حرکت کا سائنسی تصور ( 14 )


 

1909 ء میں آئن سٹائن نے سالزبرگ میں ہونے والی ایک کانفرنس میں ایک با اثر مقالہ پیش کیا جس میں اس نے روشنی کے کوانٹا کی حقیقت اور توانائی کے بطور لہر و ذرہ دوہرے کردار کو قبول کرنے کی ضرورت پر بحث کی۔ سالزبرگ میں پلانک اور آئن سٹائن کے مابین کوانٹم نظریے کو لے کر کافی دلچسپ بحث ہوئی کیونکہ پلانک، روشنی پر میکسویل کے کلاسیکی نظریہ کا قائل تھا۔ ولندیزی ماہر طبیعیات نیلز بوہر (متوفٰی 1962 ء) اس وقت 1909 میں ایک طالب علم تھا، لیکن وہ ایک غیر معمولی طور پر سوچنے والا طالب علم تھا، اور وہ کوانٹم نظریے پر ہونے والی تمام بات چیت کو بہت شوق سے دیکھ رہا تھا۔

اس خاص تصادم میں بوہر نے پلانک کا ساتھ دیا، لیکن مکمل طور پر نہیں۔ اس نے آئن سٹائن کے روشنی کے کوانٹم کے تصور کو مسترد نہیں کیا کیونکہ یہ ایک مستفید تصور تھا۔ 1911 ء میں برسلز، بیلجیئم میں منعقد ہونے والی پہلی سالوے کانفرنس میں آئن سٹائن ایک مرکزی شخصیت تھا۔ اس کانفرنس نے کوانٹم تھیوری کی وجہ سے طبیعیات کو درپیش چیلنج پر بحث کرنے کے لیے یورپ کے کئی سرکردہ طبعیات دانوں کو اکٹھا کیا۔ بیلجیئم کے صنعت کار ارنسٹ سالوے (متوفٰی 1921 ء) کی طرف سے قائم کردہ سالوے کانفرنسیں، ہر تین سال بعد منعقد ہوتی ہیں اور طبیعیات کی ترقی کے لیے ایک اہم محرک فراہم کرتی رہتی ہیں۔

بوہر کو شروع سے ہی یقین تھا کہ ردرفورڈ کے ماڈل کا استحکام، جیسا کہ اس نے خود 1912 ء میں دکھایا، ’غیر مکینیکل‘ اصل کا تھا۔ ردرفورڈ کا ایٹم کلاسیکی طور پر غیر مستحکم تھا کیونکہ کلاسیکی فیلڈ تھیوری کے مطابق نیوکلیس کے گرد مداروں میں گھومتے الیکٹران کو توانائی کے مسلسل اخراج سے بالآخر نیوکلیس میں گرنا پڑے گا۔ جی سی ڈارون (متوفٰی 1962 ء) ، جو عظیم ماہر حیاتیات چارلس ڈارون کے پوتے تھے، کی تحقیق پر روشنی ڈالتے ہوئے، بوہر نے دلیل دی کہ ہائیڈروجن ایٹم میں تقریباً یقینی طور پر صرف ایک الیکٹران ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ نیوکلیئس پر صرف + 1 یونٹ کا برقی بار ہو سکتا ہے۔ ہائیڈروجن ایٹم عناصر میں سب سے سادہ ساخت رکھتا ہے، اور اس لیے کسی بھی نئے ایٹمی نظریہ کا پہلا امتحان یہ ہونا چاہیے کہ آیا یہ ہائیڈروجن کی خصوصیات کی وضاحت کر سکتا ہے یا نہیں۔

