سیز فائر: ایک نئی اُمید کا آغاز
یہ واقعی ایک خوش آئند پیش رفت ہے کہ پاکستان اور بھارت، جو عشروں سے کشیدگی، بداعتمادی اور تلخیوں کی زد میں رہے ہیں، اب سیز فائر کے لیے آمادہ ہو چکے ہیں۔ یہ صرف ایک وقتی سیاسی فیصلہ نہیں، بلکہ ایک بڑی انسانی ضرورت ہے۔ ایسے وقت میں جب دنیا امن، ترقی، اور خوشحالی کی طرف بڑھ رہی ہے، دو عظیم ہمسایہ ممالک کا جنگی فضا سے نکل کر بات چیت کی طرف آنا ایک خوشگوار اور تعمیری تبدیلی ہے۔
بدقسمتی سے 1947 کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان مسلسل کشیدگی اور محاذ آرائی کا ماحول رہا ہے۔ اس کشمکش نے نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان کیا بلکہ کروڑوں عوام کو خوف، محرومی اور پسماندگی کی دلدل میں دھکیل دیا۔ جنگیں، سرحدی جھڑپیں اور نفرت انگیز بیانیے دونوں اطراف کے عوام کے لیے زخم ہی لاتے رہے ہیں۔
یہ وقت ہے کہ ہم ایک نئے باب کا آغاز کریں۔ اب دونوں ممالک کے میڈیا کو بھی سنجیدگی سے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ یہ تاثر کہ ”ہم جیتے اور وہ ہارے“ کا بیانیہ امن کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم نفرت انگیز زبان، قومی فخر کے نام پر اشتعال انگیزی، اور پُرانے زخموں کو کریدنے کی روش کو ترک کریں۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ ایک ذمہ دار ادارے کی حیثیت سے امن، ہم آہنگی، اور مثبت گفتگو کو فروغ دے۔
یاد رکھیں، پڑوسی بدلے نہیں جا سکتے۔ جغرافیہ ہمیں جوڑتا ہے، الگ نہیں کرتا۔ دشمنی کا سلسلہ نسل در نسل چلا تو اس کا خمیازہ ہماری آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑے گا۔ بہتر یہی ہے کہ ایک دوسرے کو برداشت کرنا سیکھا جائے، اختلافات کے باوجود مل کر جینے کا ہنر اپنایا جائے۔
دونوں ممالک کے درمیان کئی دیرینہ مسائل ہیں، جن کا حل جنگ نہیں، صرف بات چیت ہے۔ جب بھی دونوں فریقین نے مذاکرات کا راستہ اپنایا، حالات میں بہتری آئی۔ لہٰذا مستقل، مخلص اور نتیجہ خیز مکالمہ ہی وہ واحد راستہ ہے جو مسائل کے پائیدار حل کی طرف لے جا سکتا ہے۔
امن نہ صرف ایک اخلاقی ضرورت ہے بلکہ معاشی ترقی، سماجی بہبود، اور عوامی خوشحالی کی بنیاد بھی ہے۔ جنگوں پر خرچ ہونے والا سرمایہ اگر تعلیم، صحت، روزگار، اور بنیادی سہولیات پر خرچ ہو تو کروڑوں لوگوں کی زندگی بدل سکتی ہے۔ یہی حقیقی جیت ہوگی۔ ایک ایسی جیت جس میں دونوں قومیں کامیاب ہوں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی قیادت، دانشور، میڈیا، اور عوام ہم آواز ہو کر امن کا پرچم بلند کریں۔ دشمنی کا دور ختم ہو، اور ایک نئے، پرامن، باہمی احترام پر مبنی دور کا آغاز ہو۔ پاکستان اور بھارت کے لیے ایک ایسا کل جس میں محبت ہو، ترقی ہو، اور ایک دوسرے کے لیے برداشت ہو۔ یہی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

