جنگ نہیں ریہرسل تھی


جنگ نہیں ریہرسل تھی
روداد ایک حربی اور ضربی مشاعرے کی

بھارت کی افواج قاہرہ ادھر سے مار کھانے کے بعد دانت تیز کر رہی تھیں کہ مشرقی پاکستان کا رخ کیا جائے۔ لیکن کرنا خدا کا ایسا ہوا کہ چین نے الٹی میٹم دیا کہ ”تم نے جو چھپن ناجائز چوکیاں ہماری سرحد کے اندر بنا رکھی ہیں اٹھاؤ ان کو ورنہ۔۔۔“ بھارت کی فوراً چیں بول گئی۔

پہلے تو بھارت نے کہا۔ ”ہماری کوئی چوکیاں وہاں نہیں“۔ چین والے کھنکارے تو کہا۔ ”اگر ہیں تو بہت چھوٹی چھوٹی ہیں“۔ چین نے پھر آنکھیں دکھائیں تو بولے ”اگر چھوٹی نہیں بھی تو ان میں سپاہی تھوڑا ہی ہیں“۔ جب یہ ثابت ہو گیا کہ سپاہی ہیں تو کہا ”بالفرض ہیں بھی تو کیا ہوا۔ چین ہم سے پہلے کہتا ہم پہلے چوکیاں خالی کر دیتے۔ اتنی ابے تبے کی کیا ضرورت تھی۔ آخر ہم بھی عزت دار ہیں۔“

سنا ہے بہت سے بھارتیوں کو تو پتا بھی نہ چل پایا کہ یہ کیا قصہ ہے۔ وہ چوکیوں کو وہ چوکیاں سمجھے جو نسل خانے یا باورچی خانے میں استعمال ہوتی ہیں۔ اسی لیے تو انہوں نے شور مچایا۔ اے ہے کیا غضب ہو گیا۔ چوکیاں ہی تو ہیں یہاں بچھا لیں یا وہاں بچھا لیں۔

مشکل یہ ہے کہ چین والے جو پینتیس چالیس سال سے لڑ رہے ہیں چوکی کے اور کوئی معنی سوائے فوجی چوکی کے جانتے ہی نہیں۔ ہم نے اپنے ایک چینی دوست سے ایک روز کہا کہ ہم نے اپنے گھر کے لیے ایک چوکی بنوائی ہے پوری ساگوان کی لکڑی ہے۔ اس نے کہا اچھا کتنا گولا بارود رکھا ہے اس میں؟

جب چین کے الٹی میٹم کے بعد بھارت میں قبض کشا دوائیں بکنی بند ہوئیں تو ایک روز بھارتی لیڈروں نے مسکوٹ کی کہا یہ تو عجیب ملین بلکہ مہمل شے ہے اس سے ہماری بڑی ہیٹی ہوئی۔ خیر چین نے ہمارے ساتھ یہ داؤ کیا ہے تو ہم پاکستان کے ساتھ کریں۔ چنانچہ انہوں نے پاکستان کو ایک الٹی میٹم بھجوا دیا۔

الٹی میٹم بھجوانے کے بعد بھارتی لیڈروں نے انتظار کرنا شروع کیا کہ اب پاکستانی زعما دوپٹہ گلے میں ڈالے آتے ہیں کہ ہمارا قصور معاف کیا جائے۔ آئندہ غلطی نہ ہوگی۔ لیکن جب کچھ بھی نہ ہو تو نا چار ایک احتجاج بھجوایا کہ ”ہم نے تمہیں الٹی میٹم بھیجا تھا تم ڈرے کیوں نہیں؟“

لڑائی میں جو ہوا سب کو معلوم ہے۔ آخر ایک روز نند جی کو اعلان کرنا پڑا کہ سجنو۔ یہ جنگ تو فقط ریہرسل تھی جو جنگ اب شروع ہوگی وہ فیصلہ کن ہوگی۔ یہ ایک طرح سے اعتراف تھا کہ پچھلی بار ہم سے لڑنے میں کسر رہ گئی۔

اس پر لوگوں کو ایک لطیفہ یاد آیا کہ ایک ہوائی مشق میں ایک ہوا باز جہاز سے محض ایک جانگیہ پہن کر کودنے کو تھا اس کے افسر نے کہا تمہارا پیراشوٹ کہاں ہے؟ اس نے کہا وہ میں نہیں لایا۔ وہ تو سچ سچ کی لڑائی میں استعمال ہوتا ہے یہ تو محض ریہرسل ہے۔

لیکن جاتی پر نندا جی کی تقریر کا اثر الٹا ہوا۔ لوگوں نے کہا نا بابا۔ جب ریہرسل میں اتنی مار پڑی ہے تو اصلی مجلد اور با تصویر لڑائی میں تو نہ جانے کیا ہو گا؟

Facebook Comments HS

One thought on “جنگ نہیں ریہرسل تھی

  • 14/05/2025 at 11:32 صبح
    Permalink

    شیر علی صاحب کی کیا بات تھی۔

Comments are closed.