہیں ان تمام مشکلات سے عارضی طور پر بچاتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان کا حوصلہ بلند رکھتا ہے۔

جب دونوں ممالک کے بیچ کشیدگی بڑھتی ہے اور ہر طرف جنگ کے بارے میں بات کی جاتی ہے تو پاکستانی سوشل میڈیا پر میمز کا سیلاب آ جاتا ہے۔ یہ میمز عوام کی آزادی اظہار کی سب سے بڑی مثال بن جاتی ہیں۔ اگر جنگ ہی کرنی ہے تو پہلے مزاحیہ میمز کا تبادلہ کرو پھر سوچنا کہ کیا لڑنا ہے یا نہیں۔ اس طرح مزاح کے ذریعے ہلکے پھلکے انداز میں اپنے دل کی بات کا اظہار کر دیا جاتا ہے۔

یہ صرف پاکستان کا مزاح نہیں ہے جو اس وقت دنیا میں گونج رہا ہے بلکہ ایک پیغام ہے ایک حقیقت جو کھل کر سامنے آئی ہے جنگ کبھی بھی مذاق نہیں ہوتی۔ جنگ کی تباہ کاریاں اس حد تک بھیانک ہوتی ہیں کہ ان کا تصور بھی دل کو لرزا دیتا ہے۔ ان میمز کے پیچھے چھپے پیغامات صرف مزاح نہیں بلکہ ایک خواب ہے جو امن کی خواہش رکھنے والے اپنی آنکھوں میں سجائے رکھتے ہیں۔ ایک ایسا خواب جس کو کبھی تعبیر نصیب نہیں ہوئی۔ مگر پاکستانی عوام نے ہمیشہ اس خواہش کو زندہ رکھا۔

یقیناً میمز کے اس ماحول میں امن کی یہ خواہش کسی بھی قوم کی سب سے بڑی فتح ہو سکتی ہے۔ یہ ایک خوبصورت یاد دہانی ہے کہ جب تک ہم ایک دوسرے کا مذاق اُڑاتے ہیں تب تک جنگ کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔ ہمیں کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ مزاح صرف ہنسی نہیں بلکہ دلوں کو جوڑنے ذہنی سکون دینے اور انسانیت کے احترام کی طرف پہلا قدم بھی ہوتا ہے۔

یقیناً پاکستان میں طنز اور مزاح کا انداز جو سوشل میڈیا کی دنیا میں بکھرا ہوا ہے ایک بہترین پیغام دے رہا ہے ہمیں ہندوستان سے بھی مذاق کرنے کا حق ہے لیکن جنگ نہیں کرنی۔ یہ پاکستانی قوم کا پیغام ہے کہ مزاح میں ہی طاقت ہے اور جنگ میں نہیں۔ ایسا مذاق جو دوسروں کو زخمی نہیں کرتا بلکہ دلوں کو جوڑتا ہے یہی دراصل امن کی سب سے بہترین علامت ہے۔ جنگ والے دن چھٹی ہوگی یا اسکول پھر بھی جانا ہو گا، جنگ میں بریانی میری طرف سے، جنگ کا ٹکٹ کہاں سے ملے گا، جنگ والے دن ایک دوسرے کو جنگ مبارک کہہ سکتے ہیں، پاکستان اور ہندوستان کی جنگ کس ملک میں ہوگی، جنگ کا چاند نظر آ گیا ہے کیا ان میمز پہ مجھے یقین ہے کہ سرحد کے اس پار بھی کوئی اپنی ہنسی نہیں روک سکا ہو گا۔ جنھوں نے بھی یہ میمز بنائی ہیں وہ کتنے حاضر دماغ اور بذلہ سنج ہوں گے۔

جنگ کی تباہ کاریاں بہت ہولناک ہوتی ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے عوام نے ہمیشہ امن کی خواہش کی ہے۔ دونوں ممالک کو غربت اور بھوک کے خلاف جنگ کرنی چاہیے اور دونوں ممالک کے لوگوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ مذاق کے سائے میں امن کی خواہش کو سچائی میں بدلنے کے لیے کوششیں جاری رکھیں۔

دونوں ممالک کی عوام ایک دوسرے کی موسیقی پسند کرتے ہیں ہمارے ڈرامے ہندوستان میں بہت مقبول ہیں۔ پاکستانی عوام شاہ رخ خان اور ویرات کوہلی کے فین ہیں۔ ہندوستانی ہماری مہمان نوازی کا ذکر کرتے نہیں تھکتے۔ ہمارے ہاں شادیوں میں ڈھولک کی تھاپ پہ ہندوستانی گانے گائے جاتے ہیں اور بالی وڈ کے گانوں پہ رقص کیے بغیر شادی ادھوری ہوتی ہے۔ ہم دونوں ملکوں کو چاہیے کہ ہم ان مسائل کے خلاف جنگ کریں جن کی بدولت دونوں ممالک کے عوام پریشان ہیں۔ ہماری اصل دشمن غربت، جہالت اور مذہبی انتہا پسندی ہے۔

Facebook Comments HS