بھارتی جارحیت اور ہمارے منافقانہ رویے


 

پاکستان اور بھارت کے درمیان امن اور دوستی پر میں نے بہت سے انگریزی کالم لکھے۔ خواہش تو آج بھی یہی ہے مگر بھارت کے حالیہ جارحانہ رویے کے بعد جہاں بہت سی حقیقتیں سامنے آئیں وہاں اس بات کا بھی یقین ہو چکا کہ امن یک طرفہ طور پر قائم نہیں ہو سکتا بلکہ امن کی یک طرفہ کوشش نہ صرف شرپسند ریاستوں کی جارحیت میں اضافہ کا سبب بنتی ہے بلکہ ان کے غرور اور تکبر کو بھی بڑھاوا دیتی ہے۔ حالیہ دنوں میں بھارت کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ سندھ طاس معاہدہ کو یک طرفہ طور پر ختم کر کے پاکستان کو قحط کی طرف دھکیلنے سے لے کر رات کی تاریکی میں اچانک حملے کر کے پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے تک کے واقعات چیخ چیخ کر اعلان کر رہے ہیں کہ بھارت کے ساتھ امن اور دوستی کی خواہش محض دیوانے کا ایک خواب ہے۔

خطے کے دوسرے ممالک کے خلاف بھارتی جارحیت تو ایک الگ بحث ہے لیکن پاکستان کے خلاف بھارتی عزائم سے ایک بات ثابت ہے کہ بھارت کا ایجنڈا پاکستان کو نیچا دکھانا نہیں بلکہ پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا ہے۔ ہم تو تقسیم ہند کو کب کا بھول چکے مگر وہ اپنی قوم کو یہ بات بھولنے نہیں دیتے اور بار بار اس کا اعادہ کرتے ہیں کہ بھارت کی سالمیت کو خطرہ پاکستان سے ہے لہذا پاکستان سے نفرت بھارتی حب الوطنی کا ایک اہم خاصہ بن چکی ہے جس کا اظہار بھارت کے تعلیمی نصاب سے لے کر سیاستدانوں کی انتخابی مہم تک اور بھارتی نیوز میڈیا سے لے کر بھارتی فلموں تک ہر جگہ کیا جاتا ہے، اور تو اور کرکٹ کے میدان کو بھی جنگ کا میدان بنا دیا گیا ہے تاکہ عوام اس نفرت کو نہ بھولیں۔

تعجب کی بات یہ ہے کہ بھارت کے عوام نے اس بیانیے کو بلا چوں چرا ناصرف قبول کیا بلکہ ہر جگہ وہ اس کا پرچار بھی کرتے نظر آتے ہیں۔ لہذا یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ یہ رویہ صرف بھارتی سیاسی قیادت تک محدود نہیں بلکہ بھارتی عوام کی نفسیات کا خاصہ بن چکی ہے۔ آپ کسی بھی بھارتی سے پاکستان کے بارے میں بات کر لیں وہ وہی بیانیہ آپ کو سنائے گا جو بھارتی قیادت کا ہے۔ اس سوچ کا اظہار کرکٹرز سے لے کر اداکاروں تک بھارت کا بچہ بچہ کرتا ہے۔ جبکہ پاکستان کے معصوم عوام اس بات تک سے واقف نہیں ہیں کہ سینما اور آن لائن پلیٹ فارمز جیسے نیٹ فلکس وغیرہ پر ویورشپ کے ذریعے وہ بولی وڈ کے انٹرنیشنل ریونیو میں اپنا کتنا بڑا حصہ ڈالتے ہیں۔ اوورسیز پاکستانیوں کی اکثریت سینما میں بھارتی فلمیں دیکھ کر انڈین فلم انڈسٹری کو فروغ دیتی ہے۔ یہی حال بھارتی میوزک کا ہے جس کی گونج ہر دوسرے پاکستانی کی گاڑی سے صبح شام سنائی دیتی ہے۔ پاکستانیوں کی اکثریت فین فالوئنگ کے ذریعے بھارتی اداکاروں کے سحر میں بھی مبتلا ہے۔ دوسری طرف پاکستانی اداکاروں کی اکثریت ذاتی مفادات کے پیش نظر بھارتی جارحیت کے خلاف بولتے شرماتی ہے۔

یہ رویہ آپ کو بھارت میں شاذ و نادر ہی دکھائی دے گا۔ تاہم یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ہم بھارت کی سرکار کو جتنا برا بھلا کہہ لیں لیکن ان کی ثقافتی یلغار سے بری طرح مغلوب ہو چکے ہیں۔ چلیں یہ معاملہ تو پھر انٹرٹینمنٹ کا ہے۔ پاکستان میں تو ایک سیاسی جماعت کے سپورٹرز جنگ کے دوران بھی پاکستانی فوج کے خلاف زہر اگلنے سے باز نہیں آئے جبکہ دوسری طرف سیزفائر کے اعلان کی وجہ سے بھارتی سیکریٹری خارجہ وکرم مسری تک کو بھارت میں غدار قرار دیا گیا۔

مجموعی طور پر پاکستانی نوجوانوں نے سوشل میڈیا پر بھارتی یلغار کا موثر جواب دیا جسے آئی ایس پی آر کی بریفنگ میں سراہا گیا لیکن پی ٹی آئی کے سپورٹرز کی ایک بڑی تعداد ان حالات میں بھی فوج مخالف نظر آئی۔ میں نے نہ صرف سوشل میڈیا پر ایسی بہت سی پوسٹیں دیکھیں بلکہ مجھے اپنے ارد گرد ایسے بہت سے لوگ نظر آئے جو ان حالات میں بھی اپنی سیاسی وابستگی کے باعث فوج کو طنز و تنقید کا نشانہ بناتے رہے۔ حالت جنگ میں دشمن سے لڑنے والی فوج کے بارے میں یہ جذبات کس قدر خطرناک رجحان ہے شاید اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ فوج کے اشرافیہ سے اختلافات اپنی جگہ مگر حالت جنگ میں فوج صرف فوج نہیں ملکی سالمیت کی علمبردار ہوتی ہے اور اس کے خلاف زہر اگلنا نہ صرف ملک سے غداری کے مترادف ہے بلکہ سکواڈرن لیڈر عثمان یوسف جیسے بہادر شہیدوں کے لواحقین کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا ایک قبیح فعل بھی ہے۔ پاکستان سے باہر بھاگے کچھ صحافیوں اور نام نہاد دانشوروں کے لئے تو اپنے ذاتی انتقام کا یہ سنہری موقع تھا جو انہوں نے استعمال بھی کیا۔ لیکن پاکستان میں رہنے والے پی ٹی آئی کے حامی یہ کیسے بھول گئے کہ ان کی اپنی سالمیت پاکستانی فوج کی مرہون منت ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ سیاسی شعور کے بغیر کسی سیاسی پارٹی سے اس حد کی وابستگی قوم کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔

تاہم میرا ان ”بچوں“ سے فقط ایک ہی سوال ہے کہ اگر خدانخواستہ بھارت پاکستان پر قابض ہو جائے تو کیا پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہو جائے گی؟ جنگ کے خطرات ابھی ختم نہیں ہوئے لہذا اس سوال کا جواب تلاش کر کے اپنی اصلاح کر لیجیے۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر نازیہ نذر

ڈاکٹر نازیہ نذر سے ان کی ایمیل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے nazianazar783@gmail.com

dr-nazia-nazar has 7 posts and counting.See all posts by dr-nazia-nazar