جنگ بندی کے بعد ہوشمندی سے کام لینے کی ضرورت

پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف کا یہ پیغام خوش آئند ہے کہ اس موقع کو امن، خوشحالی اور استحکام کا نقطہ آغاز بننا چاہیے۔ جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہوتا۔ انسان مارے جاتے ہیں اور معاشروں کے کمزور طبقے تباہی کی قیمت ادا کرتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے یہ پیغام بروقت اور مناسب تھا کہ ’میں دونوں ممالک کو ذہانت اور تدبر کا مظاہرے کرنے پر مبارکباد دیتا ہوں‘ ۔
دونوں ملکوں کے درمیان 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر میں پہلگام کے مقام پر 26 سیاحوں کو ہلاک کرنے کے سانحہ کے بعد بھارت کی طرف سے خطے میں جنگ کا ماحول بنایا گیا تھا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی سرپرستی میں بھارتی حکومت اور میڈیا نے پاکستان کو پہلگام سانحے کا ملزم قرار دیتے ہوئے انتقام لینے اور حساب برابر کرنے کے دعوے کرنے شروع کر دیے تھے۔ پاکستان نے اس سانحہ میں ملوث ہونے سے انکار کرتے ہوئے پیش کش کی تھی کہ الزام تراشی کی بجائے سانحہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرا لی جائیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔ البتہ بھارتی لیڈروں نے انڈیا میں جو ماحول بنایا، اس میں دلیل یا حجت کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ پاکستان کو یک طرفہ طور سے مورد الزام ٹھہراتے ہوئے یہ تصور کر لیا گیا کہ بھارتی فوج جب چاہے، پاکستان کو سزا دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ہیجان کے اسی ماحول میں 7 مئی کو بھارت نے پاکستان کے متعدد شہروں میزائل حملے کیے۔ ان حملوں میں 31 افراد جاں بحق اور 48 زخمی ہوئے۔ پاکستانی اطلاعات کے مطابق یہ سب عام شہری تھے اور جن جگہوں پر میزائل حملے کیے گئے تھے وہاں کسی قسم کے دہشت گرد کا کوئی نام و نشان نہیں تھا۔
حملوں کے دوران البتہ پاکستانی فضائیہ ہوشیار تھی اور اس کے طیاروں نے پاکستانی اہداف پر میزائل گرانے والے طیاروں کو نشانہ بنایا اور آئی ایس پی آر کے مطابق 5 بھارتی فائٹر جیٹ مار گرائے گئے۔ ان میں تین مشہور اور جدید فرانسیسی ساخت کے رافیل فائٹر بھی شامل تھے۔ ان اطلاعات کی غیر جانبدار ذرائع سے تصدیق بھی ہو گئی تھی البتہ یہ واضح نہیں تھا کہ تباہ ہونے والے بھارتی طیاروں کی اصل تعداد کیا تھی۔ بھارتی عسکری یا سیاسی قیادت نے چونکہ اس بارے میں تردید یا تصدیق کرنے سے گریز کیا جس سے فضا میں پاک فضائیہ کی برتری کی دھاک بیٹھ گئی۔ عام خیال کیا جا رہا تھا کہ اس حملے اور پاکستان کی جوابی کارروائی کے بعد طرفین ہوش کے ناخن لیں گے اور کسی قسم کی جنگ بندی پر اتفاق کر لیا جائے گا۔ ایران اور سعودی عرب سمیت متعدد ممالک ثالثی کی کوششیں کرتے رہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے بھی دونوں ملکوں کی قیادت سے بات کر کے جنگ کا ماحول ختم کرنے کی اپیل کی تاہم یہ بیل منڈھے نہیں چڑھ سکی۔
7 مئی کے بعد پاکستانی حکام کا کہنا تھا کہ اس دن بھارتی طیارے پاکستانی فضائیہ کی دفاعی کارروائی میں کام آئے تھے۔ البتہ بھارت نے پاکستان کے شہروں پر جو بلا اشتعال حملہ کیا ہے، اس کا بدلہ لیا جائے گا۔ تاکہ بھارت اور دنیا کو بتایا جائے کہ پاکستان اپنی خود مختاری کی حفاظت کر سکتا ہے۔ اس اصولی اعلان کے باوجود پاکستان کی طرف سے کوئی عسکری کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی لیکن دو روز پہلے پاکستان میں مختلف اہداف پر بھارتی ڈرون حملوں کے بعد حالات کشیدہ ہونے لگے تھے۔ اس دوران دونوں طرف سے ایک دوسرے پر ڈرون اور میزائل پھینکنے کے الزام عائد کیے جا رہے تھے تاہم پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے واضح کیا تھا کہ پاکستان 7 مئی کے حملوں کا جواب ضرور دے گا۔ اور جب ایسا ہو گا تو پوری دنیا میں اس کی گونج سنائی دے گی۔ 10 مئی کی رات دو بجے کے قریب آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بتایا کہ بھارت نے نور خان ائر بیس سمیت تین اڈوں پر حملہ کیا ہے۔ اس کے تھوڑی دیر بعد ہی پاکستان نے میزائلوں اور طیاروں کے ساتھ مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ پاکستان میں اس حوالے سے بھارت کو شدید نقصان پہنچانے اور اس کے میزائل کے گودام اور ہوائی اڈے تباہ کرنے کی اطلاعات دی گئیں۔ دوسری طرف بھارت نے ان حملوں کا اعتراف کرتے ہوئے کچھ نقصان کا اعتراف کیا لیکن تفصیلات بتانے سے گریز کیا گیا۔ ان حملوں کے تھوڑی دیر بعد ہی صدر ٹرمپ کی طرف سے اپنی ثالثی میں جنگ بندی کرانے کا اعلان کر دیا گیا۔ پاکستانی اور بھارتی وزرائے خارجہ نے بھی اس اعلان کی تصدیق کی۔
اطلاعات کے مطابق پاکستانی وقت کے مطابق سہ پہر کے قریب پاکستانی فوج کے ڈی جی ایم او نے اپنے بھارتی ہم منصب سے فون پر بات کی اور شام پانچ بجے سے مکمل جنگ بندی کا فیصلہ کیا گیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کی سب سے پہلے اطلاع دی اور اس کا کریڈٹ بھی لیا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو رات کے دوران دونوں ملکوں کے لیڈروں سے رابطے میں رہے تھے۔ جنگ بندی کے بعد انہوں نے ایکس پر اپنے پیغام میں بتایا کہ ’نائب صدر وینس اور میں نے سینئر انڈین اور پاکستانی عہدیداروں کے ساتھ بات چیت کی ہے جن میں وزیر اعظم نریندر مودی و شہباز شریف، وزیر خارجہ ایس جے شنکر، چیف آف آرمی سٹاف عاصم منیر اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول اور عاصم ملک شامل ہیں۔ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ انڈیا اور پاکستان کی حکومتوں نے فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے اور ایک غیر جانبدار مقام پر وسیع مسائل پر بات چیت شروع کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ ہم وزرائے اعظم مودی اور شریف کو امن کا راستہ چننے میں ان کی دانشمندی، سمجھداری اور مدبرانہ انداز اپنانے پر سراہتے ہیں‘ ۔
پاکستان نے امریکی کوششوں اور جنگ بندی اور امن کی امید پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ ایکس پر وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’ہم صدر ٹرمپ کی قیادت اور خطے میں امن کے لیے فعال کردار کے لیے شکریہ ادا کرتے ہیں۔ پاکستان اس موقع پر سہولت فراہم کرنے پر امریکہ کو سراہتا ہے۔ ہم نے علاقائی امن اور استحکام کے مفاد میں جنگ بندی قبول کی ہے‘ ۔ وزیراعظم نے نائب امریکی صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’انہوں نے جنوبی ایشیا میں امن کے لیے گرانقدر خدمات انجام دیں۔ پاکستان کا خیال ہے کہ جنگ بندی مسائل کے حل میں ایک نئے آغاز کی نشاندہی ہے، جس کے بعد امن، خوشحالی اور استحکام کا سفر شروع ہو گا‘ ۔
جوہری ہتھیاروں سے لیس دو ملکوں کے درمیان جنگ بندی ایک ہوشمندانہ اقدام ہے۔ اگرچہ پس پردہ ہونے والی بات چیت اور ضمانتوں کے حوالے سے تفصیلات سامنے نہیں آئیں لیکن یہ اعلان اہم ہے کہ دونوں ملک کسی غیر جانبدار مقام پر بات چیت پر راضی ہو گئے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تقریباً ایک دہائی سے مذاکرات کے دروازے بند ہیں۔ یہ واضح ہے کہ کوئی تنازعہ میدان جنگ میں حل نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے دوسرے فریق سے بات ہی واحد طریقہ ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے نریندر مودی کی حکومت نے پہلگام سانحہ کے بعد پاکستان کے عزم و استقامت اور عسکری صلاحیت پرکھنے کے بعد ہی جنگ بندی اور مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ حالانکہ پہلگام کے بعد یا اس سے بھی پہلے نئی دہلی اور اسلام آباد میں رابطے استوار کر کے اور میز پر بیٹھ کر گلے شکوے کرنے سے معاملات حل کرنے کی طرف اقدام کیا جاسکتا تھا۔ نریندر مودی نے البتہ وزیر اعظم بننے کے بعد سے بھارت کو ہندو ریاست بنانے اور پاکستان کو تباہ کرنے کے ایجنڈے پر عمل کیا تھا۔ گزشتہ تین روز کے دوران پاکستان کے ساتھ جھڑپوں میں بھارتی حکومت کا یہ گمان البتہ ختم ہوا ہے کہ پاکستان تر نوالہ ہے۔ دوسری طرف پاکستان نے بھی بھارتی اشتعال انگیزی کے دوران مضبوط اعصاب اور تحمل کا مظاہرہ کیا اور عسکری لحاظ سے بھارت کو ایسا جواب دیا گیا کہ وہ جنگ بندی اور بات چیت کی طرف آنے پر مجبور ہوا۔
یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ دونوں ملکوں کی ان جھڑپوں میں کون فاتح رہا لیکن ایک بات طے ہے کہ پاکستان اپنا دفاع کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ بھارت کا یہ بھرم ختم ہوا ہے کہ وہ دنیا کی بڑی طاقت بن چکا ہے اور ہمسایہ ملکوں کے ساتھ اپنی شرائط پر معاملات طے کرنے کی صلاحیت و طاقت رکھتا ہے۔ آج رات ہونے والی جھڑپوں کے بعد بھارت کی سیاسی و عسکری قیادت کو باور کرنا ہو گا کہ وہ علاقے کا تھانیدار نہیں ہے اور کسی معمولی واقعہ کے بعد کسی تحقیق کے بغیر خود مختار ہمسایہ ملک پر حملہ کر دینا دانشمندانہ اقدام نہیں ہے۔ ’پاکستان کو سزا‘ دینے میں ناکامی کے بعد اب نئی دہلی کو اسلام آباد کے ساتھ تعمیری اور مثبت انداز میں بات چیت کرنی چاہیے تاکہ خطے میں بالادستی کی جنگ کرنے کی بجائے ایک دوسرے کے ساتھ امن و امان سے رہنے کی کوشش کی جائے۔ ان مذاکرات میں سب سے پہلے تو بھارت کی طرف سے سندھ طاس منصوبہ معطل کرنے کا یک طرفہ اعلان زیر غور آنا چاہیے اور پانی کی جائز تقسیم کے سوال کو ہمیشہ کے لیے طے ہونا چاہیے۔
البتہ اس کے بعد ایجنڈے پر سر فہرست کشمیر کا معاملہ لانا ضروری ہے۔ پاکستان کو دہائیوں کے بعد مقبوضہ کشمیر کے مسئلہ کو ایک بار پھر ایجنڈے پر لانے اور بھارت کے ساتھ معاملہ طے کرنے کا موقع ملے گا۔ اس موقع کو سفارتی چابک دستی اور سیاسی ہوشیاری سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ دونوں ملکوں کو باور کرنا ہو گا کہ ان کے درمیان تنازعات کی اصل وجہ کشمیر کا حل طلب معاملہ ہے جسے کوئی ایک ملک یک طرفہ طور سے طے شدہ قرار دے کر ختم نہیں کر سکتا۔ البتہ اس بارے میں اعتماد سازی کا ماحول پیدا کرنے کے لیے پاکستان کو اپنے ملک میں ایسے تمام عناصر کے خلاف کارروائی کرنے کا وعدہ کرنا چاہیے جو ماضی میں مقبوضہ کشمیر میں جنگجو گروہوں کی مدد میں سرگرم رہے ہیں۔ ان گروہوں پر بھارت میں متعدد دہشت گرد حملوں کا الزام ہے۔ اس بارے میں بھارت کی جائز شکایات کا ازالہ کر کے مقبوضہ کشمیر کے سیاسی حل کے لیے پیش رفت کی جا سکتی ہے۔
حرف آخر کے طور پر یہ کہنا بے معنی نہیں ہو گا کہ دونوں ملکوں کے درمیان ماضی میں ہونے والی تمام جنگیں شروع کرنے کا الزام پاکستان پر عائد ہوتا رہا ہے۔ البتہ اس بار بھارت نے نہ صرف اشتعال انگیزی کا ماحول پیدا کیا بلکہ پاکستان پر براہ راست حملہ کر کے بین الاقوامی قوانین کو پامال کیا۔ پاکستان نے اس پورے وقت میں تحمل کا مظاہرہ کرنے کے علاوہ امن کی بات کی۔ حتی کہ جنگ بندی کے لیے بھی پاکستان کے ڈی جی ایم او نے بھارتی ہم منصب سے بات کر کے جنگ بندی پر اتفاق کیا۔ پاکستان کو مستقبل میں بھی یہی حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے کہ امن کی خواہش کمزوری کی علامت نہیں ہوتی بلکہ امن ہی سے برصغیر میں خوشحالی کا امکان پیدا ہو گا۔

