خاموش مگر مہلک ترین چوتھا جنگی محاذ

6 اور 7 مئی کی درمیانی شب سے 10 مئی سہ پہر تک جاری رہنے والے حالیہ پاک بھارت فوجی تصادم میں مملکت خداداد ”پاکستان“ نے دنیا کی اقوام کو ”بری، بحری اور فضائی“ محاذ کے علاوہ ایک نئے ”جنگی محاذ“ سے روشناس کرایا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ آج سے پہلے دنیا اس ہنر اور مہارت سے نابلد تھی۔ مگر کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ دورانِ جنگ اس ہنر کی مہارت اور قابلیت انتہائی مہلک، خطرناک اور اس قدر کارگر ہو گی کہ دشمن کے حواسِ خمسہ اور اوسان ہی خطا کر چھوڑے گی۔ اس نئی مہارت اور نئے جنگی محاذ کا نام ہے ”الیکٹرانک وار فیئر“ ۔
اقوامِ عالم نے دیکھا کہ اگر آپ ”الیکٹرانک وار فیئر“ میں اپنے ہنر اور مہارت کی قابلیت کی طاقت کا لوہا منوا لیں اور اپنی برتری ثابت کر دیں تو کیسے دشمن کے جدید ریڈار، جدید ترین جنگی جہاز، میزائل، جدید ائر ڈیفنس، ایٹمی کمانڈ اینڈ کنٹرول، غرض تمام طرح کی کمیونی کیشن یا نظام و انصرام مفلوج ہو کر بے بس ہو جاتے ہیں اور دشمن کیسے گونگا بہرہ اور اندھا ہو جاتا ہے۔ چاہے دوست ممالک کی مدد سے ہی ایسا ممکن ہوا ہو، لیکن الحمدُللّٰہ ثمہ الحمدُللّٰہ میں اللّٰہ ذوالجلال و الاکرام سے بہت ڈرتے ہوئے بڑی عاجزی اور فخر سے یہ تحریر کر رہا ہوں کہ میرے عزیز وطن پاکستان کی افواج نے 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب اور پھر 10 مئی کی علی الصبح اپنی اس مہارت کا اقوامِ عالم کے سامنے ڈنکا بجایا۔
ایک ایسا دشمن جو ہم سے عددی اعتبار سے ہر جہت میں بڑا ہے، اور اپنی جنگی ساز و سامان کی جدت اور تعداد پر ہر دم شاداں اور نازاں ہے۔ تعداد کی برتری کی اس غلط فہمی نے اسے ہٹ دھرم اور بدمست ہاتھی بنا دیا تھا۔ 22 اپریل پہلگام واقعے کے بعد بھارتی حکمرانوں کی اسی ہٹ دھرمی اور ڈھٹائی کے باعث جب دو ایٹمی طاقتوں کے مابین حالات کشیدہ ہونا شروع ہوئے تو دنیا کی دیگر بڑی طاقتوں نے سفارتی تصفیہ کے لیے لاکھ جتن کیے لیکن عددی برتری کے غرور اور تکبر میں ڈوبے بھارتی حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔
لیکن پھر جب بھارت کی جانب سے پاکستانی سرحد کی بار بار خلاف ورزی کی گئی، پاکستان کی خود مختاری کو بار بار للکارا گیا تو بالآخر ملکی سیاسی قیادت نے انتہائی صبر و تحمل کے مظاہرہ کرنے کے بعد افواجِ پاکستان کو ہری جھنڈی دکھائی اور 10 مئی کی صبح بعد از نمازِ فجر قریب سوا 4 بجے افواجِ پاکستان نے باقاعدہ ایک بہترین مربوط فوجی جوابی کارروائی کا آغاز کیا۔ جہاں پاکستانی افواج نے اپنی بری اور فضائی طاقت کا مظاہرہ کیا، وہاں جو ہتھیار فیصلہ کن ثابت ہوا وہ تھا ”الیکٹرانک وار فیئر“ ۔ پاکستانی افواج نے جب اپنے اس نئے ہتھیار اور طاقت ”الیکٹرانک وار فیئر“ کا استعمال کیا تو دنیا نے دیکھا کہ کیسے چند ہی گھنٹوں میں طاقت کے نشے میں ڈوبا بھارت اپنے حواس کھو بیٹھا اور گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوا اور اسی سفارتی تصفیے کی جانب لپکا جسے محض چند گھنٹے پہلے تک وہ اپنے جوتے کی نوک پر رکھے ہوئے تھا!
پاکستان کی اس حیرت انگیز قابلیت اور بے مثال کامیابی پر دنیا کے کئی ممالک مدح سرا ہیں۔ جہاں ہمارے دوست برادر ممالک ترکیہ اور چین پھولے نہیں سما رہے وہیں دیگر اسلامی ممالک بھی اس کامیابی پر خوشی سے نہال نظر آتے ہیں۔
پاکستان کی اس کامیابی نے جنوبی ایشیاء میں بھارت کی چودھراہٹ کے خواب چکنا چور کر دیے ہیں اور خطے میں طاقت کے بگڑتے توازن کو کافی حد تک پاکستان کے حق میں جھکا دیا ہے۔ اس کامیابی نے پاکستانی قوم کے عالمی وقار میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے۔ اب اقوامِ عالم میں پاکستان کی آواز کو وہ اہمیت اور قدر حاصل ہو گی جس کا پاکستان حقیقی حقدار ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ رب العالمین کی اس نعمتِ کثیر اور فضل و کرم پر ہر مُحبِ وطن پر لازم ہے کہ وہ رب کے حضور سربسجود ہو کر بے شمار شکر ادا کرے۔

