تین حقیقتیں : تاریخ کے آئینے میں
پہلی حقیقت: امن، انسانی بقا کی اولین شرط
انسانی تاریخ کی خونچکاں روداد ہمیں بار بار یاد دلاتی ہے کہ امن نہ ہو تو تہذیبیں مٹی میں مل جاتی ہیں، علم و حکمت کی شمعیں بجھ جاتی ہیں، اور انسانیت اپنی شناخت کھو بیٹھتی ہے۔ قدیم رومی سلطنت، جسے تہذیب و قانون کی ماں کہا جاتا ہے، درحقیقت اپنی وسعت کے لیے لاکھوں انسانوں کا خون بہاتی رہی۔ قرطاجنہ کو نیست و نابود کرنے کے بعد رومیوں نے صرف شہر کو جلایا نہیں بلکہ زمین پر نمک چھڑک دیا تاکہ وہاں زندگی کا نام و نشان باقی نہ رہے۔ یہ فتح نہیں، نسل کشی کی ایک المناک مثال تھی۔ جب تاریخ کا ورق مسلمانوں کے سنہری عہد پر آیا، وہاں بھی خلافت کے بعد اندرونی خلفشار نے کئی خونی سانحات کو جنم دیا، جہاں اپنے ہی اپنوں کے خلاف صف آراء ہوئے اور ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں۔ اس کے بعد عباسی خلافت کی عظمت بغداد کی گلیوں میں اس وقت دفن ہو گئی جب 1258 ء میں چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان نے چڑھائی کی، لاکھوں انسانوں کو تہِ تیغ کیا، دریائے دجلہ کو علماء کے خون اور کتابوں کی سیاہی سے سیاہ کر دیا، اور علم و فنون کا گہوارہ مٹی میں ملا دیا۔
وقت آگے بڑھا، مگر انسان کی خون کی پیاس نہ بجھی۔ 20 ویں صدی کی پہلی عالمی جنگ 1914۔ 1918 نے ایک کروڑ انسانوں کو خاک میں سلایا، اور پھر دوسری عالمی جنگ 1939۔ 1945 نے تو قیامتِ صغریٰ کا منظر پیش کیا۔ جہاں سات کروڑ سے زائد انسان موت کا شکار ہوئے۔ ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بموں کی ہولناکی نے نہ صرف لاکھوں لوگوں کو لمحوں میں بھسم کر دیا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی معذوری، کینسر اور اذیت کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ چھوڑ دیا۔
کشت و خوں کا یہ سلسلہ چیخ چیخ کر ہمیں بتاتا ہے کہ امن کوئی سیاسی نعرہ نہیں، یہ انسان کی بقا، تہذیب کی ترقی، اور نسلوں کے محفوظ مستقبل کی واحد ضمانت ہے۔ جنگیں صرف جسموں کو نہیں چیرتی، روحوں کو بھی زخمی کرتی ہیں ؛ یہ صرف عمارتوں کو نہیں گراتیں، بلکہ خوابوں، امیدوں اور تاریخوں کو بھی مسمار کر دیتی ہیں۔ یہی وہ کڑوی مگر اٹل حقیقت ہے کہ اگر دنیا کو باقی رکھنا ہے تو امن کو اوڑھنا ہو گا، اسے مقصد بنانا ہو گا، کیونکہ امن کے بغیر ہر ترقی، ہر فخر اور ہر سلطنت صرف ایک خونی داستان بن کر رہ جائے گی۔
دوسری حقیقت: جنگ، انسانی سرشت میں پیوست ایک اٹل حقیقت
جتنا مرضی امن کی بات کی جائے، جتنے عہد نامے لکھے جائیں، جتنی قراردادیں منظور کی جائیں تاریخ کا ہر ورق اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ جنگ انسان کے ماضی کا بھی حصہ ہے، حال کا بھی اور مستقبل کا بھی۔ امن ایک نظریہ ضرور ہے، مگر حقیقت ہمیشہ جنگ رہی ہے ؛ کہیں جارحیت کی صورت میں، کہیں دفاع کے نام پر، کہیں نظریاتی بنیادوں پر اور کہیں محض معاشی مفادات کے تحت۔ انسان نے جب سے سوچنا شروع کیا، تب سے لڑنا بھی شروع کیا۔ یہ جنگ پتھروں سے لے کر میزائلوں تک آ پہنچی ہے، مگر ختم کبھی نہ ہو سکی۔
تاریخ کی گلیوں میں ایسی ہزاروں لڑائیاں ہیں جنہوں نے قوموں کی تقدیریں بدل دیں۔ اسپارٹا اور ایتھنز کے مابین پیلوپونیشین جنگیں، جنہوں نے یونانی تہذیب کی بنیادیں ہلا دیں ؛ ہن اور وانڈلز کی یلغار، جس نے مغربی رومن سلطنت کو دفن کر دیا؛ جاپانی سامورائیوں کے قبائلی جھگڑوں سے لے کر عثمانیوں اور صفویوں کے مابین عقیدے کی بنیاد پر ہونے والی خونریزیاں ؛ یورپ کی ’تھرٹی ائرز وار‘ جس نے مذہب کے نام پر لاکھوں جانیں لیں اور فرانسیسی انقلاب کے بعد نپولین کی فتوحات، جس نے یورپ کو ایک دہائی تک آگ میں جھونکے رکھا۔ یہ سب خونی تسلسل کے ایک نا ختم ہونے والی داستان ہیں۔
