درویش کی آہ نے گودی میڈیا کا منہ کالا کر دیا


کمرے میں گمبھیر خاموشی چھائی تھی۔ ایک پرکشش اور بارعب شخص سب کا مرکز نگاہ تھا۔ کہنے کو تو وہ عمر رسیدہ تھا۔ چہرے کی جھریاں اور سر کی چمک اس کی عمر ستر برس سے اوپر بتا رہے تھے۔ لیکن اس کے چست کسرتی جسم کی حرکات و سکنات کہہ رہی تھیں کہ وہ جوانوں سے زیادہ طاقت رکھتا ہے۔ چہرے پر جلال ایسا تھا کہ نگاہ بھر کر اسے دیکھنا ممکن نہ تھا۔ اس شخص کا نام کیا بتائیں، کہ اس کا نام لینے پر بھی پابندی ہے۔ کوئی مہمل سا نمبر اس پر چسپاں کر کے اس کا ذکر کرنا اس کی شان کے خلاف ہے۔ کسی تنظیم کا بانی ہونا اس کا طرہ امتیاز نہیں۔ کوئی عالمی مقابلہ جیتنے والی ٹیم کی قیادت کرنا اس کا سب سے بڑا کارنامہ نہیں۔ اس کی تو زندگی ہی ایسے کار ہائے نمایاں سے بھری پڑی ہے کہ محض کسی ایک کام کی نسبت سے اس کا نام بلند نہیں ہوتا۔ چاہیں تو اسے عارف کہہ لیں، ولی بتائیں، درویش کا نام دیں یا مرشد کہہ کر پکار لیں۔

حلقے میں اس کے مصاحبین میں کالا کوٹ پہنے چند افراد نمایاں تھے۔ ان کے چہروں پر غم اور تفکر کی تاریک پرچھائیاں لرز رہی تھیں۔ ایک شخص گلوگیر آواز میں گویا ہوا ”مرشد، ضمانت خارج ہو گئی۔ جس شخص کے قدموں پر اربوں پونڈ پڑے تھے جو اس نے ٹھکرا دیے، وقت جس کا غلام تھا، اس پر چند ساعتیں چرانے کا الزام لگاتے ہوئے انہیں شرم بھی نہیں آئی۔“

عارف نے نگاہ اس کے چہرے پر جمائی اور گویا ہوا ”خدا کے برگزیدہ بندوں پر اس سے بڑی بڑی آزمائشیں گزری ہیں۔ کسی کا مال و دولت چھین کر امتحان لیا گیا، کسی کی اولاد سے اسے آزمایا گیا، کسی کے جسم میں میخیں ٹھونکی گئیں، کسی کے جسم میں کیڑے پڑ گئے اور کسی کا جسم آرے سے چیر دیا گیا۔ انہوں نے صبر سے کام لیا۔ خدا کا ہر حال میں صبر شکر ادا کرنا چاہیے۔ یہ کوئی بری خبر نہیں جس پر تم ملال کرو“ ۔

ایک دوسرا شخص روہانسا ہو کر بولا ”مرشد، وہ بری خبر یہ نہیں تھی جس نے پوری قوم کو افسردہ کر دیا۔ آپ کے اپنے محافظ آپ کے دشمن ہو گئے، آپ کے نیچے سے تخت کھینچا، آپ کو قید میں ڈالا، آپ کو ناکردہ جرائم پر سزا سنا دی گئی، آپ سے گنتی میں ہیر پھیر کیا گیا، یہ سب آپ کے چاہنے والوں نے ایسے برداشت کیا جیسے یہ سب مرشد پر نہیں کسی مفسد پر بیتا ہو۔ لیکن اب پانی سر سے اونچا ہو گیا ہے۔ اپنے تو آپ کے خلاف تھے ہی، اب پرائے بھی مردار خور گدھ بن کر جھپٹ پڑے ہیں۔ سدا کا دروغ گو گودی میڈیا کل سے آپ کو بدنام کر رہا ہے کہ کسی میجر نے اڈیالہ کے اس محفوظ بندی خانے میں آپ کا یوان شوشن کر دیا ہے۔ یہ سننے سے پہلے ہمارے کان کیوں نہیں پھٹ گئے مرشد۔“

