سقراط کے نظریات، موت اور حیات جاوید
سقراط یونان کے عظیم دانشوروں میں سے ایک تھے۔ وہ سادہ لباس، سادہ خوراک اور سادہ طرز زندگی گزارنے والے ایک درویش منش دانشور تھے۔ یونان کے نوجوان ہر گلی، ہر بازار اور ہر چوراہے پر انہیں گھیر کر ان سے مکالمہ کرتے تھے اور سقراط ان سے ایسے چبھتے ہوئے سوال پوچھتے تھے جن سے انہیں اپنی روایات اور اعتقادات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی تحریک ہوتی تھی۔
سقراط سے شہر کے سب نوجوان خوش تھے اگر کوئی خوش نہ تھا تو وہ ان کی بیوی اور بچے تھے جو ان سے ہمیشہ شاکی رہتے تھے کیونکہ سقراط نہ تو کوئی ملازمت کرتے تھے اور نہ ہی اپنے گھر والوں کے ساتھ وقت گزارتے تھے۔
سقراط ایک دانا شخص ہی نہیں ایک منکسرالمزاج انسان بھی تھے ان کی درویشانہ عاجزی و انکساری اس بات سے عیاں ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے ”میں صرف ایک بات جانتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ میں کچھ نہیں جانتا“ ۔
سقراط جانتے تھے کہ فلسفی بننے کا پہلا سبق یہ ہے کہ انسان تمام مسلمات نظریات اور اعتقادات کو شک کی نگاہ سے دیکھے۔
سقراط سے پہلے بھی یونان میں کئی فلسفی اور دانشور پیدا ہوئے تھے لیکن وہ سب چاروں طرف پھیلی کائنات کے بارے میں سوچتے تھے اور قوانین فطرت جاننے کی کوشش کرتے تھے۔ وہ چاند گرہن اور سورج گرہن کے راز جاننا چاہتے تھے۔ ان دانشوروں اور سائنسدانوں کی ایک مثال ڈیموکریٹس تھے جن کا کہنا تھا کہ ہماری کائنات فضا خلا اور ایٹموں سے مل کر بنی ہے۔
سقراط وہ پہلے فلسفی تھے جن کی توجہ کا مرکز ”خارجی کائنات کی بجائے داخلی کائنات، باہر کی دنیا کی بجائے اندر کی دنیا“ تھی۔ اسی لیے انہوں نے فرمایا تھا کہ بامقصد زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی ذات کو جانے اور پہچانے اور اپنی ذات سے دوستی کرے۔
سقراط نے انسانوں کو مدلل بات کرنا، اعتقادات کو چیلنج کرنا، روایات پر سوالیہ نشان لگانا اور بامعنی مکالمہ کرنا سکھایا۔ ان کا موقف تھا کہ سنجیدہ مکالمہ سچ تک پہنچے کا ایک اہم راستہ ہے۔ سقراط کا طرز استدلال اب SOCRATIC METHOD کہلاتا ہے۔
سقراط کا موقف تھا کہ فلسفیوں کو روایتی مذہب سے بالاتر ہو کر ایسے اخلاقی اصولوں کو وضع کرنا چاہیے جو ایک دہریہ اور ایک مذہبی انسان ’ایک پاپی اور ایک پارسا دونوں کے لیے یکساں قابل قبول ہوں۔
سقراط دانا لوگوں کو عزت کی نگاہ سے لیکن سادہ لوح عوام کو شک کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ انہیں یہ دھڑکا لگا رہتا تھا کہ عوام مل کر جذباتی فیصلے کرتے ہیں اور اگر کسی ہجوم کا حصہ بن جائیں تو ظالم بن جاتے ہیں۔
سقراط کا کہنا تھا کہ شعلہ بیان مقرر شعبدہ باز ہوتے ہیں وہ اس لیے معاشرے کے لیے خطرہ ہیں کیونکہ وہ عوام کے جذبات کو مشتعل کر کے انہیں تشدد پر اکسا سکتے ہیں۔
سقراط کا کہنا تھا کہ قوم کے رہنما ایسے دانا لوگوں کو ہونا چاہیے جو ذاتی نفع نقصان سے سے بالا تر ہو کر پوری قوم کی فلاح و بہبود کا سوچ سکیں اور انہیں دانشمندانہ مشورے دے سکیں۔
سقراط کا نوجوانوں کو سوال کرنے کی تحریک دینا ہی ان کی موت کا سبب بنا۔ یونان کے روایتی اصحاب بست و کشاد کو یہ محسوس ہوا کہ سقراط نوجوانوں کو بغاوت پر اکسا رہے ہیں اور یونان میں نظریاتی انقلاب کے بیج بو رہے ہیں وہ نوجوانوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ اس لیے انہوں نے سقراط پر مقدمہ چلایا اور انہیں زہر کا پیالہ پینے کی سزا دی۔ سقراط کو جب موت کی سزا ہوئی تو ان کی عمر ستر برس تھی۔ انہیں کچھ دوستوں نے مشورہ دیا کہ وہ معافی مانگیں لیکن انہوں نے معافی نامہ لکھنے سے انکار کر دیا۔