1913 ء میں بوہر نے تین شاندار مقالے شائع کیے جس میں اس نے پلانک اور آئن سٹائن کی کوانٹم تھیوری کو ردرفورڈ کے ایٹمی ماڈل پر لاگو کیا۔ چونکہ ایٹم سے برقی مقناطیسی توانائی کا اخراج ایٹم میں الیکٹرانوں کی مکینیکل توانائی کی تبدیلی سے مطابقت رکھتا ہے، اور چونکہ برقی مقناطیسی توانائی کوانٹائزڈ ہے، اس لیے بوہر نے یہ ہی مناسب سمجھا کہ الیکٹران کی میکانکی توانائیاں بھی کوانٹائزڈ ہیں۔ اس لیے اس نے تجویز پیش کی کہ الیکٹران نیوکلیئس کے گرد صرف مخصوص ساکن مداروں میں گردش کر سکتے ہیں۔ مداروں کے ساکن ہونے سے مراد ہے کہ ایک الیکٹران بنا خارجی قوت یا توانائی کے اپنا فطری مدار نہیں بدل سکتا۔ ہر مدار ایک متعین توانائی رکھتا ہے۔

بوہر سے پہلے، طبیعیات دانوں نے فرض کیا تھا کہ سپکیٹرل لکیریں ایٹم کے اندر موجود الیکٹرانوں کے تھرتھرانے کی وجہ سے ملتی ہیں۔ وائبریشن کا کلاسیکی نظریہ کہتا ہے کہ سپیکٹرل فریکوئنسی کو ستار کے تار کی طرح ایک بنیادی فریکوئنسی کے حاصل ضرب یا ہارمونکس کی طرح ہونا چاہیے۔ کلاسیکی اعتبار سے سپکیٹرم کی وضاحت صرف ایک مکمل عدد یعنی بنیادی ہارمونک سے ہو جانی چاہیے جبکہ ہائیڈروجن کی سپیکٹرل لائنیں اور دیگر تمام عناصر درحقیقت امتزاج (کمبینیشن) کے اصول کی تعمیل کرتے ہیں، جو کہتا ہے کہ ہر سپیکٹرل فریکوئنسی کا اظہار دو مکمل اعداد کے درمیان فرق کے ایک فنکشن کے طور پر کیا جاتا ہے۔

بوہر نے دکھایا کہ کسی عنصر کے ایٹم میں موجود الیکٹران ایک ساکن مدار میں رہتے ہوئے توانائی خارج نہیں کرتے، بلکہ صرف اس وقت توانائی خارج کرتے ہیں جب وہ زیادہ توانائی والے ساکن مدار سے کم توانائی والے ساکن مدار میں ’چھلانگ‘ (کوانٹم جمپ) لگاتے ہیں اور اتنی ہی توانائی جذب کرنے سے واپس ’توانا‘ مدار میں جا سکتا ہے۔ توانائی کے اخراج یا انجذاب کے عمل میں توانائی کے بقاء کا اصول لاگو ہوتا ہے۔ لہذا، سپیکٹرل لائن کی توانائی کسی الیکٹران کے ایک ساکن مدار کی توانائی کی وجہ سے نہیں حاصل ہوتی بلکہ دو ساکن مداروں کی توانائیوں میں فرق سے ملتی ہے جیسا کہ تجربات میں دیکھا گیا تھا۔ اسی طرح ساکن مداروں کی کوانٹائزڈ انرجی کے ساتھ الیکٹران کے اینگولر مومینٹم کے کوانٹائز ہونے سے بوہر نے رڈبرگ کے مستقل کی درست قیمت معلوم کی جس کی بدولت عناصر کے سپیکٹرم کی نظریاتی وضاحت ہوتی ہے۔ بوہر کے ایٹمی ماڈل نے اسے جلد ہی بڑے سائنسدانوں کے ہم پلہ کھڑا کیا اور ساتھ ہی نئے کوانٹم نظریہ کی بنیاد ڈالی۔ آئن سٹائن نے بعد ازاں بوہر کے ایٹمی نظریے کو ایک معجزانہ تعقل قرار دیا۔