مرشد نے چہرہ جھکا لیا۔ پھر کچھ دیر اسی حالت استغراق میں رہے۔ پھر کہنے لگے ”کیا کہا؟ کیا کر دیا ہے؟“
”یوان شوشن مرشد، یوان شوشن۔“
”کیا مطلب؟ کیا یہ کچھ نیا ہوا ہے؟ صاف صاف بتاؤ۔“

”مرشد، گودی میڈیا آروپ لگا رہا ہے کہ آپ کا اپہارن ہوا ہے، النگھن کر دیا گیا ہے، آپ کے ساتھ شیلابھنگ کیا گیا ہے، آپ کو ہاتھ سنبھوگ کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ گودی میڈیا کا جو چینل بھی کھولیں، نیا چٹخارہ اس کی زبان پر چڑھا ہے، ایسے ایسے شبد بک رہا ہے جو پہلے کبھی کسی ہندی، حتیٰ کہ انگریزی فلم میں بھی ہم نے نہ دیکھے نہ سنے“ ۔

”یہ کیا بہکی بہکی باتیں کر رہے ہو۔ صاف صاف بتاؤ کہ گودی میڈیا ہمارے بارے میں کیا بات کر رہا ہے؟“

”مرشد وہ کہتے ہیں کہ جیل میں آپ کا بلاتکار ہوا ہے۔ سارا گودی میڈیا اور اس کا پالتو سوشل میڈیا کیچڑ اچھال رہا ہے۔ آپ حکم کریں، ہمارے خاموش کیبورڈ وارئیر ان سب کو مزا چکھا دیں گے۔ وہ پروپیگنڈے میں سیر ہیں تو ہم سوا سیر۔ وہ پر کا کوا بناتے ہیں تو آپ کے جانثار اس کا شتر مرغ بنا دیتے ہیں۔ وہ رائی کا پہاڑ بناتے ہیں تو آپ کے سرفروش بوند کا سمندر بنا دیتے ہیں۔ آپ حکم کریں، ہم بدلا لینے کو تیار ہیں“ ۔

مرشد نے پھر سر جھکا لیا۔ کچھ دیر سوچتے رہے۔ سورج کی دید کو ترسے ہوئے چہرے کا رنگ زرد سے شہابی ہوا، شہابی سے سرخ، سرخ سے جامنی۔ مرشد نے کال کوٹھڑی کے واحد روشندان کی طرف دیکھا جس میں سے آسمان جھلک رہا تھا اور ایک سرد آہ بھری۔ یکایک چہرہ ایسا ہو گیا جیسے مشتعل جذبات پر یکلخت ٹھنڈا پانی پڑ گیا ہو۔ چہرے پر سکون چھا گیا۔ درویش نے اپنا معاملہ خدا کے سپرد کر دیا تھا۔

مرشد نے ٹھہری ہوئی آواز میں کہا ”بدلا لینا، شکایت لگانا یا آہ و زاری کرنا درویشوں کا کام نہیں۔ وہ تو خدا کی رضا میں راضی ہوتے ہیں۔ خدا اس گودی میڈیا کو اس کی دریدہ دہنی، اس کی گستاخی، اس کی کذب گوئی کی ایسی سزا دے گا کہ وہ دنیا بھر میں تو جھوٹا کہلائے گا ہی، اس کے اپنے دیش کے لوگ اس پر تھو تھو کریں گے کہ تم ایسے جھوٹے کیوں ہو“ ۔

ایک سیاہ پوش نے جھجکتے ہوئے کہا ”مرشد، اولیا خود کرامات نہیں دکھاتے۔ یہ تو ان کے مرید ہوتے ہیں جو انہیں اڑاتے ہیں۔ بس ایک بار ہمارے کیبورڈ وارئیرز کو جواب دینے کا اذن دے دیں۔“

”کیا اب ہمیں اس بندی خانے میں مدت سے قید دیکھ کر تمہیں بھی یہ یقین ہو چلا ہے کہ خدا کی نصرت ہمارے ساتھ نہیں؟ کیا تمہیں بھی اب یہ لگتا ہے کہ یہ ہمارا امتحان نہیں بلکہ ہم پر عذاب نازل ہو رہا ہے؟“ درویش نے کہا اور چہرہ دوسری طرف پھیر لیا۔

