خواب، محبت اور زندگی 21


 

اس وقت تک ہمارے لئے محمودہ خالہ کا گھر اور وہ ہاؤسنگ سوسائٹی ہی کراچی تھی۔ ہمارے لئے ہر چیز نئی اور مختلف تھی۔ ساتھ والے گھر میں بادام کا گھنا درخت لگا ہوا تھا جس سے کچے بادام ٹوٹ ٹوٹ کر ہمارے صحن میں گرتے تھے۔ میں نے زندگی میں پہلی مرتبہ کچے بادام دیکھے۔ محمودہ خالہ کے سب سے چھوٹے بیٹے جنہیں گھر والے بادشاہ کہتے تھے نے ہمیں بتایا کہ ان کچے باداموں کو پسی ہوئی لال مرچوں کے ساتھ کھایا جائے تو بے حد مزے دار لگتے ہیں۔ ہم نے فوراً یہ نسخہ آزمایا اور واقعی بہت مزہ آیا۔ ملیر سے کندھے پر ڈنڈے میں چھابڑیاں لٹکائے پھل بیچنے والے آتے تھے اور ”جام لے لو“ کی صدائیں لگاتے تھے۔ ہمیں یہ سمجھنے میں کچھ وقت لگا کہ کراچی میں امرود کو جام کہا جاتا ہے۔ اس زمانے میں ملیر پھلوں خاص طور پر امرود اور کیلوں اور سبزیوں کی کاشت کے لئے مشہور تھا۔ اب کراچی میں اتنے ذائقہ دار اور لمبے کیلے نظر نہیں آتے۔ ملیر کے باغات ختم ہو چکے ہیں۔

بابر کی تقلید میں میرا طواف

ابی کی صحت کے مسائل جو ہمیشہ ہمارے لئے پریشانی کا باعث بنے رہے سے متعلق ایک ڈرامائی یاد ہمیشہ میرے ساتھ رہے گی۔ ایک روز ابی کی طبیعت خراب ہوئی، وہ کراہتے ہوئے فرش پر گرے اور آنکھیں موند لیں۔ اس وقت میں ان کے ساتھ کمرے میں اکیلی تھی۔ خوف اور صدمے سے میرا برا حال تھا۔ مجھے لگا کہ وہ دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں کیا کروں کہ ایک جھماکے سے تاریخ کی نصابی کتابوں میں پڑھی ہوئی بابر کی کہانی یاد آ گئی، کیسے اس نے اپنے بیٹے ہمایوں کی جان بچانے کے لئے اس کے گرد سات چکر لگائے تھے اور اپنے بیٹے کی جان بچانے کے لئے اپنی جان قربان کر دی تھی۔ ابی کمرے کے فرش پر بے سدھ پڑے تھے۔ میں دل ہی دل میں ان کی زندگی کی دعا مانگتے ہوئے ان کے
گرد چکر لگانے لگی۔ ”اے خدا، میرے زندگی لے لے اور ابی کو زندگی دے دے ”ساتواں چکر شروع کیا تھا کہ میری طبیعت خراب ہونے لگی اور تب ہی ابی نے آنکھیں کھول دیں اور لمحہ بھر بعد ہی وہ یوں اٹھ کر بیٹھ گئے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا لیکن بابر کی کہانی کے برعکس میری زندگی ابھی باقی تھی۔ مجھے یہی لگا کہ اللہ نے میری دعا قبول کر لی اور ابی ٹھیک ہو گئے۔ سوچتی ہوں کہ ان ساری باتوں کے باوجود کیا میرا بچپن دلکش اور حسین تھا یا میں نے اسے اپنے تصورات میں حسین بنائے رکھا۔ کھیل کود کے وافر مواقع، کلب میں جا کے لارل اینڈ ہارڈی کی فلمیں دیکھنا، اسکول میں بلیو برڈ کا حصہ بننا، ڈراموں اور اسپورٹس میں حصہ لینا، بے تحاشا ناول اور رسالے پڑھنا، امی کے ساتھ شہر کی ثقافتی اور ادبی سرگرمیوں میں شرکت کرنا، چھٹیوں میں لاہور کا چکر لگانا بھی تو میرے بچپن کا حصہ ہے۔ یادداشت بھی انسانی ذہن کے ساتھ کھلواڑ کرتی ہے اور دکھ کی چادر کے حاشیوں پر خوش گوار لمحوں کی جھالر لٹکا دیتی ہے۔ زندگی اسی کا نام ہے، کبھی خوشی، کبھی غم، کبھی تلخ کبھی شیریں۔