جرمنی کے آرنلڈ سومرفیلڈ (متوفٰی 1961 ء) نے بوہر کے اس تصور کو فوری اپنا کر فائن اسٹرکچر کی وضاحت کی۔ بوہر کا ماڈل صرف دائرہ نما مداروں کے لئے تھا جبکہ سومرفیلڈ نے اسے بیضوی مداروں کے لئے استوار کیا۔ بیضوی مداروں میں جسم کی رفتار بیضے کے ایک مرکز کے قریب بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔ الیکٹران بھی نیوکلیس کے گرد بیضوی مداروں میں گردش کرتا ہے تو ایک خاص علاقے میں اس کی رفتار روشنی کے قریب جا پہنچتی ہے۔ روشنی کے قریب رفتار کی وجہ سے خصوصی اضافیت کا اصول لاگو ہوتا ہے جس سے بوہر کے دائرہ نما مداروں کی توانائیوں والی سپکیٹرل لکیریں، بیضوی مداروں کی مزید چھوٹی توانائی کی لکیروں میں ڈھل جاتی ہیں جسے فائن اسٹرکچر کہتے ہیں۔

ہر عنصر کا اپنا مخصوص ایکس رے سپیکٹرم ہوتا ہے۔ برطانوی ماہر طبیعیات ہنری موزلے (متوفٰی 1915 ء) نے دکھایا کہ بعض ایکس رے سپیکٹرل لائنوں کی توانائی ایک سادہ فارمولے کے مطابق دوری جدول میں عناصر کے ایٹمی نمبر پر منحصر ہوتی ہے۔ موزلے نے بتایا کہ ایٹمی نمبر سے مراد نیوکلیس پر موجود برقی بار ہے۔ بعد میں 1918 ء میں ردرفورڈ نے مثبت بار کے ذرات کو دریافت کیا جنہیں پروٹان کہتے ہیں اور ایٹمی نمبر سے مراد کسی ایٹم میں موجود پروٹانوں کی تعداد ہے۔ بہرحال، موزلے نے مزید دیکھا کہ اس کے سادہ فارمولے کی بنیاد پر دوری جدول میں چار نئے عناصر کی پیش گوئی ہوتی ہے جنہیں بعد میں دریافت کر لیا گیا۔ اسی طرح 1914 ء میں فرینک اور ہرٹز کے تجربے میں دیکھا گیا کہ ایٹم مخصوص مقداروں میں ہی توانائی جذب کر سکتے ہیں۔ یہ تجربہ اس قدر سادہ ہے کہ آج بھی اسے کالج کا ہر فزکس کا طالب علم دہراتا ہے۔

بوہر کے ایٹمی ماڈل کو استعمال کرتے ہوئے آئن سٹائن نے 1916 ء اور 1917 ء کے درمیان تین مزید معرکۃ الآراء مقالے لکھے۔ یاد رہے 1916 ء ہی میں وہ اپنا نظریہ عمومی نسبیت پیش کرچکا تھا۔ بہرحال، اپنے نئے مقالوں میں اس نے دو نئے تصورات، ایٹم میں سے توانائی کا بے ساختہ (سپونٹینئس) اور محرک (سٹیمولیٹڈ) اخراج متعارف کیے۔ بے ساختہ اخراج میں، ایک ایٹم جو پرجوش حالت میں ہوتا ہے (جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے الیکٹران زیادہ توانائی کے مدار میں متحرک ہیں ) بے ترتیب وقفوں پر روشنی کا کوانٹا خارج کرے گا اور اپنی زمینی حالت (سب سے کم توانائی کا یا سب سے چھوٹا پرنسپل کوانٹم نمبر رکھنے والے مدار ) میں گر جائے گا۔ محرک اخراج میں، کسی ایٹم کے قریب سے گزرنے والا محرک فوٹون، اس ایٹم میں سے ایک اور فوٹون کا اخراج کرتا ہے۔ خارج ہونے والا فوٹون محرک فوٹون کی ایک نقل ہے جس میں بالکل وہی توانائی، وہی فیز، پولرائزیشن، اور حرکت کی سمت ہے جو محرک فوٹون کی تھی۔ محرک فوٹون اس عمل میں تباہ یا جذب نہیں ہوتا ہے۔ گویا محرک اخراج، ایٹم میں سے نکلنے والی برقی مقناطیسی شعاعوں کی قدر کو بڑھا دیتا ہے اور اعلٰیٰ شدت کی یک موجی شعاعیں پیدا کرتا ہے، جو کہ بعد ازاں لیزر کی نظریاتی بنیاد بن گیا۔

