مجھے انڈیا کو دیکھ کر افسوس ہوا
مثل مشہور ہے، شاید آپ کو بھی پتہ ہو کہ، نمبر ون آنا کوئی بات نہیں، پر نمبر ون کی پوزیشن پر برقرار رہنا ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔
یہی حال انڈیا نے آج اپنا کر لیا۔ بیس پچیس برس کی بے مثال ترقی میں اس نے بلا شک و شبہ بہت محنت سے کام لیا اور بہت سارے شعبہ جات میں اپنا لوہا منوایا۔ دنیا کی پانچویں بڑی معیشت میں اپنا شمار کروایا، اس کی آئی ٹی انڈسٹری، انفراسٹرکچر اور تعلیمی میدان میں ترقی واقعی دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ لگتا تھا کہ امریکہ، چائنا اور دوسری بڑی طاقتوں میں اس کا شمار بس ہونے ہی والا ہے۔ لیکن ایک پہلگام واقعہ کے بعد جو کچھ ہوا، اس کے بعد جتنی تیزی سے انڈیا نے اپنی اس ”نمبر ون“ پوزیشن کا بھرم کھویا ہے، اس کی مثال مشکل سے ہی کسی جگہ ملتی ہے۔ اتنے عروج کے بعد اتنی جلد زوال، یہ تو کہیں دیکھنے کو نہیں ملا آج تک۔
ہر طاقت اپنے ساتھ ایک ذمہ داری لے کر آتی ہے۔ جو طاقتور ہوتے ہیں، ان کو بہت ذمہ دار، بہت محتاط اور بہت تحمل مزاج بھی ہونا چاہیے، ورنہ نری طاقت تو کسی گلی محلے کے غنڈے کو بھی مل ہی جاتی ہے، اور وہ اس کے شودے پن میں ملوث ہو کر بہت جلد اپنی چودھراہٹ کھو دیتا ہے۔ انڈیا کے ساتھ بھی لگتا ہے ایسا ہی کچھ ہوا۔
کیا انڈیا کی وہ بے مثال ترقی، شائننگ انڈیا کا حال، تمام مغربی دنیا کی اہم کاروباری پوسٹ پر انڈینز کی تعیناتی وغیرہ ایک دھوکہ ہی تھا؟ یا محض قسمت کا الٹ پھیر؟ یہ بڑا ہی ایک سنجیدہ اور گمبھیر سوال ہے؟ انڈیا نے اس قدر جنگ جو پسند ماحول اپنا کر کیا حاصل کیا؟ سوائے کچھ مسجدوں، مدرسوں، عورتوں، بچوں کی ہلاکت کے؟ کتنے پہلگام کے مبینہ پاکستانی مجرمین کو سزا ملی؟ وار ہسٹیریا پھیلا کر اس کو یہ حاصل ہوا؟ کاش یہ تصویر اس کے گودی میڈیا، ارنب، گورو آریا جیسے لوگوں کو بھی دکھا دی جائے۔ آج اسی جنگوازم کی بدولت انڈیا، دنیا میں تنہا و اکیلا محسوس کر رہا ہے، اس کے دیرینہ ساتھیوں نے بھی اس کا کوئی ساتھ نہیں دیا، کہیں سے ایک بھی انڈیا کے حق یا حمایت میں آواز نہیں اٹھی۔
ویسے انڈیا کو اس قدر پستی میں جاتے دیکھ کر مجھے صدق دل سے بہت دکھ اور افسوس ہوا ہے۔ میں تو سوچ رہا تھا کہ شاید پاکستان اپنے دو ہمسائیوں یعنی چائنا اور انڈیا کو بے مثال ترقی حاصل کرتے دیکھ کر شرم کھا کر ان ہی کی راہ پر چل پڑتا اور اپنے عوام کی فلاح و بہبود کا ہی سوچتا۔ پر افسوس، اب ایسا نہیں ہو گا۔ فوج کی گرفت اور جہادی سوچ ہی یہاں پاکستان پر بھاری پڑے گی مستقبل میں، اور زیادہ اب مضبوط ہو جائے گی۔
لگتا ہے وزیر اعظم نریندرا مودی کو مسئلہ کشمیر پر دو طرفہ بات ہی کرنا ہو گی اور پھر اس کی سیاسی قیمت بھی ادا کرنا ہو گی، بہار الیکشن بھی جائے گا اور پارٹی قیادت بھی۔ ان چار پانچ دنوں میں بھارت کا 83 سے 90 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا۔ وزیر اعظم مودی گھٹنوں پر آ گئے اور براہ راست امریکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کر کے درخواست کی کہ ہم جنگ بندی پر راضی ہیں، ہمیں باعزت فیس سیونگ پیکیج لے دیجئے۔ لیکن ایسا معجزہ کیسے ہوا۔ اس کا کریڈٹ صرف اور صرف پاکستانی ائرفورس اور اس کے جانباز پائلٹس کو ہی جاتا ہے، جنہوں نے اپنی جان کی بازی لگا کر مودی کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔ ساتھ اس کا حسب سابق پاکستانی بری فوج نے دیا ہے، اور اپنے میزائلوں سے انڈیا کو نشانہ بنا کر واقعی منہ توڑ جواب دیا۔
