یرقان: نوزائیدہ بچوں کی ایک اہم بیماری
اب ہم نوزائیدہ بچوں کی ان بیماریوں کے بارے میں بات کریں گے جو بہت عام ہیں اور ان کے علاج اور دیکھ بھال میں لوگ اکثر غلطیاں کرتے ہیں۔ ان میں سب سے اہم یرقان ہے جو نوزائیدہ بچّوں کی اکثریت میں دیکھا جاتا ہے۔ زیادہ تر بچّوں میں یہ معمولی نوعیت کا ہوتا ہے اور نوزائیدہ بّچے کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتا، لیکن اس کی زیادتی اور غلط علاج یا دیکھ بھال نوزائیدہ بّچے کے لئے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ نوزائیدہ بچّوں میں ہونے والا یرقان بڑے بچّوں اور بڑے افراد میں ہونے والے یرقان سے مختلف ہوتا ہے۔ یرقان کی وجوہات نوزائیدہ بچّے کی عمر کے مطابق مختلف ہوتی ہیں اور علاج بھی مختلف ہوتا ہے اس لئے سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ یرقان کیا ہے اور کیسے ہوتا ہے۔
یرقان کیا ہے؟
یرقان ایک ایسی بیماری ہے جس میں جسم اور آنکھوں کا رنگ پیلا ہوجاتا ہے۔ جس کی وجہ خون میں ایک ایسے کیمیکل کی زیادتی ہوتی ہے جو پیلے رنگ کا ہوتا ہے۔ اس کیمیکل کا نام بیلیروبین ہے۔ یہ دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک غیر مرکّب شدہ یا ان ڈائریکٹ بیلیروبین اور دوسرے کا نام مرکّب شدہ یا ڈائریکٹ بیلیروبین ہے۔ خون کے سرخ ذرّات میں ایک کیمیکل ہوتا ہے جسے ہیموگلوبن کہتے ہیں۔ جب یہ سرخ ذرّات ٹوٹتے ہیں تو یہ ہیموگلوبن ان ذرّات سے باہر نکل آتا ہے۔ اس عمل کو ہیمولیسس کہتے ہیں۔ اس کے بعد یہ ہیموگلوبن غیر مرکّب شدہ بیلیروبین میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ جو بعد میں جگر میں داخل ہوتا ہے جہاں یہ مرکّب شدہ بیلیروبین میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ یہاں سے یہ آنتوں میں چلا جاتا ہے جس کی وجہ سے پاخانے کا رنگ پیلا ہو جاتا ہے۔ یہ عمل روزانہ کی بنیاد پر جاری رہتا ہے۔ اور بہت ہی معمولی مقدار میں دونوں قسم کے بیلیروبین ہر وقت خون میں موجود رہتے ہیں۔ یرقان کی بیماری میں دونوں یا کسی ایک قسم کے بیلیروبین کی مقدار خون میں بہت زیادہ ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے جلد اور آنکھوں کی رنگت پیلی ہو جاتی ہے۔
یرقان کی وجوہات کیا ہیں؟
جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ یرقان خون میں بیلیروبین کی زیادتی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس زیادتی کی تین وجوہات ہوتی ہیں۔
1۔ غیر معمولی ہیمولیسس یعنی خون میں سرخ ذرّات کا بہت زیادہ تعداد میں ٹوٹنا اور غیر مرکّب شدہ بیلیروبین میں غیر معمولی اضافہ ہونا۔ عام طور پر ہیمولیسس بہت ہی معمولی مقدار میں روزانہ ہوتی رہتی ہے لیکن نوزائیدہ بچّوں اور کچھ بڑے افراد میں بھی کچھ خاص بیماریوں میں اس کی رفتار بہت تیز ہو جاتی ہے اور خون میں غیر مرکّب شدہ بیلیروبین کی مقدار تیزی سے اور بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ جو دماغ کو نقصان پہنچا دیتی ہے اور خون میں ہیموگلوبن کی کمی ہوجاتی ہے۔ اس غیر معمولی ہیمولیسس کی بھی دو بڑی وجوہات ہوتی ہیں۔
