طاہرؔ سردھنوی کی شاعری: درویشی، درد اور فنی عظمت کا امتزاج
کتاب: ہجوم آرزو
شاعر: طاہر سردھنوی
مرتبین: ڈاکٹر نجم الحسن/ابرار حسین اکبر
ناشر: اطراف مطبوعات، اٹلانٹس پبلی کیشنز، کراچی، 2025
طاہر سردھنوی سردھنہ ضلع میرٹھ کے رہنے والے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد جھنگ میں رہائش اختیار کی۔ طاہرؔ سردھنوی کا شمار جھنگ کے نمائندہ شعرا میں کیا جاتا ہے۔ وہ ریل بازار میں ایک چھوٹی سی دکان چلاتے تھے۔ ان کے شاگردوں میں مظفر علی ظفر کو ان سے بڑی عقیدت تھی۔ اکثر ان سے ملنے جھنگ جایا کرتے تھے۔ خواجہ محمد زکریا بھی ان کے ساتھ طاہرؔ سردھنوی سے ملاقات کے لیے جایا کرتے تھے۔ طاہر سردھنوی مومن خان مومنؔ کے شاگرد ہوشیار میرٹھی سے تقسیم سے قبل اصلاح لیا کرتے تھے۔ وہ مزاجاً گوشہ نشین تھے۔ انھیں نمایاں ہونے کا کوئی شوق نہیں تھا۔ انھوں نے اپنے کلام کی اشاعت کے لیے کبھی اخبارات و رسائل سے رابطہ نہیں کیا۔ ڈاکٹر نجم الحسن اور ابرار حسن نے طاہر سردھنوی کا کلام اپنی محنت شاقہ اور جنونِ سے سرشار ہو کر ڈھونڈ نکالا اور مرتب کر کے ”ہجوم آرزو“ کے نام سے شائع کیا۔ طاہر سر دھنوی کی شعری دنیا بہت متنوع ہے۔ ہجرت نے انھیں ان کی جنم بھومی سے بہت دور پہنچا دیا تھا جہاں انھیں وہ آسودگی میسر نہیں آئی جس کے وہ عادی تھے۔
طاہرؔ سردھنوی کی شاعری کا مطالعہ ایک ایسی روحانی اور فکری سیر ہے جس میں قاری درد، فقر، خودداری، عشق، تصوف، اور لطیف انسانی احساسات کی باریک ترین لہروں سے آشنا ہوتا ہے۔ ان کا شعری مجموعہ ”ہجومِ آرزو“ نہ صرف ایک گم گشتہ درویش شاعر کی دریافت ہے بلکہ اردو ادب کی اس روایت کا تسلسل بھی ہے جس میں خاموشی، انکسار اور فنی سچائی سب سے بڑی عظمت سمجھی جاتی ہے۔ طاہرؔ سردھنوی، جن کا اصل نام عوامی سطح پر کم معروف رہا، ایک درویش مزاج شاعر تھے جنھوں نے اپنی شاعری کو کبھی شہرت یا صلے کے لیے استعمال نہیں کیا۔ وہ جھنگ جیسے نسبتاً غیر ادبی مرکز میں بھی اپنی فکری عظمت اور شعری اخلاص کی بدولت نمایاں رہے۔ ان کے شاگردوں اور احباب میں مظفر علی ظفر، خواجہ محمد زکریا اور محمود شام جیسے نام شامل ہونا ان کی خاموش ادبی عظمت کی گواہی ہے۔ طاہرؔ کی شاعری میں فنی شعور، روایت سے جڑاؤ اور ایک خاص نوع کی تہذیبی سنجیدگی جھلکتی ہے۔ وہ مومنؔ کی روایت کے وارث ہوشیار میرٹھی سے اصلاح لیتے رہے، جس کا اثر ان کے اشعار میں فنّی چمک اور کلاسیکی حسن کی صورت میں واضح ہے۔
شعر کی قدر ہر ایک کو نہیں ہوتی طاہرؔ
کور چشموں سے تو گوہر نہیں دیکھا جاتا
ان کے کلام میں ایک خالص درویشانہ خودداری ہے۔
طاہرؔ کسی انسان کا محتاج نہیں ہے
یہ واسطہ رکھتا ہے فقط اپنے خدا سے