پاکستان نے اپنے تین ائربیسز پر حملے کا جواب 7 ائربیسز پر حملے سے دیا، کل ملا کر 26 سے زائد مقامات پر پاکستان کی طرف سے میزائل حملہ ہوا۔ یعنی دوگنی سے زیادہ تعداد پر حملہ۔ اس کے بعد ہی فوراً سیزفائر کا اعلان ہوا۔ دونوں طرف سے نقصان کی اطلاعات ہیں، پر انڈین سائیڈ سے زیادہ پریشانی دیکھی گئی، پاکستان سائیڈ مطمئن ہے اب تک۔ سی این این، رائیٹرز اور الجزیرہ نے بھی اسی منظر کی تصدیق کی ہے۔ سی این این نے اس بات کی بھی تصدیق کر دی کہ سیزفائر پر سب سے پہلے انڈیا نے ہی امریکہ کو اپروچ کیا تھا۔ ویسے بھی جب اس کے رافیل طیارے مار گرائے تھے، اس وقت بھی اس کی خاتون فوجی ترجمان نے کہا کہ ہم مزید فوجی بڑھوتری نہی چاہتے، ہم نے اپنے تئیں پاکستان میں موجود دہشت گردوں کے کیمپ پر حملہ کر دیا ہے اور پہلگام واقعہ کا بدلہ لیا ہے۔ اگر پاکستان اب صلح کی بات کرتا ہے، تو ہم بھی آگے بات چیت پر تیار ہیں۔
لیکن کیا واقعی میں ایسا انہوں نے کیا ہے؟ یعنی پہلگام واقعے میں ملوث دہشت گردوں کا انہوں نے صفایا کیا؟ ابتدائی طور پر جو ہلاکتیں ہوئی ان کی تعداد 26 بتائی جاتی ہے جو 9 مختلف پاکستانی علاقوں اور پاکستانی کنٹرول کشمیر سائڈ پر ہوئی۔ ان میں احمد پور شرقیہ، مریدکے، سیالکوٹ، شکرگڑھ، جبکہ آزاد کشمیر میں مظفر آباد اور کوٹلی کے چند مقامات پر انڈیا نے میزائل اٹیک سے گھریلو مقامات، مساجد اور مدرسوں پر حملہ کیا گیا۔ ان حملوں میں تین برس کی دو بچیاں، سات خواتین اور چار مرد شامل ہیں، جن میں ایک دو کی عمر پچاس سے ساٹھ سال بھی بتائی جا رہی ہے۔ اسی طرح آزاد کشمیر کے ضلع کوٹلی میں بھارتی حملے کے دوران، نکیال سے تعلق رکھنے والے ملک موسیٰ صاحب کے دو بچے ایک 12 سالہ بیٹا عمر جو کلاس نہم کا طالب علم اور اس کی 19 سالہ بہن جو ایم ایس سی کی طالبہ تھی دونوں بھارتی حملے میں شہید ہو گئے ہیں۔ اب سوال یہ بنتا ہے کہ کیا یہ معصوم بچیاں، یہ کمسن طالبعلم اور دو چار بوڑھے افراد، وہی دہشتگرد تھے، جن کے تعاقب میں بھارت پاکستان آیا تھا؟ اتنے کمسن دہشت گرد کیا کسی تنظیم میں ہوتے ہیں، ان کو مار کر کیا انڈیا نے اپنے پہلگام واقعہ کا بدلہ لے لیا؟ اتنی تعلیم و شعور کا مظاہرہ انڈیا نے کیا ہے، یا یہ سب بھی ایک ڈھونگ ہی ہوا ہے۔ مجھے یہ سب دیکھ کر انتہائی سخت مایوسی ہوئی۔ پھر سونے پر سہاگہ جو رہا سہا بھرم تھا انڈیا کا، اس کو انڈین گودی میڈیا نے بھی توڑ دیا۔ ایک سے ایک مسخرہ، کامیڈین اور انٹرٹینر وہاں موجود ہے جو اپنے عوام کو بھی بیوقوف بنا رہا ہے اور دنیا کو بھی، گھٹیا پن و فیک نیوز میں اپنا ہی مذاق اڑوا رہا ہے۔ سخت بوجھل پن سے یہ انڈیا کا زوال دیکھ رہا ہوں میں۔
آخر میں کچھ لائنیں ہمارے لیے کہتا ہوں۔ فیس بک پر ایک پوسٹ پر نظر پڑی، کیا ہی خوب کہا گیا ہے ادھر کہ پانچ ہزار مفتیوں نے قرآن و حدیث کے دلائل پر مبنی فتویٰ دیا، ٹرمپ کے کہنے پر فرض جہاد موقوف ہو گیا۔ یہ بات بھی نوٹ کریں کہ مدرسے کے پڑھے دو شدت پسند مولویوں کی وجہ سے جنگ شروع ہوئی، پھر یونیورسٹیوں سے پڑھنے والے سائنسدانوں نے جنگ جیتی۔ یعنی یہاں بھی مذہبی جنگی ازم کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے، اور سراسر ادھر کے لوگ بھی بس اپنا ہی مال بیچے جا رہے ہیں۔ بس اس سے زیادہ اور میں کیا کہہ سکتا ہوں۔