آئن سٹائن نے مزید دکھایا کہ روشنی کے ذرے یعنی فوٹون کی ایک متعین توانائی کے علاوہ ایک متعین مومینٹم بھی ہے۔ مومینٹم رکھنے کا مطلب ہو گا کہ فوٹون کی حرکت کی خاص سمت ہے۔ ان دونوں نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ فوٹون کی حرکت، ذرات کی میکانکی حرکت سے زیادہ مختلف نہیں ہے اس لئے ایک نئی میکانیات یعنی کوانٹم میکانیات کی ضرورت ہے۔ 1920 ء میں بوہر اور آئن سٹائن کی ملاقات ہوئی اور وہ ایک دوسرے کے قریبی دوست بن گئے مگر کوانٹم میکانیات پر دونوں کی رائے میں اختلاف ہمیشہ قائم رہا جس کی بنیادی وجہ روشنی کا دہرا رویہ تھا۔ آئن سٹائن نے شماریاتی میکانیات کے اصول استعمال کر کے یہ دکھایا کہ انفرادی کوانٹا (توانائی کے پیکٹ) کی حرکت میکانکی نہیں بلکہ احتمالی ہے یعنی ابتدائی مقام و رفتار کے تعین سے مستقبل کی حرکت کا مطلق تعین نہیں کیا جاسکتا مگر بڑی تعداد میں جب ذرات شماریاتی اوسط حرکت نکالی جائے تو یہ متعین ہوتی ہے۔ آئن سٹائن، روشنی کے دہرے رویے کو قبول کرنے کا رویہ رکھتا تھا جس کا مطلب ہے کہ میکسویل کی کلاسیکی فیلڈ تھیوری محض ذرات کی حرکت کی شماریاتی حد ہے۔ جبکہ بوہر کا خیال تھا کہ میکسویل کا نظریہ شماریاتی نہیں بلکہ عین کلاسیکی ہے۔

1924 ء میں نیلز بوہر نے ایک امریکی نوجوان جان سلیٹر (متوفٰی 1976 ء) اور ایک ڈچ نوجوان کریمرز (متوفٰی 1952 ء) کے ساتھ مل کر برقی مقناطیسی فیلڈ کی کوانٹم میکانیات پر ایک مقالہ لکھا جو خالص معیاری نوعیت کا تھا اور ریاضی سے خالی تھا جس میں انہوں نے کوشش کی کہ میکسویل کے کلاسیکی نظریہ اور آئن سٹائن کے انفرادی ذرات کی شماریات میں تطبیق سے ثابت کریں کہ کلاسیکی نظریہ ہی درست ہے۔ مگر کامپٹن اثر کے تجربے نے آئن سٹائن کے خیال یعنی فوٹون کی حرکت بطور ذرات کو ثابت کر دیا۔ دلچسپ بات ہے کہ کریمرز نے کامپٹن اثر سے متعلق نتائج پہلے ہی دریافت کرلئے تھے مگر بوہر کے مشورے کو مانتے ہوئے انہیں رد کر دیا اور یوں اگلا نوبل انعام کریمرز کے بجائے کامپٹن کو مل گیا۔ بہرحال، بوہر کے ایٹمی ماڈل کی بنیاد پر، جو صرف ہائیڈروجن ایٹم کا ماڈل تھا جس میں ایک ہی الیکٹران ہوتا ہے، سائنسدانوں نے کوشش کی کہ وہ زیادہ الیکٹرانوں والے ایٹموں کی ساخت بھی معلوم کریں مگر ایسا کوئی بنیادی کلیہ نہیں تھا جو کسی بھی تعداد کے ایٹم کی ساخت بتا سکے یا کوانٹم قوانین کو احتمالات سے جوڑ سکے۔