ان کے اشعار میں ہجر، شکستِ تمنا، ہجرت کا کرب، فقر کی جمالیات، اور انسانی احساسات کا گہرا عکس ملتا ہے۔
یہ تار تار گریباں، یہ چاک چاک جگر
تمام عمر گزر جائے گی، رفو کرتے
گلے مل مل کے رخصت ہو رہی ہیں دل سے امیدیں
کہیں ایسا نہ ہو اب زندگی کا رخ بدل جائے
کہاں یہ اضطراب اپنا، کہاں یہ بے خودی اپنی
کہیں اپنا ٹھکانہ کر رہی ہے زندگی اپنی
یہ کہتی ہے امید موہوم میری
ابھی تیری شام و سحر اور بھی ہیں
اونچے محلوں کے افسانے دہراتے ہیں لوگ
کاشانے تک رہ جاتی ہے کاشانے کی بات
جھجک کے کہہ گئی مجھ سے نگاہ ساقی کی
ملے گا جام تجھے بھی، مگر تمام کے بعد
میں عرض حال نہ کچھ ان سے کر سکا طاہرؔ
نگاہ پھیر کے وہ چل دیے، سلام کے بعد
کسی کے حسن کا ہر ایک ناز، قاتل ہے
ہر ایک وار ہے بھرپور، کیا کہوں تم سے
لرزتے رہتے ہیں احساس کے شبستاں میں
کسی کی آنکھ کے آنسو کسی دہن کے چراغ
ترس ترس کے مرے ہیں سکونِ دل کے لیے
وہ بدنصیب، جو عادی رہے سہاروں کے
مذاقِ عشق کی تکمیل ہی نہیں ہوتی
یہ ناتمام ہی رہ کر تمام ہوتا ہے
بغیر ان کے مسرت بھی ہمیں غم کے برابر ہے
ہلال عید بھی دیکھیں تو ان کو دیکھ کر دیکھیں
دل کو نہ بار بار چھیڑو!
یہ ساز، بے صدا نہیں ہے
قہقہوں میں اڑا رہے ہیں غم کے افسانے ابھی
ہم زمانے کی نگاہوں میں ہیں دیوانے ابھی
صداقتوں کے ترانے، خلوص کے نعرے
انہی کے پردے میں اے بے خبر اندھیرا ہے
بدل گئے ہیں مقامات پینے والوں کے
وہی سبو، وہی ساغر، وہی شراب ابھی
اس بزم میں اب ذکر کے قابل بھی نہیں ہم
جس بزم میں اک دن نظر آتے تھے ہمیں ہم
نظروں کا تصادم تو کوئی چیز نہیں ہے
ٹکرائے کہیں دل کی صدا دل کی صدا سے
اس طرح آ رہے ہیں کسی کی گلی سے ہم
آئے ہوں جیسے مصر کا بازار دیکھ کر
شوق اور شوقِ ملاقات، تمہیں کیا معلوم
میرا دن اور مری رات، تمہیں کیا معلوم
سچ بتاؤ مرے حالات، تمہیں کیا معلوم
لب پہ آئی نہیں جو بات، تمہیں کیا معلوم
جتنے فریب کار ملے شادماں ملے
جو صاحبِ خلوص تھا، آشفتہ حال تھا
آج طاہرؔ سب کے ہیں حالات سب پر آئینہ
یوں دکھا دیتے ہیں ہم شعروں میں چھپ کر آئینہ
روتے رہے اک عمر، تو پوچھا نہ کسی نے
ہم ہو گئے خاموش، تو کیا شور مچا ہے
اس انجمن میں جہاں خاک اڑ گئی طاہرؔ
اگر رہی تو بس اک شمع آرزو ہی رہی
سخنوری بھی ہے اک مستقل جنوں طاہرؔ
جو شعر کہتا ہوں، وحشت سے کھیلتا ہوں میں
کہیں چمن، کہیں صحرا دکھائی دیتا ہے
ہر ایک رنگ میں دھوکا دکھائی دیتا ہے
تمام آسائشوں کا طاہرؔ، ہمیں یہ نعم البدل ملا ہے
کہ آج درد و غمِ زمانہ، ہماری جاگیر بن گئے ہیں
تمہارے حسن کی تابندگی، کچھ کم نہ ہو جاتی
اگر اک دن ہمارے دل کے ویرانے میں آ جاتے
یہ شغل ہے، یہ حضرت طاہرؔ یہ مے کدہ