(الف) ماں اور بچے کے خون کے گروپ میں عدم مطابقت: جیسا کہ آپ جانتے ہیں خون کے چار بنیادی گروپ ہوتے ہیں یعنی ”اے“ ، ”بی“ ، ”اے بی“ اور ”او“ ۔ ہر گروپ کے مزید دو گروپ ہوتے ہیں جنہیں ”آر ایچ“ پازیٹو (+) اور نیگیٹو (۔ ) کہتے ہیں۔ ان گروپ کی پہچان سرخ ذرّات پر پائے جانے والے اینٹی جن ہوتے ہیں۔ ان اینٹی جن کی مخالف اینٹی باڈیز بھی ہوتی ہیں جو مخالف گروپ کے خون میں پائی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر بّچے کے خون کا گروپ ”اے“ ہے اور ماں کے خون کا گروپ ”او“ ہے تو ماں کے خون میں ”اینٹی اے“ اینٹی باڈیز ہو سکتی ہیں جو حمل کے دوران ماں سے بّچے میں منتقل ہو جاتی ہیں۔ اور بّچے میں اضافی ہیمولیسس کا سبب بنتی ہیں۔ جس کی وجہ سے خون میں غیر مرکّب شدہ بیلیروبین کی مقدار میں غیر معمولی اضافہ ہوجاتا ہے اور اگر یہ اضافہ ایک خاص مقدار سے زیادہ ہو تو دماغ کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور وہ بچّہ ذہنی اور جسمانی طور پر معذور ہو سکتا ہے۔ بیلیروبین کی مقدار کی وہ محفوظ سطح جس کے بعد دماغ کو نقصان پہنچ سکتا ہے بچّے کی پیدائشی عمر، اس کا وزن اور بعد از پیدائش عمر کے مطابق مختلف ہوتی ہے۔ یہ پہلے پانچ دنوں میں بڑھتی ہے اور اگلے پانچ دنوں میں آہستہ آہستہ کم ہو جاتی ہے۔ حالانکہ اس کا ایک جدول موجود ہے جو ڈاکٹر ایسے بچّوں کے علاج کے دوران استعمال کرتے ہیں لیکن عام لوگوں کے لئے وہ خاصا پیچیدہ ہو سکتا ہے اس لئے اسے یہاں بیان نہیں کیا جا رہا۔ تاہم ایک عمومی عمر اور عمومی وزن کے بچّے میں پہلے دس دنوں میں اس کی مقدار زیادہ سے زیادہ 12 ملی گرام فی 100 ملی لیٹر ہوتی ہے۔ لیکن اس کی مقدار اگر 20 ملی گرام سے زیادہ ہونا شروع ہو جائے تو دماغ کو نقصان پہنچنے کا خدشہ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے اور اس کا فوری علاج انتہائی ضروری ہو جاتا ہے۔
(ب) سرخ ذرّات میں اینزائم کی کمی: بچے کے خون کے سرخ ذرّات میں پیدائشی طور پر کچھ کیمیکل ہوتے ہیں جنہیں اینزائم کہا جاتا ہے۔ ان میں سب سے اہم ”جی۔ 6۔ پی۔ ڈی“ ہے۔ جس کی کمی وجہ سے ہیمولیسس میں اضافہ ہو سکتا ہے یہ کمی جینیاتی وجوہات کی بنا پر ہوتی ہے یہ نہ صرف نوزائیدہ بچّوں میں بلکہ بڑے بچّوں اور بالغوں میں بھی ہیمولیسس، یرقان اور خون میں کمی کا سبب بن سکتی ہے۔ اگر ”جی۔ 6۔ پی۔ ڈی“ کی کمی کے حامل افراد کچھ خاص دوائیں یا غذا استعمال کریں تو غیر معمولی ہیمولیسس ہو جاتی ہے۔ جو یرقان اور خون کی کمی کا سبب بنتی ہے۔ جن افراد میں جی۔ 6۔ پی ڈی کی کمی ہوتی ہے انہیں زندگی بھر ان ادویات سے گریز کرنا پڑتا ہے۔ ان میں سلفر والی دوائیں، ملیریا کی دوائیں اور کچھ اینٹی بایوٹکس اہم ہیں۔ چونکہ اس طرح نقصان پہنچانے والی دواؤں کی فہرست لمبی ہے اس لئے جی۔ 6۔ پی ڈی کی کمی والے مریض میں کوئی بھی دوا استعمال کرنے سے پہلے ڈاکٹر کا مشورہ حاصل کرنا ضروری ہے اسی طرح افریقہ میں عام طور پر استعمال ہونے والی فاوا پھلیاں جی۔ 6۔ پی ڈی کی کمی والے افراد میں ہیمولیسس کا سبب بنتی ہیں۔
2۔ جگر کی بیماریاں۔ جگر میں ہونے والی بعض بیماریاں بھی یرقان کی ایک اہم وجہ ہے۔ ان بیماریوں میں مختلف قسم کے ہیپاٹائیٹس شامل ہیں۔ بڑی عمر کے بچّوں اور افراد میں یہ یرقان کی سب سے زیادہ بڑی وجہ ہوتی ہے۔ ہیپاٹائیٹس مختلف وائرس یا بیکٹیریا کے انفیکشن یا ناقص مدافعتی نظام کی وجہ سے ہوتا ہے۔ نوزائیدہ بچّوں میں ان بیماریوں میں جگر کے ساتھ تلّی کا سائز بھی بڑھتا رہتا ہے اور پیٹ پھول جاتا ہے۔ علاج عام طور پر مشکل ہوتا ہے اور موثّر نہیں ہوتا اور بعد میں جگر فیل ہونے کی وجہ سے بچّہ مر سکتا ہے۔
3۔ جگر کی نالیوں میں رکاوٹ: جگر کے اندر کچھ باریک نالیاں ہوتی ہیں جنہیں کینالیکولی کہا جاتا ہے ان میں پیدائشی طور پر خرابی اور رکاوٹ ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ جگر سے آنتوں میں جانے والی نالی میں بھی رکاوٹ ہوتی ہے یا وہ غیر موجود ہو سکتی ہے۔ اسے بیلی ایری ایٹریزیا کہتے ہیں۔ اس صورت میں بائل یا پت آنتوں میں داخل نہیں ہوتا۔ خون میں مرکّب شدہ بیلیروبین کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور یرقان کا سبب بنتی ہے۔ اس طرح کا یرقان عام طور پر زندگی کے دوسرے ہفتے کے دوران ہوتا ہے اور بڑھتا رہتا ہے۔ بیلیروبین کی عدم موجودگی کی وجہ سے پاخانہ عام پیلے رنگ کے بجائے سفید رنگ کا ہو جاتا ہے۔ جگر کا سائز بڑھتا رہتا ہے اور عام طور پر جگر فیل ہونے کی وجہ سے بّچہ مر جاتا ہے
4۔ ان کے علاوہ کچھ اور بیماریوں کی وجہ سے بھی یرقان ہو سکتا ہے جن میں ہارمونز کی کمی جیسے تھائرائیڈ اور میٹابولک بیماریاں جیسے گیلیکٹووزیمیا شامل ہیں۔
نوزائیدہ بچّے میں یرقان کا علاج
نوزائیدہ بچّے کی جلد اور آنکھوں میں پیلا رنگ ظاہر ہونا شروع ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ اس کا صحیح اور بروقت علاج ہو سکے نوزائیدہ بچّوں میں یرقان کا علاج اس کی وجہ پر منحصر ہے۔ لہٰذا وجہ کا تعین سب سے اہم ہے۔ جس کے لیے خون کے کچھ ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ جن میں ہیموگلوبین، خون کا گروپ، بیلیروبین کی مقدار، ریٹیکیولو سائیٹ کی تعداد، جی۔ 6۔ پی ڈی کی مقدار اور جگر کے ٹیسٹ وغیرہ شامل ہیں ان کے علاوہ ان ٹیسٹوں کے نتائج پر منحصر مزید ٹیسٹ کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔ ان میں جگر کا الٹرا ساؤنڈ، پیٹ کا سی ٹی اسکین اور میٹابولک خرابیوں کے لئے پیشاب کا ٹیسٹ وغیرہ شامل ہیں
بیلیروبین میں اضافے کی شرح پر منحصر ہے کہ بیلیروبین کا ٹیسٹ روزانہ یا ہر 6۔ 8 گھنٹے کے بعد دہرایا جائے۔ اگر بیلیروبین میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، تو علاج کی فوری ضرورت ہوتی ہے۔ تاکہ دماغی نقصان سے بچنے کے لئے زیادہ دیر ہونے سے پہلے ہی مناسب علاج شروع کیا جا سکے۔
1۔ ہیمولیٹک یرقان کا علاج:
چونکہ ہیمولیسس نوزائیدہ یرقان کی سب سے اہم اور عام وجہ ہے، لہذا اس کے علاج کے بارے میں کچھ تفصیل بیان کرنا ضروری ہے۔ اس کے علاج میں دو اقدام اہم ہیں۔
(الف) ۔ فوٹو تھیراپی:
علاج کی اس شکل میں، بّچے کو روشنی کے نیچے رکھا جاتا ہے، جس سے آنکھوں اور نیپی ایریا کے علاوہ پورے جسم پر ایک خاص قسم کی روشنی ڈالی جاتی ہے۔ فوٹو تھیراپی کا آغاز حمل اور پیدائش کے بعد کی عمر، وزن، بیلیروبین کی مقدار اور بیلیروبین کی قسم پر منحصر ہے۔ اس مقصد کے لئے خصوصی ٹیوب لائٹس کو اس وقت تک مسلسل استعمال کیا جاتا ہے جب تک بیلیروبین کی مقدار بڑھنا بند نہ ہو جائے یا محفوظ حد تک کم نہ ہو جائے۔ روشنی غیر مرکّب شدہ بیلیروبین کو مرکّب شدہ بیلیروبین میں تبدیل کرتی ہے جو آنتوں اور پیشاب میں خارج ہو جاتی ہے۔ اس طرح نہ صرف غیر مرکّب شدہ بیلروبین میں اضافے کی شرح میں کمی ہو جاتی ہے بلکہ بیلیروبین کی مقدار میں بھی کمی ہو جاتی ہے
یہاں یہ بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ اکثر بچّے کو سورج کی روشنی میں رکھنے کا مشورہ دیا جاتا ہے یہاں تک کہ بعض اوقات ڈاکٹروں یا نرسوں کی طرف سے بھی اس قسم کا مشورہ دیا جاتا ہے سورج کی روشنی فوٹوتھیراپی کا نعم البدل نہیں ہے۔ چند منٹ کے لیے بچّے کو سورج کی روشنی میں رکھنے سے یرقان پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ سورج کی روشنی میں رکھنے سے نوزائیدہ بّچے کو غیر ضروری طور پر گرمی، پانی کی کمی، دھول اور انفیکشن کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے بّچے کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہے بلکہ نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ فوٹوتھیراپی کے لئے اسپتال میں داخل ہونا ضروری ہے اور یہ گھر پر نہیں دی جا سکتی۔
(ب) خون کی تبدیلی
جب بیلیروبین کی مقدار ایک خاص حد تک بڑھ جاتی ہے اور اس کی وجہ سے دماغ کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے تو نوزائیدہ بچے کے خون کو تبدیل کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس عمل کو ایکس چینج ٹرانسفیوژن یا تبادلہ خون کہا جاتا ہے۔ یہ فوری طور پر بیلیروبین کی مقدار کو کم کر دیتا ہے۔ اس طریقہ کار میں نوزائیدہ بّچے سے 10۔ 20 ملی لیٹر خون نکال کر پھینک دیا جاتا ہے اور اتنی ہی مقدار میں عطیہ دہندگان کا خون اس میں منتقل کیا جاتا ہے۔ یہ عمل اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک خون کی پہلے سے حساب کردہ مقدار کا تبادلہ نہیں ہو جاتا۔ تاہم بیلیروبین دوبارہ بھی بڑھ سکتی ہے کیونکہ نوزائیدہ بچّے کے خون کا 100 ٪ تبادلہ کبھی نہیں ہوتا ہے۔ نوزائیدہ بچّے کے باقی اصل خون میں ہیمولیسس جاری رہ سکتی ہے اور بیلیروبین بنتی رہتی ہے۔ بعض اوقات تبادلہ خون کو ایک سے زیادہ بار دہرانے کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔
2۔ بیلی ایری ایٹریزیا کا علاج:
جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ نوزائیدہ بچّوں میں یرقان کی ایک اور بڑی وجہ جگر کی نالیوں میں رکاوٹ ہے۔ یہ دو قسم کی ہو سکتی ہے۔ ایک جس میں جگر سے پتّے اور آنت تک نالی موجود نہیں ہوتی۔ دوسری قسم میں جگر کے اندر کی نالیاں مناسب طریقے سے نہیں بن پاتیں اور اتنی تنگ ہوتی ہیں کہ پت یا بائل کو آنت تک نہیں پہنچنے دیتیں۔ پہلی قسم کا علاج سرجری یعنی آپریشن ہے۔ یہ آپریشن جگر کو مستقل نقصان پہنچنے سے پہلے پہلے کرنا ضروری ہے۔ یہ آپریشن پہلے آٹھ ہفتوں میں ہو جانا چاہیے۔ اس کے بعد یہ آپریشن کامیاب نہیں ہوتا اور پھر صرف جگر کی پیوند کاری کے سوا کوئی علاج نہیں ہو سکتا۔ اس لئے اس کی جلد تشخیص بہت ضروری ہے۔
دوسری قسم میں جگر کی پیوند کاری کے علاوہ کوئی علاج دستیاب نہیں ہے۔
3۔ متعدی اور میٹابولک امراض کا علاج:
چونکہ اس طرح کی بیماریاں زیادہ عام نہیں ہیں اس لئے ان کا علاج یہاں بیان کرنا مناسب نہیں ہے۔ صرف اتنا کہنا کافی ہے کہ ایسے امراض میں علاج اس کی وجہ پر منحصر ہوتا ہے، جیسے تھائرائیڈ کی کمی کے لئے تھائروکسین کا استعمال اور گیلیکٹوزیمیا کے لئے عام دودھ سے پرہیز اور گیلیکٹوز سے پاک دودھ کا استعمال ضروری ہے۔
نوزائیدہ بچّوں میں یرقان کی صورت میں والدین کے لئے ہدایات:
1۔ نوزائیدہ بچّے میں یرقان خطرناک ہو سکتا ہے اور اگر بروقت اور مناسب طریقے سے علاج نہ کیا جائے تو دماغ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس لئے اگر بچّے کی جلد یا آنکھوں میں پیلا پن نظر آئے تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
2۔ یرقان کے بڑھنے کی رفتار کو چیک کرنے کے لئے بار بار خون کے ٹیسٹ کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ والدین کو خون ٹیسٹ کرانے سے انکار نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ انکار کرنے سے بچّے کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے۔
3۔ سورج کی روشنی فوٹو تھیراپی کا متبادل نہیں ہے۔ یہ نقصان دہ ہو سکتی ہے اور اس سے بچّے کو بچانا بہت ضروری ہے۔ فوٹوتھیراپی گھر پر نہیں دی جا سکتی۔ اس کے لئے اسپتال میں داخل ہونا ضروری ہے۔
6۔ اگر خون بدلنے کا مشورہ دیا گیا ہو تو انکار نہیں کرنا چاہیے اسی طرح اگر سرجری کا مشورہ دیا گیا ہو تو بہت دیر ہونے سے پہلے سرجری کرا لینا چاہیے۔
( یہ مضمون میری کتاب ”میں اور میرا بچّہ“ سے ماخوذ ہے )