جنگیں ہمیشہ صرف طاقت کے جنون سے نہیں ہوتیں۔ بعض اوقات معاشی مجبوری، سرحدی تنازع، آبی وسائل پر قبضہ، نسلی برتری، یا محض سیاسی مفادات بھی جنگ کے پیچھے کارفرما ہوتے ہیں۔ عراق پر حملے کو اگر جمہوریت کے نعرے میں لپیٹا گیا تو ویتنام کی جنگ نظریاتی تقسیم کا شاخسانہ تھی۔ کشمیر، فلسطین، اور روہنگیا جیسے تنازعات میں جنگ ایک فریق کی خواہش نہیں بلکہ مجبوری بن جاتی ہے۔ بعض اوقات اقلیت پر ظلم ہوتا ہے، تو کہیں اکثریت اپنی برتری قائم رکھنے کو تلوار اٹھاتی ہے۔ جنگ، بسا اوقات اپنی شناخت، بقا، اور حق کے لیے بھی ناگزیر ہو جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جنگ کو انسانی تاریخ سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ نہ صرف ماضی کی یاد ہے، بلکہ حال کی حقیقت اور مستقبل کا امکان بھی ہے۔ قیامت کی نشانیوں میں جب جب ہولناک جنگوں کا ذکر آتا ہے، تو انسان کو یہ سبق بھی ملتا ہے کہ جنگ کسی دور میں بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکتی۔ یہی دوسری حقیقت ہے۔ کہ جنگ صرف ایک واقعہ نہیں، بلکہ انسانی معاشرت کا مستقل جزو ہے۔ کوئی قوم چاہے یا نہ چاہے، جب جنگ اس پر مسلط کی جاتی ہے، تو بچنے کا اختیار باقی نہیں رہتا۔ جنگیں بعض اوقات ناگزیر ہو جاتی ہیں، اور بعض اوقات ناگزیر بنا دی جاتی ہیں۔
تیسری حقیقت: طاقت، صدائے برحق
دنیا میں سچ اسی کا مانا جاتا ہے جس کے پاس طاقت ہو، یعنی بیانیہ ہمیشہ قوت کے در پر سجدہ ریز ہوتا ہے۔ چاہے مظلوم کی چیخیں آسمان چیر دیں۔ فلسطینی بچہ اپنی ماں کی لاش سے لپٹا ہو یا کشمیری نوجوان گولیوں سے چھلنی ہو، دنیا اسے امن کا مسئلہ نہیں مانتی کیونکہ ان کا بیانیہ کمزور ہے۔ امن کی تعریف وہی مستند مانی جاتی ہے جو امریکہ یا اُس کے حلیف طے کریں۔ آپ جتنے مرضی انصاف، امن، رواداری، اور انسانیت کے راگ الاپیں، جب تک آپ کے پاس بیانیہ گھڑنے والی طاقت نہیں، آپ کی سچائی صرف ماتم رہتی ہے۔
پاکستان نے حالیہ جنگی جھڑپ میں دشمن کے زعم کو خاک میں ملا دیا، دنیا نے دیکھا کہ یہ غزہ نہیں، پاکستان ہے۔ مگر بیانیہ پھر بھی وہی رہا جو امریکہ نے ترتیب دیا۔ کہ جنگ بندی بھارت کی کمزوری نہیں، بلکہ امریکہ کی ”سفارتی حکمت“ ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ بھارت اپنی عسکری پسپائی پر چند گھنٹوں میں خود شرمندہ ہو چکا تھا اور امریکہ کی تجارتی دھمکی کے سائے میں پناہ ڈھونڈ لی۔ مگر چونکہ بیانیہ طے کرنے والی قوت مسلمانوں کے ہاتھ میں نہیں، اس لیے شکست خوردہ بھارت بھی دنیا کے سامنے ”معتدل“ دکھائی دیا اور پاکستان، اپنی کامیابی کے باوجود، صفائیاں دیتا رہا۔ اور عالمی میڈیا نے پاکستان میں دہشتگردی کے انفراسٹرکچر موجود ہونے والے الزام کو پاکستانی کی سیاسی اور عسکری قیادت کی واضح تردید کے باوجود جنگ بندی کی خبروں کا حصہ نہیں بنایا۔
تاریخ بھی یہی بتاتی ہے۔ سقوطِ بغداد میں علم، تمدن، اور تہذیب کا شہر تاتاریوں کے گھوڑوں تلے روند دیا گیا، مگر بیانیہ یہ تھا کہ وہ فتح تھی، نہ کہ ظلم۔ سقوطِ غرناطہ میں مسلمان تہذیب کا لاشہ اٹھا کر رخصت ہوئے، اور بیانیہ صلیبیوں کا تھا۔ آج بھی مسلم دنیا میں ہر آنکھ نم ہے، کشمیریوں، فلسطینیوں اور روہنگیا کی نسل کشی جاری ہے، مگر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں ان کا دکھ صرف ایک سطری ہے۔ اگر وہ بھی نصیب ہو۔
لہٰذا یہ تیسری حقیقت ہمیں سمجھاتی ہے کہ دنیا میں سچائی بغیر طاقت کے محض جرم ضعیفی ہے۔ بیانیہ ہمیشہ اسی کا سنا جاتا ہے جس کے ہاتھ میں طاقت کا قلم ہو، اور باقی سب آوازیں صرف شور مچاتی ہیں۔ سنائی نہیں دیتیں۔
لہٰذا بحیثیتِ قوم، امن کے داعی ضرور بنیں، مگر ”اور ان کے لیے جتنی قوت ہوسکے تیار رکھو“ کے ابدی درس کو ہرگز نہ بھولیں۔ اور طاقت ایسی ہو کہ بیانیہ صرف سنا نہ جائے، مانا بھی جائے۔


