جنگ کا خطرہ ٹلا نہیں ہے


کہا جاتا ہے کہ جنگ میں سب سے پہلا قتل سچائی کا ہوتا ہے، اور ہماری نسل نے پہلی بار بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ جنگ میں سچائی کے قتل کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ تاریخ دان بھی یہی مشورہ دیتے ہیں کہ جنگ سے متعلق کسی بھی رپورٹ کو پڑھتے وقت اس کے ماخذ کو ضرور دیکھنا چاہیے کہ وہ کس جانب سے لکھی گئی ہے۔ اگر کوئی غیر جانب دار تاریخ دان لکھتا ہے تو اس پر یقین کیا جا سکتا ہے، لیکن اگر وہ تحریر کسی ایک جنگ لڑنے والے فریق سے تعلق رکھتی ہو تو اس پر اندھا یقین نہیں کیا جا سکتا۔

اب تک بھارت اور پاکستان کے درمیان دو بڑی اور تین چھوٹی سطح کی جنگیں ہو چکی ہیں، لیکن پاکستانی عوام آج تک نہیں جان سکے کہ ان جنگوں کے اصل اسباب کیا تھے اور ان سے دونوں ممالک کو کتنا نقصان پہنچا۔

تازہ ترین جنگ کی وجہ 22 اپریل کو انڈین کشمیر میں ہونے والا دہشت گرد حملہ قرار دیا گیا، جس کے فوراً بعد بھارت نے محض آدھے گھنٹے میں پاکستان پر الزام تراشی شروع کر دی کہ یہ حملہ پاکستان کی پشت پناہی سے کیا گیا۔ اس الزام کے بعد کئی سوالات ذہن میں اٹھتے ہیں، خاص طور پر یہ کہ کیا بھارت کسی بہانے کی تلاش میں تھا تاکہ پاکستان پر حملہ کر سکے؟ اور کیا یہ حملہ اسی منصوبہ بندی کا حصہ تھا؟

اس جنگ میں پاکستان نہ صرف معاشی طور پر کمزور تھا بلکہ وہ آئی ایم ایف سے قرض کے لیے مذاکرات میں بھی مصروف تھا۔ دوسری جانب ملک میں جمہوری حکومت کی قانونی حیثیت پر بھی سوالات اٹھ رہے تھے۔ پاکستان نے کھل کر ردعمل نہیں دیا بلکہ بھارت کو یہ پیشکش کی کہ کسی غیر جانب دار فریق سے کشمیر کے واقعے کی تحقیقات کرائی جائے، لیکن بھارت نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا، جس سے بھارت کی خارجہ پالیسی کو شدید دھچکا لگا اور عالمی برادری نے بغیر ثبوت بھارت کے الزامات کو قبول نہیں کیا۔

بھارت مکمل تیاری کے ساتھ جنگ میں اترا۔ اُسے یہ غلط فہمی تھی کہ پاکستان اندرونی مسائل کا شکار ہے، اس لیے یہ جنگ کے لیے بہترین موقع ہے۔ مزید پی ٹی آئی کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ مخالف سوشل میڈیا مہم نے بھارت کو مغالطے میں ڈال دیا، حالانکہ ان کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہ تھا۔

بھارت نے 8 مئی کو ”آپریشن سندور“ کے تحت پہلا ڈرون حملہ کیا، جس میں تقریباً 100 ڈرونز شامل تھے، ان میں سے کئی میں بارود موجود تھا، جنہوں نے پاکستان کے مختلف شہروں کو نشانہ بنایا۔ بہاولپور اور مریدکے میں بڑا نقصان ہوا، مسجدیں شہید ہوئیں اور متعدد افراد جاں بحق ہوئے۔ پاکستانی میڈیا کے مطابق 31 شہری ہلاک ہوئے، جبکہ لاہور میں بھی ڈرونز گرے جس میں 4 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ سندھ کے گھوٹکی، کوٹ غلام محمد اور بدین میں بھی ڈرون گرنے کی اطلاع ملی۔

پاکستان نے ابتدائی 24 گھنٹے کوئی جوابی حملہ نہ کیا بلکہ تیاری میں لگا رہا۔ 9 مئی کی شام بھارت نے پاکستان کے چار اہم ائر بیسز پر حملے کیے، جن میں نور خان ائر بیس خاص طور پر قابل ذکر ہے، جس کے بعد پاکستان نے جوابی کارروائی کا فیصلہ کیا اور ”بنیان المرصوص“ کے نام سے بھارت کے خلاف جوابی آپریشن کا آغاز کیا۔ پاکستان نے بھارت کے چھ ائر بیسز کو نشانہ بنایا، جس میں ان کا ائر ڈیفنس سسٹم بھی تباہ کر دیا گیا۔ ان حملوں میں سب سے زیادہ نقصان اُدھم پور ائر بیس پر ہوا، جس نے بھارت کو ہلا کر رکھ دیا۔

بھارت کو اندازہ ہوا کہ پاکستان ایٹمی حملے کی بھی تیاری کر رہا ہے۔ بھارت کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر اجیت دوول اور وزیر خارجہ جے شنکر نے امریکہ سے رابطہ کیا اور امریکہ سے درخواست کی کہ جنگ بندی کرائی جائے۔ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار پہلے ہی ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی دے چکے تھے۔ امریکہ کے سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے پاکستان سے بات کی اور دونوں ممالک سیزفائر پر راضی ہو گئے۔