سزا سے ایک دن پہلے سقراط کے قریبی دوستوں نے انہیں بتایا کہ وہ رات کی تاریکی میں فرار ہو کر کسی اور دیس میں جا کر اپنی جان بچا سکتے ہیں لیکن سقراط نے انکار کر دیا۔ انہوں نے فرار ہونے کی بجائے زہر کا پیالہ پینے کو پسند کیا۔ انہوں نے بڑی اپنائیت سے موت کو گلے لگایا اور اس موت نے انہیں حیات جاوید کا تحفہ دیا اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے۔
ڈرامہ کرٹو
سقراط کے آخری دنوں کے بارے میں افلاطون نے ایک ڈرامہ ”کرٹو“ لکھا جو سقراط کے قریبی دوست کا نام تھا۔ میں اس کالم میں اس ڈرامے کی تلخیص اور ترجمہ پیش کرتا ہوں۔
( اس ڈرامے کا پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات سے کوئی تعلق نہ سمجھا جائے )
سقراط جیل کی کوٹھڑی میں سو رہے تھے۔ وہ صبح سویرے جاگتے ہیں تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کے سرہانے ان کا پرانا دوست کر ٹو بیٹھا ہوا ہے۔
سقراط: تم بہت جلدی آ گئے۔ کیا وقت ہوا ہے؟
کرٹو: صبح صادق سے پہلے کا وقت ہے۔
سقراط: تم ابھی ابھی آئے ہو یا کافی دیر سے انتظار کر رہے ہو۔
کرٹو: مجھے آئے کافی دیر ہو گئی ہے۔
سقراط: تو تم نے مجھے جگایا کیوں نہیں؟
کرٹو: میں تمہیں نیند سے جگانے کی کیسے جسارت کر سکتا ہوں۔ میں تو خود بے خوابی کا شکار رہتا ہوں۔ تم اتنے سکون سے سوتے ہو کہ مجھے تم پر رشک آتا ہے۔ مجھے تمہاری پرسکون نیند پر ہی نہیں پرسکون زندگی پر بھی رشک آتا ہے۔ تم کتنے ناگفتہ بہہ حالات سے گزر رہے ہو اور پھر بھی پریشان نہیں ہو۔ تم کتنے تحمل سے زندگی کی دشواریاں برداشت کرتے ہو۔
سقراط: جب کوئی انسان میری عمر تک زندہ پہنچ جائے تو اسے موت سے نہیں گھبرانا چاہیے۔
کرٹو: میں تمہارے بہت سے ہم عمروں کو جانتا ہوں جو موت سے بہت گھبراتے ہیں۔
سقراط: ان باتوں کو چھوڑو مجھے یہ بتاؤ کہ تم اتنی جلدی مجھ سے ملنے جیل میں کیوں آئے؟
کرٹو: میں ایک بری خبر لے کر آیا ہوں۔ ہو سکتا ہے تمہارے لیے وہ بری نہ ہو لیکن تمہارے سب چاہنے والوں کے لیے اور خاص طور پر میرے لیے وہ بری خبر ہے۔
سقراط: کیا ساحل پر وہ جہاز آ لگا ہے؟
کرٹو: وہ ابھی آیا تو نہیں لیکن آج پہنچنے والا ہے اور اگر آج آ گیا تو پھر تمہیں کل زہر کا پیالہ پینا ہو گا۔
سقراط: میں نے ایک خواب دیکھا ہے تمہارے آنے سے ذرا پہلے۔ چلو اچھا ہوا کہ تم نے جگایا نہیں۔
کرٹو: تم نے کیا خواب دیکھا؟
سقراط: میں نے خواب میں سفید کپڑوں میں ملبوس ایک خوبصورت دوشیزہ دیکھی اس نے کہا سب اچھا ہو گا۔
کرٹو: سقراط تمہارا خواب بے معنی ہے۔
سقراط: میری نگاہ میں تو بامعنی ہے۔
کرٹو: تم میری مانو اور میرے مشورے پر عمل کرو اور میرے ساتھ اس قید سے فرار ہو جاؤ۔ میں نے فرار ہونے کے سب انتظامات کر لیے ہیں۔ اگر تم نے زہر کا پیالہ پی لیا تو نہ صرف میں ایک عزیز دوست سے محروم ہو جاؤں گا بلکہ بہت سے لوگ مجھ پر یہ الزام بھی دھریں گے کہ میں نے دولت بچانے کی خاطر تمہاری مدد نہ کی۔ کوئی بھی یہ یقین نہیں کرے گا کہ میں نے تمہیں فرار کا مشورہ دیا اور تم نے میرے مشورے پر عمل نہ کیا۔
سقراط: میرے عزیز کر ٹو! تمہیں اس بات کو زیادہ اہمیت نہیں دینی چاہیے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ جو لوگ سمجھدار ہوتے ہیں وہ حقائق کو قبول کر لیتے ہیں اور جو سادہ لوح ہوتے ہیں وہ افواہوں پر یقین کر لیتے ہیں۔
کرٹو: ہمیں عوام کی رائے کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ تمہارا موجودہ المیہ اس بات کا گواہ ہے کہ عوام الناس کتنی تباہی پھیلا سکتے ہیں۔
