جام صاحب کی سٹائلش محبوبہ۔ ( 2 )


اس حادثے کے بعد جام صاحب نے کئی بار ہمیں دعوت دی کہ ”چلو ہمارے ساتھ پھر سے چلو، کیوں کہ اب محترمہ کے رویے میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ اب ہم میں اس قدر ہمت نہیں تھی کہ اس نامحرم کو دوبارہ دیکھنے جیسی گستاخی کی ہمت جمع کر پاتے، اتنا بڑا دل تو ہمارا بھی نہیں تھا۔ اسے دیکھنے کے بعد ایسے محسوس ہونے لگا جیسے ہماری آنکھوں پر کسی درویش نے“ نظر کی حفاظت ”کا تعویذ باندھ دیا ہو۔ جام صاحب کو منہ پر سیدھا انکار کرنا ہماری دوستی کے اخلاق کے مکمل طور پر برعکس تھا، تو ہم نے ہمیشہ کی طرح ہر بار مصروفیات کا بہانہ دے مارا۔ اب بھائی، ہمیں اپنی نیک نامی عزیز تھی، تو ہم نے اس گناہ سے بچنے کے لیے ویسے ہی نظریں چرائیں جیسے کوئی قرضدار محلے کے دکان دار کو دیکھ کر شرافت کا اعلیٰ مظاہرہ کرتے ہوئے راستہ بدل لیتا ہے۔

جام صاحب اس کا ذکر ہمیشہ ایسے کرتے جیسے کوئی مرید اپنے پیر کی کرامات سنا رہا ہو، اور ہم یقین بھی کر لیتے، اگر محترمہ کی کرامت بھری صورت پہلے سے نہ دیکھ رکھی ہوتی۔

ایک دن ہمیں دوبارہ غلطی سے جام صاحب کے پیرو مُرشد کو دیکھنے کا بڑے قریب سے شرف حاصل ہوا، لیکن اس بار محترمہ کے ساتھ کوئی اور بھی تھی، جس کے پاؤں دیکھ کر ہمیں خیال آیا کہ اتنا جدوجہد کے باوجود یونیورسٹی میں کسی کا منہ نہ لگانے پر اکثر جو دل ہی دل میں سوچا کرتے تھے کہ ضرور کسی کی ہمیں بددعا ہے : یا اللہ اسے ہر طرف سے نظر انداز کرا دے یا پھر کسی فرشتہ صفت نے دعا کر رکھی ہے : ”یا رب، یہ بندہ کسی اور کا نہ ہو“ ہمیں محترمہ کے پاؤں کی نورانیت دیکھ کر یقین سا ہونے لگا کہ یہی وہ محترمہ ہیں جن کے دعاؤں کے اثرات سے ہمارا قیمتی ایمان شیطان کی بارہا کوشش کے باوجود سلامت رہا۔

محترمہ کے پاؤں کو دیکھ کر ہم نے جانا کہ کششِ ثقل صرف نیوٹن کے لیے مسئلہ تھی، ہم تو اُس کے گرد ایسے گھومنے لگے جیسے زمین سورج کے گرد، فرق صرف اتنا تھا کہ زمین کو تو اپنا مدار معلوم ہوتا ہے، لیکن ہمیں نہیں تھا۔

پتہ نہیں کیوں لوگ خواتین کا چہرہ دیکھتے ہیں حالانکہ ان کے پاؤں زیادہ سچے ہوتے ہیں۔

مولوی حضرات اکثر کہتے ہیں کہ قیامت کے دن انسان کے تمام اعضاء خود سے بولیں گے اور وہ بھی سب سچ سچ۔ اب یہ دیکھ کر اس بات پر جو تھوڑی بہت حیرانی ہوتی تھی، وہ جاتی رہی ہے۔

دنیا جس تیزی سے ترقی کر رہی ہے، ہمیں تو لگتا ہے کہ آنے والی نسلوں سے یہ جو تھوڑی بہت سچائی بچی ہے، وہ بھی ان بچاروں سے ایسے دور کر دی جائے گی، جیسے ہر حکومت قوم کا بچا کھچا خزانہ ترقیاتی منصوبوں کے جوے میں لگا دیتی ہیں۔

اب، ان بچاری خواتین کا بھی قصور نہیں، آخر آنکھیں چہرے پر ہوتی ہیں، اور نظریں مرکزی حکومت کی طرح ہمیشہ ”اوپر“ ہی رہتی ہیں۔ دوسری طرف، پاؤں تو صوبوں کی طرح زمین پر رہتے ہیں۔ دور، نظر انداز شدہ، اور بجٹ کے بغیر کسی دیہاتی علاقے کی سڑک جیسے، ٹوٹے پھوٹے، دھول میں اٹے، اور مکمل طور پر نظر انداز۔ ہاں، اگر پاؤں سر پر ہوتے اور سر پاؤں میں، تو شاید ان کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا۔

