جھوٹ کا جیولن تھرو ایوارڈ کس کو جاتا ہے؟

جب جنون اور عقل کے بیچ کی باریک سی لائن مٹ جائے تو پورے کا پورا عقلی ڈھانچہ زمین بوس ہو جاتا ہے، ساری کی ساری تعلیمی ڈگریاں، شائستگی و رکھ رکھاؤ، عقلی رویے، دلیل و استدلال اور علمی قد کاٹھ کے سارے وارنش ایک ہی جھٹکے میں دھل جاتے ہیں۔
اگر کسی سمے ایسا ہوتا ہے تو سمجھ لیجیے کہ آپ کی تعلیم و تربیت نے آپ کا کچھ نہیں بگاڑا، خواہ مخواہ میں آپ ڈگریوں کا بوجھ اٹھائے پھرتے رہے اور ایک نسل آپ کی شخصیت کے کھوکھلے سے سراب کی نذر ہو گئی۔
جی ہاں ایسا ہوا ہے، پاکستان اور انڈیا کی موجودہ کشیدگی کے دوران انڈین میڈیا نے پوسٹ ٹروتھ کا جو حشر نشر کیا ہے اس کے اثرات نجانے کب تک عوام کے لیے ڈراؤنے خواب بنے رہیں گے؟
عوام میں تخصیص کیسی؟
چاہے ادھر کے ہوں یا ادھر کے کیا فرق پڑتا ہے؟
ہوتے تو ریوڑ ہی ہیں نا! جنہیں مفادات کے سمے بطور ڈھال یا سرمایہ کے طور پر استعمال میں لایا جاتا ہے اور عام دنوں میں روزی روٹی کے حصول میں ہلکان رکھا جاتا ہے، شعوری بالیدگی کے سارے روزن ان پر بند رکھے جاتے ہیں اور کنفیوژن و جنون کے دوران سب کچھ اسموک سکرین کر کے ان پر فقط جذباتیت کا روزن کھولا جاتا ہے۔
عوام کا شعوری افق ریاست کے کنٹرول میں ہوتا ہے، انہیں اتنی ہی شعوری روشنی میسر ہوتی ہے جتنی ریاست کے مفاد میں ہوتی ہے، عوام کی بے خبری ہی خداوندان ریاست کی سب سے بڑی ڈھال ہوتی ہے۔
انڈین میڈیا نے یہی کچھ تو کیا ہے، انتشار و افتراق اور تقسیم کی خلیج کو گہرا کرنے کے لیے بے ربط جھوٹ بولے گئے، اور بیانیے کی صورت میں ایک ایسی پوزیشن مستحکم کر لی گئی کہ خدانخواستہ پاکستان دنیا کے نقشے سے ہی مٹ گیا۔
ایسا کہانیوں میں ہوتا ہے حقائق کی دنیا خاصی مختلف ہوا کرتی ہے، دفاعی معاملات خاصے پیچیدہ ہوتے ہیں اور ہر ملک کی اپنی اپنی جنگی حکمت عملی ہوتی ہے اور جنگ کوئی بچوں کا کھیل تھوڑے ہوتی ہے کہ پلک جھپکتے ہی کسی ملک پر قبضہ کر لو؟
البتہ ایک بات تو طے ہے کہ انڈین میڈیا میں چھپے ہوئے سوٹڈ بوٹڈ قسم کے بظاہر پڑھے لکھے اینکرز اور تجزیہ نگاروں کے نقاب اتر گئے، سمے کے تناؤ میں ”سین وائسز“ کا فقدان نظر آیا، حالانکہ انڈیا ایک بڑی جمہوری ریاست ہے لیکن رویوں میں جمہوریت ناپید نظر آئی۔
جنگیں تو مسائل کا گڑھ ہوا کرتی ہیں مسئلوں کا حل نہیں، آج کی دنیا اور انسانیت کی بقا تو علم و ہنر میں پنہاں ہے، اگر ایک دوسرے کو حقیقت میں شکست ہی دینی ہے تو علم و ہنر میں دیجیے، لوگوں کا معیارِ زندگی بلند کر کے دیجیے، دھرتی کو امن و سکون کا گہوارہ بنا کر دیجیے۔
دنیا انسانوں کی وجہ سے آباد ہے اگر انسان ہی نہ رہے تو کاہے کی دھاک اور حکمرانی؟
کیا قبرستانوں پر حکمرانی کرو گے؟
میڈیائی پس منظر نے ایک بات تو واضح کر دی ہے کہ عمران ریاض خان اور زید حامد ایسوں کی دنیا میں کمی نہیں ہے اور ان ایسے شاہکار کچھ دوسرے ناموں سے انڈین میڈیا میں بھی چھپے بیٹھے ہیں جن کا کام ہی جھوٹ کا دھندا کرنا ہے، نا صرف اپنی جیبیں بھرتے ہیں بلکہ اپنے اپنے میڈیا ہاؤسز کے سیٹھوں کی آمدن میں بھی اضافے کا سبب بنتے ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک میں عقلی رویوں کو فروغ دینے والی شخصیات کم پڑنے لگی ہیں جو تناؤ کے سمے میں باعث رحمت ثابت ہوا کرتی ہیں۔
تاریخ کے قبرستان تو ایسے لوگوں سے بھرے پڑے ہیں جو اپنے مدمقابل کسی کو دیکھنا تک پسند نہیں کرتے تھے اور لوگوں کی کھوپڑیوں پر سوار ہو کر اپنی طاقت کو بڑھانے میں لگے رہے لیکن وقت کی دھول میں گم ہو چکے ہیں، اگر ہم نے بھی ہوش کے ناخن نہ لیے تو ہماری سرزمینیں اسلحہ ساز ریاستوں کی تجربہ گاہ بنی رہیں گی اور ہم آپس میں ہی ایک دوسرے کا خون بہا کر خوش ہوتے رہیں گے۔
لیکن کب تک؟
اب دیکھنا یہ ہے کہ جھوٹ کا جیولن تھرو ایوارڈ کس کو جائے گا؟

