کائنات کی شکل کیسی ہے؟


ایک اہم سوال یہ ہے کہ کائنات کی شکل کیا ہے؟ اس سوال کا جواب کائنات کی تقدیر پر روشنی ڈال سکتا ہے۔ یہ اس سوال کا جواب دینے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے کہ اس کائنات کا انجام کیا ہو گا۔

کسی چیز کی شکل کا تعین کرنے کے لیے عام طور پر اسے باہر سے دیکھا جاتا ہے۔ ایک گیند کرے کی شکل میں ہے یا ایک پنسل سلنڈر کی شکل میں ہے، اس کا تعین ان اشیا کو باہر سے دیکھ کر باآسانی کیا جاسکتا ہے۔ اس طور ہمیں کائنات کی شکل کو سمجھنے کے لیے بھی کائنات سے باہر نکلنا ہو گا۔

لیکن یہ تو ناممکن ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہم کائنات کی ایک غیر اہم کہکشاں کے ایک غیر اہم اور دور افتادہ سورج نامی ستارے کے گرد گھومتے ایک زمین نامی سیارے پر بیٹھے بیٹھے اس بات کا تعین کر سکتے ہیں کہ کائنات کی شکل کیا ہے؟

کاسمالوجی میں جب ہم کائنات کی شکل کے بارے میں بات کرتے ہیں تو اس سے مراد دو نوعیت کی شکلوں سے ہوتا ہے : ایک تو پوری کائنات کی شکل سے ہے اس کو میں گلوبل شکل کا نام دوں گا، اور دوسری شکل کا تعلق کائنات کی اندرونی ساخت سے ہے۔ مثال کے طور پر ایک پنسل کے اندر موجود کسی جاندار کے لیے باہر نکلے بغیر پوری پنسل کی سلنڈر نما شکل کے بارے میں وثوق سے کچھ کہنا مشکل ہو گا۔ لیکن یہ جاندار پنسل کے اندر رہتے ہوئے اندر کی ساخت کے بارے میں بہت کچھ جان سکتا ہے۔ پنسل لکڑی کے گودے سے بنی ہے، اس کی دو اطراف کم چوڑی ہیں جبکہ تیسری سمت میں یہ کافی لمبی ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ اندر کی ساخت کی بنیاد پر یہ جاندار باہر کی ساخت کے بارے میں کچھ نتائج اخذ کر سکے؟

اس سلسلے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ سائنس ابھی تک حتمی طور پر یہ جاننے میں ناکام ہے کہ کائنات کی گلوبل شکل کیا ہے۔ ابھی تک تو یہ جاننا ممکن نہیں ہو سکا ہے کہ کیا کائنات محدود ہے یا لامحدود۔ لیکن جو کچھ ہم گزشتہ صدی میں جان پائے ہیں وہ یہ کہ کائنات کے اندر زمان و مکاں کی نوعیت کیا ہے۔ ان نتائج کی بنیاد پر کائنات کی ممکنہ اشکال کے بارے میں کچھ نتائج اخذ کرنا ممکن ہوا ہے۔

یہ ہی اس مضمون کا موضوع ہے۔

میں نے اپنے مضامین میں بارہا استدلال کیا ہے کہ آئن سٹائن کے عمومی نظریہ اضافیت کا اہم ترین نتیجہ یہ ہے کہ ایک مادی جسم کے قرب میں زمان و مکاں کی نوعیت اس سے کہیں مختلف ہے جس کا ہم اپنی عام زندگی میں تصور کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر زمین کے نزدیک جگہ اور وقت خمیدہ (curved) ہیں، اس طور کہ اگر روشنی کی شعاع ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجی جائے تو وہ تیر کی طرح سیدھے راستے پر چلنے کی بجائے ایک قوس جیسے جھکے ہوئے راستے پر سفر کرے گی۔

کائنات تو ستاروں، کہکشاؤں اور کہکشاؤں کے جھرمٹوں سے بھری ہوئی ہے۔ اس طور اس میں مادے کا خطیر مواد بکھرا ہوا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس مادے کی موجودگی میں کائنات میں زمان و مکاں کی نوعیت کیا ہے؟ کیا زمین یا ستارے جیسی مادی اشیا سے دور جگہ کی نوعیت وہی ہے جو ہم تصور کرتے ہیں یا یہ خمیدہ ہے؟