سقراط: اگر عوام برے کام کر سکتے ہیں وہ اچھے کام بھی کر سکتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ عوام سوچ سمجھ کر نہ اچھے کام کرتے ہیں نہ برے کام۔ وہ تو اکثر اوقات بغیر سوچے سمجھے جذباتی فیصلے کرتے رہتے ہیں۔
کرٹو: اگر تم یہ سوچ کر میرے ساتھ فرار نہیں ہو رہے کہ میں اس کے لیے بڑی رقم خرچ کر رہا ہوں تو اس کی پرواہ مت کرو۔ میں یہ سب کام خوشی سے کر رہا ہوں تا کہ میرا دانشور دوست اپنی جان بچا سکے۔
سقراط: میں نے تمہارے مشورے پر غور کیا ہے لیکن میں اپنے موقف پر قائم ہوں۔ میں یہاں سے فرار نہیں ہونا چاہتا۔
کرٹو: میں تمہیں یہ بتانے آیا ہوں کہ ہم نے ایسا انتظام کر رکھا ہے کہ چند لوگ مناسب دام لے کر تمہیں یہاں سے خفیہ طور پر لے جا سکتے ہیں۔ سقراط! میری بات غور سے سنو۔ اگر تم جان بچا سکنے کے باوجود نہ بچاؤ گے تو یہ کوئی دانائی کا کام نہیں ہو گا۔ کیا تم جانتے ہو کہ زہر کا پیالہ پی کر تم اپنے بیٹوں کو ان کے باپ کے سائے سے محروم کر دو گے۔ تمہارے بغیر وہ یتیم ہو جائیں گے۔ سقراط! کیا تم نہیں سمجھتے کہ یا تو انسان کو بچے پیدا ہی نہیں کرنے چاہئیں اور اگر وہ پیدا کرے تو ان کی ساری عمر ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ مجھے لگتا ہے کہ تم اپنی ذمہ داری سے کوتاہی برت رہے ہو۔ اگر تم موت کو گلے لگاؤ گے تو میں تمہیں بزدل سمجھوں گا جس نے ذمہ داری کی زندگی سے فرار کی راہ اپنائی۔ اب بھی وقت ہے اپنا فیصلہ بدل لو۔ میرا مشورہ مانو۔ یہاں سے فرار ہو جاؤ اور موت کی بجائے زندگی کو گلے لگاؤ۔
سقراط: مجھے تمہارے نیک جذبات اور خیالات کا احساس ہے لیکن میں کسی بھی دوست کا کوئی بھی مشورہ قبول نہیں کر سکتا جب تک وہ مجھے قائل نہ کر لے۔ میں اپنے اصولوں سے روگردانی نہیں کر سکتا۔ میں یا تو با اصول زندگی گزارنا چاہتا ہوں اور یا مر جانا چاہتا ہوں۔ کر ٹو! یہ بتاؤ کیا انسان کو با اصول زندگی نہیں گزارنی چاہیے؟
کرٹو: ضرور گزارنی چاہیے۔
سقراط: اسی لیے مجھے فرار نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کوئی شخص کسی کے ساتھ برا سلوک کرے تو کیا اسے بھی جواب میں برا سلوک کرنا چاہیے؟
کرٹو: نہیں ہرگز نہیں
سقراط: کیا ہمیں ریاست کے قوانین کی پابندی نہیں کرنی چاہیے؟
کرٹو: ضرور کرنی چاہیے
سقراط: ریاست کی عدالت نے میرے خلاف فیصلہ سنایا ہے اور میرے مرنے کا حکم دیا ہے۔ اور اگر میں اس فیصلے کو نہیں مانوں گا اور اس پر عمل نہیں کروں گا تو سب کی نظروں میں غدار کہلاؤں گا۔ میں ریاست سے فرار ہونے سے زہر کا پیالہ پینے کو ترجیح دوں گا۔
میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں قانون کی پابندی کروں گا اور ریاست کے حکم کے خلاف نہیں جاؤں گا۔ اگر ہم قانون کی تابع فرمانی نہیں کریں گے تو ریاست کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ جو شہری ریاست اور قانون کی تابع فرمانی نہیں کرتے وہ ریاست کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اگر ہمیں کسی قانون یا آئین سے اختلاف ہے تو ہمیں اسے بدلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہمیں ملک سے فرار ہو کر کسی اور ریاست میں رہائش پذیر نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ریاست کے بنیادی اصولوں اور شہریوں کے آدرشوں کے خلاف ہے۔ اسی لیے میں تمہارے ساتھ فرار نہیں ہو سکتا۔ میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ میں کل زہر کا پیالہ پی لوں گا۔


