میں پاک فوج کے ساتھ کیوں کھڑا ہوں؟


 

ہاں میں مانتا ہوں کہ ڈکٹیٹرز نے وطن عزیز کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ میں یہ بھی مانتا ہوں کہ ایک قومی ادارے نے جمہوریت کو پامال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ یہ بھی سچ ہے کہ ملک میں آئین کو معطل کرنے کے ناقابل معافی جرم کا بار بار ارتکاب کیا گیا۔ یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ انتخابات میں سیاسی انجینئرنگ کی گئی، سیاستدانوں کو خریدا گیا، جھوٹے کیسز بنائے گئے، خاص لوگوں کے اشاروں پر ناچنے والی فرمان بردار نام نہاد سیاسی جماعتوں کو لانچ کیا گیا۔ جہاد کے نعروں کے ذریعے وطن میں شدت پسندی کو فروغ دیا گیا۔ میڈیا کی مشکیں کسی گئیں۔ نظریہ ضرورت کے تحت من پسند فیصلے دینے والی عدلیہ کو جنم دیا گیا۔ عوام کے حق حکمرانی پر ڈاکا ڈالا گیا۔ قومی یکجہتی کو نقصان پہنچایا گیا یہاں تک کہ ملک دو لخت ہو گیا۔ یہ وہ کڑوے سچ ہیں جن کو جھٹلانے کی کوئی جرآت نہیں کر سکتا۔ اگر کوئی نہیں مانتا تو اس کی انگلی پکڑ کر اسے تاریخ کے آئینہ کے سامنے کھڑا کیا جا سکتا ہے۔

لیکن کیا یہ سارے سچ مجھے یا کسی کو بھی یہ جواز فراہم کرتے ہیں کہ جب ہندوتوا کے جنون میں مبتلا دشمن میرے ملک پر جنگ مسلط کر دے تو میں اپنے ہی ملک کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر دوں؟ میرا اور ہم سب کا تو مقدمہ ہی یہی ہے کہ فوج کو ایسے کاموں سے دور رہنا چاہیے جو اس کے مینڈیٹ میں شامل نہیں ہیں۔ موجودہ حالات میں فوج کے اصل کام کا موقع آ پہنچا ہے تو ہم سب کو اپنے محافظوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تا کہ فوج خود کو ثابت کرنے کے ذریعے آئندہ اپنے دائرہ کار تک محدود رہے۔ جنگی حالات میں اپنے محافظوں کے خلاف پروپیگنڈا ملک دشمنی کے سوا کچھ نہیں کہلا سکتا۔ پہلگام واقعہ کے بعد جب سے انڈیا نے پاکستان پر دہشت گردانہ حملوں کا سلسلہ شروع کیا ہے پی ٹی آئی کے لوگ فوج کے خلاف زہر اگلنے میں مصروف ہیں۔

موجودہ سنگین حالات میں ان لوگوں کو ملکی مسائل سے کوئی سروکار نہیں ان کی تمام تر توجہ کا مرکز ان کا لیڈر ہے۔ بڑے دھڑلے سے کہا جا رہا ہے کہ ہمارا لیڈر ہوتا تو یہ کر دیتا وہ کر دیتا ان کے لیڈر ایسے حالات میں جو کچھ کرتے رہے ہیں وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ جس کو ملک کے حالات ٹی وی سے یا اپنی بیگم سے معلوم ہوتے تھے اس کے بارے میں کیا کیا زمین آسمان کے قلابے ملائے جا رہے ہیں۔ جو سیم پیج کی سیج پر بیٹھ کر مخصوص لوگوں کی فرمانبرداری میں سب کو مات دے گیا آج کس طرح مان لیا جائے کہ اس کی جنگ عوامی بالا دستی کی جنگ ہے۔ جس شخص کی تمام سیاسی زندگی لوگوں پر الزام اور بہتان لگانے میں گزری ہو وہ کس طرح قوم کو متحد کر سکتا ہے؟ جو شخص دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ بیٹھنے تک کے لئے تیار نہ ہو اسے کیسے جمہوریت کا چیمپئن مان لیا جائے؟ اگر آج ”مخصوص لوگ“ خان صاحب کو اپنی فرمانبرداری میں قبول کر لیں تو اس جماعت کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔

اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ بھارت نے پاکستان پر دہشت گردانہ حملہ کر کے جارحیت کی ہے۔ ان حالات میں ہر پاکستانی کا فرض ہے کہ وہ فوج کے شانہ بشانہ کھڑا نظر آئے تا کہ دشمن کو بدترین شکست سے دوچار کیا جا سکے۔ موجودہ صورت حال میں قوم میں افتراق ڈالنے والے ملک و ملت کے حامی نہیں ہیں۔ پاک فوج کو بھی اس جنگ میں شاندار موقع ملا ہے کہ وہ ہر طرح کی اضافی سرگرمیوں کو ترک کر کے دفاع کے فریضہ پر توجہ مرکوز کرے اور مستقبل میں بھی خود کو اپنے فریضے کی انجام دہی تک محدود کر دے۔

 

Facebook Comments HS