خواتین کو اپنے شوہروں کے بعد سب سے زیادہ غصہ اگر کسی چیز پر آتا ہے تو وہ ان کے اپنے نافرمان پاؤں ہی ہوتے ہیں۔ اس لیے گرمیوں میں بھی جرابوں کے دو سے تین جوڑے پہن کر انہیں قید میں رکھتی ہیں، جیسے ہر حکومت اپوزیشن جماعتوں کے اراکین کو۔ لوگوں کو لگتا ہے کہ وہ خود کو سزا دے رہی ہیں، لیکن درحقیقت وہ دنیا کی نظروں سے اپنے ”باغی“ پاؤں کو چھپا رہی ہوتی ہیں۔

محترمہ کے پاؤں کی ایک بار زیارت کے بعد عقیدت و محبت کا یہ عالم تھا کہ ہم دوسرے دن جام صاحب کے ساتھ ملے اور وہ بھی اس دن بغیر دعوت نامے کے۔

ہم نے پوچھا، ”یہی شبری ہے؟“
جام صاحب نے منہ بنا کر کہا، ”نہیں یار، یہ تو کالی ہے“
ہم نے حیرانی سے محترمہ کا دوبارہ جائزہ لیا، ”کالی؟
ہم نے پوچھا: ”جناب، آپ کو کہاں سے کالی لگتی ہیں؟“

جام صاحب نے جواب دیا کہ ”جیسے کالی بلی راستہ کاٹ دے تو کوئی کام نہیں ہوتا، ویسے ہی یہ پچھلے سال بھر سے میرے راستے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے اور ہر وقت سائیکو کو ایسے چپکی رہتی ہے جیسے خواتین کو خوش فہمیاں۔ میری محبت کے درمیان میں یہ راستے کا پتھر ہے۔

ہم نے اخلاقی فریضہ خیال کرتے ہوئے دل ہی دل میں کہا کہ یہ راستہ کا پتھر ہٹانے کے لیے ہم تیار ہیں، اب اتنا تو جام صاحب ہم پر حق رکھتے ہیں۔

اس کے بعد ہم اپنے ڈیپارٹمنٹ میں اتنا ہی دکھتے تھے جتنا الیکشن کے بعد آپ کے حلقے میں ایم این اے اور ایم پی اے صاحبان۔

اس کے پیچھے ناصرف ہماری کالی کے لیے عقیدت تھی بلکہ ساتھ ساتھ دیہات کا ایک عظیم فلسفہ تھا کہ ”بار بار ایک جگہ جانے سے عزت کم ہو جاتی ہے“ اور ہمیں اپنی عزت اتنی ہی پیاری ہے جتنی حکومت کو عوام کا سکون۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب مہینوں بعد کلاس میں لوٹتے تو وہی پروفیسر جو پورے سمیسٹر ہمیں نظر انداز کرتے تھے، اب ہمیں دیکھ کر اتنے خوش ہوتے جیسے ہر نئی حکومت خزانہ دیکھنے پر ہوتی ہے۔ حالانکہ ابھی کچھ عرصہ پہلے تک ہمارا وجود ان کے لیے اتنا ہی غیر متعلقہ ہوتا تھا جتنا عوام کے لیے بجٹ میں ریلیف۔

وہ ہمیں حیرت سے دیکھ کر پوچھتے، ”جناب! کہاں تھے؟“ ہم بھی سیاستدانوں کی طرح دھندلے جواب دیتے، ”بس کچھ ضروری کام تھے۔

اب نوجوانی میں بھلا اس سے زیادہ ضروری کام اور کیا ہو سکتا ہے؟ مگر پروفیسر صاحبان ہمارے مستقبل کی فکر میں ایسے پریشان ہوتے جیسے ہمارے حکمران کئی دہائیوں سے پاکستان کی ترقی کو لے کر ہیں۔ اصل غضب تب ہوا جب ہم ایک دن ”محبت کی نگرانی“ پر مامور تھے، اور صرف دو منٹ کے لیے واش روم کیا چلے گئے۔ وہ دونوں محترمات ایسے غائب ہوئیں جیسے کہ بغیر اطلاع دیے بجلی۔

اس کے بعد سے جام صاحب نے ہمارے واش روم جانے پر ایسے پابندی لگا دی جیسے حکومت اپوزیشن کے جلسوں پر لگاتی ہے۔ اب ہماری حالت یہ تھی کہ ہمیں واش روم جانے کے لیے بھی باقاعدہ جام صاحب کا ”اجازت نامہ“ لینا پڑتا تھا۔

اب ہمارا اور جام صاحب کا اپنی کلاسز سے اتنا ہی تعلق تھا جتنا پاکستانی جماعتوں کا جمہوریت سے ہے۔ اسی لیے ہم اکثر اپنے لیکچرز کو دور سے ہی ”الوداعی سلام“ کرتے اور جام صاحب کے ساتھ ان کے ڈیپارٹمنٹ کے باہر جا کر بیٹھ جاتے جیسے بارڈر پر فوجی بیٹھے ہوں۔ فرق صرف اتنا تھا کہ فوجی دشمن پر نظر رکھتے ہیں اور ہم محبوب پر۔ اس بارڈر پر بیٹھنے کے باوجود بھی ہماری ہر وقت دعا ہوتی کہ آج ٹکراؤ ضرور ہو۔ اور جس دن ہمارے درمیان ٹکر نہ ہوتی، ہم ایسے اداس ہوتے جیسے آپ ہر مہینے بجلی کے بل دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ ایک دن حسبِ معمول ہم وہاں اپنی ”محبت کی چوکی“ سنبھالے بیٹھے تھے کہ اچانک دو انسان نما عاشق نازل ہوئے۔ جن میں سے ایک جناب شروع ہوتے ہی ختم ہو کر رہ جاتے، اس کے الفاظ نا کہ قد۔ دوسرا جو ایک بار شروع ہوتا پھر جیسے اختتام نام کا لفظ اس کے ڈکشنری میں ہی نہ ہو، اس کا قد ناکہ الفاظ۔

اور دونوں کے چہروں پر ماسک ایسے لگ رہے تھے جیسے کپڑوں کی دکان کے پتلے رات کی نیند پوری کیے بغیر دفتر میں کام پر آ گئے ہوں۔ فرق صرف یہ تھا کہ وہ پتلے پھر بھی کچھ اسٹائلش لگتے ہیں۔

جیسے ہی ہمارے ساتھ آ کر بیٹھے، بدتمیز نا کوئی سلام نہ دعا فوراً سوال داغا، ”کلاس کب ختم ہوگی؟“ اس پر جام صاحب نے کہا کہ ”جب پروفیسر کا دل چاہے گا“ اب ہمارے ہاں تو اسمبلیاں کب تحلیل ہوں گی، یہ بھی کوئی نہیں جانتا اور یہ جناب کلاس کا پوچھ رہے تھے۔

تھوڑی دیر بعد پتا چلا کہ ان کا مقصد لڑکیوں کو دیکھنا تھا۔ ہم نے اپنا سر پکڑ لیا، اور سوچ رہے تھے کہ یہ آج کی نوجوان نسل کو ہو کیا گیا ہے؟ یہ ابھی سوچ ہی رہے تھے کہ ان میں سے ایک گول مٹول سے منہ والے نے کہا کہ جناب فیس واش ہو گا؟ ہم نے انسانی ہمدردی اور ”عاشق برادری“ کے ناتے اسے فیس واش دے دیا، کیوں کہ عاشقوں کی قسمت میں کچھ اور ہو یا نہ ہو کم از کم چہرے پر تازگی تو ہونی چاہیے۔

جب کلاس ختم ہوئی، تو ہم نے ہمیشہ کی طرح ان دونوں کے پیچھے چھلانگ لگانے کے بجائے اپنی پُرانی حکمت عملی اپنائی: ”انتظار“ ۔ یعنی محبوب جہاں بیٹھے، ہم بھی وہیں قریب بیٹھے گئے، کیوں کہ شروع شروع میں کئی بار صبر کا پھل میٹھا ہے جیسی نصیحت کو نظر انداز کرتے ہوئے پہلے ہی اپنے اندازے کے مطابق کہیں بیٹھ جاتے، اور وہ محترمات کہیں اور۔

ابھی ہم سوچ اور دیکھ ہی رہے تھے کہ وہ دونوں عاشق کسی اور ”مرکزی نشانہ“ کی بجائے ہمارے یعنی ”سائیکو اور کالی“ کے پیچھے پڑ گئے۔ اور یہ انسانی تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ ایک عاشق نے رقیب سے ہمدردی کی ہوگی۔

Facebook Comments HS