صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 41 : تذبذب


” تو مت ڈر کیونکہ میں تیرے ساتھ ہوں۔ ہراساں نہ ہو کیونکہ میں تیرا خدا ہوں، میں تجھ کو زور بخشوں گا۔ میں یقیناً تیری مدد کروں گا اور میں اپنی صداقت کے داہنے ہاتھ سے تجھ کو سنبھالوں گا۔“ یسعیاہ 10 : 41

مریم نے اپنے بستر کے برابر میز پر رکھی ٹائم پیس کے اندھیرے میں چمکتے ہوئے ڈائل پر نظر ڈالی تو ساڑھے تین بج رہے تھے۔ ایک رات چٹاگانگ سے واپسی کی نذر ہو گئی تھی۔ وہ پرواز کے دوران سونے کی کوشش کرتی رہی تھی مگر آنکھیں بند رکھنے کے باوجود اس کا دماغ جاگتا رہا۔ اب دوسری رات بھی کروٹیں بدلتے ہوئے گزر رہی تھی۔ جب بھی ذرا آنکھ جھپکتی، اس کے سامنے عادل کی کوٹھی کے چمکیلے فرش، مہکتے ہوئے کمرے، قیمتی قالین اور کرسٹل کے فانوس آ جاتے۔

جو دنیا وہ اب تک صرف فلموں میں دیکھتی آئی تھی، اس میں وہ پانچ دن سانس لے کر آئی تھی اور وہاں اسے بہت پیار ملا تھا۔ عادل اور گلوریا کی مسکراہٹ میں خلوص تھا، اور بار بار ان کے بازو اس کے لیے کھل رہے تھے، مگر مریم کو اپنے اور ان کے درمیان ایک ایسی خندق نظر آ رہی تھی جس کی اتھاہ گہرائی پر سے چھلانگ لگانا اس کے لیے کار دارد تھا جسے سرانجام دینے کے لیے کوئی دیوانہ ہی تیار ہو سکتا تھا۔

اسے نیند آیا ہی چاہتی تھی کہ کمرے کی پشت پر کھڑکی کے باہر سے کسی چڑیا کی چوں چوں کرنے کی آواز آئی۔ اس نے نہ چاہتے ہوئے بھی آنکھیں کھولیں اور گردن موڑ کر گھڑی کو دیکھا تو ٹھیک پانچ بجے تھے۔ کھڑکی پر پڑے زرد پردے سے سپیدۂ سحر چھن چھن کر صبح صادق کو کمرے میں پھیلا رہا تھا۔ اس نے اپنی پیشانی پر ہتھیلی رکھ کر اندازہ لگا لیا کہ اسے بخار نہیں تھا، مگر اس کا سر درد سے پھٹا جا رہا تھا اور آنکھیں کھلی رکھنے کے لیے اسے کوشش کرنی پڑ رہی تھی۔

وہ بستر سے اٹھ کر ایک جانب پاؤں لٹکا کر بیٹھ گئی اور سوچا کہ نہانے سے آنکھیں کھلیں گی اور سر کے درد میں بھی کمی آئے گی۔ اس نے سامنے کی دیوار پر ایک کھونٹی لگا دی تھی جس پر اس کا تولیہ لٹکا رہتا تھا اور اس کے برابر ایک قد آدم آئینہ تھا۔ اس نے اٹھ کر سوئچ آن کیا تو محسوس ہوا جیسے روشنی اس کی آنکھوں میں تیر کی طرح لگی ہو۔ اس نے گھبرا کر سوئچ آف کر دیا۔ ابھی سورج نکلنے میں دیر تھی مگر کھڑکی سے آنے والی روشنی کافی تھی۔ وہ کھونٹی سے تولیہ اتارنے لگی تو اسے ہلکی سی سرگوشی سنائی دی۔

”فیصلہ کر لیا؟“ اس نے گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا لیکن اگر کمرے میں کوئی اور ہوتا تو اسے نظر آتا۔ اس نے سوچا کہ آواز تو اس کی اپنی ہی تھی مگر اس نے تو اپنے ہونٹ نہیں کھولے تھے۔ اس نے مڑ کر آئینے کی طرف دیکھا جس میں اس کا سراپا کمرے کی نیم تاریکی میں بھی واضح تھا۔

”فیصلہ کر لیا؟“ پھر وہی سرگوشی! وہ قسم کھا کر کہہ سکتی تھی کہ اس بار اس نے آئینے میں اپنے عکس کے ہونٹ ہلتے دیکھے تھے۔

”یہ فیصلہ صرف میرے بارے میں نہیں ہے،“ مریم نے آئینے میں اپنے عکس کو دیکھتے ہوئے کہا، ”یہ ان سب کے بارے میں ہے جنہوں نے میرے ساتھ خواب دیکھے ہیں۔“

آئینہ خاموش تھا، مگر عکس جیسے سانس لینے لگا اور پھر اس کے ہونٹ کھلے، ”اور وہ سب کون ہیں؟“
”عارف، پاپا، ماما، میرے بہن بھائی، انکل عادل، آنٹی گلوریا،“ وہ گننے لگی، ”اور، اور میں خود۔“
عکس جیسے دھندلا سا ہوا، پھر بولا، ”کیا دانی ایل اس فہرست میں نہیں ہے؟“
مریم خاموش کھڑی اپنے عکس کو گھورتی رہی۔
”کیوں، کس سوچ میں پڑ گئیں؟“ آئینے سے آواز آئی۔
”کیوں نہیں، دانی ایل بھی اس فہرست میں ہے،“ مریم نے جھنجھلا کر کہا۔

اس کا عکس طویل خاموشی کے بعد بولا، ”کوئی کسی کے خواب نہیں دیکھتا، ہر ایک کے اپنے اپنے خواب ہوتے ہیں۔“

”مگر میرے فیصلے دوسروں کی زندگی پر بھی اثر انداز ہوں گے،“ مریم کے لہجے میں ترشی کی آمیزش تھی۔
”کیا تم واقعی ان سب کے لیے سوچ رہی ہو، یا صرف اپنے خوف کی تاویلیں تراش رہی ہو؟“
مریم کی سانس رک گئی۔ ایک لمحے کو ایسا لگا جیسے آئینہ اس کا محاسبہ کر رہا ہو۔
”خوف نہیں، تذبذب یا احتیاط کہو،“ وہ آہستہ سے بولی۔
”نہیں، یہ خوف ہے۔ انکار کا خوف، رد کیے جانے کا خوف، اس سوال کا خوف جس کا جواب تمہارے پاس نہیں ہے۔“
”تو کیا کروں؟“ اس نے روہانسی ہو کر پوچھا، ”کیا میں وہ سب چھوڑ دوں جو میرے وجود کا حصہ رہا ہے؟“
”یا وہ چھوڑ دو جس کی طرف تمہارا دل کھنچتا ہے، تمہیں فیصلہ کرنا ہی ہو گا،“ آئینہ تلخ ہنسی ہنسا۔
”میں آج تو فیصلہ نہیں کر رہی اور کل بھی نہیں کروں گی،“ مریم بھی پیچھے ہٹنے والی نہیں تھی۔
”کبھی نہ کبھی تو کرو گی،“ آئینے سے آواز آئی۔
”تم تو صرف ایک عکس ہو۔ تم کیا جانو دل کی ٹوٹ پھوٹ اور رشتوں کی حرمت کو؟“
عکس سنجیدہ ہو گیا۔ ”میں عکس ضرور ہوں، مگر وہ عکس جو تم نے خود اپنے سچ سے بنایا ہے۔“

مریم پلٹی، جیسے فرار چاہتی ہو۔ اس نے آگے بڑھ کر بجلی کا سوئچ آن کر دیا اور ڈرتے ڈرتے پلٹ کر آئینے میں دیکھا۔ اس کا عکس اب بھی موجود تھا، جس کے بال بکھرے ہوئے تھے، آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے تھے اور چہرے پر کرب کی کیفیت تھی۔

***

” بیٹی، مجھے ایسا لگتا ہے کہ تم جب سے ایسٹ پاکستان سے آئی ہو، کچھ بجھی بجھی سی لگتی ہو،“ انکل شاہد نے مریم کے ہاتھ سے چائے کا کپ لیتے ہوئے کہا۔

”نہیں پاپا، ایسی تو کوئی بات نہیں ہے،“ مریم نے جواب دیا۔

”آؤ بیٹھ جاؤ،“ انکل شاہد نے سامنے کرسی کی طرف اشارہ کیا، اور مریم بیٹھ گئی۔ آنٹی دوسری کرسی پر بیٹھی حسب معمول کچھ بن رہی تھیں۔ انہوں نے مسکرا کر مریم کی طرف دیکھا مگر کچھ بولی نہیں۔

” تم نے اپنے سفر کے متعلق اب تک کچھ نہیں بتایا،“ انکل شاہد نے چائے کی چسکی لے کر پیالی میز پر رکھتے ہوئے کہا، ”عادل اور اس کی بیوی کے متعلق بھی نہیں بتایا کہ تمہارا کیا تاثر ہے۔ “

” انکل عادل اور آنٹی گلوریا دونوں بہت اچھے ہیں اور بڑی محبت کرنے والے لوگ ہیں۔ “
”یہ اچھی بات ہے کہ تم انہیں پسند کرتی ہو،“ انکل شاہد نے کہا۔

”انہوں نے بڑی خاطر کی اور مجھے اپنے دوستوں سے ملانے کے لیے پارٹی کی جس میں ایک سو سے زیادہ مہمان تھے۔ “

”ایک سو مہمانوں کا تو مطلب ہے کہ ان کا گھر بہت بڑا ہو گا،“ آنٹی نے اپنی بنائی کو اون کے گولے کے گرد لپیٹ کر میز پر رکھتے ہوئے کہا۔

”ہاں، گھر تو بہت بڑا ہے مگر پارٹی باہر لان میں کی تھی، ہر مہمان میرے لیے کوئی نہ کوئی تحفہ لایا تھا۔“

