پاکستان فضائیہ کی ففتھ جنریشن پرواز: بھارتی ائرفورس کو کئی سال پیچھے دھکیلنے کی تیاری


 

جب ایک خاموش، اسٹیلتھ طیارہ دشمن کی حدود میں داخل ہوتا ہے، ریڈارز خاموش ہو جاتے ہیں، اور زمین سے فضا میں مار کرنے والے دفاعی نظام بے جان ہو جاتے ہیں تو سمجھ لیجیے کہ پانچویں نسل کا جنگی طیارہ میدان میں آ چکا ہے۔ یہی وہ محاذ ہے جس کی جانب پاکستان پوری قوت اور اعتماد کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ پاکستان فضائیہ کی جانب سے چین اور ترکی کے ساتھ جدید ففتھ جنریشن طیاروں کی شراکت داری محض دفاعی معاہدے نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کے فضائی توازن میں ایک بنیادی تبدیلی ہے۔

جے 35 A: چین کی جانب سے مہلک فضائی شراکت

پاکستان کا چین سے جدید J۔ 35 A اسٹیلتھ فائٹر طیارہ حاصل کرنے کا فیصلہ دراصل جنوبی ایشیا میں ایک نئی دفاعی لائن کھینچ رہا ہے۔ یہ دو انجنوں پر مشتمل جدید اسٹیلتھ فائٹر چین کی Shenyang ایوی ایشن کمپنی نے خاص طور پر برآمدات کے لیے تیار کیا ہے، جس میں AESA ریڈار، WS۔ 19 انجن، سینسر فیوژن، داخلی ہتھیار خانے اور کثیر المقاصد جنگی صلاحیتیں شامل ہیں۔ یہ طیارہ دشمن کی سرحدوں میں گہرائی تک بغیر شناخت کے داخل ہونے، نشانہ لگانے اور بحفاظت واپس آنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستانی پائلٹس اس وقت چین میں J۔ 35 A کی عملی تربیت حاصل کر رہے ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ منصوبہ کاغذی نہیں بلکہ عملی ہے۔

ترکی کا KAAN طیارہ: پاکستان کا دوسرا فضائی محاذ

پاکستان کی ففتھ جنریشن پرواز کا دوسرا بازو ترکی کا KAAN طیارہ ہے، جسے پہلے TFX کے نام سے جانا جاتا تھا۔ 2025 کے اوائل میں پاکستان اور ترکی کے درمیان ایک تاریخی معاہدہ طے پایا، جس کے تحت نہ صرف KAAN طیارے پاکستان کو دیے جائیں گے، بلکہ پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس ان کی مقامی اسمبلنگ، دیکھ بھال اور ممکنہ پرزہ سازی میں بھی شامل ہو گا۔ KAAN بھی دو انجنوں پر مشتمل ایک ففتھ جنریشن طیارہ ہے جو امریکی F۔ 22 اور چینی J۔ 20 کے ہم پلہ سمجھا جاتا ہے۔ اس میں جدید الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز، AESA ریڈار اور ملٹی رول جنگی صلاحیتیں موجود ہیں۔ اس معاہدے کے تحت پاکستانی انجینئرز ترک ایرو اسپیس انڈسٹریز (TAI) کے ساتھ براہ راست تعاون کریں گے اور جدید ترین ایوی ایشن ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کریں گے۔

بھارت کی مایوسی اور پاکستان کی مسلسل سبقت

ایک جانب جب پاکستان ففتھ جنریشن ٹیکنالوجی پر عملی طور پر عمل پیرا ہو چکا ہے، بھارت کا AMCA پروگرام ابھی ابتدائی خاکوں اور پروٹو ٹائپ کے مراحل میں پھنسا ہوا ہے۔ بھارت اس وقت رافیل اور Su۔ 30 MKI جیسے فور پوائنٹ فائیو جنریشن طیاروں پر انحصار کر رہا ہے، جو تکنیکی لحاظ سے پاکستان کے نئے فضائی بیڑے سے پیچھے ہیں۔ رہی سہی کسر 2019 سے 2025 کے دوران پاکستان فضائیہ کی کارکردگی نے پوری کر دی، جب بھارت کے کم از کم 8 جنگی طیارے میدانِ جنگ میں پاکستان کے ہاتھوں تباہ ہوئے۔ یہ صرف عددی برتری نہیں بلکہ ایک واضح نفسیاتی اور تکنیکی سبقت کا اظہار ہے۔ چاہے وہ 27 فروری 2019 کا آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ ہو یا آپریشن بنیان المرصوص، ہر موقع پر پاکستان نے اپنی مہارت، حکمت عملی اور جرات سے دشمن کو شکست دی۔

رافیل: بھارتی میڈیا کی زبان پر مایوسی

بھارت نے فرانس سے اربوں ڈالرز میں رافیل طیارے حاصل کیے، جنہیں ایک گیم چینجر کے طور پر پیش کیا گیا۔ لیکن عملی میدان میں یہ صرف ایک مہنگا کھلونا ثابت ہوا۔ بھارتی میڈیا، ریٹائرڈ ائر مارشلز اور دفاعی مبصرین کی جانب سے رافیل کی کارکردگی، لاگت اور تکنیکی حدود پر شدید تنقید کی گئی ہے۔ اب اگر کوئی ملک بھارت کو طیارہ بیچے تو اسے ”دوگنی قیمت“ لینی چاہیے : ایک طیارے کی اصل قیمت، اور دوسری بھارت میں اس کی بدنامی کا ایڈوانس ہرجانہ۔

پاکستان اب صرف ایک جنگی طیارہ صارف نہیں بلکہ ایک دفاعی شراکت دار بن چکا ہے۔ JF۔ 17 کی چین کے ساتھ مشترکہ پیداوار اور اب KAAN کی ترکی کے ساتھ تیاری اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ پاکستان تکنیکی خود کفالت کی راہ پر گامزن ہے۔ پاکستان ائر فورس آج صرف ایک عسکری ادارہ نہیں بلکہ ایک جدید، ٹیکنالوجی سے لیس اور خودمختار فضائی طاقت ہے۔ یہ وہ خاموش طاقت ہے جو دشمن کے ریڈار پر نہیں آتی، لیکن جب وار کرتی ہے تو ناقابلِ تلافی نقصان دیتی ہے۔ اب فضائی برتری کا میدان ہتھیاروں کی تعداد سے نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، مہارت، اور اسٹریٹجک شراکت داری سے جیتا جاتا ہے اور اس دوڑ میں پاکستان سبقت لے چکا ہے۔

Facebook Comments HS