اس تمام صورتحال میں بھارتی میڈیا کا کردار انتہائی منفی اور اشتعال انگیز رہا۔ بھارتی ٹی وی چینلز نے اپنے عوام کو گمراہ کیا، جعلی خبریں نشر کیں کہ بھارتی افواج نے اسلام آباد پر قبضہ کر لیا ہے اور کراچی کی بندرگاہ تباہ کر دی گئی ہے۔ نیوز چینلز پر سائرن بج رہے تھے اور میزائل اڑتے دکھائے جا رہے تھے، لیکن جلد ہی یہ سب جھوٹ بے نقاب ہو گیا، اور بھارت امریکہ کی مداخلت پر سیزفائر پر مجبور ہو گیا۔

انسانی جان کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ بعض ذرائع کے مطابق اس تین روزہ محدود جنگ میں 200 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے اور اربوں روپے کے ہتھیار استعمال ہوئے۔ پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بھارت کے پانچ طیارے مار گرائے ہیں، جبکہ بھارت نے تین طیاروں کی تباہی کی تصدیق کی ہے۔

پاکستان اور بھارت دونوں ممالک کے عوام غریب ہیں۔ اگر ان اربوں روپوں کو جنگی ساز و سامان کے بجائے تعلیم، صحت اور ترقیاتی کاموں پر خرچ کیا جاتا تو دونوں ممالک میں خوشحالی آ سکتی تھی۔ مگر بدقسمتی سے دونوں ممالک کو ہتھیاروں کی خریداری پر اربوں روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں، جس کا فائدہ صرف اسلحہ فروخت کرنے والے ممالک کو ہوتا ہے۔ اب بھی امریکہ بھارت کو اسلحہ بیچ کر اربوں ڈالر کمائے گا، جبکہ پاکستان، جو پہلے ہی قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے، چین سے مزید قرض لے کر ہتھیار خریدے گا۔ یوں دونوں ممالک ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے۔

اس وقت اگرچہ سیزفائر نافذ ہے، مگر یہ جنگ بندی کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے۔ بھارت میں غم و غصہ ہے، اپوزیشن مودی سے سوال کر رہی ہے کہ کہاں گیا وہ وعدہ کہ پاکستان کو تباہ کر دیا جائے گا؟ بلکہ اُلٹا بھارت کی بدنامی ہوئی، خارجہ پالیسی ناکام ہوئی، اور کوئی ملک کھل کر بھارت کے ساتھ کھڑا نظر نہیں آیا۔ راہول گاندھی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ مودی نے پاکستان کے چکر میں چین سے بھی دشمنی لے لی، اور دونوں کو ایک صف میں کھڑا کر دیا، جو بھارت کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔

نریندر مودی نے قوم سے خطاب کیا، لیکن وہ شدید دباؤ میں نظر آئے۔ انہوں نے امریکہ پر بھی تنقید کی کہ جنگ بندی امریکی تجارت کی وجہ سے نہیں بلکہ پاکستان کے دباؤ کی وجہ سے ہوئی ہے۔ مودی نے کہا کہ اب ”گولی کا جواب گولی سے دیا جائے گا“ اور کسی بھی دباؤ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کا خطاب شکست خوردہ لہجے میں تھا، جس سے جنگ کے امکانات مزید بڑھ گئے ہیں۔

اگر بھارت کو معمولی سی بھی برتری حاصل ہوتی تو شاید جنگ کے امکانات کم ہو جاتے، مگر اس بار برتری پاکستان کے حصے میں آئی ہے، جو بھارت کے مقابلے میں ایک کمزور ملک ہے۔ اس لیے بھارت اس وقت ایک زخمی شیر کی مانند خطرناک دکھائی دیتا ہے۔ بی جے پی کو سیاسی محاذ پر بھی بڑا دھچکا لگا ہے، جو اسے مزید اشتعال دلا سکتا ہے۔

پاکستان اگرچہ غریب ملک ہے، مگر اس کا دفاعی شعبہ خاص طور پر فضائیہ کافی مضبوط اور پرعزم دکھائی دیا۔ پاکستانی فضائیہ کے جذبے کی مثال بھارتی پائلٹس میں نظر نہیں آئی۔ پاکستان اس وقت چین کی سیٹلائٹ اور جدید ٹیکنالوجی استعمال کر رہا ہے، جس سے اس کی دفاعی صلاحیتیں مزید مستحکم ہو گئی ہیں۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے تنقید کی زد میں رہی ہے، مگر اس جنگ میں اس کی کارکردگی بھارت کے مقابلے میں بہتر رہی۔ ترکی، چین اور آذربائیجان جیسے ممالک پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے، جبکہ بھارت عالمی منظرنامے پر تنہا دکھائی دیا۔

بھارت کی ہر محاذ پر ناکامی، اور سوا ارب کی آبادی کی توقعات، مودی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ اس لیے ممکن ہے کہ بھارت دوبارہ کوئی ڈرامہ رچا کر پاکستان پر حملہ کرے۔ پاکستان کو ہر وقت چوکنا اور تیار رہنا ہو گا۔

Facebook Comments HS