پاک۔ بھارت تنازع: پاکستان کی صلاحیتوں کا امتحان اور بھارت کی کمزوریاں


پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ تنازع نے ایک بار پھر خطے کی سیاست اور فوجی طاقت کے توازن کو عالمی سطح پر موضوع بحث بنا دیا ہے۔ سی این این کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، اس تنازع میں پاکستان نے نہ صرف اپنی فوجی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا بلکہ بھارت کو ہر محاذ پر پسپائی کا سامنا کرنا پڑا۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جہاں پاکستان نے بھارت کے 6 جنگی طیاروں کو تباہ کیا، وہیں اس کا کوئی طیارہ نقصان سے محفوظ رہا۔

میری معلومات کے مطابق بھارت کے 553 ڈرونز تباہ ہوئے، جبکہ پاکستان کے صرف 78 ڈرونز کو نقصان پہنچا۔ فوجی نقصانات میں بھی بھارت کے 21 فوجی ہلاک ہوئے، جبکہ پاکستان کا صرف ایک فوجی شہید ہوا۔ جب کہ بھارت کے اک ڈپٹی کمشنر سمیت 19 افراد ہلاک ہوئے۔ ایسے ہی پاکستان کے 13 نہتے اور معصوم سویلین نے جام شہادت حاصل کیا جس میں 8 معصوم بچے بھی شامل تھے۔ یہ اعداد و شمار پاکستانی افواج کی تربیت، حکمت عملی، اور بروقت فیصلوں کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں۔

پاکستان کی حکومت اور افواج نے اس تنازع میں نہ صرف دفاعی طور پر مضبوط موقف اپنایا بلکہ جارحانہ حکمت عملی سے بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ بھارت کے 11 ائر بیسز متاثر ہوئے، جبکہ پاکستان کے صرف 3 ائر بیسز پر حملہ ہوا۔ جموں، اودھم پور، گجرات، اور پٹھانکوٹ جیسے اہم بھارتی ائر بیسز کو نشانہ بنانا پاکستانی فضائیہ کی مہارت اور درست حکمت عملی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے برعکس، بھارت کے دعووں۔ جن میں اس نے پاکستان کے 23 ائر بیسز کو نشانہ بنانے کی بات کی۔ کو کوئی ثبوت نہ مل سکا، جو بھارتی فوج کی بوکھلاہٹ اور کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔

بھارت کی کمزوریاں اس تنازع میں کھل کر سامنے آئیں۔ اس کا فضائی دفاع کمزور ثابت ہوا، جیسا کہ  ایس 400 ائر ڈیفنس سسٹم تباہ ہونے سے واضح ہے۔ بھارتی فوج اپنی تعداد اور وسائل کے باوجود پاکستانی افواج کے سامنے بے بس نظر آئی۔ بھارت کی فوجی قیادت کے فیصلے غلط ثابت ہوئے، اور ان کی حکمت عملی ناکام ہوئی، جس کے نتیجے میں انہیں فوجی اور سفارتی دونوں محاذوں پر شرمندگی اٹھانی پڑی۔

اس تنازع میں ایک دلچسپ موڑ اس وقت آیا جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میدان میں اترے۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے بھارت کے نقصانات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ صورتحال بالکل ایسی تھی جیسے کسی گاؤں میں مرغوں کی لڑائی ہو رہی ہو۔ اگر چوہدری کا مرغا مار کھا رہا ہو تو چوہدری لڑائی بند کروا دیتا ہے۔ یہاں بھی وہی کہانی تھی۔ بھارت، جو خطے میں چوہدری کا پالتو بدمعاش بننا چاہتا تھا، پاکستان کے ہاتھوں زچ ہو گیا۔

جب پاکستان نے چھتر مارنے شروع کیے تو چوہدری صاحب۔ یعنی ٹرمپ۔ اپنا مرغا بچانے میدان میں آ گئے۔ انہوں نے سفارتی دباؤ ڈال کر جنگ بندی کروائی، جس سے بھارت کو مزید نقصان سے بچایا گیا۔ لیکن چوہدری کی یہ چوہدراہٹ زیادہ دیر نہیں چل سکتی۔ خطے کے حالات بتاتے ہیں کہ بھارت اپنی کمزوریوں کو چھپا نہیں سکتا، اور پاکستان کی طاقت اب کوئی راز نہیں۔

پاکستان کی حکومت اور افواج نے اس تنازع میں ثابت کر دیا کہ وہ نہ صرف اپنے دفاع کے لیے تیار ہیں بلکہ دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ عالمی برادری خطے میں طاقت کے توازن کو تسلیم کرے اور پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو سراہا جائے۔ جہاں تک بھارت کا تعلق ہے، اسے اپنی کمزوریوں پر غور کرنا ہو گا، کیونکہ چوہدری ہر بار اپنا مرغا بچانے نہیں آئے گا۔

Facebook Comments HS