نثر میں شاعری کرنے والا شخص، عبدالقادر حسن۔ جنہوں نے قلم کو زندگی کا چراغ بنا دیا

آج میرے والد، عبدالقادر حسن کی سالگرہ ہے۔ وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے مگر اُن کی تحریریں، اُن کی خوشبو، اُن کی تہذیب اور اُن کا لہجہ میرے دل میں، ہمارے گھر کے درو دیوار اور اس ملک کے صحافتی افق پر آج بھی زندہ ہے۔
میں جانتا ہوں کہ وہ کبھی تعریفی باتیں سن کر مسکرا دیتے تھے اور پھر آنکھیں چرا لیتے تھے۔ مگر آج ان کی غیر موجودگی میں، میں ان کے بارے میں وہ سب کچھ لکھ رہا ہوں جو شاید اُن کی موجودگی میں کہہ نہ سکا۔
کیونکہ وہ صرف میرے والد نہیں تھے، میرے دوست بھی تھے، وہ ایک تحریر تھے۔ ”غیر سیاسی باتیں“ کے حوالے سے ایک مکمل اور باوقار تحریر تھے۔ ایک ایسا دیہاتی دل رکھتے تھے جو بڑے شہروں میں بھی سادہ ہی رہا۔ میرے والد کا تعلق پنجاب کے خطہ پوٹھوہار کے علاقہ وادی سون سکیسر کے ایک گاؤں کھوڑہ سے تھا جہاں پر ان کا خاندان ایک وسیع اراضی کا مالک تھا اور بلا مبالغہ وہ گاؤں کے سب سے بڑے زمیندار تھے ان کا بچپن گاؤں میں گزرا یہی وہ بنیادی وجہ ہے کہ وہ کبھی دیہاتی زندگی کو اپنے اندر سے نکال نہیں سکے اور یہ ان کی کمزوری نہیں، طاقت تھی۔ ان کی تحریر میں دیہات کی خوشبو آتی تھی۔ مٹی کی سادگی، بزرگوں کی دانائی، کھیتوں کی فراخی، سب کچھ ان کے جملوں میں محسوس ہوتا تھا۔ وہ اکثر کہتے تھے۔
”گاؤں کے لوگ خاموش ہوتے ہیں، مگر ان کی خاموشی بولتی ہے۔ میں نے وہ زبان سیکھی ہے“ اور واقعی ان کے کالموں میں وہ خاموش زبان بولتی تھی۔ میں نے ان کی تحریریں صرف پڑھ کر نہیں، محسوس کر کے جانیں۔ اُن کے جملے صرف رائے نہیں ہوتے تھے ان کا نثر میں شاعری کرنے والا قلم تھا، وہ شاعری جیسے بہتے تھے۔ نثر میں ایسا توازن، ایسی موسیقیت اور ایسا وقار میں نے کم ہی دیکھا۔ ان کی تحریر کی خاص بات یہ تھی کہ وہ سادہ زبان میں ہوتی تھی مگر دل پر نقش ہو جاتی تھی۔
میرے بچپن کی سب سے پکی یادوں میں اُن کا میز پر جھک کر لکھنا، قلم کی سیاہی اور کبھی کبھار رک کر فارسی یا اردو کا شعر گنگنانا شامل ہے۔ شاعری اور ادبی زبانیں اُن کے خمیر کا حصہ تھیں انہوں نے عربی اور فارسی کی تعلیم مدرسے سے حاصل کی۔ ان دونوں زبانوں کی گہرائی اُن کے الفاظ میں جابجا دکھائی دیتی تھی۔ وہ حافظ، سعدی، رومی، اور غالب کے اشعار کو کالموں میں ایسے لاتے جیسے محفل میں کوئی با ادب بزرگ خاموشی سے کوئی راز بیان کر رہا ہو۔ اُن کا ایک قول میرے ذہن میں نقش ہے ”اگر نثر میں تہذیب نہ ہو تو وہ صرف خبر ہے شعور نہیں“ ۔
پاکستان ان کے دل میں بستا تھا اگر میں یہ کہوں کہ میرے والد کی تحریر کا پہلا عشق پاکستان تھا تو غلط نہیں ہو گا۔ انہوں نے پاکستان کے حق میں لکھا، پاکستان کے لیے لکھا اور ہر اس آواز کے خلاف لکھا جو وطن کو کمزور کرتی تھی چاہے وہ آواز تخت سے آ رہی ہو یا بازار سے۔ وہ سیاستدانوں اور ان کے طرز سیاست پر تنقید کرتے مگر دشمنی نہیں پالتے تھے وہ اختلاف کرتے مگر بے ادبی نہیں کرتے تھے۔ ان کے کالم میں پاکستانیت محض ایک نعرہ نہیں تھی وہ ایک اعتقاد تھا۔
میرے والد ہر دور میں کلمۂ حق کہتے رہے چاہے بھٹو کا زمانہ ہو یا ضیاء کا، مشرف کا ہو یا جمہوریت کا۔ وہ سچ لکھتے مگر ایسا سچ جو وقار کے غلاف میں لپٹا ہوا ہوتا تھا۔ وہ چیخ کر نہیں بولتے تھے مگر جو لکھتے تھے وہ دیر تک گونجتا تھا۔ ایک دن میں نے اپنی ایک کالمی تحریر ان کو دکھائی تو میری سرکاری نوکری کو مدنظر رکھ کر کہنے لگے کہ یہ کسی سرکاری افسر کی تحریر لگتی ہے پھر مشورہ دیا کہ ”میرے بیٹے جو کالم تمہیں غیر مقبول بنائے، وہی اصل ہوتا ہے“ ۔
آج جب میں اُن کے پرانے کالم پڑھتا ہوں تو جانتا ہوں کہ وہ کتنی بار غیر مقبول ہوئے مگر ہر بار سچ کے
ساتھ کھڑے رہے۔
لگ بھگ پانچ برس بیت گئے اُنہیں گئے۔ میں ہر سال ان کی سالگرہ پر اُن کا کوئی پرانا کالم نکال کر پڑھتا ہوں اور دل ہی دل میں ان سے بات کرتا ہوں۔ کبھی ان کی مسکراہٹ یاد آتی ہے، کبھی اُن کی خاموش تنبیہ۔ وہ اب نہیں ہیں مگر ان کی خوشبو، ان کی روشنی اور ان کا تحریری وقار آج بھی میرے اندر زندہ ہے۔
ہمارے درمیان رشتہ صرف بیٹے اور باپ کا نہیں تھا، قلم اور روح کا بھی تھا۔
آج ان کی سالگرہ ہے اور میں یہ بلاگ صرف خراجِ تحسین کے لیے نہیں خود کو ان کے قریب لانے کے لیے لکھ رہا ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ وہ خود ستائشی سے ناپسندیدگی رکھتے تھے ہر محفل میں آخری کرسیوں پر بیٹھنے کو ترجیح دیتے مگر مجھے یقین ہے کہ اگر وہ یہ پڑھ رہے ہوں گے تو مسکرا رہے ہوں گے اور دل میں شاید کہہ رہے ہوں ”لفظ وہی ہیں جو دل سے نکلیں اور قوم تک پہنچیں“ ۔ ابو جی! آپ کے الفاظ آج بھی ہماری رہنمائی کر رہے ہیں۔ آپ چلے گئے مگر آپ کی تحریر، آپ کی تہذیب اور آپ کی پاکستانیت ہمارے اندر زندہ ہے۔ آپ آج بھی ہر لفظ میں ہمارے ساتھ ہیں سالگرہ مبارک ابو جی!
(ایک بیٹے کی طرف سے تحریری خراج عقیدت)
