مودی کا اپنی "قوم پرست خودمختاری” کا ڈرامہ
نوجوان نسل کو تاریخ کے حوالے دینا پسند نہیں۔ دو ہمسائے مگر جب ایٹمی جنگ کے دہانے کے بہت قریب پہنچ کر رک جائیں تو ذہن میں جمع ہوئے تاریخی واقعات بھلائے نہیں جا سکتے۔ حالت اضطراب میں ان کے حوالے دینا بلکہ مزید ضروری ہو جاتا ہے۔
کئی روز خاموش رہنے کے بعد بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کی شام اپنی قوم سے خطاب کیا۔ موصوف کا خطاب شروع ہونے سے تقریباََ ڈیڑھ گھنٹے قبل دنیا کی واحد سپرطاقت تصور ہوئے امریکہ کے صدر ٹرمپ نے وائٹ ہائوس میں کھڑے ہو کر کیمروں کے روبرو کچھ خیالات کا اظہار کیا۔ پاکستان اور بھارت کے مابین جنگ بندی زیر بحث موضوعات میں جائز بنیادوں پر سرفہرست رہی۔ ٹرمپ مصر رہا کہ جنگ بندی یقینی بنانے میں اس کے ملک نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ صحافیوں نے اس تناظر میں شک و تجسس سے بھرے سوالات اٹھائے تو امریکی صدر یہ انکشاف کرنے کو مجبور ہو گیا کہ ابتداََ دونوں ملک جنگ بندی کو آمادہ نہیں تھے۔ بالآخر انہیں واضح الفاظ میں یہ پیغام دینا پڑا کہ اگر جنگ فی الفور بند نہ ہوئی تو امریکہ پاکستان اور بھارت کے ساتھ تجارت سے گریز کرے گا۔
تجارت کو ذہن میں رکھتے ہوئے آپ کو یہ حقیقت یاد رکھنا ہو گی کہ امریکہ پاکستان کی مصنوعات کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ اوسطاََ ہم اس ملک کو 7 ارب ڈالر مالیت کی اشیاء فروخت کرتے ہیں۔ عالمی تجارت کے وسیع تر تناظر میں یہ حجم مضحکہ خیز حد تک تقریباََ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہماری معیشت کو رواں رکھنے کے لئے مگر یہ حجم آئی سی یو میں بستر پر لیٹے مریض کے لئے آکسیجن کا درجہ رکھتا ہے۔ اس کے باوجود اگر ’’قومی غیرت‘‘ آڑے آ جاتی تو ہم امریکہ کی جانب سے تجارت کی بندش والی دھمکی کو نظرانداز کر سکتے تھے۔
پاکستان نے مگر 6 اور 7 مئی کی درمیانی رات سے شروع ہوئی جنگ کا آغاز نہیں کیا تھا۔ بھارت نے اس ضمن میں پہل دکھائی۔ اپریل کے وسط میں مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں ہوئے دہشت گرد حملے کا ذمہ دار پاکستان کی ریاست اور حکومت کو ٹھہرایا اور ’’سبق‘‘ سکھانے پاکستان پر چڑھ دوڑا۔ بدقسمتی سے دنیا کی بہت بڑی ’’پروفیشنل‘‘ فوج رکھنے کے دعوے دار نے 6 اور 7 مئی کی رات ہوئے حملے کے ذریعے ہماری فوج کو نہیں للکارا۔ بہاولپور اور مظفر آباد جیسے گنجان آباد شہروں کے تقریباََ قلب میں واقع چند مساجد اور مدارس کو ’’دہشت گردوں کی تربیت گاہیں‘‘ قرار دے کر انہیں میزائلوں کی بارش سے زمین بوس کر دیا۔ 7 مئی کی صبح ہوئی تو بھارتی حکومت کے ترجمانوں نے نہایت مکاری سے اعلان کیا کہ پاکستان میں ’’دہشت گردوں کی نرسریوں‘‘ کو تباہ کرکے پہلگام پر ہوئے حملے کا بدلہ لے لیا گیا ہے۔ بھارت ’’پاکستان‘‘ کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا۔ اس کا بنیادی مسئلہ وہاں مبینہ طورپر موجود ’’دہشت گردوں کی تربیت گاہیں‘‘ ہیں۔ انہیں بہاولپور، مرید کے اور مظفر آباد میں تباہ کرنے کے بعد مزید جنگ کی ضرورت نہیں۔
