ویہلا مُنڈا


صبح کا دھندلکا ابھی چھٹا ہی تھا، جب اماں نے چولہے پر پہلا دیا جلایا اور باورچی خانے سے ہلکی ہلکی سوں سوں کی آوازیں گونجنے لگیں۔ دال کا پانی ابال کھا رہا تھا اور پرانی چارپائی پر لیٹے ابا جی حسبِ معمول اخبار پر چڑھے ہوئے تھے، مگر نظریں باہر صحن میں پڑی اس چارپائی پر تھیں، جہاں گھر کا ”ویہلا“ لڑکا ایک بار پھر کسی ان دیکھے خواب میں کھویا ہوا تھا۔ اسے دیکھ کر اماں کے منہ سے بے اختیار نکلا، ”کتھوں کمائی کرے گا ایہہ؟ ہڈ حرام کہیں دا!“ اور ابا جی نے تائید میں ایک لمبی ہوں کی۔ اس ”ہوں“ میں نہ صرف پورے محلے کے طعنے شامل تھے بلکہ معاشرے کی وہ گھسی پٹی سوچ بھی تھی جو نوجوان بیروزگاروں کو صرف ان کی جیب کے ترازو سے تولتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں اگر ایک نوجوان لڑکا بیروزگار ہو تو اس پر سب سے پہلا الزام اس کے سست ہونے کا لگتا ہے، حالانکہ وہ سستی نہیں کر رہا ہوتا، بلکہ وہ زندگی کے میدانِ جنگ میں روز نت نئی شکستیں جھیل رہا ہوتا ہے۔ ہر انٹرویو سے لوٹنے والا چہرہ اندر سے کئی بار ٹوٹ چکا ہوتا ہے، لیکن باہر سے مسکرا کر صرف یہ کہتا ہے، ”اگلی بار شاید ہو جائے۔“

لیکن اگلی بار سے پہلے ہی وہ ماں کے ماتھے پر سلوٹیں دیکھ لیتا ہے، بہن کی شادی کی فہرست میں اپنا نام کاٹتا ہے، اور سب سے بڑھ کر اپنے وجود سے شرمندہ ہوتا جاتا ہے، کیونکہ اسے یاد دلایا جاتا ہے کہ وہ گھر کا ”بیکار“ فرد ہے۔ وہی فرد جو سردیوں کی صبح اماں کے پیروں میں تیل ملتا ہے، وہی جو بازار سے سودا سلف لاتا ہے، چھوٹے بہن بھائیوں کو اسکول چھوڑتا ہے، اور خود بھوکا سونے کے باوجود سب کو کھانا کھلا کر سو جاتا ہے۔ لیکن اس کے نام کے ساتھ ”ویہلا“ ہمیشہ جڑا رہتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسے لڑکے اکثر اپنے وقت کا بہترین استعمال کرتے ہیں۔ کوئی مصوری سیکھ رہا ہوتا ہے، کوئی یوٹیوب پر فری لانسنگ کی دنیا کھوج رہا ہوتا ہے، کوئی ڈھابے پر کام سیکھ کر بعد میں ریستوران کھولنے کا خواب دیکھ رہا ہوتا ہے، لیکن جب تک اس کی جیب میں تنخواہ کا لفافہ نہیں آتا، تب تک وہ ماں باپ کی نظروں میں ”لفنگا“ ہی رہتا ہے۔

ہم نے ”روٹی کمانے“ کو انسان کی پہچان کا معیار بنا دیا ہے۔ اگر کسی کا مقدر تھوڑا تاخیر سے کھلتا ہے، تو ہم اسے ناکام گردان لیتے ہیں۔ حالانکہ کچھ خوابوں کو وقت لگتا ہے، کچھ کامیابیاں دیر سے مہکتی ہیں۔ مگر افسوس، معاشرہ انتظار نہیں کرتا۔ اس کے پاس نہ صبر ہے، نہ ہمدردی، صرف طنز کا ترکش ہے۔

کیا آپ نے غور کیا ہے کہ و یہلا کہلانے والا یہی لڑکا، جب والدین بسترِ علالت پر آ جاتے ہیں، تو سب سے پہلے دوڑتا ہوا دوا لینے جاتا ہے؟ جب سب بہن بھائی اپنے اپنے بچوں، گھروں اور روزگار میں مصروف ہوتے ہیں، تو یہی لڑکا اماں کے نخرے اٹھاتا ہے، ابا جی کی ٹانگیں دباتا ہے، اور ہر بات پر ”جی اچھا“ کہہ کر سر جھکا لیتا ہے؟ مگر وہ اب بھی گھر کا ”ویہلا“ ہے۔

آج بھی معاشرے میں یہی نوجوان جب ایک دن کامیاب ہو کر گاڑی میں آتا ہے، تو وہی رشتہ دار جو اسے ”ہڈ حرام“ کہتے تھے، سب سے پہلے تعریفی نظر ڈالتے ہیں۔ مگر افسوس، ان کے الفاظ کا زہر اس کے دل میں وہ چھالا بن چکا ہوتا ہے جو ساری زندگی رسنے کے بعد بھی نہیں بھرتا۔

اصل مسئلہ بیروزگاری نہیں، اصل مسئلہ ہمارا روّیہ ہے۔ ہم نوجوان کو اعتماد دینے کے بجائے، اس کا حوصلہ توڑتے ہیں۔ ہم اسے اپنا سمجھ کر کندھا دینے کے بجائے، اسے شرمندہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے باصلاحیت نوجوان یا تو خودکشی کر بیٹھتے ہیں، یا جرائم کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ اور اگر بچ بھی جائیں، تو معاشرے کی زہریلی زبان ان کا ذہنی سکون نگل جاتی ہے۔

کیا اب وقت نہیں آ گیا کہ ہم ”ویہلے“ کا مطلب بدل دیں؟ کیوں نہ ہم اسے ”خواب دیکھنے والا“ ، ”کوشش کرنے والا“ اور ”محنت کے انتظار میں کھڑا ہوا مسافر“ کہیں؟ کیوں نہ ہم ہر بیروزگار نوجوان کو یہ احساس دلائیں کہ اس کی اہمیت صرف اس کی آمدن سے نہیں، اس کے جذبے، خلوص اور قابلیت سے ہے؟

یاد رکھیے، جس لڑکے کو آج آپ ویہلا کہہ رہے ہیں، کل وہی آپ کا سہارا بنے گا۔ اور یہ زندگی کا وہ انتقام ہے جو لفظوں سے نہیں، وقت سے لیا جاتا ہے۔

Facebook Comments HS