مونی کے جنگی کارنامے


tariq ishaq

سب سے پہلے تو آپ پر یہ واضح کرتا چلوں کہ جن صاحب کا ذکر اس تحریر میں ہونے جا رہا ہے، یہ مونی ہیں وہ مودی نہیں ہیں جنہوں نے احمد آباد میں کئی برس چائے کا کھوکھا کامیابی سے چلا کر خود کو عالمی لیڈر ثابت کرنے کی کوشش کی۔

نہیں جناب! ہمارے مونی نہ کبھی نقلی پتی بیچنے کے دھندے میں پڑے، نہ ہی انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ خلائی راکٹ بنانے کا فارمولا مہابھارت کے تیروں سے نکلا تھا۔ ہاں، البتہ مونی صاحب کی گردن پر ہمسائیوں کی مرغیوں کا خون ضرور ہو سکتا ہے، جو انہوں نے کڑاکے کی سردیوں میں پکڑ کر اُن دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر اڑائیں، جو اپنے اپنے محلّے میں چوٹی کے جنگجو مانے جاتے تھے۔ یوں مونی کو چوری کی مرغیاں اپنے دوستوں کو کھلانے پر محلے کے دھاکڑوں کا لیڈر مانا گیا۔ جیسے مودی کو گجرات کے مسلمانوں کو ذبح کروانے اور ان کا سیاسی شکار کرنے پر ہندوتوا والوں نے اپنا سب سے بڑا قصاب تسلیم کر لیا۔

ہمارے یہ مونی بھائی اپنے محلے کے ”قصبہ گیر بہادری کے ہیرے“ مشہور رہے۔ ایسے ہیرو جن کا نام سنتے ہی محلے کے بچے فوراً جیب میں کنکر چھپا لیتے تھے، کہ ان سے اپنا دفاع کر سکیں اور بڑی بوڑھیاں دعائیں مانگنے لگتی تھیں کہ ان کا بیٹا مونی کے شر سے بچ کر، بستے سمیت، کم از کم پچھلے سال کی کتابیں تو سلامت لے آئے۔ کیونکہ مونی کی جنگی حکمتِ عملی کچھ یوں تھی کہ وہ صرف بندے کو نہیں، اُس کی کتابوں کو بھی نشانہ بناتا تھا۔ اکثر مدِمقابل لڑنے کی بجائے اپنی کتاب بچانے میں مصروف ہوتا، اور مونی اچانک اس کے پرخچے اُڑا دیتا۔

مونی بھائی کے جنگی سفر کی شروعات تب ہوئی جب انہوں نے پہلی جماعت میں قدم رکھا۔ اور قدم رکھتے ہی سب سے آگے والے بینچ پر قبضہ جما لیا۔ پھر وہی پرانی روایت نبھاتے ہوئے نیل کٹر نکالا، اور بینچ پر پوری شان سے لکھ دیا ”یہ مونی کی جاگیر ہے، داخلہ منع ہے!“ تبھی سے اسکول والے سمجھ گئے تھے کہ یہ لڑکا یا تو لیڈر بنے گا یا قصائی۔

شروع میں مونی بھائی کا ہدف وہ سینئر لڑکے تھے جو کم از کم دو فٹ لمبے اور تین سال بڑے ہوتے۔ ہر لڑائی کے بعد جب مونی زمین پر ہوتے اور سینئر ان کے اوپر، تو وہ بڑے حوصلے سے کہتے ”اصل میں میں نے خود نیچے لیٹ کر انھیں گرا لیا تاکہ ان کے نیچے سے تاک تاک کے گھونسے مار سکوں۔“

یہی وہ حکمتِ عملی تھی جس کو بعد میں مودی نے چین کے خلاف گلوان وادی میں اپنایا۔ مار کھا کر بھی یہ ظاہر کرنا کہ ”میں بھگوان کی کرپا سے جیت گیا ہوں“ ۔