ہم نے تو یہ سنا تھا بڑے پاک باز ہیں
ان کا ہر ناز، ہر ادا طاہرؔ
آپ اپنی مثال ہو جیسے
خبر نہیں ہے کہ آج میری قسمت بگڑ رہی ہے کہ بن رہی ہے
وہ مسکرا مسکرا کے مجھ سے جو پرسشِ حال کر رہے ہیں
کتنی مشکل سے ہوئی طاہرؔ کوئی اچھی غزل
شعر کی تخلیق بھی، لانا ہے جوئے شیر کا
میری صورت میں جھلکتی ہے کسی کی صورت
کیا خبر کون پسِ پردۂ غم رہتا ہے
طاہرؔ سر دھنوی کی شاعری میں داخلی کیفیات کا گہرا اظہار ملتا ہے۔ ان کے اشعار میں محبوب کے حوالے سے جو وارداتِ قلبی بیان ہوئی ہے، وہ روایتی غزل کے پیرائے میں ایک نیا رنگ لے کر آتی ہے۔ وہ اپنے جذبات کو نہایت سادگی مگر بے پناہ تاثیر سے بیان کرتے ہیں۔
شوق اور شوقِ ملاقات، تمہیں کیا معلوم
میرا دن اور مری رات، تمہیں کیا معلوم
سچ بتاؤ مرے حالات، تمہیں کیا معلوم
لب پہ آئی نہیں جو بات، تمہیں کیا معلوم
یہ اشعار ایک اندرونی کرب، خلش اور ان کہے جذبات کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں۔ محبوب کی بے خبری اور شاعر کی کیفیتِ دل یہاں مکمل سچائی کے ساتھ سامنے آتی ہے۔
میں عرض حال نہ کچھ ان سے کر سکا طاہرؔ
نگاہ پھیر کے وہ چل دیے، سلام کے بعد
اس شعر میں محبوب کی بے نیازی، شاعر کی بے بسی، اور دل کی تکلیف تینوں اکٹھے ہو کر ایک پُراثر منظر تخلیق کرتے ہیں۔
تمہارے حسن کی تابندگی، کچھ کم نہ ہو جاتی
اگر اک دن ہمارے دل کے ویرانے میں آ جاتے
کسی کے حسن کا ہر ایک ناز، قاتل ہے
ہر ایک وار ہے بھرپور، کیا کہوں تم سے
یہ اشعار حسن کے سحر اور دل پر اس کے اثر کی جیتی جاگتی تصویر ہیں۔ شاعر محبوب کی ایک جھلک کو بھی محرومی کا مرہم سمجھتا ہے۔
میری صورت میں جھلکتی ہے کسی کی صورت
کیا خبر کون پسِ پر دۂ غم رہتا ہے
یہ ایک ایسا شعر ہے جو محبوب کی یاد کو شاعر کی شناخت کا حصہ بنا دیتا ہے۔ ان کے نعتیہ اشعار میں عقیدت، ادب، اور روحانی لگن کا لطیف اظہار ملتا ہے :
ہم کہاں اور کہاں سایۂ دامان رسول ﷺ
یوں کہو بن گئی بات بہ فیضانِ رسول ﷺ
یوں تو کہنے کو کہیں سینکڑوں نعتیں طاہرؔ
کون سی نعت کہی آپ نے شایانِ رسول ﷺ
”ہجوم آرزو“ دراصل طاہرؔ سردھنوی کے اس باطن کا اظہار ہے جو درد، خودی، صداقت اور فن سے مزین ہے۔ ان کی شاعری نہ صرف جھنگ بلکہ پورے اردو ادب کا سرمایہ ہے۔ ڈاکٹر نجم الحسن اور ابرار حسین اکبر کی کوشش نہایت لائقِ تحسین ہے کہ انہوں نے اس گوہرِ نایاب کو زمانے کے سامنے پیش کیا۔ طاہرؔ سردھنوی جیسے خاموش، گمنام مگر عظیم شعرا کی دریافت اور ان پر تحقیق ہماری ادبی تاریخ کی ضرورت ہے۔ ان کی شاعری ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل فنکار وہ ہوتا ہے جو خلوت میں جیتا ہے، مگر اس کی تخلیق صدیوں تک قلوب کو روشنی عطا کرتی ہے۔