ان تصورات کی وضاحت کے لیے میں پہلے سادہ دو جہتی سطحوں کی خصوصیات پیش کرتا ہوں۔ دو جہتی سطحوں کا تصور کرنا اور اس طور ان کو سمجھنا کہیں آسان ہے۔ اس کے مقابلے میں تین جہتی خمیدہ جگہ اور ایک جہت (ماضی سے حال اور پھر مستقبل کی طرف سفر کرتے ہوئے ) وقت کو تصور کرنا کافی مشکل ہے۔


ہم اوپر دی گئی تصویر میں تین قسم کی دو جہتی شکلیں دیکھتے ہیں۔

گیند یا فٹبال جیسی کروی سطح بند سطح کی ایک مثال ہے۔ دو جہتی کروی سطح کے منحنی خطوط ایسے ہوتے ہیں کہ سطح کا رقبہ محدود رہتا ہے۔

ایک کاٹھی یاsaddle شکل کی سطح جو کھلی سطح کی ایک مثال ہے۔ یہ لامحدود علاقے تک بھی پھیل سکتی ہے۔

اور آخر میں، کاغذ کا ایک ورق چپٹی یا فلیٹ سطح کی ایک مثال ہے۔ اس طرح کی سطح لامحدود ہو سکتی ہے اور وسیع علاقے پر پھیلی ہو سکتی ہے۔

کائنات کی اندرونی شکل ان میں سے کس سے مماثلت رکھ سکتی ہے، اس کا دار و مدار کائنات کے اندر موجود مادے کی کثافت پر ہے۔ کثافت اس بات کا پیمانہ ہے کہ اس کے حجم میں کتنی کمیت پھیلی ہوئی ہے۔

اگر کثافت ایک مخصوص کثافت سے زیادہ ہو تو کائنات بند ہوتی جاتی ہے اور ایک کرہ کی طرح منحنی ہوتی ہے۔

اگر کثافت اس مخصوص کثافت سے کم ہو تو یہ ایک کاٹھی کی طرح مڑے گی۔

لیکن اگر کائنات کی کثافت اس مخصوص کثافت کے برابر ہو، جیسا کہ سائنس دانوں کے خیال میں ہے، تو یہ کاغذ کی مانند چپٹی (Euclidean) ہو گی اور مستقل پھیلتی رہے گی۔

کائنات کی شکل کے بارے میں سوال، کہ یہ بند، کھلی یا چپٹی ہے، ایک اہم سوال ہے۔
کائنات کی ایک سادہ سی تصویر درج ذیل ہے۔

دو قوتیں کام کر رہی ہیں۔ کائنات کی پیدائش سے وابستہ بہت سے اسرار ہیں لیکن یہ طے ہے کہ کائنات بگ بینگ کے نتیجے میں اب تک مسلسل پھیل رہی ہے اور اس طور بڑے پیمانے پر کثافت کم ہوتی جا رہی ہے۔

اور پھر کشش ثقل کی قوت ہے۔ کائنات میں موجود تمام اجسام ایک دوسرے کو اس قوت کے تحت کھینچ رہے ہیں۔ اس طور اس وسیع کائنات میں کشش ثقل کی قوت کے تحت سکڑنے کا رجحان ہے۔

ان دو نوں قوتوں کے درمیان توازن اس بات کا تعین کرتا ہے کہ کائنات بند، کھلی یا چپٹی ہے۔

اگر کثافت ایک خاص کثافت سے زیادہ ہے، تو کائنات میں اتنا مادہ ہے جو ابتدائی بگ بینگ سے وابستہ پھیلاؤ کو روک سکتا ہے اور کائنات کشش ثقل کی قوت کے زیر اثر سکڑنا شروع ہو جائے گی۔ آخر کار کائنات اسی نقطہ نما کیفیت میں پہنچ جائے گی جس سے اس کا آغاز ہوا تھا۔