مونی بھائی کو مار پڑتی تو وہ شکایت نہیں کرتے تھے بلکہ اگلے دن اسی لڑکے سے دوبارہ پنگا لیتے اور برابر مار کھاتے اس مشق سے ان کے جسم پر نشان تو بہت بنے، مگر دل بے رحم اور فولادی ہوتا چلا گیا اور یہی وہ لمحہ تھا جب مونی بھائی نے حکمتِ عملی میں ”مودی اسٹائل یو ٹرن“ لیا۔ اب وہ اپنے سے چھوٹے، کمزور اور بھولے بچوں پر ٹوٹ پڑتے۔ بالکل ایسے ہی جیسے مودی نیپال، بھوٹان اور سری لنکا پر چڑھ دوڑتے ہیں تاکہ چین والی بات فراموش ہو جائے اور ماضی کے زخم بھر جائیں۔

جب آس پاس کے کئی بدمعاشوں نے دیکھا کہ مونی، ہمیشہ کمزور کو ٹھوکر مارتا ہے اور طاقتور کے پاؤں دباتا ہے، تو سب اس کی طرف مائل ہونے لگے ایک بوڑھے گینگسٹر نے سر ہلا کر کہا، ”پُتر، تُو بدمعاش نہیں، تُو لیڈر بننے لگا ہے۔“ ایک نے تو حسرت سے کہا، ”مونی وچ مودی دی خوشبو آندی اے۔“ یوں مونی محلے کی بدمعاشی کی سیاست کا ابھرتا ہوا ستارہ بن گیا۔ دعوتیں دی جانے لگیں، مشورے مانگے جانے لگے۔ بالکل ویسا ہی جیسے آج کل مودی کو اسرائیل، برما اور فرانس والے بلاتے ہیں، کہ مودی کے کرتوت سن کر اپنے ضمیر کو ہلکا پھلکا محسوس کرسکیں۔

پھر مونی کچھ بڑا ہوا تو اس کا سرکس سے رومان شروع ہو گیا۔ سرکس والوں کو مونی کی شہرت پہلے ہی پہنچ چکی تھی۔ وہ جب بھی محلے میں آتے، تو مونی کو مہمان خصوصی بناتے۔ مونی کو موت کے کنویں میں جھانکنے کا ایسا چسکا لگا جیسے مودی کو جلسے میں اپنی پرانی غریبی کی کہانیاں سنانے کا۔ ایک بار تو مونی رقص دیکھتے دیکھتے ایسے بے خود ہوئے کہ خود کنویں میں دھڑام سے خواجہ سراؤں کے درمیان جا گرے۔ سینکڑوں تماش بینوں کے سامنے سیکورٹی بلا کر بڑی مشکل سے انہیں نکالا گیا۔ مگر نکالنے کے بعد سرکس والوں نے مونی کو سپیشل پاس جاری کر دیا کہ اب وہ فری سرکس بھی دیکھ سکتے ہیں۔

آخر میں اگر کوئی پوچھے کہ ”مودی بڑا لیڈر ہے یا مونی؟“ تو میں صرف اتنا کہوں گا:

مودی کے پاس مائیک ہے، مونی کے پاس مکے۔
مودی نے اقلیتوں کو مروایا، مونی نے دودھ جلیبی والے کو دو دفعہ مارا
مودی کے اردگرد ہندوتوا کے لچے، مونی کے اردگرد محلے کے لفنگے۔
مودی نے گلوان میں گر کر چپ سادھ لی، مونی نے کنویں میں گر کر مفت داخلہ حاصل کر لیا۔
مودی درختوں پر سرجیکل اسٹرائیک کرتا ہے، مونی گلی کی مرغیاں اڑا کر فخر محسوس کرتا ہے

یہ دونوں شخصیات ہمیں سکھاتی ہیں کہ چاہے آپ چائے بیچیں یا مکے کھائیں، اگر اعتماد ہو تو دنیا آپ کو لیڈر مان ہی لیتی ہے۔ یا کم از کم سرکس والے مفت ٹکٹ ضرور دے دیتے ہیں۔

Facebook Comments HS