جنازے لوٹ کے گھر نہیں آتے
بھلا ہو پہلی دُنیا کی عالمی قوت کا کہ جس نے پاک بھارت جنگ کا معاملہ پنجائتی بن کر حل کروا دیا ہے، جس سے نہ صرف دونوں ممالک کے عوام ایک بار پھر تاریخ کے خونی تجربے سے بال بال بچ گئے بلکہ جنوبی ایشیا کے ساتھ ساتھ عالمی برادری نے بھی سکھ کا سانس لیا ہے، ورنہ ’صاحب بہادر‘ کے بقول یہ ایٹمی جنگ ہونی تھی۔
کشیدگی کے اِن دِنوں میں اِنسانی حقوق اور اَمن کارکنوں کی جانب سے ’جنگ نہیں، امن چاہیے‘ کی آوازیں آتی رہیں اور امن پسند تجزیہ نگاروں اور لکھاریوں کے قلم سے بھی بار بار یہ ’چتاونی‘ سامنے آتی رہی کہ جنگ تنازعات کا حل نہیں بلکہ بذاتِ خود تنازعات کی ماں ہے، لہٰذا اس سے بچا جائے اس لئے کہ جنگ میں کسی کی ہار یا جیت نہیں ہوتی۔ جنگ اپنے پیچھے صِرف اور صِرف پچھتاوا، تباہی، بربادی اور شکست ہی چھوڑ کے جاتی ہے۔ اس میں یا اِس پر فخر کا ہرگز کوئی پہلو نہیں ہے۔
نوجوان اور مستقبل کی نسلیں یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ جنگ اپنی تمام تر وحشت کے ساتھ نہ صرف زندگیاں چھین لیتی ہے بلکہ زندہ بچ جانے والوں کے دلوں کو بھی ایسا زخم دے جاتی ہے جو کبھی نہیں بھرتا۔ وہ زندگی بھر ایسی بے چینی میں گزارتے ہیں جو بیان سے بھی باہر ہے۔ اس لیے انسانیت کی بقا اور خوشحالی کے لیے جنگ سے جتنا بھی اجتناب کیا جائے کم ہے۔
جنگوں کے درجنوں نقصانات ہیں۔ ان نقصانات کا وقت کے ساتھ ساتھ مالی متبادل تو تلاش کر ہی لیا جاتا ہے مگر ان جنگوں کے نتیجہ میں ایک بار جو جنازے اٹھا لیے جائیں وہ لوٹ کے گھر کو نہیں آتے، بھلے یہ جنازے وطن کی محبت میں اٹھائے جائیں یا برضائے الٰہی سے۔ ان کے لوٹ آنے، پلٹ آنے یا موڑ لانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
گزشتہ دو ہفتے سرحد کے اُس پار اور اِس پار دیس اور دیش پر قربان ہونے، دشمن کے دانت کھٹے کرنے، تِگنی کا ناچ نچانے، تہس نہس کر دینے اور اینٹ سے اینٹ بجا دینے کی بیان بازی ہوتی رہی۔ الفاظ و انداز سے معلوم ہوتا تھا کہ حُب الوطنی ثابت کرنے کا گویا یہی حتمی طریقہ ہو۔ ’شاہینوں‘ اور ’سورماؤں‘ کو یہ سمجھنا ہو گا کہ حُب الوطنی جوشیلے اور اشتعال انگیز نعروں، جذباتی اور بھونڈی تقریروں اور بڑھکوں سے ظاہر نہیں ہوتی بلکہ وطن کی ترقی کے لئے فعال کردار ادا کرنے، وطن کی بے لوث خدمت کرنے اور وطن کی خاطر جینے میں ہے پنہاں ہے۔
جنگوں نے انسانوں کو نعشوں، جنازوں اور آہوں سے بڑھ کر دیا ہی کیا ہے؟ انتہائی افسوسناک بات یہ ہے کہ پہلی عالمی جنگ میں جنگی کارروائیوں، بمباری، بیماریوں اور قحط کے نتیجے میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 9 سے 11 ملین فوجی اور 6 سے 13 ملین شہری ہلاک ہوئے تھے۔ ان اعداد و شمار میں کمی بیشی کی گنجائش ممکن ہے۔ یہ جنگ انسانی تاریخ کے ایک تاریک باب کی نشاندہی کرتی ہے جس میں اتنے بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا۔
