دیر آید درست آید۔


رات کے سناٹے میں قیدِ تنہائی کے زخم بھی کبھی گنگنانے لگتے ہیں، اور سلاخوں سے پرے روشنی کی اک لکیر جب کسی دیوار پر پڑتی ہے تو وہ صرف سورج کا وعدہ نہیں ہوتی، امید کا استعارہ بھی بن جاتی ہے۔ قید و بند کی صعوبتیں تاریخ کے ہر بڑے لیڈر کے حصے میں آئیں، مگر جو بات انہیں بڑا بناتی ہے، وہ ان صعوبتوں کے دوران جنم لینے والی ”بصیرت“ ہے۔ اقتدار کے ایوانوں سے لے کر قفس کے کنجِ تاریک تک، اگر کوئی چیز مسلسل رہتی ہے تو وہ ”مذاکرات کی ناگزیر ضرورت“ ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بندوق سے نہیں، میز پر ختم ہوتی ہیں۔

تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ممکنہ رہائی کی بازگشت سنائی دینے لگی ہے۔ کچھ حلقے اسے قبل از وقت قرار دے رہے ہیں، کچھ اسے اسٹیبلشمنٹ کی حکمتِ عملی کا نیا موڑ سمجھ رہے ہیں، مگر ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ مذاکرات کے بغیر کوئی جمہوری نظام، کوئی ریاست، کوئی نظریہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ ہم بارہا لکھ چکے کہ یہ معاملہ بالآخر میز پر ہی حل ہونا ہے، اور اگر اب یہ مرحلہ آ پہنچا ہے تو اسے خوش آئند سمجھا جانا چاہیے۔

پاکستان کی تاریخ سیاسی تصادم سے بھری پڑی ہے۔ ایوب خان اور فاطمہ جناح کے مابین سرد مہری، بھٹو صاحب کا عدالتی قتل، بے نظیر بھٹو اور جنرل مشرف کے درمیان معاہدۂ جلاوطنی، نواز شریف اور مقتدر حلقوں کے درمیان تلخیوں کی طویل داستان۔ مگر ان تمام ادوار میں، بالآخر راہِ مفاہمت تلاش کرنا پڑی۔ یہی سیاست ہے، یہی جمہوریت کی روح ہے۔

عمران خان ایک کرشماتی شخصیت ہیں۔ وہ روایتی سیاستدان نہیں، بلکہ تحریک، جنون اور مزاحمت کی علامت بن کر ابھرے۔ مگر اب وقت ہے کہ وہ بھی ”اصلاح“ اور ”مفاہمت“ کی زبان اپنائیں۔ 2022 سے اب تک جو کشمکش جاری رہی، اس نے نہ صرف سیاسی نظام کو ہلایا بلکہ معیشت کو بھی گھٹن میں مبتلا کر دیا۔ اور جب نظام رک جائے تو پھر دونوں فریق خسارے میں رہتے ہیں۔ اور ملک سب سے زیادہ۔

یہ کہنا کہ خان صاحب کی رہائی کسی ڈیل کا نتیجہ ہو گی، یا وہ اقتدار میں واپسی کے لیے کمر بستہ ہیں، ابھی قبل از وقت ہے۔ مگر جو چیز واضح ہے وہ یہ کہ ریاست اور عوام دونوں تھک چکے ہیں۔ اب کسی ”تصادم“ کا متحمل نہ ملک ہو سکتا ہے، نہ عوام۔ اگر اس تناؤ کو ”توازن“ میں بدلا جا رہا ہے تو ہمیں اسے خوش دلی سے قبول کرنا چاہیے۔

کیا عمران خان مذاکرات پر آمادہ ہو گئے ہیں؟ اگر ہاں، تو یہ ان کی سیاسی بلوغت کی علامت ہے۔ دنیا کے بڑے لیڈروں نے بھی وقت کی نزاکت کو سمجھ کر راستہ بدلا۔ نیلسن منڈیلا 27 سال قید میں رہے، مگر جب باہر آئے تو انتقام کے بجائے ”Reconciliation“ کی بات کی۔ آنکھ کے بدلے آنکھ والے فلسفے سے وہ نسلیں اندھی ہو جاتیں، جنہیں انہوں نے آگے لے جانا تھا۔

اسی طرح پاکستان بھی ایک نئے بیانیے، نئے سیاسی کلچر اور بالغ نظری کی تلاش میں ہے۔ اگر عمران خان اپنے بیانیے کو ”مزاحمت سے مکالمہ“ کی طرف موڑ رہے ہیں، تو یہ نہ صرف ان کے لیے بلکہ پورے نظام کے لیے نکتۂ آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔

اس تحریر کا مقصد کسی کی حمایت یا مخالفت نہیں، بلکہ سسٹم کی پائیداری ہے۔ ہم سب کو سمجھنا ہو گا کہ جمہوریت محض ووٹ کی پرچی کا نام نہیں، یہ ”قبولیت“ اور ”مذاکرات“ کا نام بھی ہے۔ جب تک سب فریق ایک دوسرے کو جائز سیاسی حقیقت تسلیم نہیں کریں گے، نظام لڑکھڑاتا رہے گا۔

اللہ کرے کہ یہ مذاکرات محض وقتی مصلحت نہ ہوں بلکہ پائیدار مفاہمت کی بنیاد رکھیں۔ تاریخ ایسے لمحات کو سنہری حروف میں لکھتی ہے بشرطیکہ ہم اس لمحے کو ضائع نہ کریں۔

Facebook Comments HS