چاند ستارے والے خدا، فریاد کے قاتل


 

محکمہ پولیس میں ترقی، سزا اور اپیل کا نظام ایک ایسی بساط بن چکا ہے جہاں چالیں ذاتی انا، ضد اور طاقت کے نشے میں کھیلی جاتی ہیں۔ گزشتہ کالم میں جن ”پندرہ ہیروں“ کو شوکیس یعنی تھانوں میں سجا کر تراشنے کا حکم نامہ جاری ہوا تھا۔ مرشد نے سارے نگینے کارخانے طلب کرلئے تا کہ رگڑ کر نکھارے جائیں۔ مرشد اعلیٰ نے ثابت کیا کہ قیادت سرکاری دفتر کا صحن نہیں، جہاں منور ظریف کی طرح آن لائن کسب دیکھا فرض پورا کیا اور قیادت برخاست۔ ہیروں کی بابت ڈی آئی جی ٹریننگ نے صاف الفاظ میں تحریری طور پر حکم جاری کیا کہ ترقیاتی کورس صرف ٹریننگ سکول میں ہو گا۔ جس کے بعد ڈی آئی جی آپریشنز نے 13 سب انسپکٹر جن میں سے کچھ تھانوں میں ایس ایچ او اور کچھ چوکیوں میں انچارج تعینات تھے۔ اسی سپیشل مشن سمیت وہی پہنچا دیے، جہاں پندرہواں محمد بلال وہی مشن ”کر“ رہا تھا۔ جبکہ 14 ویں ہیرے نے ایس ایچ او شپ کو اپنی محکمانہ ترقی پر ترجیح دیتے ہوئے واضح کر دیا کہ بڑے عہدے لینے سے بندہ بڑا نہیں ہو جاتا اصل چیز سیٹ ہوتی ہے۔ جبکہ بہت سے اعلیٰ افسران کو سیٹ آپے سے باہر کر دیتی ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز نے ان پندرہ سب انسپکٹر کو محکمانہ ترقی کے لیے پولیس اصلاحات پر مبنی کورس غیر قانونی طور پر آن لائن کروانے کا آرڈر جاری کیا۔ اور پھر ایک اعلیٰ افسر کے سامنے خود کو صاحب اختیار ثابت کرنے کے لیے اس حکم نامے کو وائرل کر دیا۔ اور وہ ہیرے بھی بغلیں بجانے لگے۔ ان پولیس اصلاحات کے اس کورس کو ماضی میں آن لائن کروایا جا چکا ہے، مگر شادی کورس کی طرح اندر کھاتے کورس پورا کروایا گیا تھا۔ مگر اس بار نیم حکیم نے نسخہ عام کر دیا، جس کی وجہ سے اصل حکیم صاحب کو پھکی دینی پڑی اور افاقہ پورے شہر کو نظر آ رہا ہے۔ اور مریض بھی مزید علاج کے لیے پولیس لائن داخل کرانے پڑ گئے۔ ان مریضوں کی حالت دیکھ کر وہ مریض یاد آ گئے جن کو محکمہ جواب دے چکا ہے۔

قارئین! لاہور پولیس کا وہ خاموش اور چالاک نظام، جسے ڈی آئی جی آپریشنز نے نہایت مہارت سے ترتیب دیا ہے، انصاف نہیں بلکہ انتقام کا نمونہ بن چکا ہے۔ حالیہ دنوں میں چند پولیس ملازمین کو نوکری سے برخاست کیا گیا۔ ان افسروں نے قانون کے مطابق سی سی پی او لاہور کو اپیل کی، جنہوں نے میرٹ پر فیصلہ کر کے انصاف کا بول بالا کیا۔ مگر یہ بات ڈی آئی جی صاحب کو ناگوار گزری۔ شاید یہی وہ لمحہ تھا جب فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ ”انا“ کے راستے میں ”انصاف“ نہیں آنے دیا جائے گا۔

چنانچہ ایک نیا فارمولہ وضع کیا گیا۔ اب اگر کسی ملازم کو سزا دینی ہو تو ڈی آئی جی صاحب اپنے زبانی فیصلے پر ایس ایس پی آپریشنز سے آرڈر جاری کرواتے ہیں۔ منصوبہ بندی کے تحت یہ سازش ڈی آئی جی کے دفتر سے جنم لیتی ہے۔ مقصد صرف یہ ہے کہ جب متاثرہ پولیس ملازم اپیل کرے، تو وہ اپیل سی سی پی او آفس کی بجائے خود انہی کے پاس آئے جس کو دفتری عملہ حسب حکم بغیر پڑھے، بغیر سنے، سرد خانے میں دفن کر دیتا ہے۔

قانون کے مطابق کسی افسر نے اگر کسی دیگر ماتحت کو انکوائری افسر مقرر کیا ہو تو مقرر شدہ افسر صرف سزا و جزا کی سفارش کر سکتا ہے، حتمی فیصلہ انکوائری مارک کرنے والا افسر ہی کر سکتا ہے۔ اور پنجاب سول سرونٹس کے رولز کے مطابق 90 دن میں کسی بھی فائل پر کی جانے والی اپیل پر فیصلہ کیا جانا لازم ہوتا ہے۔ مگر یہاں ان اپیلوں کو مستقل بنیادوں پر سرد خانے میں رکھا جا رہا ہے اپیل جو کسی بھی سرکاری ملازم کا حق ہوتا ہے اس کو بغیر پوسٹ مارٹم کے با آواز بلند دفن کیا جا رہا ہے۔ یہ نظام انصاف نہیں، تو کیا پھر انتقامی بیوروکریسی ہے۔ صرف اپنی انا اور ضد میں غریب جس کو نا نوری مخلوق جیسا پروٹوکول ملتا ہے نا پٹرول وہ صرف لائق کمنٹ اور شیئر ہی کر سکتا ہے۔ مائیک پکڑ کر ٹک ٹاک بنانے کا بھی حق نہیں ہے اس کے پاس کہ وہ سوشل میڈیا پر آواز اٹھا سکے۔ مجبوراً متاثرہ ملازمین سروس ٹریبونل جانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ سرکار، ان ملازمین نے بھی وہی وردی پہن رکھی ہے جو آپ نے زیب تن کی ہے۔ فرق صرف کندھے پر سجے چاند ستارے کا ہے۔ اور نیا چاند، طلوع ہونے ہی والا ہے۔

Facebook Comments HS