دوسری عالمی جنگ میں لگ بھگ 70 سے 80 ملین انسان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ یہ انسانی تاریخ کا سب سے مہلک ترین تنازعہ تھا۔
امریکہ اور ویتنام جنگ میں دونوں جانب مرنے والے فوجیوں اور شہریوں کی تعداد 50 لاکھ کے آس پاس بتائی جاتی ہے۔ دوسری جانب افغانستان جنگ میں براہ راست اور بیماریوں، خوراک کی کمی اور پانی کی قلت اور انفراسٹرکچر کی تباہی کے نتیجہ میں 2 لاکھ پچاس ہزار سے 3 لاکھ انسان لقمہ اجل بن گئے۔
امریکہ اور عراق جنگ میں اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ امریکی ہلاکتوں کے علاوہ صرف عراقی شہری اور فوجیوں کی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کر گئی تھی۔ اس جنگ میں دونوں ممالک کو بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ یہ 20 ویں صدی کی طویل ترین اور خونریز ترین روایتی جنگوں میں سے ایک تھی۔
جنگوں میں خود کو فاتحین قرار دینے والی قوموں کا بھی خون بہا ہوتا ہے، خاندان اُجڑے ہوتے ہیں، اور ویرانیاں چھائی ہوتی ہیں۔ جنگوں میں فاتح ہونا کوئی معنی اور وقعت نہیں رکھتا۔ جنگ صرف کھونا ہی کھونا ہے، اس کا حاصل کچھ بھی نہیں۔
پاک بھارت حالیہ کشیدگی میں بھی دونوں جانب عسکری اثاثہ جات اور شہری املاک کے علاوہ درجنوں ہلاکتیں ہوئیں ہیں۔ چند دن کی کشیدگی کے بعد اب جنگ بندی بھی ہو چکی مگر جو جانیں چلی گئی ہیں، جو جنازے اُٹھائے جا چکے ہیں وہ لوٹ کے گھر نہیں آئیں گے۔ یہ ساری مشق میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے سوا کچھ نظر نہیں آیا۔ دونوں جانب ساری کی ساری دیش سیوا انہیں دنوں میں اُمڈ اُمڈ آئی اور نتیجتاً سینکڑوں گھر اُجاڑ گئی۔
یہ حقیقت ہے کہ جنگیں صرف میدانوں میں بربادی نہیں لاتیں، بلکہ یہ انگنت گھروں کو بھی ویران کر جاتی ہیں۔ گھر کے صحن سے اٹھتا ہوا ہر جنازہ اپنے پیچھے ایسی کہانی چھوڑ جاتا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی، ایک ایسا درد جو کبھی مندمل نہیں ہوتا۔ ماؤں کی سسکیاں، بہنوں کے آنسو اور بچوں کی یتیمی، یہ سب جنگ کی وہ دائمی یادگاریں ہیں جو نسلوں تک دلوں میں پیوست رہتی ہیں۔ آئیے عہد کریں کہ ہم جنگوں کے جنون سے باہر رہیں گے، جنگوں سے انکار کرتے رہیں گے اور ایسی دنیا بنائیں گے جہاں کسی ماں کو اپنے جوان بیٹے کا جنازہ نہ اٹھانا پڑے، جہاں کسی بچے کو جنگ کی ہولناکیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ امن ہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ان لازوال نقصانات سے بچا سکتا ہے اور ایک روشن مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔ سب کا بھلا، سب کی خیر۔


