جنگ نہیں امن چاہیے


 

دہشت گردی کے بارے میں یول نوح حراری نے کہا ہے کہ دہشت گرد مچھر کی طرح کسی چینی دکان (نازک شیشے کے سامان کی دکان) میں کھڑے بدمست بھینسے کے کان میں بھنبھنا کر اس کو بد حواس کر دیتا ہے اور باقی کام بھینسا کر دیتا ہے۔

جموں و کشمیر کی سیاحتی وادی پہلگام میں دہشت گردی کے واقعہ کے بعد جنوبی ایشیا  کے دو ایٹمی ہتھیار رکھنے والے ملک بھارت اور پاکستان ایک بار پھر آمنے سامنے کھڑے ہوچکے ہیں۔ الزامات، جوابی الزامات، دھمکیاں اور پروپیگنڈے کا بازار گرم ہے۔ اب کی بار انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے اس سارے کھیل میں عام لوگوں کو بھی شامل کر لیا ہے۔ جس کے ہاتھ میں سمارٹ فون ہے وہ اس جنگ میں شامل ہے۔ موبائل کے کیمرے سے اپنا چینل چلا رہا ہے یا وہ کئی دوسرے چینل کو کم از کم لائیک، سبسکرائیب اور شیئر کر کے اپنا فرض نبھا رہا ہے۔

کرکٹ کا میدان اپنے جذبات اور نعروں سے سجانے والے بھارت اور پاکستان کے شہریوں کی اکثریت سرحدوں پر لڑاکا طیاروں کی اڑان، ٹینکوں کی نقل و حرکت اور میزائلوں کے اہداف کو بھی ایک کھیل ہی سمجھتی ہے۔ پاکستان میں 1965 ء کی جنگ کی کہانیاں سنا سنا کر یوم دفاع منایا جاتا ہے اور بھارت کے لوگوں کو 1971 ء کی جنگ اور کارگل کے قصے ایسے سنائے جاتے ہیں جیسے وہ بھی دو ملکوں کے درمیان کرکٹ کا میچ ہو۔

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کوئی لمبے عرصے کی بڑے پیمانے پر جنگ نہیں ہوئی ہے۔ آزادی کے فوراً بعد ہونے والی جنگ اقوام متحدہ کی مداخلت پر ختم ہوئی اور 1965 ء کی جنگ بھی محدود پیمانے پر ہوئی۔ 1971 ء کی جنگ بھارت اور پاکستان کی نہیں بلکہ مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان ہوئی تھی جس سے اول الذکر نے فائدہ اٹھایا تھا۔ بالکل اسی طرح کارگل کی لڑائی بھی باقاعدہ جنگ نہیں بلکہ پاکستانی فوج کا محدود پیمانے پر ایک خفیہ مشن تھا جس کے بارے میں حکومت پاکستان کو بھی خبر نہیں تھی۔

جنگ عظیم کی تباہ کاری کا اندازہ ہماری نسل فلموں اور کتابوں سے نہیں لگا سکتی جس نے اس کا مشاہدہ خود نہیں کیا ہے۔ یورپ میں مردوں کی اتنی کمی ہوئی کہ جنگ کے بعد دوسرے ممالک سے لوگوں کو بلانا پڑا جس کی وجہ سے آج وہاں بعض ممالک میں غیر مقامی آباد کاروں تعداد مقامی آبادی سے بڑھ چکی ہے۔ دنیا نے گزشتہ صدی کی دو عالمی جنگوں سے بہت کچھ سیکھا اور اقوام عالم کے ایک ادارے کو تشکیل دے کر بات چیت کا ایک مستقل بندوبست کیا۔ اس ادارے کی تشکیل کے بعد جنگوں کے نتیجے میں تباہی اس سطح کی نہیں ہوئی جیسی اس سے قبل دنیا نے دیکھی تھی۔

بھارت اور پاکستان میں لوگ تلواروں سے گھوڑوں پر ایک دوسرے کو فتح کرنے پر نہ صرف یقین رکھتے ہیں بلکہ بسا اوقات اس کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں بھارت میں مہا کمبھ کے میلے میں کئی ناگا سادھو گھوڑوں پر سوار ہو کر تلواریں اور ترشول اٹھائے جب آئے تو پڑھے لکھے لوگوں نے ان کا درشن قطاروں میں لگ کر کیا۔ میڈیا پر دانشوروں نے بتایا کہ ناگا سادھوؤں کی یہ اصل سینا ہے جو دھرم اور دیش کی رکھشا کرے گی۔ کچھ ایسی ہی باتیں ہمارے ہاں دہلی کے لال قلعہ پر جھنڈا لہرانے والے بھی کرتے ہیں۔

ہندوستان میں مہا بھارت اور رامائین میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے اس سے نہ صرف وہاں نسلی تفاوت پیدا ہوا ہے بلکہ کامیابی اور ناکامی کا معیار بھی لڑائی میں جیت یا ہار بن گیا ہے۔ بالکل اسی طرح ہماری تاریخ اسلام میں بھی صرف جنگ ہی موضوع ہے جو کلاس روم ہی نہیں بلکہ منبر و محراب سے بھی ہر وقت دوہرایا جاتا ہے۔ ایسی تاریخ ہمیشہ قابضین کی کہانیوں اور قصوں میں بتائی گئی ہوتی ہے جو مفتوح اقوام میں اپنی دھاک بٹھانے کے لئے گڑھی جاتی ہیں۔