اپنے تئیں پاکستان میں مبینہ طورپر قائم ’’دہشت گردوں کی تربیت گاہوں‘‘ کو تباہ کرنے کے بعد چین سے بیٹھنے کے بجائے 7 اور 8 مئی کی درمیانی رات سے بھارت نے پاکستان کے تقریباََ ہر شہر کو اسرائیل کے بنائے ڈرونز کے ذریعے ’’پھرولنا‘‘ شروع کر دیا۔ پنجابی کا یہ لفظ میں نے جنگی اصطلاح (Probing) کے ترجمے کے لئے استعمال کیا ہے۔ ڈرون بنیادی طور پر ایک جاسوس طیارہ ہے۔ بغیر پائلٹ کے چلائے اس کھلونا نما طیارے کو دشمن ملک کی سرحد کے اندر بھیج کر اہم تنصیبات کی تصاویر لینے کے علاوہ یہ جاننے کی کوشش بھی ہوتی ہے کہ جس ملک کے خلاف جنگ لڑنا ہے اس کا فضائی دفاع کتنا مضبوط ہے۔
سیٹلائٹ کے فروغ کے بعد مگر ڈرون کی ’’جاسوسی‘‘ افادیت ختم ہو چکی ہے۔ خلا میں آوارہ گھومتے سیٹلائٹ کے ذریعے اب دنیا کے کسی بھی مقام کی جنگی اعتبار سے تفصیلی تصویر بآسانی حاصل کی جا سکتی ہے۔ سیٹلائٹ متعارف ہو جانے کے بعد ڈرون اب جاسوسی طیارہ نہیں رہا۔ انسان کی موجودگی کے بغیر اڑایا یہ چھوٹا سا طیارہ بارودی مواد بھی دشمن ملک تک لے جا سکتا ہے۔ اگرچہ اس کی مقدار ایک حد تک محدود ہوتی ہے۔
بھارت کی جانب سے 6 اور 7 مئی کے بعد ڈرونز کی ’’بارات‘‘ بھیجنے کا واحد مقصد اس خفت کو مٹانا تھا جو اسے فرانس سے بہت چائو سے خریدے رافیل طیاروں کی تباہی کی بدولت نصیب ہوئی۔ وہ پاکستان کے خلاف جارحیت کے لئے استعمال ہونے کو اڑانیں بھرنے والے تھے۔ پاکستان کے فضائی دفاع کے نظام نے مگر انہیں سرحد پار کئے بغیر ہی تباہ کر دیا۔ چینی ٹیکنالوجی کی مدد سے فرانس کے تیار شدہ ناقابل تسخیر مشہور ہوئے رافیل طیارے کی تباہی بھارت ہی نہیں فرانس کے لئے بھی بہت خفت کا باعث تھی۔ اسی لئے بھارت پاکستان کو یہ پیغام دینے کو مجبور ہوا کہ ’’ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے‘‘۔ رافیل ناکام ہو گئے تو اس کے پاس اسرائیل کے فراہم کردہ ڈرون موجود ہیں۔ وہ ان کی مدد سے پاکستان کے دفاعی نظام کو مفلوج کر سکتا ہے۔ بھارت کی ڈھٹائی نے پاکستانی عوام کو بھڑکا دیا۔ تقریباََ ہر دوسرا پاکستانی سوال اٹھانے لگا کہ ہم نظر بظاہر خاموش تماشائی بنے ’’دشمن‘‘ پر جوابی وار میں دیر کیوں لگا رہے ہیں۔ مجھ جیسے دو ٹکے کے رپورٹر کے لئے سماجی تقاریب میں جانا مشکل ہو گیا۔ سوالات کی بوچھاڑ کے جواب میں محض یہ التجا کر کے جند چھڑا لیتا کہ جنگ تحمل اور حکمت عملی کا تقاضہ کرتی ہے۔ مجھے کامل یقین ہے کہ ہماری جانب سے جواب آئے گا۔ بالآخر وہ جواب آ گیا تو دنیا کے حتمی تھانے دار ہوئے امریکہ میں تھرتھلی مچ گئی۔ امریکی صدر اور نائب صدر ہمارے جوابی وار سے قبل کندھے اچکا کر خود کو پاک- بھارت تنائو سے لاتعلق رکھ رہے تھے۔ 9 مئی کی رات سے مگر ان دونوں ملکوں کے درمیان ’’ایٹمی جنگ‘‘ روکنے کے لئے متحرک ہو گئے اور بقول ٹرمپ وہ اور اس کے مشیر ساری رات سوئے نہیں۔
بالآخر جنگ بندی ہو گئی تو بھارتی ترجمان اصرار کرتے رہے کہ امریکہ کے دبائو نے انہیں اس کے لئے مجبور نہیں کیا ہے۔ پاکستان نے ’’گھبرا کر‘‘ جنگ بندی کی درخواست کی تھی جسے بھارت نے فراخ دلی کے ساتھ مان لیا۔ کامل رعونت کے ساتھ ہوئے اس دعوے کی ٹرمپ نے ایک نہیں بلکہ دو پیغامات سوشل میڈیا پر لکھ کر تردید کی۔ بھارتی ترجمان اپنی کہانی پر ڈٹے رہے تو پیر کی صبح وہ کیمروں کے روبرو بہت کچھ کہنے کو مجبور ہو گیا۔ مودی نے اس کی گفتگو کے ڈیڑھ گھنٹے بعد ہوئی تقریر میں لیکن اس کی باتوں کو نظرانداز کیا۔ یوں اپنی ’’قوم پرست خودمختاری‘‘ کا ڈرامہ رچاتا رہا۔ اس کے رویے نے مجھے 1971ء میں اندرا گاندھی کا اپنا یارویہ یاد دلایا ہے۔ پیر کی رات سے اس کے حتمی عواقب ذہن میں آئے چلے جارہے ہیں۔ آپ کے ساتھ اپنے ذہن میں چلتی فلم یقینا شیئر کروں گا۔
(بشکریہ نوائے وقت)


