مجید امجد کی 51 ویں برسی
انوکھے اور منفرد لہجے کے شاعر مجید امجد کا اصل نام عبد المجید تھا۔ اپنی اعلیٰ اور منفرد شاعری میں انہوں نے اپنا تخلص امجد رکھا تو پھر پوری زندگی مجید امجد کے نام سے جیے اور اسی نام سے شہرت پائی۔
مجید امجد 29 جون 1914 کوجھنگ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد میاں علی محمد ایک جفاکش انسان تھے۔ مجید امجد کا بچپن اور آخری عمر بہت زیادہ تنگی و عسرت اور مشکلات میں گزری، جس کا اثر ان کی شاعری میں بھی ملتا ہے۔ مجید امجد کے والدین کی علیحدگی نے ان کے ذہن پر بہت اثر ڈالا جس کے بعد ان کی پرورش اور تعلیم و تربیت کی ساری ذمہ داری ان کی والدہ اور نانا نور محمد کے کاندھوں پر آن پڑی۔ 1930 اور 1932 میں میٹرک اور انٹر کے امتحانات جھنگ سے نمایاں حیثیت سے پاس کیے۔ 1934 میں بی اے کا امتحان اسلامیہ کالج لاہور سے پاس کیا۔
حصول تعلیم کے بعد مجید امجد جھنگ واپس چلے آئے اور ایک نیم سرکاری ادبی ہفتہ روزہ جریدے عروج میں بطور مدیر ملازمت اختیار کر کے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز کیا۔ اس جریدے میں مجید امجد کو اپنے مضامین اور شاعری کی اشاعت کا بہترین موقعہ میسر آیا۔ 1938 میں انگریزوں کے خلاف ایک نظم قصریت کی اشاعت کے بعد انہیں اس جریدے کی ادارت سے ہاتھ دھونا پڑے۔
1939 میں ان کی شادی ان کی خالہ کی بیٹی سے ہوئی جو ایک معلمہ تھیں۔ باہمی اختلاف طبع کے باعث یہ شادی زیادہ کامیاب نہ ہو سکی اور وہ بنا طلاق لیے ان سے الگ رہنے لگی۔ ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ 1944 میں انہوں نے ڈسٹرکٹ بورڈ جھنگ میں ملازمت اختیار کر لی۔ بعد ازاں محمکہ خوراک میں فوڈ انسپکٹر بھرتی ہو گئے اور 1972 میں بطور اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر اپنی ملازمت سے سبکدوش ہو گئے۔ دوران ملازمت مجید امجد کا ادبی سفر جاری رہا اور مختلف تقریبات میں اپنے فن شاعری کا لوہا منوایا۔ وہ ادبی تقریبات میں بہت کم شرکت کرتے تھے جس کا سبب ان کی سرکاری مصروفیات اور تنہائی پسند ہونا تھا۔
دوران ملازمت مجید امجد نے کافی عرصہ ساہیوال میں بسر کیا۔ پی ٹی وی کے اولین اور نامور کمپیئر طارق عزیز کی مجید امجد سے کافی گہری دوستی تھی۔ طارق عزیز کو مجید امجد کا بہت سا کلام ازبر تھا جسے وہ نیلام گھر اور دیگر تقریبات میں ایک اعلیٰ شعری ادا سے سناتے رہتے تھے۔
مجید امجد دنیاوی مجبوریوں اور محرمیوں کا شکار تھے جن کا عکس ان کی شاعری میں بھی نظر آتا ہے۔ وہ ایک تنہائی پسند شخص تھے۔
ساہیوال میں اپنے گھر میں اکیلے ہی رہتے تھے۔ ان کا ایک پرانا دوست اور ملازم ان کی خبر گیری کیا کرتا تھا اور ان کے کہنے پر گھر کے بیرونی دروازے کو تالا لگا دیتا تھا۔ مجید امجد کے آخری ایام بہت تنگی و عسرت اور بیماری کی حالت میں بسر ہوئے۔ حکومت نے ان کا ادبی وظیفہ پانچ سو روپے ماہوار طے کر دیا تھا۔ ان کی آخری رقم پینشن بھی نہ ملی جس کے باعث نوبت فاقہ کشی تک آ گئی۔
11 مئی 1974 کو ادبی دنیا کا یہ خاموش مسافر عارضہ جگر کے باعث اپنے گھر واقع فرید ٹاؤن ساہیوال میں مردہ پایا گیا۔ طارق عزیز نے نیلام گھر میں ان کی موت واقع ہونے کا تذکرہ یوں کیا تھا، میں اس دن ان کے گھر کے پاس سے گزر رہا تھا کہ ایک بچہ دوڑتا ہوا میرے پاس آیا اور کہنے لگا، ”پہائی تیرا او یار جہیڑا کلا رہندا سی اج مر گیا اے“ (آپ کا وہ دوست جو اکیلا رہتا تھا، آج وفات پا گیا ہے ) ۔ دوسرے دن انہیں ان کے آبائی شہر جھنگ کے لولے شاہ قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔
مجید امجد ایک پیدائشی اور فطری شاعر تھے اور منیر نیازی کی طرح شاعر نظر بھی آتے تھے۔ ان کی شاعری ان کی زندگی کی عکاس ہے۔ مجید امجد جدید نظم کے ایک نامور شاعر تھے جنھوں نے اردو نظم کو ایک نیا آہنگ دیا۔
1958 میں ان کا پہلا مجموعہ کلام شب رفتہ کے نام سے ان کی زندگی میں ہی شائع ہو گیا تھا جس کے باعث وہ کافی مشہور ہو گئے تھے لیکن اس کے باوجود وہ ادبی محافل میں کم ہی شریک ہوتے تھے۔ اس وقت کے ڈی سی ساہیوال جاوید قریشی نے ہمت و محنت سے کام کر کے مجید امجد کے تمام کلام کو کلیات مجید امجد کے نام سے 1989 میں شائع کروایا تھا۔ مجید امجد اچھے نثر نگار بھی تھے۔ ان کے کچھ نامکمل مباحث اور کچھ تراجم غیر مطبوعہ تھے جنھیں کلیات نثر مجید امجد کے نام سے شائع کیا گیا ہے۔
نمونہ کلام
جو دن کبھی نہیں بیتا وہ دن کب آئے گا
انہی دنوں میں اس اک دن کو کون دیکھے گا
میں روازنہ ادھر سے گزرتا ہوں کون دیکھتا ہے
میں جب ادھر سے نہ گزروں گا کون دیکھے گا
مہکتے میٹھے مستانے زمانے
کب آئیں گے وہ من مانے زمانے
تیری پلکوں کی جنبش سے جو ٹپکا
اسی اک پل کے افسانے زمانے
تیری سانسوں کی سوغاتیں بہاریں
تیری نظروں کے نذرانے زمانے
کبھی تو میری دنیا سے بھی گزرو

