دل اور دماغ کے ساتھ آنکھیں کیوں؟
احمد جاوید صاحب، جو ہمارے عہد کے ایک صاحبِ فکر اور گہری بصیرت رکھنے والے فلاسفر، دانشور اور مفکر ہیں، آپ فرماتے ہیں : ”آدمی کی شخصیت دل، دماغ اور آنکھوں کی سرگرمیوں کے نتیجے کا نام ہے“ ۔
یہ ایک سادہ مگر نہایت عمیق جملہ ہے، جو انسانی شخصیت کی تشکیل کے بنیادی اصول کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔
انسان کے دل، دماغ اور آنکھیں، یہ تینوں اس کی شخصیت کی خالق ہیں۔ دل انسان کے جذبات اور احساسات کا مرکز ہے۔ خوشی، غم، محبت، نفرت، خوف اور امید جیسے جذبات دل ہی سے جنم لیتے ہیں۔ دماغ سوچنے، سمجھنے اور فیصلہ کرنے کا مرکز ہے۔ یہ ہمیں علم، عقل، تجزیہ اور شعور عطا کرتا ہے۔ لیکن ان دونوں کے ساتھ ساتھ، احمد جاوید صاحب نے آنکھوں کا الگ سے ذکر کیا ہے، جو ایک نہایت اہم اور بامعنی بات ہے۔
اگرچہ آنکھیں پانچ بنیادی حواس میں سے ایک ہیں، یہ پانچ حسیں دماغ کو معلومات پہنچانے کا ذریعہ ہیں، مگر آنکھوں کی حیثیت ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان جو کچھ دیکھتا ہے، وہ براہِ راست اس کے دل و دماغ پر اثر انداز ہوتا ہے۔
دیکھنے کا عمل انسان کی شخصیت کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔ ایک منظر، ایک تصویر، ایک ویڈیو یا کوئی منظرنامہ۔ یہ سب لاشعوری طور پر ہماری یادداشتوں کا حصہ بن جاتے ہیں، اور رفتہ رفتہ ہماری سوچ اور رجحان کو تشکیل دیتے ہیں۔ آنکھیں معلومات کا سب سے فوری اور زوردار ذریعہ ہیں۔ باقی حواس جیسے سننا، چکھنا یا چھونا بھی اہم ہیں، مگر معلومات جس قوت اور رفتار سے آنکھوں کے ذریعے ذہن میں منتقل ہوتی ہیں، وہ بے مثال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دل اور دماغ کے ساتھ آنکھوں کا الگ سے ذکر کیا گیا ہے۔ ہمارے دماغ کو ملنے والی معلومات کا لگ بھگ 80 فیصد حصہ صرف آنکھوں کے ذریعے پہنچتا ہے۔
اگر کوئی شخص اپنی سوچ اور اپنی زندگی میں بہتری لانا چاہے تو اسے سب سے پہلے اپنی آنکھوں کی سرگرمیوں پر توجہ دینی ہوگی۔ ہم جو کچھ بار بار دیکھتے ہیں، وہی آخرکار ہماری سوچ میں رچ بس جاتا ہے۔ آج کے دور میں جب ہمارا زیادہ تر وقت موبائل فونز، کمپیوٹرز اور دیگر سکرینز پر گزرتا ہے، ہماری آنکھوں کا مشاہدہ اور تجربہ اب قدرتی مناظر یا حقیقی زندگی کے واقعات تک محدود نہیں رہا، بلکہ ڈیجیٹل دنیا نے ہماری آنکھوں کو اپنے حصار میں لے لیا ہے۔
سوشل میڈیا، یوٹیوب، نیٹ فلکس، گیمز اور خبریں۔ یہ سب ہماری آنکھوں کے ذریعے ہمارے دل اور دماغ پر مسلسل اثر ڈال رہے ہیں۔ اگر ہم سارا دن منفی خبریں دیکھتے رہیں، فضول ویڈیوز میں وقت ضائع کرتے رہیں، یا غیر اخلاقی مناظر سے اپنے دل و دماغ کو بھرتے رہیں، تو ہماری شخصیت میں منفی رجحانات، انتشار اور مایوسی پیدا ہونا لازمی نتیجہ ہے۔
ایسے میں چاہے ہم کتنا ہی مثبت سوچنے کی کوشش کریں، اگر آنکھوں کی سرگرمیاں نہ بدلیں تو سوچ کا بدلنا بھی ممکن نہیں ہو گا۔
اپنی سوچ اور شخصیت میں بہتری لانے کا پہلا قدم یہ ہے کہ ہم اپنی سکرین کی سرگرمیوں کا جائزہ لیں۔ ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم دن بھر اپنی آنکھوں کو کس قسم کے مناظر دکھا رہے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے خیالات روشن ہوں، دل مطمئن ہو، اور شخصیت میں کشادگی اور حسن پیدا ہو، تو ہمیں اپنی آنکھوں کے راستے سے داخل ہونے والی معلومات کو پاکیزہ، بامقصد اور خوبصورت بنانا ہو گا۔
تعلیمی، اخلاقی، فکری اور روحانی مواد کو دیکھنے کی عادت اپنانا، علم اور دانائی کی مجالس میں بیٹھنا، قدرتی مناظر کی خوبصورتی میں کھو جانا۔ یہ سب چیزیں دل اور دماغ کو تازگی اور سکون دیتی ہیں۔
جب انسان اپنی آنکھوں کی سرگرمیوں کو بہتر بناتا ہے، تو آہستہ آہستہ اس کی سوچ بدلتی ہے۔
جب سوچ میں تبدیلی آتی ہے تو دل کی کیفیت بھی بدلتی ہے، اور دماغ کی صلاحیت نئی راہیں تلاش کرتی ہے۔ یوں رفتہ رفتہ انسان کی پوری شخصیت ایک خوشگوار اور مثبت رخ اختیار کر لیتی ہے۔
احمد جاوید صاحب کا یہ قول ہمیں ایک بنیادی حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے : شخصیت کا حسن اور بگاڑ ہماری داخلی کیفیتوں پر نہیں، بلکہ ہماری روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی سرگرمیوں پر بھی انحصار کرتا ہے۔ خاص طور پر وہ چیزیں جو ہماری آنکھوں سے دل و دماغ تک پہنچتی ہیں، وہی ہمارے خیالات کا سرچشمہ بنتی ہیں۔
لہٰذا اگر ہم اپنی زندگی میں کسی بڑی تبدیلی کے خواہاں ہیں، تو ہمیں کسی بڑی مہم جوئی یا انقلاب کی ضرورت نہیں۔ ہمیں صرف اپنی آنکھوں کی تربیت کرنی ہے۔ جو دیکھتے ہیں، اسے چننا ہے۔
’دیکھنے کا زاویہ بدل جائے تو سوچ خود بخود بدل جاتی ہے اور جب سوچ بدل جائے تو زندگی کا راستہ بھی خود بخود روشن ہو جاتا ہے‘ ۔