اور اگر مادے کی کثافت مخصوص کثافت سے کم ہے، تو کشش ثقل کی قوت توسیع کو روکنے کے لیے کافی نہیں ہے اور کائنات مسلسل پھیلتی جائے گی۔ یہ ایک کھلی کائنات کا منظر نامہ ہے۔

آخر میں، کائنات میں کل مادہ اتنا ہے جس کی بدولت کثافت اسی مخصوص کثافت کے برابر ہے، تو دونوں قوتیں ایک دوسرے کے متوازن ہوں گی۔ اس صورت میں کائنات نہ پھیل رہی ہوگی اور نہ ہی سکڑ رہی ہوگی۔ اس طور کائنات چپٹی ہو گی۔

اگلا سوال یہ ہے کہ یہ کیسے معلوم کیا جائے کہ کائنات بند، کھلی یا چپٹی ہے؟

اس مقصد کے لیے ایک بار پھر، ہم دو جہتی مثالوں پر غور کرتے ہیں۔

سب سے پہلے کائنات کی نوعیت کو سمجھنے کے لیے ہم بچپن میں پڑھے گئے جیومیٹری کے بنیادی اصولوں کو یاد کرتے ہیں۔ یہ اصول تینوں قسم کی اشکال کے درمیان بنیادی فرق کو واضح کرتے ہیں اور تجرباتی طور پر کائنات کی نوعیت کا تعین کرنے میں کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں۔

جیومیٹری کا سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ دو متوازی لکیریں کبھی نہیں ملتی ہیں اور ہمیشہ کے لیے متوازی رہتی ہیں۔ تاہم یہ صرف کاغذ جیسی ’فلیٹ جیومیٹری‘ کے لیے درست ہے۔ خم دار سطح کے لیے یہ درست نہیں۔

مثال کے طور پر کرہ کی طرح ایک بند جیومیٹری پر اس اصول کا اطلاق نہیں ہوتا۔ ایک کرہ کی سطح پر، ایک لکیر کو عظیم دائرے کے طور پر بیان کیا جاتا ہے جو کرہ کو گھیرے ہوئے ہے۔ ایک عظیم دائرہ ایک دائرہ ہے جس کا مرکز کرہ کے مرکز میں ہوتا ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ وہ کس طرح کھینچے گئے ہیں، عظیم دائروں کا ہر جوڑا ہمیشہ ایک دوسرے میں جا ملے گا۔ نتیجے کے طور پر، کرہ کی سطح پر متوازی لکیریں کھینچنا ممکن نہیں۔ مثال کے طور پر، اگر خط استوا پر شمال کی طرف دو لکیریں کھینچی جائیں تو وہ قطب شمالی پر مل جائیں گی۔

دوسری طرف، کاٹھی کی طرح کی کھلی سطح پر کھینچی گئی متوازی لکیریں کبھی آپس میں نہیں ملتی ہیں بلکہ جیسے جیسے دور جائیں، دونوں لائنوں کے درمیان فاصلہ بڑھتا جاتا ہے۔

ایک اور خاصیت مثلث سے متعلق ہے۔ مثلث کی ایک معروف خاصیت یہ ہے کہ مثلث کے اندر تین زاویوں کا مجموعہ 180 ڈگری ہوتا ہے۔ یہ بیان جیومیٹری کے پہلے اسباق میں شامل تھا۔ تاہم، یہ خصوصیت بھی صرف فلیٹ جیومیٹری کے لیے درست ہے۔ ایک کرہ کی طرح بند سطح پر تینوں زاویوں کا مجموعہ 180 ڈگری سے زیادہ اور ایک کھلی سطح پر 180 ڈگری سے کم ہوتا ہے جیسا کہ اوپر دی گئی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

ایک اہم بات یہ ہے کہ، دونوں مثالوں میں بہت بڑے اجسام کے چھوٹے خطوں میں، ’فلیٹ جیومیٹری‘ کے نتائج درست ظاہر ہو سکتے ہیں، اس کے باوجود کہ یہ اجسام چپٹے نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر، ہمیں اپنے ارد گرد، زمین چپٹی دکھائی دیتی ہے حالانکہ یہ ایک گیند کی طرح کروی ہے۔ زمین پر کھینچی گئی مثلث کے تینوں زاویوں کا مجموعہ بظاہر 180 ڈگری کے برابر ہو گا لیکن اگر ایک بر اعظم جیسی بڑی سطح پر ایک مثلث کھینچی جائے تو تینوں زاویوں کا مجموعہ 180 ڈگری سے زیادہ ہو گا۔

ہم کائنات کی شکل کا ادراک کرنے کے لیے ان خیالات کو کیسے استعمال کرتے ہیں؟
اس بات کا تعین کرنے کے بہت سے مختلف طریقے ہیں کہ آیا کائنات بند ہے، کھلی یا چپٹی ہے۔

اب کائنات کے اندر رہتے ہوئے یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کائنات کی گلوبل شکل کیا ہے۔ اس کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کائنات کی اندرونی جیومیٹری کیا ہے۔

ہمارا تاثر تو یہ ہے کہ کائنات فلیٹ یا چپٹی (Euclidean) ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ روشنی کی شعاعیں ہمیشہ سیدھے راستے پر سفر کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ اگر دو روشنی کی شعائیں متوازی ہوں تو وہ ہمیشہ ایک دوسرے کے متوازی رہیں گی اور کبھی ایک دوسرے سے نہیں ٹکرائیں گی یا ایک دوسرے کو کراس کریں گی۔

فرض کریں کہ کائنات کی نوعیت ایسی ہے کہ متوازی روشنی کی شعائیں متوازی نہیں رہتیں اور کچھ فاصلے پر جا کر ایک دوسرے سے ٹکرا جاتی ہیں۔ یا پھر ایک دوسرے سے دور ہوتی جاتی ہیں۔ ایک لمحے کے لیے غور کریں کہ اس صورت میں ہم کائنات کے بارے میں کیا نتیجہ اخذ کریں گے۔

کائنات کی اندرونی جیومیٹری کا تعین کرنے کے لیے ایک اہم طریقہ اس تابکاری کی پیمائش ہے جو کائنات کی پیدائش کے وقت موجود تھی۔ جیسا کہ ایک پچھلے مضمون میں بیان کیا گیا ہے، کائنات کی پیدائش کے وقت تو اس تابکاری کا درجہ حرارت بہت زیادہ تھا لیکن کائنات کے پھیلاؤ کے نتیجے میں درجہ حرارت بہت کم ہو گیا۔ اس تابکاری کو cosmological microwave background radiation کا نام دیا جاتا ہے۔

2000 کے لگ بھگ کائنات کے ایک بڑے حصے میں اس تابکاری کی انتہائی درستگی کے ساتھ پیمائش کی گئی۔ یہ مشاہدہ کیا گیا کہ مجموعی طور پر تو پوری کائنات میں درجہ حرارت یکساں ہے۔ لیکن بہت چھوٹے سکیل پر تغیرات موجود ہیں جو اوسطا چاند کے قطر کے برابر ہیں۔ اس طور کائنات میں گرم اور ٹھنڈے دھبے بکھرے ہوئے ہیں۔ یہ ایک اہم سائنسی کارنامہ ہے کہ ان دھبوں کی جسامت اور ان تک فاصلے کی بہت درستگی کے ساتھ پیمائش ممکن ہو سکی۔

اب سوال یہ تھا کہ ان اعلیٰ سائنسی مشاہدات سے یہ کیسے معلوم کیا جائے کہ کائنات کی شکل کی نوعیت کیا ہے۔ یہ کرے کی طرح بند ہے، کاٹھی کی طرح کھلی ہے یا چپٹی ہے؟

اس مقصد کے لیے سائنسدانوں نے فلکیات میں ایک ایسی بہت بڑی مثلث کا جائزہ لیا جس کو زمین سے دیکھا جائے تو اس کے تینوں زاویے برابر تھے۔ اس مثلث میں بکھرے ہوئے درجہ حرارت کے تغیرات کی پیمائش کی گئی۔ اگر ان گرم دھبوں کا سائز معلوم ہو، تو کائنات کی شکل کی نوعیت معلوم کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔

اگر کائنات کرہ کی طرح بند ہے تو یہ گرم دھبے اپنے اصلی سائز سے بڑے نظر آئیں گے۔ یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے ایک فٹ بال جس پر دھبے موجود ہوں، اس کو باہر سے دیکھا جائے تو یہ دھبے اپنے سائز سے بڑے دکھائی دیں گے۔

اگر کائنات کاٹھی کی طرح ہے، تو ان دھبوں کا سائز اصل سائز سے چھوٹا ہو گا۔
اور اگر کائنات کاغذ کی طرح چپٹی ہے، تو دھبوں کا سائز وہی ہو گا جو اصل میں موجود ہے۔


ماہرین فلکیات نے پہلا تجربہ 2000 میں کیا تھا اور بعد میں بہتر ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے نئے تجربات کیے۔ اوپر کی تصویر میں گرم اور ٹھنڈے دھبے ظاہر کیے گئے ہیں۔ (a) اگر کائنات بند ہے تو یہ دھبے اصل سائز سے بڑے، (b) اگر کائنات چپٹی ہے تو ایک ہی سائز، اور (c) اگر کائنات کھلی ہو تو اصل سائز سے چھوٹے ہوں گے۔

ان مشاہدات کی روشنی میں کائنات چپٹی (Euclidean) ہے۔

لیکن چپٹی کائنات تو لا محدود ہو سکتی ہے۔ اور اگر یہ محدود ہو تو کہیں پہنچ کر یہ ختم ہو جائے گی اور اس کا کونہ ہو گا۔

اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ہم نہیں جانتے کہ کائنات لا محدود ہے یا محدود۔ لیکن یہ تصور کرنا ناممکن لگتا ہے کہ کائنات کہیں پہنچ کر ختم ہو جائے گی۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسی چپٹی کائنات جس میں دو متوازی لائنیں ہمیشہ متوازی رہیں گی اور جس پر کھینچی ہوئی مثلث کے تینوں زاویوں کا مجموعہ 180 ڈگری ہو گا اور جس کا کوئی خاتمہ نہ ہو، کیا ایسی کائنات محدود ہو سکتی ہے۔

یہ نتیجہ کہ کائنات چپٹی ہے ہمیں کائنات کی ساخت اور شکل کے بارے میں پوری تفصیل نہیں بتاتا۔ ایسی بہت سی ممکنہ شکلیں ہیں جہاں کائنات خمیدہ ہو، لیکن متوازی لکیریں متوازی رہتی ہوں اور مثلث کے زاویوں کا مجموعہ 180 ڈگری ہو۔ اس مقام پر، ہم کائنات کی شکل کا تعین نہیں کر سکتے کیونکہ ہماری مشاہدہ کردہ کائنات کا قطر محض 96 ارب نوری سال ہے اور یہ مکمل کائنات کا ایک بہت چھوٹا حصہ ہو سکتی ہے۔ اس طور ضروری نہیں کہ مکمل کائنات بھی چپٹی ہے۔ اگر یہ خمیدہ (curved) ہے تو اس کی خمیدگی دیکھنے کے لیے ہمیں مکمل کائنات کے ایک بڑے حصے کو جاننا ہو گا۔

اس نکتے کو واضح کرنے کے لیے، ہم دوبارہ ایک دو جہتی کائنات کا تصور کرتے ہیں کیونکہ سہ جہتی ٹوپولوجی میں کائنات کی ممکنہ شکلیں تصور کرنا بہت پیچیدہ ہے۔ ایک مربع یا مستطیل کی شکل میں کاغذ کی مانند چپٹی سطح دو جہتی کائنات کے لیے واضح انتخاب ہے۔ اس صورت میں دو متوازی لکیریں آپس میں نہیں ملتیں اور ہمیشہ متوازی رہتی ہیں۔ اسی طرح تمام مثلثوں کے زاویوں کا مجموعہ 180 ڈگری ہو گاْ۔

تاہم، کائنات کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ تمام سمتوں میں یکساں نظر آتی ہے چاہے ہم کہیں بھی ہوں۔ مربع یا مستطیل کی شکل میں ایک چپٹی کائنات اس خاصیت کو صرف اس صورت میں پورا کرتی ہے جب یہ لامحدود ہو۔ لیکن اگر کائنات محدود ہو اور اگر ہم ایسی کائنات کے وسط میں کھڑے ہوں، تب تو ہر رخ میں کائنات یکساں نظر آئے گی۔ لیکن ایک محدود کائنات کی صورت میں کائنات کا کنارا ہو گا جہاں یہ خصوصیت درست نہیں ہو گی۔ اس طور، اگر ہم کسی سمت میں حرکت کرتے ہوئے کائنات کے کنارے کے نزدیک تک پہنچ جاتے ہیں تو کائنات تمام سمتوں میں ایک جیسی نظر نہیں آئے گی۔

اب سوال یہ ہے کہ کائنات کی کیا شکل ہونی چاہیے اگر یہ محدود ہو،
اس لحاظ سے چپٹی ہو کہ دو متوازی لکیریں کبھی نہیں ملتی ہوں
کسی مثلث کے تمام زاویوں کا مجموعہ 360 ڈگری ہو،
اور تمام سمتوں میں یکسانیت کا تقاضا بھی پورا کرتی ہو؟


ایک طریقہ یہ ہے کہ چپٹی سطح کو ایک سلنڈر کی شکل میں رول کیا جائے جیسے درمیانی تصویر میں دکھایا گیا ہے۔ اور پھر سلنڈر کو اس طرح موڑا جائے کہ اس کے دونوں سرے ایک دوسرے سے مل جائیں۔ اس طور دو جہتی کائنات کی شکل ایک donutجیسی ہو گی جیسا کہ دائیں طرف دی گئی تصویر میں دکھایا گیا ہے۔ اس صورت میں کائنات محدود ہو گی، اس کی سطح پر دو متوازی لائنیں متوازی رہیں گی اور اس پر موجود ہر مثلث کے زاویوں کا مجموعہ 180 ڈگری کے برابر ہے۔

Donut کی شکل کے علاوہ بھی کئی ایسی اشکال ہیں جو ان خصوصیات کو پوری کرتی ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم ان اشکال میں سے صحیح شکل کا انتخاب کیسے کریں۔ یہ ایک مشکل کام ہے۔

اس مقصد کے لیے ہم donutکی شکل کا جائزہ لیتے ہیں۔ فرض کریں اس کی سطح پر ایک سیارہ اور ایک ستارہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ستارے کی روشنی سیارے تک کس راستے سے پہنچے گی؟ ایک سیدھا جواب تو یہ ہے کہ ہم ستارے سے سیارے تک ایک سیدھی لائن کھینچ دیں۔ ستارے کی روشنی اس راستے پر سفر کرتی سیارے تک پہنچے گی۔ لیکن ذرا غور سے دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ یہ واحد راستہ نہیں ہے۔ مثال کے طور پر اگر ستارے کی روشنی ایک طرف سے آ رہی ہے تو دوسرا راستہ اس کے بالکل برعکس ہو گا۔ ایک راستہ دوسرے راستے کی نسبت کہیں زیادہ لمبا ہو سکتا ہے۔

اب تک تو بات صرف دو جہتی کائنات کے بارے میں ہو رہی تھی۔ لیکن ہماری کائنات تو سہ جہتی ہے۔ اس میں کائنات کی شکلوں کی نوعیت کہیں زیادہ گمبھیر ہو گی۔ تصور کرنا بھی مشکل ہے۔

اس وقت تو ہم کائنات کی شکل کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے، بہت سے سوالات جواب طلب ہیں۔ لیکن سائنسی ریسرچ جاری ہے اور ایک دن آ سکتا ہے جب اس اہم سوال کا جواب پا لیں گے۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سہیل زبیری

ڈاکٹر سہیل زبیری ٹیکساس یونیورسٹی میں کوانٹم سائنس  کے Distinguished Professor ہیں اور اس ادارے میں کوانٹم آپٹکس کے شعبہ میں Munnerlyn-Heep Chair پر فائز ہیں۔

suhail-zubairy has 93 posts and counting.See all posts by suhail-zubairy