”اچھا، تم نے ہمیں تحفے نہیں دکھائے۔“

”نہیں، میں ساتھ نہیں لائی کیوں کہ سامان زیادہ ہوجاتا۔ انکل عادل نے کہا کہ وہ کسی ڈبے میں پیک کرا کے بھیج دیں گے۔“

”عادل میرا بچپن کا دوست ہے۔ وہ بھی غریب ماں باپ کا بیٹا ہے۔ بس، خدا نے اسے دولت سے نوازا ہے،“ انکل شاہد نے کہا۔

”ان کے یہاں نوکروں کی پوری فوج ہے، اور شہر میں ہر ایک انہیں جانتا ہے۔“
”گلوریا سے ملے ہوئے تو زمانہ ہی گزر گیا،“ آنٹی نے کہا۔
”آنٹی گلوریا نے مجھے اپنا لاکٹ دیا ہے جو ان کی ماں کی نشانی ہے۔“
”اوہ اچھا، تو دکھاؤ ہمیں،“ آنٹی نے جواب دیا۔
مریم اٹھ کر اپنے کمرے میں گئی۔
”مجھے یہ لڑکی خوش نہیں لگتی،“ انکل شاہد نے سرگوشی کرتے ہوئے کہا گویا اپنے آپ سے مخاطب ہوں۔
”میرا خیال ہے کہ یہ آپ کا وہم ہے۔ وہ تھک گئی ہے۔“

انکل شاہد نے مریم کو آتے دیکھا تو خاموش ہو گئے۔ مریم نے لاکٹ کا ڈبہ کھول کر آنٹی کی گود میں رکھ دیا اور ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ان کی پشت پر کھڑی ہو گئی۔ آنٹی نے ڈبہ کھول کر لاکٹ پر ایک نظر ڈالی۔ انہوں نے آہستہ سے ڈبے کا ڈھکن اٹھایا گویا کسی نازک چیز کو چھیڑ رہی ہوں۔ ڈھکن کے نیچے مخملی پرت کے اندر طلائی زنجیر سے لٹکتا ہوا ایک بیضوی لاکٹ رکھا تھا، جس پر باریک بیل بوٹوں کی نقش کاری تھی۔ انہوں نے لاکٹ کو احتیاط سے اٹھایا اور ایک ہاتھ میں پکڑ کر اسے الٹ پلٹ کر دیکھا۔

جب انہوں نے قبضے پر اپنی انگلی کی پور رکھی تو وہ ہلکے سے کھل گیا اور اندر دو چھوٹے چھوٹے گول فریم نظر آئے، جن میں ایک خالی تھا اور دوسرے میں گلوریا کی جوانی کی تصویر تھی۔ آنٹی پلکیں جھپکائے بغیر اس تصویر کو تکتی رہیں۔ وہ ان دنوں میں پہنچ گئیں تھیں جب ان کی نئی نئی شادی ہوئی تھی اور شوہروں کے دفتر جانے کے بعد دونوں شاپنگ کے لیے نکل جاتی تھیں اور دو کھلنڈری لڑکیوں کی طرح مٹر گشتیاں کرتی پھرتی تھیں۔

”اس خالی جگہ میں آنٹی گلوریا کی ماما کی تصویر تھی، انہوں نے کہا کہ میں اس میں اپنی تصویر لگا لوں اور جب یہ لاکٹ اپنی بیٹی کو دوں تو ان کی تصویر نکال کر جگہ خالی کر دوں۔“

آنٹی نے اپنے اندر سے حسد کی پرچھائیں کو تیزی سے گزرتے دیکھا۔ گلوریا کو کیا حق تھا کہ ان کی بیٹی پر مامتا جتائے؟ پھر انہیں یاد آیا کہ مریم ان کی بیٹی نہیں تھی، مگر پھر انہوں نے سوچا کہ انہوں نے مریم کو اپنی بیٹی کی طرح ہی پالا تھا، لہٰذا انہیں اس پر اپنی مامتا جتانے کا پورا پورا حق تھا۔ انہوں نے چونک کر گہرا سانس لیا اور اپنے سر کو جھٹک کر مریم کی طرف متوجہ ہو گئیں۔

”تو تم خوش ہو نا؟“ آنٹی نے لاکٹ کا ڈبہ بند کرتے ہوئے پوچھا۔
”جی ماما، میں بہت خوش ہوں،“ مریم نے جھک کر اپنا رخسار آنٹی کے رخسار پر رکھ دیا۔

مریم نے کامیابی سے اپنے اندر ہونے والی جنگ کو نقاب پہنا دیا تھا۔ یہ کہنا دشوار تھا کہ وہ جنگ اب بھی جاری تھی یا مریم نے ہاتھ کھڑے کر کے اس کے اختتام کا اعلان کر دیا تھا اور اب جو اس کے اندر سے دھواں اٹھ رہا تھا وہ اس کے سلگتے ہوئے جذبات کے ملبے کا دھواں تھا جس میں آخری چنگاریاں دم توڑ رہی تھیں۔

Facebook Comments HS