1924 ء میں ہی آئن سٹائن نے بنگال، انڈیا کے ایک نوجوان کی جانب سے ایک خط موصول کیا جس میں پلانک کے قانون کو ایک نئے اور زبردست طریقے سے اخذ کیا گیا تھا جس میں فوٹون کی ممکنہ ترتیبوں کی تعداد کو گنا گیا تھا۔ اس خط میں پہلی مرتبہ ہم شناخت ذرات کی شماریات پیش کی گئی تھی جس کے مطابق کوانٹم ذرات کو ادل بدل کرنے کے باوجود ایک ہی گنا جائے گا۔ اس طریقے میں پہلی مرتبہ یہ دکھایا گیا کہ کوانٹم ذرات کی گنتی، کلاسیکی ذرات سے مختلف قانون رکھتی ہے۔ خط کے مطابق، اس نوجوان نے اپنا مقالہ انگریزی جریدوں کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے شائع نہیں کیا۔ آئن سٹائن کو اس کا کام نہایت معقول اور اہم لگا اور اس نے خود اس کا ترجمہ جرمن زبان میں کیا اور جرمنی کے ایک جریدے میں اپنے نام کے اضافے سے شائع کروا دیا۔ اس بنگالی نوجوان کا نام ستیندر ناتھ بوز (متوفٰی 1974 ء) ہے جس کے نام پر کوانٹم ذرات کی ایک قسم کو بوزون کہا جاتا ہے، ہگز بوزون (یا گاڈ پارٹیکل) اس کی ایک مثال ہے۔

آئن سٹائن نے بوز کے طریقے کو استعمال کر کے تین مزید مقالے شائع کیے جن میں اس نے گیسوں کے کوانٹم نظریے کی بنیاد پر مادے کی نئی حالت یعنی بوز آئن سٹائن آمیزے کی پیش گوئی کی جس کو 1995 ء میں تجرباتی طور پر دریافت کیا گیا۔ بہرحال، 1924 ء ہی میں آسٹریا کے ایک نہایت ذہین نوجوان وولف گینگ پاؤلی (متوفی 1958 ء) نے مشہور پاؤلی کا اصول پیش کیا جس کے مطابق کسی ایٹم میں تمام الیکٹرانوں کے کوانٹم اعداد (یا حالتیں ) برابر نہیں ہوسکتے۔ جس کا مطلب ہے کہ ایٹم میں مداروں کو بھرنے کے لئے الیکٹرانوں کی گنتی سب سے نچلے یا کم توانائی کے مدار سے شروع ہوگی۔ اس ایک اصول نے کیمسٹری کے عناصر کے دوری جدول اور بہت سے عناصر کی کیمیائی ساخت کی وضاحت کر دی۔ اسی اصول نے واضح کیا کہ مادے کی ٹھوس حالت کی کیا وجہ ہے کیونکہ اس اصول کی پابندی، تمام مادے کو ایک کوانٹم حالت میں تبدیل ہونے سے روکے رکھتی ہے۔

1922 ء میں اوٹو شٹرن (متوفی 1979 ء) اور والٹر گیرلاخ (متوفی 1969 ء) نے چاندی کے ایٹموں کو ایک غیر ہموار مقناطیسی میدان سے گزارا اور دور ایک سکرین پر ان کو ٹکرایا۔ انہوں نے دیکھا کہ سکرین پر، کلاسیکی پیش گوئی کے برعکس، چند نقاط ظاہر ہوتے ہیں۔ ایک الیکٹران کے لئے بس دو نقاط ملتے ہیں۔ اس تجربے کی وضاحت میں، 1925 ء میں دو ڈچ نوجوانوں، جارج اوہلنبک (متوفی 1988 ء) اور سیموئل گاؤڈسمت (متوفی 1978 ء) نے پہلی مرتبہ کوانٹم سپن کا تصور پیش کیا اور الیکٹران کے لئے اس کی مقدار معلوم کی جو درست قیمت سے دو گنا کم تھی اور جسے بعد میں 1926 ء میں تھامسن پریسیشن سے واضح کیا گیا جو کوانٹم سپن کے نظریہ نسبیت سے اتحاد کی وجہ سے ہے۔ گاؤڈسمت نے آخری ایام یونیورسٹی آف نیواڈا رینو میں گزارے اور اس کے فزکس ڈیپارٹمنٹ کے سیمینار ہال کو گاؤڈسمت ہال کا نام دیا گیا ہے (جہاں راقم اس وقت زیر تعلیم ہے ) ۔

Facebook Comments HS