اساطیر اور کہانیوں میں رہنے ولے عام لوگوں کے ایقان کو مزید پختہ کرنے کے لئے دونوں ممالک نے اپنے ہتھیاروں کے نام بھی ابدالی، غوری، حتف، بابر، غوری، اگنی اور پرتھوی رکھ چھوڑے ہیں۔ چوک چوراہوں پر ان کے ڈھانچے کھڑے کر کے ان سے منسوب کیا گیا ہے۔ ان تمام کاوشوں سے ہتھیاروں اور جنگوں سے لوگوں کی رومانویت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔

تاج برطانیہ جس کی حکومت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا جنگوں کی وجہ سے آج ایک چھوٹے سے ملک کی صورت میں رہ گیا ہے۔ سویت یونین جو دنیا کا سب سے بڑا ملک تھا، جنگی جنون اور اسلحے کی دوڑ میں ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر گیا ہے۔ دنیا بھر میں جنگ کا کاروبار کرنے والے امریکہ کی معاشی حالت ایسی ہو گئی ہے کہ اس کے ریاستی قرضے مجموعی قومی آمدنی سے بڑھ چکے ہیں۔

ہندوستان اور پاکستان کی حکومتیں یہاں پائی جانے والی غربت اور پسماندگی کو دور کرنے کے بجائے لوگوں کو یہ باور کراتی ہیں کہ وہ ایک ایٹمی طاقت کے حامل ملک کے شہری ہیں۔ لوگوں کو یہ نہیں بتایا جاتا کہ ہیروشیما اور ناگاساکی میں ایٹم بم کی تباہی سے لاکھوں لوگ فوراً ختم ہو گئے، کئی لاکھ لوگ مہینوں تک مرتے رہے اور اس کے اثرات برسوں جاری رہے، تابکاری کی وجہ سے اب تک معذور بچے پیدا ہوتے ہیں۔ سابق سویت یونین میں ہوئے 1986 ء کے چرنوبل ایٹمی تابکاری اخراج اثرات اب تک موجود ہیں۔ ہم ایٹم بم رکھنے اور ایٹمی طاقت ہونے پر نازاں ضرور ہیں مگر اس بات سے شاید اتنے باخبر نہیں کہ اس کی نوبت آنے کے بعد کچھ بھی باقی نہیں بچ پائے گا۔ یہ صرف دوسروں کی ہلاکت نہیں ہوگی بلکہ اپنی بھی موت ہو گی۔ زمین ہمیشہ کے لئے بنجر ہو گی، ہر ذی روح کا خاتمہ ہو گا۔ ایسی بات کیسے قابل فخر ہو سکتی ہے۔

ہندوستان اور پاکستان کے بیچ اب جو جنگ ہوگی اس میں بی آر بی کی نہر پار سے ٹینک نہیں آنے والے نہ سیالکوٹ کی ورکنگ باؤنڈری سے توپ خانہ آئے گا۔ اب ڈرون اور میزائل کا دور ہے جو خاموشی سے تباہی پھیلا سکتے ہیں۔ اپنے نیوز سٹوڈیوز میں بیٹھ کر چند سکوں کی خاطر دوسرے ملک میں شہر، ائرپورٹ اور بندرگاہیں تباہ کرنے والے شاید بھول جاتے ہیں کہ دوسری طرف بھی ایک ملک ہے، اس کی فوج ہے ان کے پاس بھی دنیا کی تباہی کا سامان موجود ہے۔ پروپیگنڈے کی اس جنگ میں اگر کسی ملک کی جانب سے جوہری حملے کی غلط اطلاع دی گئی تو اس کے جواب میں واقعی ایسا کچھ ہو سکتا ہے جس کا خدشہ دنیا کو لاحق ہے۔

پاکستان میں حکومت اور میڈیا تنقید سے بالا نہیں مگر حالیہ تنازع کے دوران بھارت نے جنگی جنون کو ہوا دینے میں ہر حد پار کر دی ہے۔ ایسے صحافی اور تجزیہ کار جن کی رائے کو پڑھتے سنتے سند کا درجہ دیا جاتا تھا ایک دم جھوٹ اور غلط بیانی کرتے دیکھے گئے۔ بھارتی حکومت نے اختلافی رائے رکھنے والوں پر بڑی دیدہ دلیری سے پابندی عائد کر کے حقائق کا گلا گھونٹا ہے۔ تنگ نظر بھارتی حکومت نے جس طرح جنون کو ہوا دے کے جنگ کے شعلوں کو بھڑکا دیا ہے ان کو ٹھنڈا کرتے ہوئے شاید اب اس کا اپنا جسم بھی بچ نہ پائے گا۔

جنگ میں جیت ہمیشہ اسلحہ بنانے اور بیچنے والوں کی ہوتی ہے۔ جنگ لڑنے والوں کے ہاں صرف قبروں میں اضافہ ہوتا ہے، بچے یتیم ہوتے ہیں اور بوڑھے ماں باپ بے سہارا ہوتے ہیں۔ جنگ کی کہانیاں بڑی درد ناک ہوتی ہیں اس لئے ہمیں اپنے آنے والی نسلوں کے لئے پیار، محبت اور امن کی کہانیاں چھوڑنی ہیں۔

Facebook Comments HS

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 289 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan