امی کی سلائی فیکٹری


اسی کی دہائی آج سے بہت مختلف تھی، نہ ڈیزائنرز کی بہار تھی اور نہ ہی چیزوں کی بہتات۔ نہ زندگی ایک عالمی گاؤں میں تبدیل ہوئی تھی کہ گاؤں دیہات میں بیٹھے ہوئے بھی سب کو علم ہوتا کہ کورین کاسمیٹکس میں کیا نیا ہے اور کیسا ہے؟ دنیا تو دور کی بات، پاکستانی برینڈز بھی خال خال ہی نظر آتے۔

ایسے قحط میں ایک شوقین لڑکی میڈیکل کالج جا پہنچی جہاں دنیا بھر سے لوگ پڑھنے آئے تھے۔ اور یہ انوکھی بات نہیں تھی کہ دنیا بھر سے آنے والوں کے ساتھ دنیا کی نت نئی چیزیں بھی ہوں گی۔ ہم ان کے استعمال میں آنے والی چیزیں دیکھتے اور دل مسوس کے رہ جاتے کہ ہمیں بھی وہ سب خوب بھاتا تھا لیکن ہم تک پہنچتا کیسے؟

پہلا کالج بیگ انارکلی سے خریدا گیا۔ کچھ کچھ سکول بستہ نما۔ گو کہ خریدنے سے پہلے پچاسیوں دکانوں میں گھس کر دیکھا کہ شاید کچھ مختلف سا بیگ چلبلی کالج گرل کے لیے میسر ہو، لیکن ناکامی۔

اس بیگ سے ہم جلد ہی بور ہو گئے کہ چمڑے سے بنے بیگ پہ رنگوں کی بہار کا نشان تک نہیں تھا۔ ہماری مدد کو باجی آگے آئیں اور اسلام آباد سے ایک بیگ ڈھونڈ کر لائیں جو موٹے کپڑے کا بنا تھا اور اس پہ کچھ کتابوں اور پینسلوں کی تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ اچھا تھا مگر جلد ہی اس سے بھی دل اوبھ گیا۔

میڈیکل کالج میں یونیفارم تو تھا نہیں سو روزانہ رنگ برنگے کپڑوں کے ساتھ ہمیں ویسا ہی بیگ بھی چاہیے تھا۔

ہماری ایک دوست نغمانہ سعودی عرب سے پڑھنے آئیں تھیں ان کے والدین بوجہ ملازمت وہاں مقیم تھے۔ وہ گرمیوں کی چھٹیوں میں سعودی عرب واپس جاتیں اور جب آتیں تو سوٹ کیس رنگارنگ چیزوں سے بھرا ہوتا۔

ایک دن صبح صبح کالج جانے کے لیے ہوسٹل سے نکلے تو چلتے ہوئے نغمانہ کے کندھے سے لٹکے ہوئے بیگ پہ نظر پڑی، انتہائی سٹائلش بیگ۔

نغمانہ۔ تمہارا بیگ بہت اچھا ہے، کہاں سے لیا۔
شکریہ۔ جدہ سے لیا تھا۔ تمہیں پتا ہی ہے کہ بیگز کی کتنی ضرورت پڑتی ہے یہاں۔

اوہ بہت پیارا ہے۔ ہماری تعریف میں رشک تھا، حسد نہیں کہ تب بھی ہمیں علم تھا کہ دنیا میں ہر چیز ہر کسی کی دسترس میں نہیں ہوتی۔

دن گزرتے گئے۔ ہم جب بھی نغمانہ کا بیگ دیکھتے، ہمارا ذہن کھچڑی پکانے لگتا۔ انہی دنوں کچھ چھٹیاں ہوئیں اور ہم گھر جانے لگے تو ہمیں ایک آئیڈیا سوجھا۔ بھاگے بھاگے نغمانہ کے کمرے میں گئے اور پوچھا۔ سنو۔ کیا یہ بیگ ان چھٹیوں کے لیے ہمیں دے سکتی ہو؟ ہم اپنی امی کو دکھانا چاہتے ہیں۔

نغمانہ کچھ حیران ہوئیں لیکن بیگ دینے میں کوئی تامل نہیں ہوا۔ جانتی تھیں کہ ”ٹی کے“ کا دماغ کچھ الٹا پلٹا ہے، یقیناً کچھ سوچا ہو گا۔

ہم گھر پہنچے۔ ایک دو دن آرام اور خوش گپیوں کے بعد ہم نے امی سے کہا کہ ہم آپ کو کچھ دکھانا چاہتے ہیں۔

وہ کہنے لگیں۔ ہاں لاؤ۔
ہم نے اپنے سوٹ کیس سے بیگ نکالا اور امی کے سامنے رکھ دیا۔ بہت خوبصورت ہے۔ کہاں سے لیا؟
امی میری سہیلی سعودی عرب سے لے کر آئی ہے۔ میں مانگ کے لائی ہوں آپ کو دکھانے کے لیے۔

امی یہ سن کر مسکرائیں۔ وہ سمجھ گئیں کہ ان کو دکھانے کا مقصد کیا ہے؟ انہوں نے بیگ کو خوب اچھی طرح الٹ پلٹ کر دیکھا۔ فیتے سے ماپا پھر کچھ سوچنے لگیں۔

ہم بے چینی سے ان کی طرف دیکھ رہے تھے۔ یہ۔ یہ۔
شام کو بازار چلتے ہیں۔ دیکھتے ہیں۔

اب آپ بیگ کی تفصیل سن لیجیے۔ بیگ مستطیل نما تھا، باہر زین / کھدر نما خوش رنگ کپڑا، اندر باریک چمڑے کا استر، اطراف میں سخت چمڑے کی ڈوری جو بیگ کی شکل قائم رکھنے اور جوڑنے کے لیے لگی تھی، کندھے پہ ڈالنے کے لیے بیگ کے دونوں طرف سفید سوتر سے گندھی موٹی رسیاں جو بیگ کے دونوں طرف موجود سوراخوں سے نکلتیں۔

شام میں ہم اور امی بازار گئے۔ سب سے پہلے ایسی دکان ڈھونڈی گئی جہاں بستے بنتے ہوں۔ انہیں اپنا بیگ دکھا کر نرم اور پتلے چمڑے کے بارے میں پوچھا گیا، دکان دار حیران ہوا لیکن اس نے وہ استر منگوا کر دینے کی حامی بھر لی۔ اس کے ساتھ اسے سخت چمڑے کی ڈوری کی فرمائش بھی کی گئی۔

باجی جی۔ یہ ڈوری خاص مشینوں کی مدد سے بستوں میں ڈالی جاتی ہے، آپ کے کام کی نہیں۔ اس نے کہا۔
بھائی تم لا دو، ہم دیکھ لیں گے۔ امی نے کہا۔

چمڑے سے نمٹنے کے بعد ہم رسیوں کی دکان پہ گئے جہاں ہم نے سفید بٹی ہوئی رسی مانگی، وہاں بھی دکاندار نے پہلے گھورا، پھر ہماری فرمائش پوری کر دی۔

آخر میں ہم لنڈا بازار گئے۔ وہاں ہم نے انتہائی شوخ پھولوں والے کچھ پردے چنے جو کاٹن نما کھدر یا زین کے کپڑے سے بنے تھے۔ یہ سب شاپنگ کر کے جب ہم گھر میں داخل ہوئے تو ہمارا چہرہ تمتما رہا تھا کہ ہماری اور امی کی جگاڑ کی بنیاد رکھی جا چکی تھی۔

گھر آ کر امی نے کچھ اخبار لیے اور انہیں فیتے سے ماپ کر بیگ کے ڈیزائن میں کاٹا۔ جب ان کے حسب منشا اخبار کٹ چکے تب انہوں نے سوئی سے وہ اخبار جوڑے۔ واؤ۔ امی یہ تو بیگ بن گیا۔ ہم امی کے گلے میں بانہیں ڈال کر جھول گئے۔ امی مسکرا دیں۔ ابھی کہاں۔ ابھی چیزیں تو پوری ہونے دو۔

دوسرے دن امی چمڑا اور ڈوری بازار جا کر لائیں اور پھر مشن امپاسبل شروع ہوا۔ اخبار پہ پریکٹس ہو چکی تھی سو پہلے اس سائز کا کپڑا کاٹا گیا پھر کپڑے کے سائز کا چمڑا کٹا، پہلے فرنٹ بیک اور پھر اطراف۔ چمڑے کی اوپر والی سطح کو اس طرح کپڑے کے ساتھ رکھا گیا کہ بیگ کی اندرونی سطح چمڑے کی اندرونی سطح ہو جو نسبتاً ملائم ہوتی ہے۔

اب انہیں جوڑنے کا مشکل ترین اور نازک مرحلہ آ پہنچا۔ امی نے سنگر سلائی مشین نکالی، پہلے چمڑے اور کپڑے کو اوپر نیچے رکھا، دو تین کچے ٹانکے ہاتھ سے لگائے تاکہ دونوں میں سے کوئی اپنی جگہ سے نہ ہلے۔ اب امی کے پاس بیگ کی اطراف اور بیگ کی باڈی تیار تھیں جنہیں چمڑے نما سخت ڈوری کے ساتھ ملا کر سینا تھا۔ دونوں تہوں کے بیچ ڈوری رکھ کر امی نے سینا شروع کیا، ہم پاس بیٹھے اشتیاق سے دیکھ رہے تھے۔ ہمارا منصوبہ پورا ہونے جا رہا تھا مگر سلائی نے امی کو ناکوں چنے چبوا دیے۔ چمڑے کی ڈوری اتنی سخت تھی کہ مشین دو ٹانکے بھرتی اور سوئی ٹوٹ جاتی۔ امی مشین میں نئی سوئی لگاتیں، پھر مشین چلاتیں، سوئی پھر سے ٹوٹ جاتی۔

کوئی چھ سات سوئیاں ٹوٹنے کے بعد امی نے کہا، یہ بہت سخت ہے، اس پہ یہ سوئی نہیں چلے گی۔
ہمارا دل بیٹھ گیا۔ اب کیا کریں۔ ہم نے منہ بسورتے ہوئے کہا۔
دیکھتے ہیں۔ امی نے کہا۔

