کیا تھوک پھینکنا باعثِ رحمت ہے؟
کتنی عجیب بات ہے نا؟ کہ ”تھوک پھینکنا رحمت“ ہے۔
دنیا بھر کے مختلف قبائل اور ثقافتوں میں کچھ ایسی رسمیں پائی جاتی ہیں جو دوسروں کو عجیب لگ سکتی ہیں۔ لیکن ان کے اپنے معاشرے میں وہ انتہائی مقدس اور معنی خیز ہوتی ہیں۔ ”ماسائی قبیلہ“ (جو کینیا اور تنزانیہ میں آباد ہے ) ایک ایسی ہی دلچسپ رسم رکھتا ہے۔ ”تھوک پھینکنا“ ۔ جہاں ہمارے ہاں تھوک کو گھٹیا اور گندا سمجھا جاتا ہے، وہیں ماسائی اسے ”برکت“ ، دعا اور محبت کی علامت مانتے ہیں۔ آئیے، اس انوکھی روایت کی حقیقت اور اس کے پیچھے چھپے فلسفے کو سمجھتے ہیں۔
ماسائی قبیلے میں تھوک کی اہمیت:
پیدائش پر تھوک: نیا زندگی کا آغاز، ماسائی قبیلے میں جب بچہ پیدا ہوتا ہے، تو بزرگ اس کے چہرے یا جسم پر ہلکا سا تھوک پھینکتے ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ تھوک میں زندگی کی طاقت ہوتی ہے، جو بچے کو بیماریوں اور برائیوں سے بچاتی ہے۔ یہ ایک طرح کی ”رُوحانی ویکسین“ ہے۔
! شادیوں میں تھوک: رشتے کی مضبوط، جب ماسائی جوڑے کی شادی ہوتی ہے، تو بزرگ ان کے ہاتھوں پر تھوک لگاتے ہیں۔ یہ ایک ”مبارکباد“ ہے، جیسے ہمارے ہاں شربت پلایا جاتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ تھوک رشتے میں وفا اور خوشحالی لاتا ہے۔
گائیوں پر تھوک: مال و دولت کی حفاظت، ماسائیوں کے لیے گائیں انتہائی مقدس ہیں۔ جب وہ اپنی گائیوں کو بازار لے جاتے ہیں یا چراگاہ میں چھوڑتے ہیں، تو ان پر تھوک پھینکتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ایسا کرنے سے جانور صحت مند رہتے ہیں اور دودھ زیادہ دیتے ہیں۔
معافی مانگنے کا طریقہ، اگر کوئی ماسائی سے غلطی ہو جائے، تو وہ تھوک پھینک کر معافی مانگتا ہے۔ یہ ان کا ”سوری بولنے“ کا طریقہ ہے۔
نئے گھر یا سفر کی برکت، جب کوئی نیا گھر بنایا جاتا ہے یا کوئی شخص لمبے سفر پر جاتا ہے تو بزرگ اس پر تھوک پھینک کر ”خدا حافظ“ کہتے ہیں۔
تھوک کو مقدس کیوں سمجھا جاتا ہے؟
ماسائیوں کا عقیدہ ہے کہ تھوک منہ سے نکلتا ہے، جو کلام، کھانا اور سانس کا مرکز ہے۔ یہ تینوں زندگی کی بنیادی ضرورتیں ہیں۔ ان کے نزدیک تھوک میں ”نیگینوپائی“ (Negainopai) یعنی ”زندگی کی روح“ ہوتی ہے۔
یہ روایت صرف ماسائیوں تک محدود نہیں قدیم یہودی، مصری اور یونانی تہذیبوں میں بھی تھوک کو شفا بخش سمجھا جاتا تھا۔
ماسائی قبیلہ کی یہ رسم ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ، ہر ثقافت کی اپنی اقدار ہوتی ہیں۔ جو چیز ہمیں عجیب لگے، ہو سکتا ہے وہ کسی کے لیے انتہائی مقدس ہو۔ ہمیں دوسروں کے عقائد کا احترام کرنا چاہیے، چاہے وہ ہماری سمجھ سے بالکل مختلف ہوں۔ تو اگر آپ کبھی کینیا جائیں اور کوئی ماسائی آپ پر تھوک دے، تو غصہ نہ کریں۔ کیوں کہ وہ آپ کو ”دعا“ دے رہا ہو گا۔
”یقین جانیں تہذیبوں کا حسن اُن کے فرق میں ہے“ ۔



