مدرز ڈے اور پھول فروش بچہ (ایک سچے واقعے پر مبنی)


Emmanuel Neno

مدرز ڈے کا دن تھا۔ صبح تقریباً نو بجے میں اور میری اہلیہ ایک پھولوں کی دکان پر رُکے تاکہ ایک گلدستہ خرید سکیں۔ دکان پر ایک دس سالہ بچہ کھڑا تھا۔ ہم نے اس سے گلدستے کی قیمت پوچھی تو اُس نے بتایا کہ یہ تین سو روپے کا ہے۔ یاد رہے، یہ کوئی خاص یا قیمتی گلدستہ نہیں تھا۔ عام سے پھول تھے، جو گھاس نما ڈوری سے بندھے ہوئے تھے۔ شاید ہم اُس دن کے اُس کے پہلے گاہک تھے۔

ہمارے پاس ایک ہزار روپے کا نوٹ تھا۔ بچے نے کہا کہ اس کے پاس کھلے پیسے نہیں ہیں۔ میری بیوی قریبی دکان سے کھلے پیسے لینے چلی گئی اور میں بچے کے ساتھ کھڑا رہا۔ بچہ میلے اور پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوئے تھا، جیسے وہ دکان پر ملازم ہو۔ اُس کے معصوم چہرے اور تھکی ہوئی آنکھوں میں عمر سے پہلے کے دکھ جھلک رہے تھے۔ اتنے میں دو آدمی وہاں آئے۔ اُن میں سے ایک نے بچے سے پوچھا، ”گلدستہ کتنے کا بیچا ہے؟“ بچے نے جواب دیا، ”تین سو روپے کا۔“ یہ سنتے ہی اچانک وہ آدمی بچے کو زور زور سے تھپڑ مارنے لگا۔ بچہ گھبرا کر کہنے لگا، ”کل بھی میں نے تین سو روپے میں ہی بیچا تھا۔“ مگر وہ آدمی چیخ کر بولا، ”تجھے پتا نہیں آج مدرز ڈے ہے؟ یہ گلدستہ آج تین سو کا نہیں، سات سو کا ہے!“ اور ساتھ ہی وہ بچے کو مارتا رہا۔ بچہ مار سے بچنے کے لیے وہاں سے دوڑ پڑا۔ تھوڑی ہی دُور اُس آدمی نے بچے کو دبوچ لیا۔ میں فوراً بیچ میں آیا اور اُس آدمی سے کہا، ”آپ اسے کیوں مار رہے ہیں؟ یہ لیجیے اپنا گلدستہ! اگر بچے نے غلطی سے تین سو کی قیمت بتائی تھی اور آپ سات سو میں بیچنا چاہتے تھے، تو آپ آرام سے واپس لے لیتے، مارنے کی کیا ضرورت تھی؟“

وہ شخص بدتمیزی سے بولا، ”یہ میرے اور اس کے درمیان کا معاملہ ہے، آپ بیچ میں نہ آئیں۔“ اُس کی یہ بات مجھے اندر تک چبھ گئی۔ کیا واقعی یہ صرف اُن دونوں کا معاملہ تھا؟ کیا محض اس لیے کہ وہ بچہ اُس کے ماتحت کام کرتا ہے، وہ اسے مارنے کا حق رکھتا ہے؟ اس سے زیادہ دکھ مجھے دکان کے مالک کی خاموشی نے دیا، جو یہ سب دیکھ کر بھی خاموش کھڑا رہا۔ شاید وہ بچہ روزانہ کئی گھنٹے محنت کرتا ہو گا تا کہ اپنے گھر والوں کے لیے دو وقت کی روٹی کما سکے، اور آج اُسے صرف قیمت کم بتانے پر مارا جا رہا تھا۔ اور وہ بھی مدرز ڈے پر۔ ایک ایسا دن جو محبت، ہمدردی اور مہربانی کا پیغام دیتا ہے۔

یہ واقعہ ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے : طاقتور اکثر کمزوروں کو صرف اپنی برتری جتانے کے لیے دباتے ہیں۔ نہ جانے کتنے بچے روز ایسی مار پیٹ اور بدسلوکی کا سامنا کرتے ہیں، مگر اگلی صبح پھر محض ضرورت کے ہاتھوں مجبور ہو کر کام پر واپس آ جاتے ہیں۔ ہمیں ایسے بچوں کی محنت کو سراہنا چاہیے، اور اُن کی عزتِ نفس کو پہچاننا چاہیے۔ ہمیں ان کے حق میں آواز بلند کرنی چاہیے، تاکہ ایک ایسا معاشرہ قائم ہو جہاں عزت دولت یا عمر کی بنیاد پر نہ ہو، بلکہ انسانیت کی بنیاد پر ہو۔

مدرز ڈے صرف پھول خریدنے کا دن نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ ہمیں اُن اقدار کو یاد رکھنے اور اپنانے کا دن ہونا چاہیے جو ہماری ماؤں نے ہمیں سکھائیں محبت، ہمدردی اور انصاف۔ اگر ہم واقعی اپنی ماؤں کی عزت کرتے ہیں، تو ہر بچے کے ساتھ بھی وہی شفقت برتنی چاہیے، جو ہم اپنے بچوں کے لیے چاہتے ہیں۔

Facebook Comments HS