باب چہارم۔ نئی شروعات

چلی کہانی، چلی کہانی
آتی کہاں سے یہ جاتی کہاں، کیا پتہ

لیڈی ڈاکٹر کی کہانی پیچھے رہ گئی تھی۔ لیکن ہماری فیملی منقسم تھی، آدھی کراچی میں، آدھی لاہور میں۔ فیملی کا اس طرح منقسم ہو جانا امی ابی دونوں کے لئے تکلیف دہ رہا ہو گا۔ امی سے ہماری جدائی زیادہ عرصہ تک برداشت نہیں ہو پائی اور وہ میرے دونوں بھائیوں کے ساتھ کچھ عرصہ بعد ہی واپس ہمارے پاس کراچی آ گئیں۔ کراچی آتے ہی انہوں نے ہم بہن بھائیوں کو کسی اچھے اسکول میں داخلہ دلانے کے لئے بھاگ دوڑ شروع کر دی۔ میں کوہ نور اسکول لائلپور سے ساتویں جماعت کا امتحان پاس کر کے آئی تھی۔ اور اب مجھے آٹھویں جماعت میں داخلہ
لینا تھا۔ محمودہ خالہ کی بڑی بیٹی چاند باجی جنہوں نے اسی زمانے میں کراچی یونیورسٹی سے فلسفے میں ایم اے کیا تھا، اس داخلہ مشن میں امی کی ہم رکاب ہوتی تھیں۔ جلد ہی ہم سب کو اندازہ ہو گیا کہ کراچی کے کسی بھی اسکول میں مجھے آٹھویں جماعت میں داخلہ ملنا ممکن نہیں ہو گا۔ کراچی میں چھٹی جماعت سے ہی فارسی یا عربی اختیاری مضمون کے طور پر پڑھائی جاتی تھی اور جماعت ہشتم تک آتے آتے اس کا معیار کافی بلند ہو چکا ہوتا تھا۔ اب میں نے عربی پڑھی تھی نہ فارسی کیونکہ پنجاب میں عربی یا فارسی کے ساتھ الجبرا بھی اختیاری مضمون کے طور پر پڑھا یا جاتا تھا اور میں نے اپنے لئے اختیاری مضمون کے طور پر الجبرا کا انتخاب کیا تھا۔ امی مجھے جس بھی اچھے اسکول میں لے کے جاتیں، وہاں مجھے اسی بنا پر ہشتم جماعت میں داخلہ دینے سے صاف انکار کر دیا جاتا۔

کنیز فاطمہ: From Socialite to Union Firebrand

میری قسمت اچھی تھی کہ ان ہی دنوں چاند باجی کی جاننے والی ایک خاتون کنیز فاطمہ نے کشمیر اسکول کے نام سے ایک اسکول کھولا تو چاند باجی امی اور مجھے ان سے ملوانے لے گئیں اور انہیں میرا مسئلہ بتایا۔ یہ وہی کنیز فاطمہ ہیں جو آگے چل کر پاکستان کی مشہور اور محترم ٹریڈ یونین لیڈر بنیں لیکن اسکول میں جب ہماری ان سے ملاقات ہوئی تو اس وقت وہ ایک فیشن ایبل خاتون ہوا کرتی تھیں۔ میرا مسئلہ سن کر انہوں نے کہا کہ وہ مجھے آٹھویں کی بجائے نویں جماعت میں داخل کر لیں گی بشرطیکہ میں انگریزی اور ریاضی کا نہم کلاس کے لئے ٹیسٹ پاس کر لوں۔ میں ان دونوں مضامین میں اچھی تھی اس لئے مجھے ان کا ٹیسٹ پاس کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ اور یوں مجھے آٹھویں کی بجائے براہ راست جماعت نہم میں داخلہ مل گیا اور عربی یا فارسی پڑھنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔

Facebook Comments HS