ہماری امی کہاں ہار ماننے والی تھیں۔ شام کو امی نے چادر اوڑھی اور پھر بازار جانے کے لئے تیار ہو گئیں۔ ہم حسب معمول ساتھ۔

امی سیدھی اس دکان پہ گئیں جہاں سے سوئیاں وغیرہ ملا کرتی تھیں۔ وہاں جا کر امی نے ان سے فرمائش کی کہ انہیں ایک موٹی سوئی چاہیے جس سے چمڑے پہ سلائی ہو سکے اور سوئی ہو بھی ایسی جو سنگر مشین میں فٹ ہو سکے، ساتھ میں دھاگا بھی مضبوط چاہیے۔

دو تین دکانیں چھان کے امی کو اپنی مطلوبہ چیزیں مل گئیں۔ گھر آ کے امی نے مشین میں ایک چھوٹا سا پرزہ فٹ کیا اس میں موٹی سوئی لگائی، موٹا دھاگہ ڈالا اور لیجیے کھٹا کھٹ سلائی شروع ہو گئی۔ بیگ کو اندر کی طرف سی کر پھر سیدھا کیا گیا۔ بہت ہی خوبصورت۔ ہمارا دل تیزی سے دھڑکنے لگا مگر ابھی بھی کچھ کام باقی تھا۔ بیگ کو کندھے پہ لٹکانے والی ڈوریاں ڈالنا باقی تھا۔

امی نے بیگ کے دونوں طرف دو گول سوراخ بنائے اور انہیں موٹی سوئی کی مدد سے کاج ٹانکے کی طرح پکا کیا۔ پھر رسی ان میں ڈال کر بیگ کے اندر گانٹھ لگا دی۔

لیجیے جناب بیگ تیار تھا اور اس قدر اعلیٰ کہ نقل کا جمال اصل سے بڑھ گیا۔

ہم خوشی سے پاگل ہو رہے تھے اور تصور میں بیگ کندھے پہ ڈالے کالج جا رہے تھے۔ امی ہمیں دیکھ کر خوش ہو رہی تھیں۔

چھٹیوں کے بعد جب ہم کالج گئے تو ایسی کوئی آنکھ نہیں تھی جس نے بیگ کے شوخ رنگوں کو تعریفی نگاہ سے نہ دیکھا ہو۔ ہم نے نغمانہ کا بیگ شکریے کے ساتھ واپس کیا۔

اب جو بات ہم آپ کو بتانے جا رہے ہیں اس کا ذکر ہمیں اشک بار کر دیتا ہے۔ ہماری امی نے ہمارے ہوسٹل جانے کے بعد سوچا کہ صرف ایک بیگ کیوں؟ ترکیب پہ عمل ہو چکا تھا اور طریقہ بھی سمجھ آ گیا تو اب اور کیوں نہیں؟ امی لنڈا بازار گئیں، وہاں سے کئی رنگوں کے موٹے کپڑے خرید کر لائیں، چمڑا اور ڈوری بھی خریدی اور پھر بہت سے بیگ بنائے۔ تقریباً ہر رنگ میں۔ پیلا، ہرا، سرخ، ملٹی کلرڈ۔ ایک بیگ پہ ہماری چھوٹی بہن نے کڑھائی اور ایپلک سے دو گڑیاں بھی بنا دیں۔ امی نے صرف ہمارے لیے بنانے پہ اکتفا نہ کیا، ایک ایک بیگ ہماری روم میٹس فرزانہ اور قمر کے لیے بھی تیار کر دیا کہ عزیز از جان بیٹی کی سہیلیاں تھیں اور انہیں بھی کالج جانا تھا۔

ہم نے باقی سب برسوں میں اپنے رنگ برنگے کپڑوں کے ساتھ ساتھ میچنگ بیگ پہنے اور خوب خوب تعریف سمیٹی۔ فرزانہ اور قمر بھی خوش کہ خالہ نے بیٹی کے ساتھ انہیں بھی یاد رکھا تھا۔

افسوس آج ان بیگز میں سے کوئی بھی ہمارے پاس نہیں۔ اتنے ناسمجھ تھے ہم کہ سنبھال ہی نہ سکے ماں کے ہاتھ کا بنا ہوا وہ تحفہ۔

یہ تھیں امی۔ ایسی ہنرمند، ذہین اور انتھک کہ کچھ بھی کر لیں۔ ہر طرح کا جگاڑ۔ لفظ ناممکن ان کے لیے بنا ہی نہیں تھا۔ سوچیں اگر انہوں نے یہ کام پروفیشنل بنیادوں پہ شروع کیا ہوتا تو کہاں ہوتیں وہ؟

ہنرمند ہونے کے ساتھ ساتھ ایسی ممتا کہ ناں کا لفظ ہی نہیں تھا ڈکشنری میں۔ اولاد کی فرمائش پتھر پہ لکیر بن جاتی۔

مائے نی مائے!

Facebook Comments HS