صحافت اور دھندا


انفارمیشن کی نشریات سے وابستہ لوگوں بالخصوص خبریں دینے والوں کو اپنی کریڈیبلٹی کی بڑی فکر ہوتی ہے۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ پوری تحقیق کے بعد کسی بھی ایشو کے زیادہ سے زیادہ پہلوؤں کا احاطہ کریں۔ یہ کافی جاں گسل عمل ہے، ایسی خبر بڑے زور دار اثر کے ساتھ منظر عام پر آتی ہے۔ اس خبر سے بحثیں پھوٹتی ہیں اور پھر سماج کی نچلی تہوں تک ڈیبیٹ منتقل ہوتی ہے۔ سوالات ابھرتے ہیں اور ان کے نتیجے میں ایسا دباؤ بنتا ہے جو بعض اوقات اہم تبدیلیوں کا باعث بن جاتا ہے۔

اگر کسی اچھی ساکھ کے حامل صحافی کی خبر باؤنس ہو جائے تو یہ اس کے لیے کافی بڑا صدمہ ہوتا ہے۔ ایک سے زائد بار ایسا ہو جائے تو اس کی ساکھ بھی بری طرح مجروح ہو جاتی ہے۔ کبھی تو اس کی نوکری بھی چلی جاتی ہے۔ بار بار خبر باؤنس ہونے کی صورت میں اس صحافی پر اعتماد کرنے والوں کو دھچکا لگتا ہے اور پھر آئندہ کے لیے وہ اس کی دی ہوئی انفارمیشن کے بارے میں محتاط ہو جاتے ہیں۔ کسی بھی پروفیشنل صحافی کے لیے یہ الارمنگ سچویشن ہوتی ہے۔

بعض خبرنگار کسی وجہ سے نیم پختہ رہ گئی معلومات کی خبر بناتے ہوئے مجہول لفظوں کا استعمال کرتے ہیں جیسے ”ایک با اثر بیوروکریٹ نے مبینہ طور پر 15 کروڑ کی کرپشن کی“ ، اس طرح کی خبر دو وجہ سے مشکوک قرار پاتی ہے، ایک یہ ہے اس میں خبر کے طے شدہ کُلیے (فائیو ڈبلیو ون ایچ) کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور دوسرا شک یہ ہوتا ہے کہ اس خبر کے ذریعے صحافی یا اس کا ادارہ کسی خاص شخصیت کو پیغام پہنچانا چاہتا ہے، یعنی خبر تو پختہ ہے لیکن یہ انداز دراصل ہدف کو ’انڈر دی ٹیبل ڈیل‘ کی دعوت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی احتمالات ہو سکتے ہیں۔ ایسی خبریں دینے والے عموماً قانونی شکنجے سے محفوظ نکل جاتے ہیں۔ لیکن انفارمیشن یوں مجہول انداز میں دینا صحافتی اقدار کے مغائر ہے۔

پاکستانی صحافت میں ایک اور مخلوق بھی دَر آئی ہے۔ یہ وہ رپورٹرز ہیں جو سیکیورٹی ایشوز سے متعلق خبریں دیتے ہیں۔ یہ اپنی خبروں میں غیر ملکی ایجنسیوں را، موساد، خاد، این ڈی ایس اور سی آئی اے کا بہت ذکر کرتے ہیں اور ہر دوسری خبر میں کسی سازش کی اطلاع دیتے ہیں۔ یہ ایسا محفوظ دھندا ہے جس سے ایک طرف تو خبرنگار کی ’حب الوطنی‘ کا جھنڈا بلند رہتا ہے تو دوسری طرف اسے کسی پوچھ پریت یا باؤنس ہونے کا اندیشہ نہیں ہوتا۔ ایسے لوگ کھل کر کھیلتے ہیں اور اونچی آواز میں انتہائی تیقن کے ساتھ ٹی وی پر بیٹھ کر را، این ڈی ایس وغیرہ کی سازشیں بے نقاب کرتے رہتے ہیں۔ انہیں پتا ہوتا ہے کہ ان کی اس خبر کے خلاف مذکورہ ایجنسیوں نے کوئی بات کرنی ہے اور نہ یہاں کسی عدالت یا ٹی وی چینلز کی نگرانی کرنے والے محکمے نے انہیں پوچھنا ہے۔ اس لیے یہ لوگ بے دھڑک ٹیبل اسٹوریز گھڑتے اور انہیں مارکیٹ میں انڈیلتے رہتے ہیں۔

یہ آخری قسم پاکستان میں ’ترقی‘ کے لیے محفوظ شارٹ کٹ کا استعمال تو کرتی ہے لیکن المیہ یہ رہتا ہے کہ انہیں سنجیدہ لوگ اہمیت نہیں دیتے۔ یہ کچھ محکموں کی آنکھ کے تارے بن جاتے ہیں، انہیں اپنی نوکریوں کے محفوظ ہونے کی ضمانت بھی مل جاتی ہے۔ اگر ایک اخبار یا چینل سے نوکری ختم ہو تو اگلے دن یہ کسی دوسرے میڈیا ہاؤس میں جا کر براجمان ہو جاتے ہیں۔ یہ عموماً سکیورٹی محکموں اور خفیہ ایجنسیوں سے اپنی قربت کے حوالے یا اشارے دیتے رہتے ہیں، کئی دفعہ تو میڈیا آؤٹ لیٹس اسی قربت والے ’تاثر‘ کے تحت انہیں رکھ لیتے ہیں جس کی مارکیٹنگ ان کا حوالہ ہے۔

یہ لوگ صحافت کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ یہ صحافی نہیں بلکہ صحافیوں کے روپ میں پروپیگنڈسٹ ہیں۔ یہ طاقتور قوتوں یا گروہوں کے بھونپو اور عموماً صحافت کی کوالی فیکشن کے اعتبار سے صفر ہوتے ہیں۔ پروپیگنڈا کرنے والا ہمیشہ اپنے کلائنٹس کے حق میں مواد بناتا اور پھیلاتا ہے، اسے اپنی ساکھ یا لفظوں کی حُرمت کا کوئی پاس نہیں ہوتا۔ وہ اسے دھندا سمجھتا ہے اور اسی کے تقاضوں کے مطابق چلتا ہے۔

ہمیں صحافیوں اور پروپیگنڈا کرنے والے صحافی نماؤں میں فرق کرنا چاہیے۔ جو بھی شخص open ended قسم کی مجہول انفارمیشن دے، مسلسل یک رخا پروپیگنڈا کرے، سازشی تھیوریاں بیان کرنے کا عادی ہو، مبالغے کی حد تک ’حب الوطنی‘ کا چورن خبروں اور تجزیوں میں لپیٹ کر بیچتا ہو، اسے آپ کوئی بھی نام دے سکتے ہیں، وہ صحافی بہرحال نہیں ہے۔

Facebook Comments HS