چہروں سے عیاں تھا کہ مصاحبین کی تسلی نہیں ہوئی لیکن مرشد کے سامنے آواز بلند کرنے کی کسی میں ہمت نہ تھی۔ بندی خانے کا پہرے دار پکارا ”ملاقات کا وقت ختم ہوا“ ۔ سب ایک ایک کر کے بجھے ہوئے چہرے لیے رخصت ہوئے۔

اس ملاقات کو ابھی ایک ہفتہ بھی نہ گزرا تھا کہ نریندر مودی نے اپنی سینا کو پاکستان پر حملے کا حکم دیا۔ اپنے تئیں طاقت کا پہاڑ بنے آگ اگلتے آہن پوش پرندے فضاؤں میں بلند ہوئے۔ پاکستان کی بستیوں پر میزائل برسا دیے گئے۔ گودی میڈیا جوش سے پاگل ہو گیا۔ کسی نے کراچی پر قبضے کی خبر چلا دی۔ کسی نے لاہور کی بندرگاہ تباہ کر دی۔ کسی نے راولپنڈی کا ہوائی اڈہ اڑا دیا۔ کسی نے پاکستان کے سینکڑوں ہوائی جہاز تباہ کر دیے۔ کوئی پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے اس کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل کرنے کا خواہاں ہوا۔ درویش اپنی کال کوٹھڑی میں آنکھیں موندے خدا کا ذکر کرنے میں مشغول رہا۔

ابھی دو دن بھی نہ گزرے تھے کہ عالمی میڈیا پر خبریں چلنے لگیں کہ پاکستان پر مودی کی سینا کے حملے ناکام رہے۔ اس کا فخر جو رافیل کہلاتا تھا، دھڑام سے آسمان سے زمین پر آن گرا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے مودی سے ڈانٹ ڈپٹ کی اور اسے جنگ بندی کا اعلان کرنا پڑا۔ اور بھارتی جنتا اپنے گودی میڈیا کے بخیے ادھیڑنے لگی کہ تمہارے سے زیادہ جھوٹا تو پرتھوی پر کہیں نہیں ہو گا۔ ہر بھارتی ناگرک نے گودی میڈیا کے لتے لینے شروع کیے۔ حتیٰ کہ مودی بھکت بھی پیچھے نہ رہے۔ گودی میڈیا کا منہ ایسا کالا ہوا کہ گدھے پر بٹھائے چور کا کیا ہوا ہو گا۔

ادھر درویش اپنی کال کوٹھڑی میں آنکھیں موندے اور چہرے پر مسکان سجائے خدا کا ذکر کرنے میں مشغول رہا۔ مرشد سے چھیڑ خانی مودی میڈیا کو مہنگی پڑی۔ درویش کی ایک آہ نے گودی میڈیا کا منہ کالا کر دیا۔ جس شخص کی ایک آہ سے ناقابلِ تسخیر گودی میڈیا اپنا تمام سحر کھو بیٹھا، اگر وہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دے تو کیا ہو گا؟ سوچیے، ذرا سوچیے۔ حکیم الامت مرشد کے متعلق برسوں پہلے ہی فرما گئے ہیں
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

One thought on “درویش کی آہ نے گودی میڈیا کا منہ کالا کر دیا

  • 13/05/2025 at 5:01 شام
    Permalink

    چھ مہینے میں تیسری تحریر
    مدیر کے اصلی مسائل اور کام اپنی جگہ لیکن پڑھنے والا اچھے لکھنے والے کی کمی کو ضرور محسوس کرتا ہے
    ویسے درویش اور اس کے کالے کوٹ والے چیلوں نے اب یہ بھی کہا ہے کہ جے دس نمبری ۔۔۔ درویش کی دعاؤں اور دی گئی بوٹی کا ثمر ہے جو اس نے انڈیا میں رافال پہنچنے کے بعد چینیوں کے خزینہ حرب سے منگوا کردیا تھا۔

Comments are closed.